Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qafs-E-Zulmat (Episode 2)

Qafs-E-Zulmat By Yumna Writes

یونی ورسٹی پہنچتے ہی وہ عون چوہدری کو خدا خافظ کہتے باہر نکلی ،، وہ انہیں خیال سے جانے کی ہدایت کرتے اپنے کام کے سلسلے میں چلے گئے ۔

یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی سامنے کھڑی انہیں اپنی سہیلیاں دکھائیں دی جو انہیں گیٹ سے اندر داخل ہوتا دیکھ اچک اچک کر ہاتھ ہلاتے اپنی جانب متوجہ کر رہی تھی ،، ان کے قریب جاتے وہ دونوں پرجوشی سے ملی ۔۔ وہ پہلی بار یونی ورسٹی نہیں آئی تھی ،،اکثر اوقات نور کی بڑی بہن جس نے باٹنی میں بی ایس سی کمپلیٹ کی تھی پچلے سال اس کے ساتھ آتی رھتی تھی ،، ان کے خاندان میں لڑکیاں اچھا خاصا پڑھ رہی تھی اور آگے ایک اچھے مقام تک پہنچی تھی ۔۔ ماشاء اللہ سے آگے ان کی قسمت اتنی اچھی تھی کے نوکری کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئی اور نور اپنی بڑی بہن سے کافی متاثر تھی اور آگے اچھا پڑھنا چاہتی تھی ۔

__________________

دانین کہاں ہو ابھی تک میرے کپڑے نہیں نکالے ،، اذلان جو ابھی فریش ہوتا واشروم سے نکلا تھا ٹاول سے بال رگڑتے بلند آواز میں بولا ،،،

________ بس آ رہی ہوں

دانین روہانسی سی ہوتی جلدی سے اپنی ساس کے لیے ناشتہ بنانے لگی جن کو صبح سویرے اُٹھ کر کھانے کی عادت تھی

ان کو ان کے کمرے میں ناشتہ دیتی وہ جلدی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئ جہاں وہ کھڑا وارڈروب میں سر دیے اپنے کپڑے دیکھ رہا تھا

میں نکال دیتی ہوں ۔۔۔۔۔۔

وہ تیزی سے قریب آتے اُسکا ڈریس نکالنے لگی ،،، یار تو پہلے نکالنا چاہیے تھا نہ ،، تم جانتی بھی ہو مجھے آج جانا ہے کام کے سلسلے میں ،،

سوری وہ امی نے بلا لیا تھا وہ اسکی پینٹ شرٹ نکال کر اُسے پکڑآتی ناشتے کا پوچھنے لگی ،، جو مرضی بنا دو یار مگر جلدی بہت مشکل سے بندہ ہاتھ لگا ہے ،،آج سارا کام مکمل کر لوں تاکہ کل تک ٹیگٹ کنفرم ہو جائے ۔

اور وہ جو کمرے سے نکل رہی تھی اسکی آخری بات پر آنکھوں میں نمی امڈنے لگی ۔

لیکن جانتی تھی پرواہ کس کو تھی ،، میز پر اس کے سامنے پراٹھا رکھتے وہ اپنے لیے بھی ساتھ ہی ناشتہ لے آئی ۔

اتنا تووہ جان گئی تھی کے اس کے ہاتھ کے بلوں والے پراٹھے اُسے بہت پسند تھے جو وہ بغیر ساتھ کچھ لیے چائے کے ساتھ کھا لیتا ۔

دنین بھی ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی ،، امی باہر نہیں آئی ابھی تک ۔۔۔

اذلان نے لقمہ منہ میں رکھتے اسکی جانب دیکھتے پوچھا ،، نہیں وہ ناشتہ کرکے لیٹ گئی ہیں ،، انابیہ سوئ ہوئ ہے انہوں نے منع کیا ہے اسے اٹھانے سے ،، وہ چائے کا گھونٹ بھرتے اپنی اکلوتی چھوٹی نند کا بتاتے اُسے دیکھنے لگی جسے سب کی فکر تھی سوائے اس کے ،،

ایک شکوہ کنا نگاہ اس پر ڈالتے وہ اٹھ کر برتن سمیٹتے لگی ۔

اچھا جب بیا اُٹھی تو اُسّے ناشتہ پوچھ لینا ،،جانتی ہو نہ ذرا چھوٹی ہے تو موڈ بگڑ جاتا اُسکا پھر ۔۔۔

کچھ منگوانا ہوا تو مجھے کال کر دینا واپسی پر لیتا آؤں گا ،، اس کے گال کو نرمی سے چهوتے ماتھے پر لب رکھتے وہ باہر نکل گیا اور دنین ایک ہوق بھرتے دروازہ لاک کرتے اپنے کاموں میں جت گئی ،،کے اب سب کام اسے ہی کرنا تھا ان دونوں کے اٹھنے سے پہلے

