Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes Readelle 50360 Qafs-E-Zulmat (Episode 25) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Qafs-E-Zulmat (Episode 25) 2nd Last Episode
Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ ،،، میں آپکو پہلے بھی بتا چکی ہوں میں شادی شدہ ہوں اور بہت خوش ہوں اپنے شوہر کے ساتھ ۔۔
وہ میسج سینڈ کرتے ہاتھوں میں سر دیتی رونے والی ہو گئی ۔
آزان کو طیب راضی کرکے لے آیا تھا اور دوبارہ اُس نے اس کے ساتھ کوئی زبردستی یان بدسلوکی نہیں کی ۔
البتہ اُسکی جانب سے تو آزان سکون میں آئ تھی لیکن گزشتہ کچھ روز سے ایک نمبر سے اُسے میسج ،،کال آنے لگی ،، جو بھی تھا اُس سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔
آزان نے اُسکا نمبر بلاک کر دیا لیکن وہ روز اُسے دوسرے نمبروں سے میسیجز کرتا اور شادی کی خواہش ظاہر کرتا ۔۔ وہ اُسے بلاک کر کرکے تھک چکی تھی لیکن یہ بندھ اتنا زلیل قسم کا تھا کے اُسے تنگ کرکے رکھ دیا تھا ۔۔۔
دوسرا طیب کمال کا وقت زیادہ تر اپنے فون کے ساتھ گزرنے لگا ،، کام پر وہ جاتا نہیں تھا ۔۔۔
آفس ڈوب رہا تھا ” سارا کام مینیجر کے ذمے ڈال کر وہ سارا دن گھر پڑا رہتا ،،چندہ بیگم کو اپنی گیٹ ٹو گیدڑ سے فرصت نہ ملتی ۔
پچاس لاکھ وہ عون چوہدری سے لے بیٹھا تھا ،، باقی رقم وہ آزان سے لے چکا تھا ۔
آزان کچھ دنوں سے دیکھ رہی تھی کے وہ جب بھی اس کے قریب آتا تو کچھ نہ کچھ کہتا لیکن آزان دھیان نہ دیتی ،، لیکن اب اُسے کچھ کچھ سمجھ آنے لگا ۔
وہ جو اس کے قریب آتا کبھی کہتا کے تمہیں یہاں سے تھوڑا ہیلتھی ہونا چاہیے ،، یہاں سے کم ہونا چاہئے ۔
وہ جن لڑکیوں سے بات کرتا تھا ان میں سے ایک آزان کی بھی دوست تھی ،، بہت گہری نہیں لیکن وہ ایک دوسرے کو سنیپ چیٹ پر اسٹریک بیجھتی تھی اور وہی سے طیب کمال کی بھی اُس سے بات شروع ہوئ تھی ۔
اُس نے پھر بھی سر جھکتے اُسے اپنا وہم گردانتے چھوڑ دیا لیکن اب جو مصیبت گلے پڑی تھی وہ اس سے تھک گئ تھی ۔
وہ کچھ دن رہنے اپنے گھر آ گئی اور آتے ساری بات زین چوہدری کے گوش گزار کی ،، وہ سن کر بہت تپے اور اس سے نمبر لیتے کال کی ،، آگے سے جس کی آواز انہیں سننے کو ملیں ،، ان کا دماغ سنسنا اٹھا ،، فون اسپیکر پر تھا ،، آزان اس آواز کو کیسے نہ پہچانتی ،، مقابل چندہ بیگم تھی ۔
زین چوہدری نے فون بند کرتے کھولتے دماغ کے ساتھ اپنی مٹھیاں بینچی ۔
میسج کرو اس نمبر پر اور ملنے کے لئے بلاو ،، میں تمہارے ساتھ چلو گا میرا بچہ ،، پریشانی والی بات نہیں اُسکی نم آنکھیں دیکھتے وہ نرمی سے سمجھاتے اُسکا سر سینے سے لگاتے گویا ہوے۔
آزان نے سر اثبات میں ہلاتے اُسے میسج کیا ،، جواب فوراً موصول ہوا ،، زین چوہدری گاڑی میں بیٹھتے اُسے لیے اپنی بتائی جگہ پر پہنچے ،، جہاں طیب کمال پہلے سے موجود تھا ۔
اچانک غصے اور طیش کی لہر دوڑ گئی دماغ میں ،،
اور بس یہی وہ لمحہ تھا کے زین چودھری نے گاڑی سے نکلتے ،، قدم اُسکی جانب بڑھاے ،، اور غصے سے پاگل ہوتے اس کو جھکرتے اس کے چہرے پر ضربیں لگانا شروع کر دی ،، طیب کمال اس غیر متوقع صورت حال کے لیے تیار نہ تھا ،، لڑکھڑا کر دور گرا ،، زین چوہدری نے اپنی پھولی رگوں والے مضبوط کسرتی بازو سے اُس کے گلے کو دباتے اُسکا سانس روکا ،، طیب کمال پل میں دم گھٹنے سے زرد پرا اور مچھلی کی مانند ترپنے لگا ۔۔
