Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 23,24)

Nasha by Aiman faisal

” اسلام علیکم ! اتنے دنوں بعد…….. کیسے آنا ہوا تمھارا…… یاد نہیں آتی اب ہماری جو یوں بھول بیٹھے ہو بالکل ہی؟ “ یہ احمر انکل تھے، اس کے بابا کے سب سے قریبی اور سب سے خاص دوست اور مزے کی بات یہ کہ ان کا گھر بہت بڑا تھا اور وہ جب بھی اپنے بابا کے ساتھ ان کے گھر آتی وہ اسے ڈھیر ساری چاکلیٹس دیتے تھے ۔ وہ اداس ہو رہی تھی بہت اس لے بابا آج اسے یہاں ان کے پاس لے آئے۔

” وعلیکم اسلام ! سلطان نظر نہیں آرہا……. اسے بلاؤ نا میری گڑیا اس کے ساتھ کھیلے گی، بہت اداس ہورہی ہے کچھ دنوں سے۔“ اور پھر احمر صاحب کے بلاوے پر جب سلطان ایا تو وہ دونوں کھیلنے چلے گئے اور پھر انہوں نے اپنی بات شروع کی۔

” ایک بہت اہم مقصد سے آیا ہوں آج تمھارے پاس میں احمر، بلکہ یوں سمجھ لو کہ تمھارا ایک احسان مانگنے آیا ہوں……. “ وہ بات کرنے سے پہلے ہی پشیمان تھے۔

” یار دوست اس لہجے میں اور ایسے الفاط استعمال کر کے شرمندہ تو نہ کرو مجھے تم، کہو نا کھل کے….. بات کیا ہے آخر……. “

” اپنے سلطان سے میری بیٹی کا نکاح کر دو جلد از جلد اور پھر اسے میری امانت سمجھ لینا اپنے پاس میرے پاس دن بہت کم ہیں ناجانے کب بلاوا آجائے اور جانا پڑے……. “

” یہ……… یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو اکبر علی ! تمھیں بھلا کہاں جانے کی ضرورت پیش آگئی ہے۔“ سلطان کے والد کے تو ہاتھ پیر ہی پھول چکے تھے۔

” دل کا مسئلہ ہوگیا ہے مجھے چار سال ہوگئے اس بات کو اور اب وقت بہت کم ہے میرے پاس ، بس تم سے یہی التجا کرنے آیا ہوں میری بچی کو سہارے سے نواز دو مجھ پر احسان کر دو…… “

” ہم……….ہم تمھارا علاج کروائیں گے تم ٹھیک ہوجاؤ گے بالکل، ہمت کرو دوست… “.

” نہیں ہو پاتی اب ہمت، اور نہ میرا اب علاج ہو سکتا ہے، ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے، تم بس وعدہ کرو مجھ سے؟ “

” ٹھیک ہے کل ہی نکاح کر دیں گے ان کا،اور عینی بیٹی ہمارے پاس ہی رہے گی تم فکر مت کرو۔“ احمر صاحب کہتے ہوئے اکبر علی کے گلے لگ گئے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” سکندر ! “ وہ جو اپنے بڑے سے حسین محل میں شہزادیوں کی طرح پھرتی تھی اس وقت شام کی چائے پیتے ہوئے سامنے کواٹر میں جاتے سکندر کو دیکھ کر اس کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔

” جی باجی جی ! “ سکندر ان کے گھر کا ایک ملازم تھا جو اپنے بچپن ہی سے ان کے گھر کے کواٹر میں رہ رہا تھا اور بچپن سے ان کے ساتھ رہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ شہر کے ایک میلے میں بچپن ہی میں اپنے والدین سے بچھڑ چکا تھا اور تب اس گھر کے مالک نے اسے اپنے گھر میں جگہ دی تھی تب سے اب تک سکندر ان کے ہی گھر میں رہتا تھا اور بس اس کی ایک ہی لگن تھی اسے پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔

” تمھیں پڑھائی کا شوق ہے نا، اگلے مہینے یونیورسٹیز میں ایڈمیشنز ہونگے، میں تمھارا ایڈمیشن کرا دوں اگر….. تو کیا تم رازداری سے میرا ایک کام کر سکتے ہو……. ؟“ایک ایک لفظ انتہائی سوچ سمجھ کر کہا گیا۔

” کیسا کام باجی جی؟ “ وہ کچھ الجھا۔

” وہ تمھیں وقت آنے پر بتا دیا جائے گا۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” بات سنو ! یہ جو تم ہر وقت اتنی نمازیں پڑھتی رہتی ہو، اتنی عبادات کیا ملا آج تک تمھیں………. اپنے بچپن سے یہیں تو پڑی ہو ایک یتیم خانے میں…….. تمھیں نہیں لگتا اب تم بڑی ہو چکی ہو، دنیا تمھاری منتظر ہے، تم بہت آگے جا سکتی ہو، کوئی ایسا ہو سکتا ہے وہاں جو تم سے بے تحاشا پیار کرے گا، تمھارا خیال رکھے گا، ڈھیر سارا پیسہ ہوگا تمھارے پاس خوب عیش کروگی…….. یہاں کی زندگی سے کئی گناہ بہتر لائف اسٹال ہوگا تمھارا جو چاہو گی کھاسکو گی، جہاں چاہوگی جا سکو گئی، کوئی روک ٹوک پابندی کچھ نہیں………… میری بات پر غور کرنا، بہت جلد دوبارہ آؤں گی میں یہاں، اور مجھے تمھارے مثبت جواب کا انتظار رہے گا۔“ وہ ہمیشہ سے ہی یتیم خانوں میں خیرات کرنے جایا کرتی تھی، مگر اس بار اس کا شاطر ذہن وہاں جا کر اس سے وہ کروا گیا جس کا انجام اس کے علاوہ اس معصوم جان نے بھی بھگتا جس کا نام مریم تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

زین بہت ہی عجیب ذہنی کشمکش میں مبتلا تھا، ایک طرف اس کی ماں تھی۔ایک ماں جس کی مامتا پر ہر کوئی آنکھیں بند کر کے یقین رکھتا ہے اور دوسری طرف اس کا باپ تھا جس نے اسے کم از کم کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچنے دی تھی۔

اس کے لیے فیصلہ کرنا بہت مشکل تھا یقین کرتا تو کس پر کرتا ۔سچ جانتا تو کیسے جانتا ۔زندگی نے بڑا عجیب کھیل کھیلا تھا اس کے ساتھ۔وہ جس نے سوچا تھا پڑھائی مکمل کر کے آمنہ کو زندگی کا حصہ بنا لے گا اور پھر بس خوشی کے ساتھ جیے گا بات ختم مگر……. مگر یہاں تو بازی ہی پلٹ گئی تھی، ناجانے آمنہ کے ساتھ اصل میں ہوا کیا تھا اور پھر وہ لڑکی….. اگر وہ آمنہ نہیں تھی تو پھر کون تھی آخر وہ لڑکی اور زین اور آمنہ کے بارے میں اتنا کیسے جانتی تھی……. الجھنیں ہی الجھنیں تھی……..

اور پھر اچانک ہی اس نے ایک فیصلہ کیا………… جو اختتام تھا ہر کھیل کا……

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” زین ! بیٹے تم کب آئے گھر…… تمھاری تو ویکیشنز اب تمھارے ایگزامز کے بعد اسٹارٹ ہونے والی تھیں نا…… پھر یوں اچانک گھر کیسے؟ “ عمارہ زین کو گھر پہ اچانک دیکھ کر چونک سی گئی تھی حالانکہ انہیں تو خوش ہونا چاہیے تھا یہ بات زین کے دل میں آئی تھی مگر اس نے اسے اپنے تک ہی رکھا۔

