Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Last Episode)
Rate this Novel
Nasha (Last Episode)
Nasha by Aiman faisal
گل حسن مسلسل مرتضیٰ حسن کو فون کیے جا رہا تھا مگر وہ تھے کہ فون ہی نہیں اٹھا رہے تھے۔کیونکہ مرتضیٰ حسن اس وقت زین کے ہاسٹل گئےتھے ان کی ذہنیت کے مطابق سارے راز اس ہاسٹل میں دفن تھے اور اسی کھوج میں ان کا ذہن اتنا کھو چکا تھا کہ وہ اپنا فون گھر پر ہی بھول گئے۔







” اسلام علیکم ڈاکٹر عائشہ! کیسی ہیں آپ؟ ایک ضروری کام تھا آپ سے……. آنے والے کچھ دنو ں میں آپ کے ہسپتال میں ایک مریض نے آنا ہے……. آمنہ نام ہوگا اس بچی کا… آمنہ اصغر احمد…….. اس کے لیے رپورٹ تیار کرنی ہے…… کینسر کی اور لاسٹ اسٹیج کینسر کی……..
I hope you got it….. What I actually wanna say??
” جی بہتر میم کام ہوجائے گا….. “سامنے سے جواب آیا۔
” بہت خوب عائشہ مجھے تمھاری یہی عادت پسند ہے تم سوال نہیں کرتی کبھی بھی بس کام، کر دیتی ہو….. تمھارا معاوضہ تم تک پہنچ جائے گا آج ہی……. باقی میری ہدایات تو تمھیں یاد ہی ہونگی؟ “
” جی میڈم آپ بے فکر ہوجائیں آپ کا راز راز ہی رہے گا…. “
” ہممم ویلڈن…. مجھے تمھاری طرف سے خوشخبری کا انتظار رہے گا۔ “ اور اسی کے ساتھ کال منقطع کر دی گئی۔







” ہیلو میڈم ! ایک بُری خبر ہے میرے پاس……. “ نورالعین کے پاس رات کے اس پہر ہاسٹل سے کال آئی تھی پرنسپل کی…
” وقت ضائع کیے بغیر کہو…… “ اس کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔
” میم مرتضیٰ حسن آئے تھے…… بندوق کی نوک پر معلومات لے گئے ہیں…….. میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں میڈم…….. مجھے……. مجھے معاف کر دیں میڈم…….. مجھے خدارا معاف کر دیں….. “پرنسپل صاحب بہت خوفزدہ تھے۔
اور نورالعین نے تو فوراً ہی کال کٹ کر دی……. کیونکہ اب کھیل ختم کرنے کا وقت آگیا تھا۔








” سکندر بات کر رہے ہو؟ “ وہ نیند سے اچانک خوفزدہ ہو کر جاگا تھا……. ناجانے اتنی رات کو کس کی کال آگئی….. اس کا سانس پھولنے لگا تھا۔
” جی…… آپ کون؟ “
” یہ اہم نہیں ہے ابھی تمھارے لیے…… ایک ایڈرس بھیج رہا ہوں تمھارے نمبر پر…… فوراً سے پہلے وہاں پہنچ جاؤ….. تمھارے ماں باپ رہتے ہیں اس گاؤں میں…… یہاں تمھاری جان کو خطرہ ہے…. “ اور پھر کال کاٹ دی گئی۔جیسے کوئی بہت عجلت میں ہو۔







” اسامہ…… میں بات کر رہی ہوں تمھاری ماں نور……. ہاسٹل کے باہر ڈرائیور ویٹ کر رہا ہے……. فوراً ہاسٹل سے نکل کے گاری میں بیٹھو۔“ سکندر باتھ روم میں تھا کہ اسے اسامہ کے فون بجنے کی آواز آنے لگی…….. وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ دونوں ہی ایک کہانی کے الگ الگ کردار ہیں۔ اس لیے وہ باتھروم سے خود کو نارمل کر کے اسامہ کے سونے تک خود بھی سونے کی پلاننگ کرنے لگا۔







