Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 06)
Rate this Novel
Nasha (Episode 06)
Nasha by Aiman faisal
” ہاں برخوردار آگئے گھر کیسے ہو، کیسی جا رہی پڑھائی اور خاص کر ہاسٹل لائف کیسی جارہی ہے میرے شہزادے کی؟ “ رات کو مرتضیٰ صاحب جب میٹنگ سے واپس آئے تو ان کو بہت دیر ہوچکی تھی اور زین سو چکا تھا اس لیے ان دونوں باپ بیٹے کی اس وقت ناشتے کی ٹیبل پر ملاقات ہورہی تھی۔
” پڑھائی بھی بہت اچھی جارہی ہے بابا اور ہاسٹل لائف بھی کوئی مسئلہ نہیں ہورہا مجھے ۔“ زین نے فرنچ ٹوسٹ کھاتے ہوئے جواب دیا۔
” اچھا ! میں تو امید کررہا تھا کہ تم کہو گے کہ تمھاری بس ہوگئی اب مزید تم نے ہاسٹل میں نہیں پڑھنا مگر تمھارا جواب تو انتہائی حیران کن ہے بھئی واہ کیا بات ہے….. حالانکہ ہم نے تو سن رکھا ہے کہ بڑی خواری والی زندگی ہے یہ ۔“ مرتضیٰ حسن کو زین کی بات کچھ ہضم نہ ہوئی۔
” ہاں ابا خواری تو ہے مگر زین مرتضیٰ کے لیے اس جہاں میں کہیں بھی خواری کیسے ہوسکتی ہے ڈیڈ مجھے تو کوئی آنچ بھی نہیں آ سکتی…….. “
” ہاں یہ بات تو ٹھیک کہی تم نے…….. ویسے کیا روٹین کیا ہے تمھارا وہاں؟ “ مرتضیٰ صاحب نے ایک اور سوال کیا ۔
” روٹین تو بس علی الصبح اٹھتے ہیں پھر کلاسز پھر لنچ بریک گروپ اسٹڈیز تھوڑا ریسٹ پھر واپس پڑھائی…. بس یہ نارمل سی روٹین ہی ہے“ زین جانتا تھا کہ اس کے والد اسپورٹس اور دوستیوں کے سخت خلاف ہیں اس لیے وہ ان باتوں کو گول کر گیا آخر کو اسے اپنی زندگی خراب نہیں کرنی تھی اور اس کی سوچ کے مطابق اس کے والد نے وہاں آکر تھوڑا ہی دیکھنا تھا ۔
” اچھا اسپورٹس وغیرہ نہیں ہوتا وہاں؟ “ وہ بھی پھر مرتضیٰ حسن تھے۔
” ہوتا ہے بابا بٹ اٹس اپ ٹو یو، کہ آپ اس میں حصّہ لینا چاہتے ہیں یانہیں اور میں نے تو کبھی اسپورٹس کھیلا ہی نہیں مجھے تو کچھ آتا ہی نہیں ہے یو نو ڈیٹ ۔“ زین نے بھی واقعی باتیں گھرنا سیکھ لیا تھا ۔
” ہوں……. “” لنچ کے بعد ہم کہیں باہر چلیں گے آج تم تیار رہنا اور عمارہ تم بھی تیار رہنا تم بھی ہمارے ساتھ چل رہی ہو ۔” مرتضیٰ حسن ناشتہ ختم کرچکے تھے۔
” جی بہتر ۔“ وہ دونوں بھی اپنا ناشتہ ختم کرکے چائے پینے لگے۔







” کہاں جانا ہے؟ پارک چلیں کسی یا پھر سینیما؟ “ مرتضیٰ صاحب نے زین کو مخاطب کیا ۔
” پہلے پارک پھر سینیما پھر ڈنر… “
” ہممممم تو سب جگہ آج ہی چلنا ہے. “ مرتضیٰ صاحب نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
” ہاں نا ڈیڈ، کیونکہ اب میں چھ ماہ بعد ہی گھر آسکوں گا، باقاعدہ اسٹڈیز اسٹارٹ ہو جائیں گی تو پھر زیادہ ٹائم بھی دینا ہوگا پھر ویک اینڈز پر ٹیسٹ پریپیریشن کرنی ہوگی اس لیے آج ہم سب جگہ جائیں گے ۔“
” چلو ٹھیک ہے ۔“







