Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 3)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

میرا بیٹا اٹھ جائیں ،، شام ہونے کو آئی ہے اور آپ کی نیندیں نہیں پوری ہو رہی ،،

اس کے عین سر کے قریب کھڑے ہوتے وہ اس کی بے وقت کی نیند سے جنجھلاتے بولیں ،

لیکن اُسے کسی طور اٹھتے نہ دیکھ وہ تھک ہارتی گویا ہوئ

اٹھئیں آپ کے بابا جان آپ کے لیے چائے بنا رہے ہیں ،، جلدی سے اٹھ کر وضو کریں ،،نماز ادا کرکے آئیں پھر ہم گارڈن میں چائے پیتے ہیں موسم بھی کافی اچھا ہو رہا ہے،،

آزان کو پیار سے ہلاتے اس کے سر پر پیار کرتے وہ مسکراتے کچن کی جانب چل دی ،،

جہاں عون صاحب اب اپنی لاڈلی کے لیے نگٹس اور ونگز فرائے کر رہے تھے ،، واہ جی اپنے بچے کی بات آئی تو کیسے جتے ہوئے ہیں اور جب میں نے کہا تھا کے چائے پیتے اس وقت تو آپکا دل نہیں تھا ،،یہ کھلا تضاد ہے عون صاحب ،،

وہ کچھ خفا ہوتی بولی ،، تو عون صاحب ان کی بات پر مسکرا دیے ،، میں اچھے سے جانتا ہوں آپ مجھے تنگ کرنے کی خاطر یہ سب بول رہی ہیں ،، ورنہ ایسا ممکن ہو سکتا کے آپ میرے گڈے کو کچھ بولیں ،،

سرعت سے ان کی جانب ترچھی نگاہوں سے دیکھتے جواب دیا

ماریہ بیگم ان کی بات پر مسکرا دی ،،،

اتنی دیر میں اذان ان کے قریب آتے پیچھے سے انہیں ہگ کرتے سلام کرتے ان کے شانِے پر سر رکھ گئی ،، بابا جان کیا بنا رہے

” بھوک لگی ہے بہت تیز والی

وہ ہونٹ باہر نکالے کیوٹ سی شکل بناتے بولی تو وہ اس کے گرد ایک بازو لپیٹے محبت سے گویا ہوے ،،

بس میرا بچہ بن گیا ،، آپ کی فیورٹ نگٹس بنائیں ہیں ،، آ جائیں ہم باہر چلتے ،، عافیہ لے آتی ہے ( ہاؤس ہیلپر) ۔۔۔

بابا جان مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی ،، وہ منہ میں نگٹس ڈالتے ان کے قریب ہوتی رازداری سے بولی ،، زانو میں سن رہی ہوں ،،آپ ویسے بھی بات کر سکتی ہیں ۔۔

ماریہ بیگم اُسے کن اکھیوں سے دیکھتے بولی

نہیں ماں جان آپ نہیں مانیں گی ،، وہ پاؤ گھاس پر پھیلاتے بولی ،، آپ بتاؤ میں کچھ کرتا ہوں ،، اُسے گھاس پر بیٹھے دیکھ وہ آنکھ مارتے بولے ۔۔۔

میرے مضمون مشکل ہیں سمجھ نہیں آتی ،تو میں اکیڈمی رکھنا چاہتی ہوں ،، میری فرینڈز جاتی ہیں اکیڈمی ،،بتا رہی تھیں بہت اچھی ہے ،، اچھا گائیڈ کرتے ہیں ان کے سر ۔۔

لیکن ماں نہیں مان رہی ،، کہتی ہیں گھر بلا لیتے سر کو ۔۔

اس نے آنکھیں نم کرتے عون صاحب کی جانب دیکھا اور وہ پل میں فیصلہ سنا گئے ،، اوک کل سے آپ چلے جانا میں خود آپ کو ڈراپ کر آؤں گا ،،نور کیا کہتی ؟؟

وہ کہتی اکٹھے جائیں گے ۔۔تو بس پھر ٹھیک ہے ۔۔۔

عون صاحب میں اس فیصلے کے خلاف ہوں ،، میں نہیں چاہتی میری بچی وہاں جائے ،، جانے کیسے کیسے لوگ وہاں آتے ہوں گے اور آپ کیسے بار بار اتنی ڈیوٹی دیں گے ،، پہلے ہی آپ کافی تھک جاتے ہیں ۔۔

بیگم کل ہم خود چلیں گے اکیڈمی کا ماحول دیکھ آئین گے اور خاشر( ان کا خاص بندہ ) جو ہر کام میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا اور آزان کو بہنوں کی طرح مانتا تھا ۔۔

کو بولوں گا وہ لے آیا کرے گا انہیں ،، ماں بس دو مہینے کی بات ہے پلیز مان جائیں وہ لاڈ سے ان کے گلے میں جھول گئی ۔

بیٹی کی محبت ہمیشہ میری محبت پر بازی مار جاتی ہے ماریہ بیگم نے نروٹھے لہجے میں کہتے ان کی جانب دیکھا

مجھے سمجھ نہیں آتا بیگم کے میں آپ دونوں میں سے کس سے زیادہ محبت کرتا ہوں ،، ایک میرا دل ہے تو دوسری دھڑکن ،،، آپ دونوں کے بغیر میں ادھورہ ہوں ،، ان دنوں کے گرد محبت سے گھیرا ڈالے وہ آسمان کی جانب سر اٹھاتے اس رب کے شکر گزار تھے ۔۔

وہ دونوں ہی نہیں جانتے تھے کے قسمت تو اوپر بیٹھا رب لکھ رہا ہے پھر آپ جتنا بھی دنیا کی سرد و گرم سے کیوں نہ بچا کے رکھ لو اپنی اولاد کو ۔۔۔۔

________________

اپنی بے اختیاری کا احساس ہوتے ہی وہ

وہ ماتھے پر بل ڈالے دروازہ بند کرنے لگی تھی وہ جو ایک ٹرانس میں گھڑا تھا سر جھٹکے بولا ،، امی کو بلا دیں —–

کون سی امی ______ دنین جو تھکی آئی تھی برے موڈ سے تھوڑا سا دروازہ کھولتے آنکھیں نکالتے بولی ۔۔۔

میری والدہ عظمہ “” وہ اس کا خراب موڈ دیکھتا بولا ۔۔

اوہ اچھااا _____ کو وہ لمبا کرتے واپس دروازہ اس کے منھ پر بند کر گئی تو پیچھے وہ سنجیدہ سا شخص اپنی طبیعت کے برخلاف دھیرے سے مسکرا دیا ۔۔

امی باہر کوئی آیا ہے عظمہ پھو کو بلا رہا ،، وہ اندر جھانکتے بولی ،، اذلان آ گیا ___ اچھا لبنہ میں چلتی ہوں ، ابھی اور بھی جگہوں پر جانا ہے تم بھائی سے بات ضرور کرنا وہ کہتی دنین کو پیار دیتی چلے گئیں ۔

اذلان کی ون ٹو فائیو پر وہ ایسے گردن اکڑا کے بیٹھی تھی کے جیسے بیٹا پراڈو لایا ہو ،، سچ کہتے ہیں پیسہ انسان کو اندھا

کر دیتا ہے

اور یہی تو المیہ ہے آج کل کی خواتین کا کے جیسے ہی پیسہ آیا نہیں اپنی اوقات بھول کر امیر لڑکی تلاشنے نکل جاؤ اور جب وہ آ کر ان کے ناکو چنے چبواتی ہیں تب کہتی ہم نے تو کبھی کسی کے ساتھ غلط نہ کیا ۔۔

یہ نہیں دیکھتی کے اپنا ہی بویا اب کاٹ رہی ہیں ۔۔

امی یہ لڑکی کون تھی ،، کون ______ عظمہ بیگم چنے منہ میں ڈالتے سہن میں چارپائی پر بیٹھی مصروف سے انداز میں بولی

جو دروازے پر آئی تھی ،، ارے وہ دنین تھی تمہارے نبیل مّامو

کی بیٹی _______ بھول گئے.

بيہ فون لے کر آ وہ رشتے والے كمبحت مارے کو فون کرو پورا پانچ ہزار مجھ سے لے کر گیا ہے اور کام کی ایک بھی لڑکی نہیں دکھائیں ۔۔

امی رہنے دیں اس کو _________ مجھے نبیل ماما کی بیٹی پسند آی ہے آپ اس سے میری بات چلائیں ،،

وہ اطمینان بھرے لہجے میں بولا

ہیں کیا بول رہے ہو بیٹا ،، ان کے گلے میں جیسے پھندا لگا تھا اور اندر سے آتی انابیہ بھی جل بھن گئی تھی کے وہ اکثر اوقات کسی فنکشن پر ملتے سب اس کے سادہ سے حلیے میں بھی اس کی بہت تعریف کرتے اور انابیہ جو عمر میں اس سے چار سال چھوٹی تھی اوور میک آپ اور گورا رنگ کرنے والی کریموں سے اس سے عمر میں بڑی لگتی اور یہی چیز سے وہ دنین سے چر کھانے لگی ۔

اُسکا بھی حلق تک کڑوا ہوا تھا اذلان کی بات سن کر ۔۔۔۔ کیوں امی اچھی نہیں ھے کیا وہ ،، مجھے تو بہت پسند آئی ہے سادہ اور معصوم سی ۔۔ اذلان اپنے خیال ک اظہار کرتا ان سے استفسار کرنے لگا ۔۔

نہیں برائی تو کوئی نہیں بس ویسے ہی میں بول رہی تھی ،، بھائی آپ کو اس میں کیا پسند آیا گہرا سا تو رنگ ہے اس

انابیہ تیزی سے قریب آتے بولی ۔۔

امم ہمم بری بات _______ کسی کی رنگت پر بات نہیں کرتے اور وہ نارمل رنگت کی حامل ہے ،، بات ساری خوبصورتی کی ہوتی ہے ،،، اور ماشاء اللہ وہ بہت حسین ہیں۔۔۔

نہ کے ظاہری بلکہ باطنی بھی ،، امی آپ ان سے بات کرکے نکاح کی تاریخ فیکس کریں ۔

مزید میں کچھ سننا نہیں چاہتا

وہ بات ختم کرتا کھڑا ہوا ،، اور اپنے کمرے کی جانب ڈگ بھرتا چلا گیا پیچھے وہ دونوں ہاتھ ملتی رہ گئی ،، کیوں کہ وہ جانتی تھی جو ایک بات اذلان کہہ دیتا تو وہ بار بار نہیں دھراتا ،، ___