” بس ماما میں تھک گیا وہاں کی لائف سے مجھ سے نہیں رہا جا رہا تھا اور…….. میں آگے یہیں رہ کر پڑھائی مکمل کر لوں گا. “ زین نے لنچ کے لیے میز پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

” بابا میں نوتھرن آیریاز آوٹنگ پر جانا چاہتا ہوں، آپ میری ٹکٹس کروا دیں گے؟ “ جب مرتضیٰ حسن کھانے کی ٹیبل پر آکر بیٹھے تو وہ ان سے مخاطب ہوا ۔

” تمھاراکوئی دوست نہیں جارہا ساتھ……. “

” بابا سب کے اپنے اپنے مسئلے ہیں، چھعڑیں سب کو میں اکیلے ہی رہنا چاہتا ہوں ویسے بھی کچھ وقت کے لیے……. “

” ٹھیک ہے بیٹا کروا دیتا ہوں…. “ انہیں بھی اس کے لیے یہی مناسب لگا…… مگر عمارہ…… وہ ان دونوں باپ بیٹے کی باتوں سے عجیب الجھن کا شکار نظر آرہی تھیں ناجانے کس چیز کا خوف تھا انہیں…….

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ایک بات بتاؤ اسامہ؟“ رات جب وہ دونوں سونے کے لیے لیٹے تو سکندر نے اسامہ کو مخاطب کیا۔

” کہو! “ اس نے بازو آنکھوں پہ رکھے رکھے جواب دیا۔

” تم آمنہ کے ساتھ کیا کر رہے تھے؟ “ وہ اس کی معصومیت اور پھر اسکا معصوم سا سوال۔

” اس نے مجھے بلایا تھا یہ جاننے کے لیے کہ زین اس کا فون نہیں اٹھا رہا، نظر بھی نہیں آرہا، سب ٹھیک تو ہے…. “ چونکا تھا وہ مگر بات سنبھال لی تھی اس نے۔

” اچھااااااا ! صحیح چلو “ سکندر پھر سے سونے لگا اور اسامہ آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگا۔

Episode 24

” ابا ! یہ نکاح کیا ہوتا ہے؟ “ بہت چھوٹی سی تھی وہ ان سب باتوں کے لیے مگر اس کے باپ کی زندگی ناجانے کتنی رہ گئی تھی، کیسی مجبوری سی مجبوری تھی، ہر طرف لاچاری تھی جس نے اس کم سن کی زندگی کے ساتھ اتنا بڑا فیصلہ کرنے پر اس کے باپ کو بے بس کر دیا ۔ آج اسکا نکاح سلطان احمر کے ساتھ ہوچکا تھا اور اب آج سے وہ اس گھر کی بیٹی بن چکی تھی اور اس کا باپ جس کی صحت دن بدن گرنا شروع ہوگئی تھی اسے بھی احمر صاحب نے اپنے اس عالیشان محل میں پناہ دی تھی۔

” نکاح ایک رشتہ ہے میرے بیٹے……. اب آپ نے ساری زندگی سلیقے سے گزارنی ہے، وہی کرنا ہے جو اس گھر کے لوگ آپ سے کرنے کا کہیں گے اور سب سے بڑی بات اس گھر میں رہنے والے ہر فرد سے محبت کرنی ہے ان کا احترام کرنا ہے………. میں اب بہت کم دن آپ کے پاس رہوں گا میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے اب…. “ وہ اس سے یہ بات نہیں کرنا چاہتے تھے مگر یہ حقیقت تھی اور اسے بتانی ضروری بھی تھی۔

” ابا ! کہاں جا رہے ہیں آپ، ایسا نہ کریں ابا مجھے چھوڑ کر کہیں مت جائیں امی بھی تو چلی گئی ہیں……. “ وہ خوف سے رونے لگی۔