” سوچ رہا ہوں اگلی دفعہ جب زین چھٹی لے کے گھر آئے تو اس کی بات طے کر دی جائے ۔“ وہ لوگ ڈنر کر کے واپس گھر آ گئے اور زین اپنے کمرے میں سونے جا چکا تھا تب مرتضیٰ صاحب نے عمارہ سے اپنی رائے کا اظہار کیا ۔ایسا لگ رہا تھا وہ ان سے کچھ اگلوانا چاہتے ہیں، ان کے لہجے میں کچھ تھا کوئی کھوج شاید……
” ابھی سے مگر ابھی تو اسکی پڑھائی مکمل ہونے میں کافی وقت باقی ہے ۔“ عمارہ کچھ کھٹکی۔
” ہاں لیکن اب اس کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے میں مزید کوئی رسک نہیں لینا چاہتا نہ اب کوئی گیم زندگی میں چاہتا ہوں اب بہت آکے بڑھ چکا ہوں اب بس میں سکون کرنا چاہتا ہوں صرف اور صرف ترقی چاہتا ہوں، میں اپنے دوست احمد سے بات کرتا ہوں زین کی شادی اسی کی بیٹی سے ہوگی کیونکہ اس کے بزنس میں اسکوپ بہت اچھا ہے اور ایک بات……. زین کو آمنہ والا قصہ یاد ہے یا نہیں؟ “ انہوں نے بات کرتے کرتے اچانک سے سوال کیا جس پر عمارہ ہڑبڑا گئیں مگر پھر فورا ہی انہوں نے خود کو سنبھال لیا۔
” اس نے کبھی ذکر نہیں کیا ۔“عمارہ نے فوراً سے بات کو سمیٹ دیا۔ اگرچہ جھوٹ بول کر۔
” بہتر ہوگا کہ آئندہ بھی نہ کرے، ہم آمنہ کو طلاق نہیں دلوایں گے بلکہ وہ خود خلع لے گی ان کے لیے ایسے حالات ہوجائیں گے، اور اس طرح ہمارے لیے راستے آسان ہوجائیں گے ۔“ کچھ تھا جو وہ بھی عمارہ سے چھپا رہے تھے۔







” میں بھی چلتی ہوں تمھارے ساتھ…. “ زین جب صبح جاگنگ کے لیے پارک جانے لگا تو عمارہ بھی اس کے ساتھ ہولیں ۔ جاگنگ کے بعد جب زین آکر بینچ پر بیٹھا تو عمارہ نے بات شروع کی۔
” زین ! میں نے کہا تھا نا زندگی مشکل ہوجائے گی تمھارے لیے…… تمھارے ابو نے بھی تمھارے بدلتے رنگ بھانپ لیے ہیں اور اب جب تم اگلی دفعہ آؤ گے تو وہ تمھاری بات طے کر دیں گے……… “ عمارہ نے اسے خبردار کر دیا۔
” مگر امی میری مرضی کے بغیر ڈیڈ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ “ زین کو بہت دکھ ہوا۔
” وہ سب کر سکتے ہیں زین اور تم اس بات سے بخوبی واقف ہو، اس لیے اب جتنا جلدی ہوسکے آگے کا لائحہ عمل تیار کرو اور…… اور اسے بھی ڈھونڈو “
” میں ڈیڈ کو یہ نہیں کرنے دوں گا مام، چاہے کچھ ہوجائے مگر یہ میں نہیں ہونے دو ں گا ۔ آپ کی ساری زندگی، میرا بچپن، لڑکپن سب ان کے پیسے کے نشہ کی بھینٹ چڑھ گیا ساری زندگی ہم نے حرام کھایا ہے مام ساری زندگی، گھٹ گھٹ کر یہاں تک پہنچا ہوں میں مگر اب مزید نہیں میں آگے ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا میں اپنی نسل کو حرام پر نہیں پروان چڑھا سکتا اور نہ میں اُس کے ساتھ زیادتی کرسکتا ہوں، اور میں جانتا ہوں مام وہ کہاں ہے اسے ڈھونڈ نے کی ضرورت نہیں ہے مگر…. مگر میں بہت خوفزدہ ہوں کیا وہ مجھے اب بھی اپنائے گی اتنے سالوں بعد امی جی؟ “ زین کے ذہن میں اب صرف اندیشے ہی اندیشے تھے۔
” تم سچے ہو زین اور اسی سچائی کی بنیاد پر تمھیں خود پر اعتماد ہونا چاہیے تم ضرور پالو گے اسے مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے میری جان، بس ہمت نہ ہارنا بالکل بھی تم نے تو کبھی دنیا بھی نہیں دیکھی زندگی تمھارے لیے بہت سے امتحان لے کر آنے والی ہے بس صبر اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے آگے بڑھتے جانا، سمجھ رہے ہونا جو میں کہہ رہی ہوں؟ “
” آپ میرے ساتھ ہے نا امی جان؟ “
” ہرقدم پر…. “ اس کے آگے زین اور عمارہ کی زندگی کا ایک مختلف، منفرد اور کٹھن سفر ہونا تھا۔








زین نے سب پیکنگ مکمل کر کے ڈنر کیا ۔کچھ ہی دیر میں اس کی یونی بس آنے والی تھی آج اس نے واپس یونی جانا تھا اور اب اس نے اگلے مہینے گھر آنا تھا اور تب تک اسنے بہت سے ضروری کام کرنے تھے اور ان میں سب سے اہم کام آمنہ سے ملاقات کا تھا ۔
