Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 7)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

صبح آنکھ کھلتے ہی اس نے کھڑکی کے پار نگاہ اٹھا کے دیکھا تو موسم کافی ابر آلود سا تھا ،، آسمان پر چھائے دھندلے ،بادل نے ،، منظر کو چھپا رکھا تھا

وہ جی کڑا کرکے اٹھتی کوفت سے چینج کرتی ،، سب کے درمیان نیچے آتی ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ناشتہ کرنے لگی ،، کیسی

طبیعت ہے ہمارے بچے کی ،،عون صاحب اپنے محصوص انداز میں اُسے ساتھ لگاتے ماتھے پر لب رکھتے طبیعت کے بارے میں استفسار کرنے لگے تو وہ نا چاہتے ہوے بھی اپنے نازک گلابی پنکھڑیوں پر مسکراہٹ لاتے گویا ہوئ ۔۔

بلکل فٹ !!! آپ بتائیں کام تو کافی لمبا ہو گیا تھا ،، دو دن سے آپ تو مجھے دکھائیں بھی نہیں دیے ،، کوئی پسند تو نہیں آ گئی ؟…….

وہ منہ بناتے بریڈ کا سلایس ماریہ بیگم سے لیتی عام سے لہجے میں بولی تو اس کی بات پر ساتھ بیٹھی اریشہ اور زین چوہدری بھی مسکرا دیے ۔

جبکہ ماریہ بیگم نے تاسف سے سر ہلاتے اپنی بیٹی کی جانب دیکھا جو ان کی سوتن لانے کی پوری کوشش میں تھی

وہ اپنی مسکراہٹ دباتے ایک نگاہ اپنی شریک حیات پر ڈالتے گویا ہوئے ،،

بس بیٹے کام ہی کچھ ایسا تھا ،، یہ تمہارے چچا اکیلے سب نہیں سنبھال سکتے اسلئے میرا جانا ضروری ہوتا ساتھ ،، انہوں نے محبت بھرے لہجے میں اس کے خفا چہرے پر نگاہ ڈالتے متانت بھرے انداز میں بتایا تو اس نے بروقت سر ہلانے میں ہی اکتفا کیا ۔

نور کے آتے ہی وہ دونوں زین چوہدری کے ساتھ یونیورسٹی کے لیے نکل گئی

گاڑی طویل سڑک پر اپنی منزل کی جانب رواں تھی ،، جوں جوں یونی ورسٹی کے قریب پہنچ رہی تھی آزان کا دل ویسے ویسے ڈول رہا تھا ،، یکلحت وہ نور کا ہاتھ تھامے چہرے پر بے انتہا خوف لیے وہ اپنی مومی انگلیوں میں اس کے ہاتھ تھامتی پھیکے پڑتے چہرے سے اسکی جانب دیکھتی بولی ،، اگر چاچو نے اُسے دیکھ لیا تو قیامت برپا کر دیں گے نور ۔۔

شہد رنگ آنکھوں میں خوف لیے وہ اس وقت لرزتے بدن سے اسے دیکھ رہی تھی ۔

نور نے لب بینچ سختی سے اُسے گھورا ،، فضول کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں زانو ایسا کچھ نہیں ہونے والا ،، اور فرض کرو ہو بھی جائے تو ہمیں اس سے کوئی واسطہ نہیں ،، ہم نے نہ کبھی اُسے بڑھاوا دیا اُس کی اس فضول کی وقتی اٹریکشن سے ،،جسے وہ محبت کا نام دیے پاگل پن کی انتہا کیے کھڑا رہتا

آزان نے ایک نگاہ نور کی جانب دیکھتے بے بسی سے لب بینچے ،،

گاڑی سے نکلتے اس نے غیر شعوری طور پر اپنی پلکوں کی جھالر اٹھا کے ارگرد دیکھا تو اُسے نہ پا کر سانسیں

تھوڑی بحال ہوئ ۔

چہرے پر جو الجھن اور سرخی تھی اس میں بروقت کمی آئ

یونی ورسٹی کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی اسکی نگاہ اطراف میں اُٹھی جہاں وہ آج بھی گلاب کے پھول تھامے کھڑا تھا لیکن نہیں آج وہ صرف کھڑا نا رہا بلکہ اس کی جانب قدم بڑھنے لگے ۔

اُسے اپنی جانب آتا دیکھ اُسکا نازک دل بری طرح سے پھرپھرانے لگا ، اور اس سے پہلے کے وہ کچھ سمجھتی طیب کمال نے اتنی ہی پھرتی سے اس کے قریب آتے اس کے قدموں میں بیٹھتے چاقو اپنی جیب سے نکالا اور اسکی جانب بڑھا دیا ۔۔

میں آپ پر کوئی زور زبردستی نہیں کروں گا ،، نہ آپ کی محبت کا طلبگار ہوں ،، بس آپ آج مجھ پر ایک آخری احسان کر دیں ،، مجھے اپنے ہاٹھوں سے مار دیں ،