تم زلیل آدمی ،، تمہیں شرم نہیں آئی اپنی بیوی کے ساتھ اتنی گھٹیا حرکت کرتے ہوے ،،دفعہ ہو جاؤ یہاں سے کے اس سے پہلے میں تمہاری جان نکال دوں ،، اس پر اپنے جوتوں سے وار کرتے وہ غرائے ۔۔۔طیب کمال جان بخشی ہوتے دیکھ وہاں سے بھاگ نکلا ، زین چوہدری اُسے کبھی نہ چھوڑتے اگر اردگرد لوگوں کا ہجوم نہ بنتا ۔۔۔
انہوں نے ایک نگاہ سامنے ڈالی ،،، آزان چودھری بے خس و حرکت کھڑی تھی ،،
وہ بے یقین نگاہوں سے اُسے دیکھ رہی تھی ” اور پہلا سوال جو ذہن میں بیدار ہوا تھا وہ تھا کیوں ۔۔۔
کیوں ؟؟؟؟
کیا طیب کو اس پر اتنا بھی یقین نہ تھا ۔۔۔
اسکا دماغ ماؤف ہونے لگا ،، وہ بے یقین نگاہوں سے اُسے دیکھ رہی تھی ،، زین چوہدری سے مار کھاتا ،، زین چوہدری نے کسی بھپرے شیر کی طرح دھاڑ کر اس پر حملہ آور ہوئے تھے ،، وہ تکلیف و ازیت سے اُسے پٹتا دیکھ رہی تھی ۔
زین چوہدری نے اسے سامنے کھڑا دیکھا ،، آنکھوں میں جیسے خون اترا تھا اپنی بچی کی درگرو حالت پر ،، دل میں الگ تکلیف اٹھنے لگی تھی ۔
چلتی سڑک کے درمیان میں کھڑی وہ خود پر گزرے قیامت خیز دنوں کے ضد میں تھی ،، یہ دن اس نے کس ازیت سے گزارے تھے ،، کیا وہ اس شخص کے لیے دو سال سے اتنی ازیت تکلیف برداشت کرتی رہی تھی ،، جس نے ایک پل میں اُس کے سر سے چھت چھین ڈالی تھی ،، اُسے ننگے سر بیچ چوراہے میں کھڑا کر دیا تھا ۔۔۔
آنسو بہتے اُس کے مومی گالوں پر بکھرنے لگے اور وہ برف کی سل بنی کھڑی تھی ،، آتے جاتے لوگوں کی کوئی ہوش نہ تھی ۔
زین چوہدری اُسے کھڑے دیکھتے پاگلوں کی طرح بھاگتے اُس تک پہنچے تھے ،، اور اسے سینے سے لگاتے سڑک کے کنارے ایک طرف ہوے ،، وہ انہیں پتھرائی نگاہوں سے دیکھتے مردہ قدموں سے ان کے سینے سے لگی دل پر ہاتھ رکھ گئی ۔
اور جس بات کا انہیں ڈر تھا وہی ہوا اور اُسے اپنے مضبوط بازوں میں بھرتے اپنی گاڑی کی جانب بھاگے تھے
اُس کی حالت خراب ہونے لگی ،، رنگت پھیکی پڑنے لگی ، دل پر ہاتھ رکھتی وہ گہرے سانس لینے لگی ،، زین چوہدری نے گاڑی میں بیٹھاتے اُسے جلدی سے پانی پلایا ۔۔
یہاں دیکھو میری جانب ” کچھ نہیں ہوا آزان سب ٹھیک ہے میرا بچہ ،، میری گڑیا ۔
چاچو کو ڈراو نہیں بچہ ” وہ آنکھوں میں نمی لیے اُسے دیکھتے بولے تو وہ تھوڑا سنبھلتی ان کی بات اور پر سر ہلاتے اپنی پانی بھری آنکھوں میں ڈھیروں شکوہ لیے انہیں دیکھتے آنکھیں موندنے لگی ۔
آنسو چہرے پر گرتے چلے گئے ،، وہ ہار گئ تھی اس شخص سے ،، طیب اردگان نے اُسکی روح کو جنجھوڑ ڈالا تھا
میں سب سے زیادہ قریب اُس کے
میں اسکو اندر سے جانتی ہوں
وہ جب یہ کہہ دے میں تمہارا
میں آنکھ بند کرکے مانتی ہوں
وہ آج بیٹھی رو رہی ہے
نہ کوئی اسکو منانے والا
نہ زہر ہے کوئی کھانے والا
نہ وہ محبت کا مان باقی
نہ اُسکا وہم و گماں باقی
اس نے تمام وعدوں ،،تمام قسموں کو
ایک پل میں توڑ ڈالا
میں اُسکی خاطر ہے جان دیتی
وہ آج سچ میں جان لینے والا تھا
وہ آج بیٹھی رو رہی ہے،،
تمام سکھیوں کو کہتی تھی