” جانا تو پڑے گا ہی میرا بچہ……. مگر تمھارے پاس سلطان ہے نا….. وہ اب تمھارا ہے بہت خیال رکھے گا تمھارا دیکھنا، تم اس کے ساتھ کھیلا کرنا نا اب سے روز اور پھر احمر انکل بھی تو ہیں نا آپ کے پاس…….. “ رونا تو وہ بھی چاہتے تھے بہت، جدائی تو ان سے بھی برداشت نہیں تھی مگر وہ باپ تھے ایک مضبوط باپ جو اپنی بیٹی کو بھی مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔

اور پھر اگلے چھ مہینوں کی مزید زندگی جی کر وہ رخصت ہو گئے اور پیچھے نورالعین عرف عینی اکیلی رہ گئی مگر اب اس کے پاس سلطان تھا اس کا سلطان۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” بی بی جی آپ کے لیے فون ہے.. “ ملازمہ نے آکر اسے فون تھمایا، یہ وہ فون کال تھی جس نے ان کی سیدھی سادھی زندگی کی بازی پلٹ دی تھی اور یہ وہ دن تھا جب سارے کھیل شروع ہوئے تھے جب بہت سے انسان درندے بنے تھے۔

” عمارہ بات کر رہی ہو یقیناً……… امید ہے خیریت سے ہوگی اور اس بات کا یقین ہے کہ اتنا سب پا کر بھی خوشحال نہیں ہوگی……. جانتی تو تم مجھے نہیں ہو مگر جان جاؤ گی اور اب خوشیاں بھی تمھاری زندگی کا حصہ بن جائیں گی اگر………. اگر تم میرا ساتھ دو تو…….. ابھی جواب نہیں چاہتی تمھارا، مگر تمھاری کال کا انتظار رہے گا……… خداحافظ۔“ ایک انتہائی پرکشش آواز، اور الفاظ کا بہترین انتخاب، ساتھ میں پر یقین لہجہ وہ تو اسے اپنے سحر میں مبتلا کر چکی تھی اور بات بھی تو اس کی سچ تھی عمارہ تو واقعی اپنی زبردستی کی زندگی سے خوش نہیں تھی، اسے بھی پھر شیطان کے بہکاوے میں آنے میں دیر نہ لگی اور اسی دن اس کے اندر کے فتنے نے اس کی مامتا کو مار ڈالا تھا اور وہ دو عورتیں مل کر سب راکھ کرنے والی تھیں مگر وہ بھول چکی تھی کہ سب سے پہلے آگ ان کی زندگی میں لگے گی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” بچے سو گئے سکینہ؟ “ وہ جب کمرے میں داخل ہوئی تو گل حسن نے اس سے دریافت کیا….

” میں نے آج فیصلہ کر لیا ہے سکینہ، میں…….. میں کل ہی بی بی جی کو کام سے استعفیٰ دے آؤں گا، مجھ سے اب مزید یہ کام نہیں ہونا ۔پہلے میں سوچتا تھا کہ کوئی بھی قدم اٹھایا تو شمشیر کے یہ پانچوں بچے بکھر جائیں گے، میرا کیا ان بچوں پر آئے گا پھر میں قیامت والے دن اسے کیا منہ دکھاؤں گا………… مگر اب نہیں سکینہ، اب اور نہیں بی بی جی چاہتا ہے کہ……… بی بی جی مجھ سے چاہتا ہے کہ میں ان کے بیٹے کی پل پل کی خبر رکھوں اور اسے ایک آنچ بھی نہ آنے دوں کیونکہ کچھ بہت بڑی آفت ان کے گھر کو آنے والی ہے……… اور بدلے میں وہ ہمیں ہمارا سکندر ڈھونڈ کر دے گا……… میں پہلے اپنے بچے کی محبت میں اندھا ہوگیا تھا مگر اب مزید نہیں وہ بچپن کا بچھڑا اب کیا ملے گا ناجانے زندہ بھی ہوگا یا نہیں……. میں اپنی اولاد کی لالچ میں کوئی گناہ نہیں کر سکتا…….. “ وہ اداس سا بول رہا تھا۔