دنین کا نکاح اس کے دور کے رشتے داروں میں ہوا تھا دو ماہ

قبل ،،

اذلان جرمن میں ایک کمپنی میں ملازمت پر تھا ،، تیس سالہ اذلان جب پاکستان واپس آیا تو اس کا اصل مقصد اب شادی کرکے واپسی کا تھا لیکن عظمہ بیگم کو تو بیٹے کے باہر جانے سے کوئی کوہ کاف کا خزانہ ہاتھ لگ گیا تھا _______ مہینہ رشتے کی تلاش میں بھٹکتے رہی ،، لڑکی پسند نہ آتی ،،کبھی چھوٹی بہن کو تو کبھی انہیں اور اکثر اذلان کو _____ دانین کی والدہ ان کی رشتے میں کزن لگتی تھی اور خاوند کی جانب سے بھی رشتہ تھا تو ایسے میں اکثر وہ ان کے ہاں چکر لگا لیتی ،،

لبنہ بیگم کی ایک ہی بیٹی تھی دنین ،، جو سکول میں نوکری

کرتی تھی اور اچھی تعلیم خاصل کر رکھی تھی ۔

ان کے شوہر دنین کے والد صاحب بھی ایک استاد تھے اور گورمنٹ کالج میں پڑھاتے تھے ______ عظمہ بیگم ان کے گھر اذلان کے رشتے کے سلسلے میں تشریف لائ ہی تھی کے ان کو کہا جائے کے کوئی اچھی لڑکی ان کی نظر میں ہو تو ،،

کیوں کہ نبیل صاحب کالج میں پڑھاتے تھے تو وہ کوئی اچھی امیر پارٹی میں اذلان کا رشتہ کرنا چاہتی تھی لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا ۔

دنین جو سکول سے ابھی واپس آئی تھی ،، انہیں اسلام کرتی

اپنے کمرے میں فریش ہونے چلے گئی _______ بیل کی آواز سنتے لبنہ بیگم نے دنین کو آواز تھی ،، بیٹے ذرا دیکھو آپ کے بابا آئے ہوں گے ،،دنین نے جی اچھا کہتے سر پر اسکارف اوڑھے تیزی سے دروازہ کھولا بغیر پوچھے ،،

لیکن سامنے نبیل صاحب کی بجائے کسی انجان کو کھڑا پایا ۔

جی آپ کون ؟؟_____

اذلان جو بیل بجاتے اپنے فون میں محو تھا میٹھی سی آواز پر

سر اٹھا کر دیکھا ،، وہ سامنے آنکھوں میں الجھن لیے اس سے جواب طلب کر رہی تھی اور وہ ساکت کھڑا اس کے حسین نقوش میں کھو سا گیا تھا ۔۔۔

اذلان ملک کے دل کی دنیا میں ہلچل مچی تھی،، اتنی حسین آنکھیں ،، اس کی آنکھوں کے سحر میں وہ کھو سا گیا

دنین چوبیس سالہ خوبصورت تیکھے نقوش والی لڑکی تھی ،، سر پر گلابی اسکارف اوڑھے ،، گلابی باریک لب ،، ہیزل گرین آنکھیں ،، شہابی رنگت اور متوازن سراپا ،، وہ پرکشش تھی بہت اور متضاد اسکی شہابی رنگت ،، جو اسے مزید دلکش بناتی کے سامنے والے کو دوبارہ دیکھنے پر مجبور کر دیتی جیسے اس وقت اذلان ملک ہوا تھا ۔

اس کی ہیزل گرین آنکھیں خود پر مرکوز دیکھ کے اس کا دل الگ ترنگ میں دھڑکنے لگا ،،

دنین سامنے کھڑے شخص کی نگاہوں سے کوفت زدہ ہوتی اس کی جانب ایک نگاہ ڈالتے اُسکا جائزہ لیتی اس کی خوبصورتی کی تعریف کیے بنا نہ رہ پائے۔۔

وہ سامنے کھڑا سیاہ جینز ،، گرے شرٹ ،، بلیک جیکٹ ،، بالوں کو ماتھے پر بکھیریے ،، گہری سرمئی آنکھیں ،، اپنی سرخ اور سفید رنگت ،، سمیت کسی کو بھی اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کر سکتا تھا ،، اُسکا وجیہہ خوبصورت چہرہ اور دلکش پرسنالٹی میں ایک الگ ہی رعب تھا ،،

کسرتی بدن اور دراز قد سمیت کھڑا اس کے چہرے کو دیکھتا خاموش کھڑا تھا_

اذلان ملک جیسا خوبصورت مرد ہزاروں لڑکیوں کی خواہش تھا ۔۔۔۔

دنین نے اس کا مکمل جائزہ لیتے دل ہی دل میں اس کی ذات سے متاثر ہوتے منہ پھیرتے دروازہ بند کرنا چاہا ،، چونکہ نبیل صاحب کالج میں استاد تھے تو اُسے لگا کے کوئی ان سے ہی

ملاقات کے لیے آیا ہوگا ۔۔