کیونکہ آپ کے بغیر تو میرا جینا ممکن نہیں ،، مجھے نہیں معلوم کے میں آپ کو کس طرح اپنی محبت کا یقین دلاو ،، میں نے آپ سے محبت کی ہی بغیر کسی غرض کے ،، مجھے کچھ نہیں چاہیے سوائے آپ کے ،،

دو ماہ سے میں آپ کی آمد کا منتظر یہاں کھڑا رہتا ہوں ،،،، آپکی ایک نگاہ کا منتظر ،، میں نہیں جانتا محبت کیسی ہوتی ہے یان کیا ہے ،، لیکن میں اتنا جانتا ہوں کے آپ کو دیکھے بغیر میرا دن نہیں گزرتا ،،، جس دن آپ کو نہ دیکھو اس بے چین دل کو قرار نہیں آتا ،، ،،

لگتا ہے جیسے کچھ ادھورا پن سا ہے میری ذات میں جو مجھے کھینچتا یہاں تک لے آتا ہے ،، یہ دل آپ کے بغیر ویسے بھی تو مردہ ہی ہے نہ ،، تو پھر اس کا کیا فائدہ ،، میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں یہ چاقو تھامیں اور میرے سینے کے آر پار کر دیں ،، مجھے اس اذیت بھری زندگی سے رہائی دے دیں خدارا ،،

اس کا بولا ایک ایک خرف اس کے دل کی ترجمانی کر رہا تھا ،، جس میں ڈھیروں درد اور تکلیف موجود تھی

طیب کمال ایک عام سی شکل و صوررت کا حامل جوان مرد بھرے مجمعے میں زمین پر گھٹنے ٹیکے اس کے سامنے ہاتھ میں ہنجر تھامے بیٹھا تھا ،،

یان سونپ دیں مجھے زندگی کی امید ،، اور شامل ہو جائیں میری زندگی میں ،، ایک نیا سویرا بن کے ،،یقین جانے میرے لیے بہت انمول ہیں آپ ،،میں نے بہت کوشش کی آپ کو بھولنے کی ،،

لیکن آپکی محبت کسی آسیب زدہ سائے کی مانند میرا تعقب کرتی ہے اور مجھے جنجھورتی ہے ،، اس سے پہلے کے طیب کمال پاگل ہو کے مر جائے اُسے زندگی کی نوید سنا دیں ،، بھاری نم آواز بوجھل ماحول میں پھیلی تھی ،، طیب کمال نے نگاہ اٹھاتے اُسے اپنی سرخ نم آنکھوں سے دیکھا تھا جیسے ابھی ضبط ٹوٹا اور اسکی آنکھ سے آنسو نکلا۔۔

آزان چوہدری جو اس ناگہانی آفت سے دم بحود سی اُسے اپنے قریب آتا دیکھ رہی تھی ،، وہ اس کے قدموں میں گرنے سے اسکی برف جیسی چمکتی رنگت میں زردیاں گھلنے لگی تھی۔

اس کے لب سرگوشی میں ہلے تھے ،، جن کی آواز وہ خود تک نا سن پائی

طیب کمال کی آنکھوں میں اترتی محبت اور تکلیف کے رنگ اس کے چہرے پر رقم تھے،، اور اسکی اس حرکت اور الفاظ سے آزان کا دل سینے میں قید کسی نازک پرندے کو طرح پھرپھرانے لگا ۔۔اس کے الفاظ اس پر مستزاد اس کی وحشت ٹپکاتی نگاہیں اُسے گھٹن میں مبتلا کرنے لگی ۔

طیب کمال یک ٹک اُسے دیکھ رہا تھا ،، نور چوہدری خاموش اس کے پہلو میں کھڑی تھی ،، فیصلہ اُسکا تھا

اپنی تمام تر بے چینی اور گھٹن کو ایک جانب رکھتے دفعتاً اس نے گہرا سانس ہوا کے سپرد کیا اور اپنے لرزتے سرخ لبوں پر

زبان پھیرتے اپنے پسلیوں سے سر پٹختے دل کو قابو کرتے بولی ،،

کل پرپوزل لے کر آؤ میرے گھر اور میرے والدین سے ایک مہذب انداز میں میرا ساتھ مانگو ،، برمحل یہ الفاظ ادا کرتے وہ رکی نہیں تھی اور نہ پیچھے پلٹ کر دیکھا ،، لیکن اس کے چند الفاظ طیب کمال کو زندگی کی نوید بخش گئے تھے ۔۔

وہ ساکت جامد وہاں کھڑا اُسے جاتا دیکھ رہا تھا ،، خوشی بہت چھوٹا لفظ تھا آج طیب کمال کے لیے ۔

آزان چوہدری آج اُسے اپنی دنیا جہاں سونپ گئی تھی

آزان تم ٹھیک ہو ؟؟…..

گاڑی میں بیٹھتے ہی نور نے اُسکا ہاتھ تھامے استفسار کیا تو وہ سر اثبات میں ہلاتے اپنے ماتھے پر ابھرتے شبنم کے ننھے قطرے صاف کرنے لگی ۔۔

نور چوہدری نے لب بینچ تاسف بھری نگاہ سے اسے دیکھا ،، کیا تم نے یہ فیصلہ سوچ سمجھ کر لیا ہے آزان چوہدری ۔۔

نور نے اپنے لہجے کو حد درجہ سخت ہونے سے روکا ،،لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی اس میں سختی در آی ۔۔

آزان نے گردن موڑتے اسکی آنکھوں میں اپنی شہد رنگ آنکھیں گھارتے،، سرخ ڈورون والی خوبصورت آنکھوں میں دیکھا جو اس وقت نم آلود تھی ،، نور تم خود بتاؤں مجھے اس وقت کیا کرنا چاہئے تھا ،، ایک شخص میرے لیے اپنی جان دینے چلا تھا ،، کتنے عرصے سے وہ وہاں کھڑا میرا منتظر رہا ،، کیا کوئی لوفر ،، یان سڑک چھاپ گنڈوں والی حرکت کرتے دیکھا ہم

نے ۔۔۔آج تک اس نے دوسری نگاہ اٹھا کر میری جانب نہیں دیکھا ،،تو میں اور کیا کرتی کیسے اُسے حالی ہاتھ لوٹا دیتی ،،

کل کو وہ خود کو کوئی جانی نقصان پہنچا لیتا تو اس سب کا زمہ دار مجھے ٹھرایا جانا تھا ۔۔

اور میں ایسا بلکل نہیں چاہتی کے کل کو لوگ آ کر میرے گھر والوں پر باتیں بنائیں ،، یان میری وجہ سے خاندان کی عزت پر حرف آئے ۔

اگر وہ اپنے والدین کو لاتا ہے گھر تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔۔میں رضامندی دے چکی ہوں ۔۔

آنکھ سے آنسو ٹوٹ کر گرا تو نور نے ترپ کر اُسے سینے سے لگایا ،،میری جان پریشان نہیں ہوںا،،، میں ہر حال میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔

گاڑی رکتے ہی وہ باہر نکلتے مردہ قدموں سے اندر داخل ہوئی اور اسلام کرتے سیدھا اپنے کمرے میں چلے گئی ۔

ماریہ بیگم اُسے کمرے میں جاتا دیکھ کچھ چونکی لیکن خاموش رہی کے وہ اکثر تھک جاتی تھی اور آتے ریسٹ کرنا چاہتی تھی ۔

آزان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کے اس کے ساتھ یہ ہو کیا رہا تھا ،، اُسکا دل دماغ زلزلوں کی ضد میں آیا ہوا تھا ،، اس شخص کی اس حرکت نے اُسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا ۔۔

اس کے سمعتوں میں اس کے لفظوں کی بازگشت ،، نے اُسے ترپا کے رکھ دیا ،، وہ معصوم جان سی لڑکی جس کا دل۔کسی نازک آبگینے کی مانند تھا وہ تو کسی کو ہلکی سی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی اور آج اس کے باعث کوئی تکلیف میں تھا ،،

اُسے کیسے یہ برداشت ہوتا ،، اُسے گھٹن کا احساس ہونے لگا ،، دل بند ہوتا محسوس ہوا ،، آنکھیں لبالب پانیوں سے بھرنے لگی ،،وہ اپنی ماں کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ،،بمشکل خود پر ضبط کرتے اس نے اپنی کانپتی مومی انگلیوں سے اپنے پھولے سرخ پڑتے گالوں سے آنسو صاف کیے اور گہرے سانس۔ بھرنے لگی ،،

اچانک ہوئے اس حملے سے اس کے اعصاب شکن ہونے لگے ،، اس نے ڈگمگاتے ہوئے قدم ٹیرس کی جانب اٹھائے اور ریلنگ پر ہاتھ رکھے گہرے سانس بھرنے لگی ،،اپنی نم پلکوں کو جھپکتے وہ پیچھے ایستادہ کرسی کا سہارا لیتی اس پر بیٹھتے چلے گئی کے کھڑے ہونے کی اس میں مزید طاقت اور سکت نہ تھی ۔

اپنے بابا اور مان کے ردعمل کا سوچتے اس کی رہی سہی جان بھی نکلنے لگی ،، وہ تو معصوم تھی بہت ،،جسے والدین نے کبھی گرم ہوا تک نہ لگنے دی،، اچانک اس اعصاب شکن ماحول نے اُسے جھنجھوڑ ڈالا تھا اور وہ لڑکھڑاتی اپنے بیڈ تک آتی

آری ترچھی وہی ڈھ گئی ۔