تمہیں پتا ہی نہیں ہے اُسکا
میں اسکو اندر سے جانتی ہوں ۔
اذلان ملک نے اپنا کہا سچ کیا تھا وہ اپنی بیوی اور دونوں بچوں کو ساتھ لیے واپس آیا تھا
گھر کے گیٹ کے باہر کھڑے ہوتے دنین وہی رک گئی ،، گزرا کیا کچھ نہ یاد آیا ،،آنکھیں نم ہونے لگی دل سست پڑنے لگا ________
اذلان نے اسے ایک نظر دیکھا جو عیسی ملک کو اٹھائے آنکھوں میں نمی اور عجیب رنگ لیے دروازے کو غور رہی تھی ۔
اذلان نے اس کے قريب آتے اُس کے گرد بازو حائل کیے ،، میں جانتا ہوں سب کچھ بھلانا آسان نہیں اور میں تمہیں کچھ بھی بھلانے یان امی سے بات کرنے پر مجبور نہیں کر رہا ،،ہاں لیکن میں یہ چاہتا ہوں کے تم ایک بار ان سے مل لو پھر جو تمہارا فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے ۔۔
وہ جو اسے اپنے ساتھ یہاں بڑی منتوں مرادوں سے لایا تھا کیوں کہ وہ اپنے بابا کے گھر رہنا چاہتی تھی وہ بہت اچھی تھی لیکن اس میں اتنا ظرف نہ تھا کے وہ اسے بے گھر کرنے والوں کا سامنا کر پاتی ۔۔۔
اسے وہ تمام ذلت اور رسوائی یاد آنے لگی جو اس نے اس قیامت خیز رات میں گزاری تھی ۔
وہ آنسو صاف کرتے اثبات میں سر ہلا گئی _____ دروازہ کھولتی انابیہ کے ہاتھ لرزے تھے گناہ کرنا آسان ہے لیکن اسکی معافی مانگنا مشکل ترین امر ہے ۔
سامنے کھڑے اذلان اور دنین کی بانہوں میں دو گول مٹول گوگلے بچے دیکھ کر وہ حیرت کے مارے آنکھیں پھارے انہیں دیکھ رہی تھی جو ہوبہو اپنے باپ کی کاپی لگ رہے تھے ۔
بھائ یہ _________ اُسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔۔ انابیہ نے بہتی آنکھوں سے دنین کو دیکھا اور ہونٹ بری طرح سے کچلتے انہیں راستہ دیتی ایک طرف ہوئ ۔
ملو گی نہیں اپنے بھتیجوں سے ” اذلان نے صحن میں رکھی کرسی پر براجمان ہوتے استفسار کیا تو وہ ہونٹوں کو بينچتی اپنے آنسو کو ضبط کرنے لگی ۔
اپنا دوپٹہ مٹھیوں میں جکڑے وہ دنین کے قریب گھٹنوں کے پاس بیٹھ گئی اور اس کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتے سر جھکائے اضطرابی کیفیت میں مستفسر ہوئ ۔
مجھے معاف کر دیں بھابھی ،، میں نے آپ کے ساتھ بہت برا کیا ،، میں خوف زدہ ہو گئی تھی اور آپ پر سارا الزام در دیا ۔
میں اس دن سے ایک پل سکون کا نہیں گزار پائ میں نے اللہ پاک سے بہت معافی مانگی ،،آپکا بہت معلوم کیا لیکن کسی نے مجھے کچھ نہ بتایا میں جانتی ہوں میں بہت برا کر چکی ہوں آپکی زندگی کے ماہ و سال میری وجہ سے تکلیف میں گزرے ،، لیکن ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں وہ اشک بار نگاہوں سے کہتی روتے ہوے اس کے پاؤں پر ہاتھ رکھتی پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔
دنین جو اپنا دل سخت کیے ہوے تھی اُس کے رونے پر بے چین ہوتی پہلو بدلنے لگی اور پھر اُسکے آنسو برادشت نہ کر سکی ،، اُس کے ہاتھ اپنے پاؤں پر محسوس کرتے وہ بدک کر پیچھے ہوئ اور عیسی کو اس کے بابا کو دیتے انابیہ کو بازوں سے تھامتے اپنے سامنے کرسی پر بٹھاتے اس کے آنسو صاف کیے ۔
میں ایسا کچھ نہیں چاہتی ،، میں نے ہمیشہ تمہارا اچھا چاہا ہے اور تمہیں چھوٹی بہن کی طرح سمجھا ،، جو گزر گیا اسے یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ،، میں سب کچھ بھلا کے یہاں آئ ہوں اور مطمئن ہوں
وہ اُسکے ہچکیاں بھرتے وجود کو تھپکتے گلے لگاتے بولی تو انابیہ جو پہلے ہی بہت ازیت سے گزر رہی تھی اُسکی بات سنتی اس کے ساتھ لگتی روتی بارہا معافی مانگ چکی تھی۔
بس کرو میری گڑیا ۔۔ کیوں میرے شہزادوں کو ڈرا رہی ہو ” وہ بھی پریشان ہیں کے ان کی پھوپھو نے انکا روتے ہوئے استقبال کیا ہے ۔
انابیہ اس سے دور ہوتے مسکراتے بچوں کی جانب بڑھی اور انہیں پیار کرتی عیسی خان کی آنکھوں کو دیکھتے گویا ہوئ ۔۔
بھابھی آپ نے دیکھا اس کی آنکھیں آپ پر ہیں اور موسی کی بھائی پر ،، دنین مسکراتی سر ہلا گئی اور انابیہ بچوں کو چومتی ان کے خوبصورت گالوں پر بار بار پیار کرتی لب رکھتی ۔
بھائ آپ لوگ روم میں جا کر ریسٹ کریں ،، میں کھانا لگاتی ہُوں اور امی کو بھی لے کر آتی ہوں آپ کے آنے سے پہلے ہی انہیں دوا دے کر آئ تھی ۔
زین چوہدری جانتے تھے کے اُسے پینک اٹیک آیا ہے ،، وہ بہت جلدی پریشان ہو جاتی تھی اُسے بچپن سے ہی لاڈ پیار میں رکھا گیا تھا اور اس کی پیدائش کے وقت ڈاکٹر نے بتایا تھا کے بچی کا دل کمزور ہے تھوڑا ،، دوا دیتے رہے اسے لیکن کبھی ایسا ہوا ہی نہیں کے اسے کسی طرح کے دباؤ یان سختی میں رکھا گیا ہو اور اب جب اُس پر اتنی بڑی قیامت برپا تھی تو وہ کیسے سہتی ،، اپنے دل پر ہاتھ رکھتی وہ گہرے سانس لینے لگی ،، اور اُسکی حالت دیکھتے زین چودھری کے دل میں درد اٹھنے لگا ،، وہ سختی سے جبڑے بینچے اسٹیئرنگ پر ہاتھ رکھے گاڑی کو ہوا میں اڑا رہے تھے ۔
ہاسپٹل پہنچتے ہی اُسے اپنے مضبوط بازوں میں بھرتے وہ اُس کے ماتھے پر لب رکھتے اندر کی جانب بھاگے تھے اور چیختے ایمرجنسی میں ڈاکٹر کو آواز دی تھی ۔
پرائیویٹ ہاسپٹل تھا اور سب سے بڑھ کر عون چوہدری کے دوست کا ہاسپٹل تھا ڈاکٹر تیزی سے اُسکی جانب بڑھے تھے وہ جو اپنی آنکھیں کھولنے کی کوشش میں تھی ،، ضبط کھوتی آنکھیں موند گئی اور یہی تک زین چوہدری کا صبر اور برداشت تھی وہ مٹھیاں بینچے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پاگل ہونے کے قریب تھے
دل و دماغ میں درد کی شدید لہریں اٹھنے لگی ،، اُس نے جلدی سے فون نکالتے عون چوہدری کو فون کیا تھا اور انہیں جلد ہاسپٹل آنے کا کہا ،، عون چودھری کو ابھی انہوں نے ساری بات نہیں بتائی تھی بس ذرا سی طبیعت خرابی کا بتایا تھا اور وہ جیسے اپنی پھول سی بچی کا سن کر دل پر ہاتھ رکھتے تیزی سے باہر نکلے ،، بنگلے سے باہر نکلتے ہی ملازم تیزی سے قریب آتے ان کے لیے دروازہ کھولا ،، ڈرائیور اپنی سیٹ سمبھالتا ان کے بیٹھنے پر تیزی سے گاڑی چلاتے طویل سڑک پر دوڑانے لگا
عون چوہدری کو باہر نکلتے دیکھ ماریہ بیگم اپنے دل پر ہاتھ رکھ گئی اللہ خیر _______ کبھی ایسا نہیں ہوا کے اتنی جلدی اور پریشانی میں وہ نکلے ہوں اریشہ جو انہیں تسلی دے رہی تھی کچھ نہیں ہوا وہ جانتی تھی کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہوا ہے جو وہ عجلت میں متفکر سے نکلے تھے لیکن انہیں کچھ بھی بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
عون چوہدری ت کر اندر کی جانب بھاگے تھے ،، کیا کیا ہوا ہے میری بچی کو ؟؟…..
مجھے بتاؤ زین چوہدری ،، اس سے پہلے کے میرا دل بند ہو جائے ،،میری بچی کیسی ہے اسے کیا ہوا ہے ،،
وہ ایک سانس میں اس سے کئی سوال کر گئے ۔
انکا دل خوف سے دھڑکنے لگا تھا بھوری آنکھیں پھیلائے وہ زین چوہدری کے حسین چہرے کو دیکھ رہے تھے ،، جو خود میں ہمت مجتمع کرتا انہیں دھیرے دھیرے ساری بات بتا گیا۔ ۔
عون چوہدری کے قدم لڑکھڑائے تھے ” میری جان!!! ۔۔۔ میری گڑیا ۔۔
تم نے مجھ سے کیوں چھپایا زین ،، آنکھوں میں ڈھیروں دکھ تکلیف بھرے تاثرات لیے وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولتے قدم بڑھاتے دروازے کے قریب کھڑے ہو گئے جہاں آزان کو لے جایا گیا تھا ۔
بھائ میں کیا بتاتا ” میں خود کچھ نہیں جانتا تھا وہ لب بینچتے انہیں دیکھتا بولا جن کی آنکھوں میں ڈھیروں دکھ آباد تھا ۔
اچانک دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آئے ،،
کیا بات ہے ڈاکٹر میری بیٹی ٹھیک تو ہے ؟….
عون چوہدری اضطرابی کیفیت میں انہیں دیکھتے مستفسر ہوئے ۔۔
پیشنٹ کی طبیعت کافی بہتر ہے لیکن کسی بات کا بہت گہرا صدمہ لیا ہے انہوں نے ،، پینک آٹیکّ ہوا تھا اور آپ لوگ جانتے ہیں کے ان کا دل بھی بہت کمزور ہے ،، کسی بھی طرح کا اسٹریس ،، پریشانی انہیں دینے سے گریز کریں ۔۔ ان کے دل میں اٹھتے درد کو وجہ سے وہ اپنے حواس کھو بیٹھی تھی ،، عمر بھی چھوٹی ہے ویسے بھی اور کمزور بھی بہت ہیں ۔
آپ لوگ انکا خیال رکھیں زیادہ سے زیادہ
ڈاکٹر کے جاتے ہی وہ دونوں کمرے میں داخل ہوئے ،، سامنے بیڈ پر وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی ،، زرد رنگت دیکھتے عون چوہدری کا دل درد سے دکھنے لگا ۔
میری بیٹی اتنی بڑی ہو گئی ہے کے اپنے بابا جان سے بھی اب باتیں چھپانے لگی ہے ،، عون چوھدری نے اس کے قریب جاتے نم لہجے میں کہتے اس کے ماتھے پر لب رکھے ،، اُسکی بند آنکھوں سے آنسو گرنے لگے ۔
ہاتھ لرزنے لگے ،، کپکپاتی پلکوں کو کھولتے اس نے اپنی نم درد سے بھری نگاہوں سے انہیں دیکھا تھا
اور عون چودھری وہی پر ڈھ گئے تھے ،، اپنی چندہ کی آنکھوں میں انہوں نے کبھی ایک آنسو بھی نہ دیکھا تھا اور آج ان آنکھوں میں جھلملاتے پانی نے انہیں درد میں مبتلا کر دیا