” مگر گل حسن اس میں تو کوئی گناہ ہے ہی نہیں صرف نظر ہی تو رکھنی ہے تو نے…… “

” ہاں صرف نظر رکھنی ہے اور اگر بُرے وقت میں ضرورت پڑے تو……… تو بندوق بھی چلانی ہے سوچے سمجھے بغیر…….. بی بی جی بتا رہا تھا ان کے میاں کے پیچھے کچھ دشمن لگے ہیں۔ان کا شکار ان کا بیٹا بھی ہوسکتا ہے اس لیے مجھے بالکل بھی رعایت نہیں کرنی اور بندوق چلادینی ہے……… تو سوچ بھلا جس پر میں نے گولی چلائی اس کے بھی ایسے ہی چھوٹے چھوٹے بچے ہوئے پھر…….. ان بڑے لوگوں کی جنگ میں مرتے تو ہم چھوٹے ہی ہیں نا جو ان کے پاس کام کرنے والے ہوتے ہیں……. میں ان سب چکر میں پڑ کے گناہ نہیں کر سکتا……. شمشیر کے بچوں کا خوف ہے نا تو یہ ﷲ کی امان میں، جو بی بی یہ جانتا ہے کہ میرا بچی کھو گیا تھا بچپن میں وہ لازمی یہ بھی جانتا ہوگا کہ یہ بچے میرے نہیں ہیں میرے مرحوم بھائی بھابھی کے بچے ہیں جن کو ان کی موت کے بعد میں پال رہا ہوں ۔بس میں نے اب فیصلہ کر لیا باقی جو رب کو منظور۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

زین جانے سے پہلے ہاسپٹل آیا تھا اور اس کی باری آنے میں ابھی وقت تھا اسی لیے فی الوقت اسے ویٹنگ میں بٹھایا گیا تھا ۔

” آمنہ کو میں نے نہیں مارا یہ تمھاری غلط فہمی ہے اور اگر کسی نے یہ بات تم سے کہی ہے تو یہ اس کی چال ہے میرے خلاف……… ہاں یہ سچ ہے کہ آپا مجھے اچھی نہیں لگتی تھیں کیونکہ ان کی وجہ سے اکثر مجھے پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا، ہر روز ان کا ہمارے گھر آنا……. زندگی مشکل ہوگئی تھی ہماری……. مگر میں واقعی آمنہ سے محبت کرتا تھا ۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ اس کی جائیداد ہمارے گھر آجاتی مگر تم جانتے بھی ہو. اس کی جائیداد تھی کیا……. ایک سونے کا سیٹ بس……. جو میری اماں نے شادی پر آپا کو دیا تھا اور پھر وہ ان کے مرنے پر بیٹی کو ملنا تھا ۔باپ تو اس کا سرکاری افسر تھا تمھیں اگر یاد ہوتو اور اس وقت میں اتنا کما چکا تھا کہ اس کے پیسے کی میری نظر میں رتی برابر اہمیت نہ تھی۔“.

” میری رپورٹ کے مطابق آمنہ کا قتل ہوا ہے، میں اب تک اتنا ہی جان سکا ہوں مگر میں ہر بات کی آخر تہہ تک پہنچ کے رہوں گا…….. بس تھوڑا وقت چاہتا تھا سنبھلنے کا………. میں ایک وقت میں بہت اندھا ہو چکا تھا بیٹے، محرومیوں نے مجھے صحیح غلط کی تمیز بھلا دی تھی اور شاید تبھی میں نے اپنے بہت سارے دشمن بنا لیے ہیں، جو اب میرا بڑھاپا برباد کرنے پر تلے ہیں……… میں تمھارے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا کہ تم میری بات پر یقین کرو، بس تم سے التجا ہے کہ آگے ذرا سنبھل کر چلنا……. “

” زین مرتضیٰ…… سر، آپ اندر آجائیں…… “جب اس کی باری آئی اور اسے اندر بلایا گیا تو اس کا سوچوں سے ارتکاز ٹوٹا…….. یہ وہ سب باتیں تھیں جو مرتضیٰ حسن نے اس وقت اس سے کہیں تھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *