Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 1)
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 1)
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
اٹھ جاو میری جان ________ یونی ورسٹی کا وقت ہو گیا ہے ،، آج پہلا دن ہے بیٹے ،،آج ہی دیر ہو جائے گی تو اچھا نہیں لگے گا ،، ویسے بھی نیچے نور بیٹھی آپ کا انتظار کر رہی ہے ۔۔
ماریہ بیگم نے نے محبت سے اُس کے قریب بیٹھتے اُس کے گھنے سلکی بھورے بالوں میں ہاتھ پھیرتے محبت پاش لہجے میں کہتے جھک کر اُسکے ماتھے پر پیار کیا ۔
مما ” ______ وہ مندی مندی سی آنکھیں کھولتی ان کی گود میں سر رکھتی ان کا ہاتھ تھامتی پشت پر لب رکھتی ان سے لپٹ گئی ،، ماں کی جان ،، میں قربان میری زندگی بابا جان آپ کے منتظر ہیں ،، ناشتے کے لیے بیٹھے ہیں کب سے ،، ۔۔۔
آپ جانتی ہو نہ آپ کے بغیر وہ کھانا نہیں کھاتے “
اس کے بال سہلاتے محبت بھرے لہجے میں بولی ،، تو وہ جو مزے سے آری ترچھی لیٹی تھی ماں سے چپک کر جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ساری نیند بھک سے اڑی، ،اور تیزی سے اٹھتی واشروم کی جانب بھاگی ،،
آزان بچہ آرام سے ۔۔۔۔
ماں جان آپ نہیں جانتی نور کل سے مجھے لینے نہیں آئے گی اگر دیر ہو گئی تو اور بابا جان کو بھی تو کام تھا نہ آج کچھ ۔۔
وہ واشروم سے آواز لگاتے بولی ۔۔ماں جان میرا ڈریس بیڈ پر رکھ جائیں میں بس پانچ منٹ میں آنے لگی ہوں ۔۔
ماریہ بیگم نے اُسکا ایک جوڑا نکال کر بیڈ پر رکھا اور اُسکا بستر سمیٹتے نیچے کی جانب قدم بڑھائے ۔
وہ اپنا بیگ کندھے پر ڈالے زینے تیزی سے پھیلانگتے آ رہی تھی ۔آرام سے بچہ ،،
آزان اسلام کرتے عون چوہدری کے گلے لگتی اُن کے گال پر لب رکھتی پیچھے ہوئی ،،وعلیکم اسلام میری جان ۔۔۔۔
آج دیر کر دی میرے بیٹے نے ،، عون چوہدری کی تو جان بستی تھی اس گڑیا میں ،،سوری بابا جان ایکچولی میں رات میں مووی دیکھ رہی تھی تو صبح آنکھ نہیں کھل پای ،آج آپ نے بھی نہیں جگایا ،،وہ منہ پھلاتے ماریہ بیگم کی جانب رُخ کرتی منہ کھولتی پراٹھے کا لقمہ کھانے لگی ،، ماریہ بیگم کی عادت تھی اسے خود ناشتہ کروانے کی ۔
سوری نور ،، نور جو ناشتہ کر رہی تھی وہ مسکراتی بولی اٹس اوک بے بی ۔
ماں چچی نہیں آئی ابھی تک ،، بیٹا فائق کی طبیعت ٹھیک نہیں اسے سلا رہی ہے ابھی گئی ہیں کچھ دیر پہلے۔ وہ سر ہلاتے جوس پیتی اٹھ گئی _____________
یہ تھی عون چوہدری کی چھوٹی سی فیملی ،، جس میں ان کی بیوی ماریہ بیگم اور آزان چوہدری تھی ۔
ان تینوں کو کسی چوتھے کی ضرورت نہ تھی کے وہ اپنی دنیا میں بے انتہا خوش تھے ۔
عون چوہدری اور ضیاء چوہدری اور زین چوہدری تین بھائی تھے ،، اور ماشاء اللہ سے تینوں میں بے انتہا اتفاق اور محبت تھا
سب سے بڑے ضیاء چوہدری تھے جن کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے اور ان کا گھر زین چوہدری اور عون چوہدری سے کچھ فاصلے کی مسافت پر تھا ،،، سڑک کے کنارے عون چوہدری کی شاندار محل نما کوٹھی تھی ،،
جس میں دنیا جہاں کی تمام آسائشیں موجود تھی ۔۔کچھ ان کے باپ دادا کی بہت جائیدادیں تھی اور کچھ ان تینوں کی محنت کا صلہ تھا ۔۔۔تینوں بھائیوں کا زمینوں کا کام تھا اور زین چوہدری اس کے علاوہ پراپرٹی ڈیلنگ کا بھی کام کرتے ،،جس سے انہیں مزید فائدہ ہوتا کے کب کہاں کوئی زمین خریدنی یان بیچنی ہے ۔
ضیاء چوہدری کے تینوں بچے شادی شدہ تھے سوائے نور کے جو آزان کی ہم عمر تھی ۔
عون چوہدری کی ایک بیٹی آزان چوہدری تھی جس میں ان دونوں کی جان بستی تھی ،،شادی کے تیرہ سال بعد اتنی منتوں مرادوں کے بعد انہیں اللہ پاک نے آزان سے نوازہ تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اُسے ہاتھوں کا چھالا بنا کر رکھتے ______اس پر کبھی آنچ نہ آنے دیتے ۔۔
زین چوہدری کے دو بچے تھے ،،ایک بیٹا پانچ سال کا اور بیٹی سات سال کی ،،وہ عون چوہدری کے ساتھ ہی رہتے الگ پورشن
میں ۔۔۔ چلیں بابا جان اٹھ جائیں دیر ہو جائے گی وہ ماں کے گلے لگتے بولی جو اٹھ کر اب دعائیں پڑھتیں اس پر پھونک رہی تھی ۔۔
اللہ پاک بری نظر سے بچائے میرے بچے کو دعا دیتی وہ دونوں کو پیار کرتے اپنا خیال رکھنے کا کہتی انہیں جاتا دیکھنے لگی۔
نور اور آزان کا آج پہلا دن تھا یونی ورسٹی میں اس لئے بہت پرجوش تھی ،، دونوں نے بی ایس زوالوجی ( مضمون ) سلیکٹ کیا تھا اور دونوں ہی بہت ذہین تھی ۔
عون چوہدری شروع دن سے آج تک خود ان دونوں کو چھوڑنے جاتے تھے اپنی بیٹی کے معاملے میں وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتے تھے ۔
بھابھی زانو چلی گئی ۔۔ ان کو وہی کھڑا دیکھ اریشہ ( زین چوہدری کی بیوی) نے پوچھا،،، تم جانتی تو ہو جب تک گاری آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے میں یہی کھڑی رھتی ہوں ۔۔
وہ پلٹتے بولی تو اریشہ بھی مسکرا دی ۔
جانتی ہوں ،، بہت جلدی کی آنے کی لیکن فائق سو ہی نہیں رہا تھا ،،اب ان کے بابا کو کہا ہے اسے ذرا پاس رکھیں میں آزان کو گڈ لک بول آؤ ۔۔وہ مسکراتے گویا ہوئ ۔۔۔
پوچھ رہی تھی آپ کا ابھی ،، میں نے بتایا ہے فائق کی طبیعت کا ،،آپ فکر نہ کرو فائق پر دھیان دو ۔۔زیادہ طبیعت خراب ہے تو ہاسپٹل لے جاو بچے کو ،، اس کے بغیر آج ناشتے پر بھی رونق نہ تھی ،،،جی میں بھی
یہی سوچ رہی_______،،یونہی باتیں کرتے وہ اندر آ گئیں ۔
رہتے وہ ساتھ تھے لیکن پورشن الگ تھے ،، جس کا ایک دروازہ ماریہ بیگم کے کچن سے نکلتا اور ایک صدر دروازہ الگ باہر کی جانب ۔
سارا دن تو ان کا اکٹھے ہی گزرتا تھا کیوں کہ آزان تو کالج ہوتی پیچھے سے وہ بچوں اور اریشہ کے ساتھ لگی رہتی ورنہ آزان کی چیزیں سمیٹتے رہتی۔
ان کی کل کائنات تو آزان چوہدری کے گرد گردش کرتی تھی ۔