” عمارہ ابھی اسی وقت فارم پہنچو…… مرتضیٰ ہاسٹل سے سب معلومات لے کے نکل چکا ہے………. اور اب وہ فارم کے راستے پر ہی ہوگا۔اب کھیل ختم کرنے کا وقت آگیا ہے۔“نورالعین کی کال آتے ہی عمارہ گھر سے نکل چکی تھی۔









اسی وقت رات میں گلام دین کو مرتضیٰ کے اسی نئے نمبر سے کال آئی جس نمبر سے کل آئی تھی۔
” اوکے۔“ غلام دین کی بات سن کر وہ بوڑھا فوراً گھر کی دہلیز پر پہنچا۔مگر شاید وہ دیر کر چکا تھا ۔مرتضیٰ حسن وہاں سے پہلے ہی نکل چکے تھے مگر………. مگر رات کے اس وقت عمارہ گھر سے نکلتی دکھائی دیں…….. کوئی بہت بڑا طوفان آنے والا تھا۔اس بوڑھے نے فوراً عمارہ کا پیچھا کرنا شروع کر دیا








” سب ٹھیک تو ہے گھر میں ﷲ رکھا؟ “ اسامہ نے ہاسٹل سے نکل کر گاڑی میں بیٹھتے ہی سوال کیا۔
” پتہ نہیں صاحب ہم کو….. بی بی جی نے تو بس ہمیں آپ کو ائیر پورٹ لے جانے کو کہا ہے اور خود وہ فارم چلی گئی ہیں ۔“
” ٹھیک ہے مجھے بھی فارم لے چلو۔“ اسامہ کو کچھ غلط ہوتا محسوس ہوا۔اور اس نے معاملے کی تہہ تک پہنچنا شروع کر دیا۔








اسامہ کے نکلتے ہی سکندر اس کے پیچھے ہولیا……. وہ جانا تو وہیں چاہتا تھا جہاں اسے کہا گیا تھا مگر تجسس……. اس تجسس نے اسے اسامہ کے پیچھے لگا دیا۔
آج سب فارم میں جمع ہونے والے تھے……. یہ رات ایک بہت بھاری رات تھی اس فارم میں موجود لوگوں پر……









” نور ! نور ! نورالعین ! کہاں ہو ؟ سامنے آؤ میرے……. اب کیا ضرورت ہے مجھ سے اس طرح چھپنے کی…… جان چکا ہوں میں تمھارا سچ…….. مگر تم….. تم آج بھی انجان ہو…. “ مرتضیٰ وہاں پہنچ کر اس اندھیرے فارم میں اسے آوازیں دینے لگے……….
” بالکل ٹھیک کوشش کر رہے ہو تم خود کو کور کرنے کی یہ کہہ کر کہ میں انجان ہوں لیکن…….. لیکن ایک بات میں تمھیں بتاؤں…… جانتے تو تم بھی بہت کچھ نہیں ہو…… “نورالعین اتنے سالوں بعد آج اس کے سامنے آگئی تھی…….. اور وقت نے اسے بہت خوبصورت بنا دیا تھا…….. وہ دل میں اقرار کرنے پر مجبور ہوگئے، انہیں وہ چھوٹی سی بچپن والی نور یادآ ئی۔
” میں…… میں سچ کہہ رہا ہوں نوری…… تمھیں واقعی غلط فہمی ہوئی ہے…….. اس دن….. اس دن سلطان کو میں نے نہیں مروایا تھا……. میں تو جانتا بھی نہیں تھا کہ وہ تمھارا شوہر ہے……. نہ میرے پاس اس وقت پیسے کی کمی تھی جو لالچ میں یہ قدم اٹھاتا۔“
کوئی اور بھی نور کے ساتھ ہی اس کمرے میں داخل ہوا تھا مگر مرتضیٰ اور نورالعین دونوں ہی اس بوڑھے کی موجودگی سے بے خبر تھے۔








” لیکن مجھے بالکل غلط فہمی نہیں ہوئی تھی، میرے جان سے پیارے بابا کو تم نے ہی قتل کیا تھا مرتضیٰ حسن…… میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔“ عمارہ…… وہ وہاں نور کے ساتھ ہی پہنچ چکی تھی…….. اور اس کے الفاظ نے آج مرتضیٰ کو اکیلا کر دیا تھا اور یہ بھی سمجھا دیا تھا کہ کھیل کھیلنے والے اصل میں اپنے ہی ہوتے ہیں………. وہ اپنے ہی ہوتے ہیں جو سارے راز جانتے ہیں اور پھر جان کے دشمن بن جاتے ہیں……. مرتضیٰ حسن کو بھی ان کے اپنوں نے ہی توڑا تھا……
میں نے پوچھا پہلا پتھر مجھ پر کون اٹھائے گا
آئی اک آواز کہ تو جس کا محسن کہلائے گا








” تمھیں کیا لگا تھا تم میرے جان سے پیارے ابا کو قتل کرو گے اور میں تمھیں چین سے جینے دوں گی………… گھر تھا وہ میرا……. وہاں ہم کھیلا کرتے تھے، ابا کا انتظار کیا کرتے تھے….. بھائی وہ مجھ سے جان سے بڑھ کر پیار کرتا تھا اور اماں…. اماں تو ناجانے کب چل بسیں کیا ہوا ہوگا ان کے ساتھ کچھ پتہ نہ چل سکا…… سب تباہ کر دیا تم نے مرتضیٰ حسن سب کچھ……….اور تمھیں لگا تمھاری کوئی پکڑ نہیں ہوگی…… “ وہ آج بالکل مختلف عمارہ تھی۔اس کا یہ روپ مرتضیٰ حسن نے نہیں دیکھا تھا ۔مرتضیٰ حسن نے تو ہمیشہ ایک خاموش اور لا تعلق سی بے جان لاش سی عمارہ کو دیکھا تھا۔
” میں نے نہیں مارا تمھارے باپ کو عمارہ……… میں…… میں نےاب تک زندگی میں ایک بھی قتل نہیں کیا……. اور اب سمجھا ہوں میں ساری کہانی……. زین کی برین واشنگ تم دونوں عورتوں نے مل کے کی ہے،تم نے زین کو میرے خلاف کیا ہے……. اصل بات تو کچھ اور ہے…… “
” ہاں واقعی اصل بات وہی ہے جو تم سمجھ رہے ہو…….. تمھارے باپ کا قتل میں نے کیا تھا ان کے کھانے میں زہر ملا کر….. تم سے بدلہ لینے کے لیے کیونکہ تم نے میرے باپ کا قتل کیا…… اور تمھاری بیٹی کو بھی میں نے مارا… میں بے آبارشن کروایا تھا کیونکہ میں تمھیں کبھی بھی وہ نہیں دینا چاہتی جس کی تم نے کبھی ٹوٹ کر چاہ کی ہو….. تمھیں ایسے ہی تڑپانا چاہتی ہوں میں جیسے تم نے مجھے تڑپا دیا ہے ساری زندگی کے لیے۔“ وہ دکھ سے چلا چلا کر کہہ رہی تھی……. اور اس کی باتیں سن کر نورالعین بھی دنگ رہ گئی اور وہ بوڑھا اس کی آنکھیں بہہ رہی تھیں۔
” بس کردو عمارہ……. بس کردو……. کہا نا میں نے تم سے میں نے نہیں قتل کیا تمھارے باپ کو……. تمھارے باپ کو تمھارے نانا نے قتل کیا تھا……. ہاں یہی سچ ہے ضیاء کو زمان خان نے قتل کیا تھا خود اپنے ہاتھوں سے۔“ وہاں موجود ہر شخص اس واقعے کو اس ماضی کو جاننے کے لیے بےتاب تھا۔








” ہاں تو اب تم تیار ہو مرتضیٰ حسن اصل کھیل کے لیے…… وہ وقت آن پہنچا ہے جس کے لیے تمھیں اتنا تیار کیا گیا ہے۔“ استاد زمان آج اپنی بیٹی کی شادی کے پانچ سال بعد اس کا گھر تباہ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے، کیونکہ اب اس کی بھی ایک بیٹی تھی چار سال کی۔وہ اصل میں تو اپنی بیٹی کو لے جانے والے کو بھی اولاد کی تکلیف کا مزہ چکھانا چاہتے تھے اس لیے اتنے سال انہوں نے انتظار کیا۔
آہ ! انسان بھی کیا چیز ہے جب بُرا ہو تو پھر درندے جیسا ہو جاتا ہے۔ اس کی میں، انا اور اکڑ اسے رشتے بھی بھلا دیتی ہے……
” جی استاد بالکل تیار ہوں، کام بولیں آپ “
” یہ پکڑ یہ ایک گاؤں کا پتہ ہے، وہاں جاکر وہاں کے لوگوں کو تباہ کرنا ہے…… سب ان کی زمینیں وغیرہ سب کچھ ختم کر آنا….. سمجھ گئے میری بات…… بدلے میں تمھاری زندگی بنا دوں گا اتنا پیسہ دیکھو گئے کہ غربت بھول جاؤ گے۔“ حکم سنا دیا گایا اور مرتضیٰ بھی تیار….. اس وقت انہیں کسی کی تباہی سے کوئی غرض تھی ہی نہیں ۔
” منے ! “ جب سب آگے نکل گئے اپنے مشن پر تو استاد نے اپنے ایک خاص بندے کو بلا کر اسے خاص ہدایات دیں۔
” ضیاء ختم ہوجانا چاہیے آج….. اور ذمہ دار یہ مرتضیٰ ٹھہرے گا اس کی موت کا مجھے اب اس کی ضرورت نہیں رہی….. یاد رکھنا یہ بات…… “ بس پھر کیا تھا ضیاء کا کھیل آج ہی ختم ہوا…… مگر مرتضیٰ حسن کہ جن کا ضمیر آج بھی زندہ تھا وہ یہاں بھی اپنا آپ دکھا گئے تھے۔








” سنا تم نے……. تمھارے نانا نے اپنی انا میں تمھارے باپ کو ختم کیا اور مجھے استعمال کیا گیا….. الزام میرے سر ڈال دیا گیا…… تم اس وقت بہت چھوٹی سی تھی تم نہیں جانتی اصل کہانی….. تم نے جو دیکھا بس اسے اپنے اندر جذب کر لیا وہی سچ سمجھ لیا۔“ وہاں موجود بوڑھا بھی اس کہانی سے واقف تھا مگر……. مگر آگے کی کہانی کا صرف مرتضیٰ حسن کو علم تھا۔
” پھر اس دن میں بچ بچا تو گیا …….. لیکن تم پر تمھارے نانا کی بُری نظر تھی وہ تمھیں تمھارے ماں باپ کے کیے کی سزا دینا چاہتے تھے اور میں اس وقت اس حالت میں تھا کہ تمھیں بچا سکتا تھا اس لیے تمھیں لیے وہاں سے بھاگ نکلا تھا…… اور پھر کچھ سالوں بعد تم سے جائز تعلق کے لیے میں نے تمھیں اپنی زوجیت میں لیا. ……… میں نے کوئی ظلم نہیں کیا تمھارے ساتھ سنا تم نے بلکہ تم پر احسان کیا تھا میں نے…….. “








” مگر میں تم پر کوئی احسان نہیں کروں گی مرتضیٰ سنا تم نے……. برسوں سے میں نے اس دن کا انتظار کیا تھا برسوں سے اب میں کیسے اپنے انتظار کو بے وقعت کر دوں کیسے رائیگاں جانے دوں
“ عمارہ تو مرتضیٰ کی بات سن کر دنگ رہ گئی تھی مگر نورالعین…….. نورالعین معاملے کی نزاکت کو جان چکی تھی اور اس نے اسی وقت بندوق نکالی اور گولی چلادی۔
ناجانے اصل قصوروار کون تھا مگر….. مگر ان سب حالات نے وہاں موجود ایک ایک شخص کو بُری طرح متاثر کیا۔







گولی چلتے ہی عمارہ کی زور دار چیخ نکلی………. کیونکہ اب اسکا ضمیر جاگ رہا تھا وہ اب مرتضیٰ حسن کو کھونے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
ضمیر جاگ ہی جاتا ہے,اگر زندہ ہو اقبال
کبھی گناہ سے پہلے, تو کبھی گناہ کے بعد
اور شاید اس کی قسمت اچھی تھی، مرتضیٰ حسن کو تو گولی لگی ہی نہیں تھی…… انہیں تو اس بوڑھے نے دھکا دے کر بچا لیا تھا۔
مگر…….. مگر قسمت نے آج کچھ عجیب ہی لکھ رکھا تھا……. اس وقت گولی کے چلنے سے پہلے اس بوڑھے کے علاوہ اسامہ بھی اس ماضی سے جلد نکل آیا تھا اور دو لوگوں نے بیک وقت مرتضیٰ کو بچانے کی کوشش کی تھی۔









” اسامہ……. اسامہ……… “ یہ نورالعین تھی اسامہ کی ماں…… نہیں بلکہ اسامہ کی سوتیلی ماں…… مگر وہ اسامہ کو جان سے زیادہ پیار کرتی آئی تھی….. وہ نور کے جینے کی واحد وجہ تھا، اس کا سہارا تھا سلطان کی موت کے بعد احمر صاحب کے اسرار پر اس نے ایک بچہ ایڈاپٹ کیا تھا اور پھر کچھ سالوں بعد احمر صاحب کی بھی وفت ہوگی اور وہ دونوں اکیلے رہ گئے مگر……. مگر انتقام اور لالچ نے اس کی اولاد کو کھا لیا تھا آج اور وہ مکمل طور پر آج اکیلی ہوئی تھی…. اس کی چلائی ہوئی گولی کسی اور کو نہیں بلکہ اسامہ کو چھلنی کر چکی تھی…….. اور وہ وہاں بیٹھی ماتم کر رہی تھی مگر اسے ٹھیک سے ماتم کا بھی موقع نہ ملا۔









پولیس اندر آچکی تھی اور وہ اب نورالعین کو لے جا رہی تھی……. اور پولیس کو خبردار کرنے والا بھی خود اسامہ ہی تھا ۔
کسی کے لیے گڑھا کھودنے سے پہلے انسان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کا کیا اس پر کبھی آئے گا نہیں مت بھولو کہ موسی خود فرعون کے گھر میں ہی پروان چڑھے تھے تمھارا کیا بھی تمھارا ہی گھر تباہ کرے گا۔









نورالعین اور پولیس کے جانے کے بعد زین نے اپنے چہرے سے ماسک ہٹا کر خود کو بے نقاب کیا……. ہاں وہ بوڑھا اور کوئی نہیں زین ہی تھا جس نے معاملے کی کھوج کے لیے ایک نئی شناخت اپنائی ۔اور اسے دیکھ کر اس کے ماں باپ دونوں ہی شرمندہ تھے جو اپنا اپنا کیا سامنے لا چکے تھے۔مگر……… مگر آمنہ کی کہانی ابھی باقی تھی۔
” آمنہ کو کیوں قتل کیا آپ نے امی……. آپ نے تو مجھے میری محبت دلانی تھی نا….. میرے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا تھا نا میری مضبوطی تھی نا آپ …… پھر کیوں مار ڈالا میری بیوی کو……..“ الفاظ تھے یا خنجر…..
” کیونکہ….. کیونکہ میں نہیں چاہتی تھی کہ تمھاری نسل اس خاندان سے پروان چڑھے…… نورالعین بھی اسی خاندان کی تھی نا……. محبت کرتی تھی وہ تمھارے باپ سے……. حاسد بن گئی تھی وہ میری……. وہ تمھارے باپ کو اس لیے نہیں مارنا چاہتی تھی کہ اس نے سلطان کو مارا بلکہ اس لیے مارنا چاہتی تھی کہ اس نے مجھ سے شادی کر کے نور کو چھوڑ دیا……… اور اب وہ پیسے کی لالچ میں اندھی ہو چکی تھی……
” غلطی ہوگئی مجھ سے کہ میں اسکا مقصد پہلے بھانپ ہی نہیں سکی مگر آج….. آج یہاں آنے سے پہلے مجھے گل حسن کے بیٹے سکندر نے سب کچھ بتا دیا تھا اس نے نورالعین کی ڈائری پڑھ لی تھی آج صبح صفائی کرتے ہوئے……. اور نور نے مجھے ان سب میں شامل ہی اس لیے کیا تا کہ وہ مرتضیٰ کو ختم کر کے مجھے ان سب میں پھنسا سکے…… وہ…… وہ میرے راز جان چکی تھی وہ جان چکی تھی کہ تمھارے دادا اور تمھاری بہن کو میں نے قتل کیا ہے……… اور پھر اس نے مجھے بلیک میل کر کے ورغلایا کہ میں اس کے کھیل میں اس کا ساتھ دوں ورنہ…… ورنہ وہ تمھیں بھی ختم کر دے گی اور پھر اس نے ہی مجھے اب اتنے سالوں بعد گل حسن تک پہنچایا……. “
” مجھے معاف کردو بیٹا….. معاف کر دو مجھے…….. میں بدلے کی آگ میں اندھی ہوچکی تھی……. میرے بابا کی موت کے بعد تمھارے باپ سے مجھے نفرت ہوگئی تھی…….. “
مگر آج وہاں معافی کسی کے لیے بھی نہیں تھی….. عمارہ کو نورالعین کے ساتھ لے جایا گیا اور پیچھے رہ گئے مرتضیٰ…… جنہوں نے باقی کی عمر اس پچھتاوے میں گزارنی تھی کہ کاش……. کاش اگر وہ اپنی بھوک کو مٹانے کے لیے غلط راستے نہ اختیار کرتے تو آج ان کا باپ بھی زندہ ہوتا…. ان کی بیٹی بھی ہوتی اور بیوی بھی ان کے پاس ہوتی اور بیٹے سے بھی وہ نظریں ملا پاتے اور ان کا گھرانہ ایک خوشحال گھرانا ہوتا مگر اب تو بہت دیر ہوچکی تھی۔
اور زین…… زین نے اب باقی عمر اپنے ماں باپ کا بویا کاٹنا تھا۔اور ان سب کے ساتھ ایک اور بھی تماشائی وہاں موجود تھا ۔ ایک آخری تماشائی…..
مریم…… جس نے اپنا ایمان بیچ ڈالا تھا…… فقط چاہے جانے کی خاطر……. اور آج وہ اس دنیا ہی سے جا چکا تھا جسے اس نے چاہا تھا……. وہ مریم جو اسامہ کو حاصل کرنے کی خاطر آمنہ بنی تھی آج اسامہ کو لاش بنتے دیکھ کر اب خود بھی زندہ لاش ہوکر وہاں سے جا رہی تھی …….. سزا تو اس کی بھی تھی۔ کیتے ہے نا ﷲ سے آگے کسی کو نہ رکھو…… وہ سب سے پہلے ہونا چاہیے ۔
سزا تو آج ہر ایک کی تھی……. مگر ناجانے اصل سزا کس کی تھی….. اور کس کی سزا کتنی بڑی تھی………. مگر ایک بات جو سب کی زندگیوں کا خلاصہ تھی کہ سب خود کو برباد کر گئے نور، مرتضی….. مریم……. سب اس کھیل کی لپیٹ میں ایسے آئے کے اب شاید تاعمر ان کے لیے اس سے نکل ممکن تھا ۔
نہ نور پیسے کی لالچ سے خود کو سزایے موت سے آزاد کرا سکتی تھی….
نہ مرتضیٰ اپنے ابا ،بیٹی اور بیوی کو واپس لاسکتے تھے…….
اور نہ ہی مریم کو اسامہ مل سکتا تھا۔
” ان سب کا اپنا اپنا نشہ ان لوگوں کو ہمیشہ کے لیے کھا گیا۔“







(ان لوگوں کے نام جو اپنی زندگی میں پہلی ترجیح پاپنی چاہ، کو دہتے ہیں، اپنی میں کو دیتے ہیں کو یا پھر اپنے اپنے نشے کو دیتے ہیں،، بے شک جینے کے لیے دولت اہم ہے، محبت اہم ہے، چاہے جانے کا دل چاہتا ہے، لیکن جینے کے لیے ہی دولت، شہرت، عزت اور محبت کو اہم رکھنا چاہیے نہ کہ دولت، عزت اور محبت کے لیے جینا چاہیے اور زندگی میں رشتے اور حلال حرام کی تمیز کو ایک نشے کی خاطر ہر گز نہیں بھلانا چاہیے)
