Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 19,20)

Nasha by Aiman faisal

یہ وہ زمانہ تھا جب آٹا پچاس کا پانچ کلو مل جایا کرتا تھا ۔مگر ہائے رے غریبوں کی قسمت ان کے لیے تو مہنگائی ہر دور میں ہی رہی ۔ ایک گھر کا سربراہ دن بھر محنت مزدوری کر کے تھکا ہارا گھر آتا جو گزارے لائق کمایا وہ بچوں کو کھلا دیا اور یوں ہی زندگی کی گاڑی چلتی رہتی ۔

ان میں سے ہی ایک گھر سعدیہ بیگم کا بھی تھا۔ان کی شادی حسن بغدادی سے ہوئی دونوں میاں بیوی میں فطری محبت تھی۔ سعدیہ کچھ زیادہ ہی بھولی سی اور ان پڑھ تھی، زمانے کو زیادہ جانتی نہیں تھیں اس لیے تھوڑے میں بھی بہت خوش رہتی اور گھر میں سارا دن جتی رہتیں ۔حسن صاحب پرانے زمانے کے حاکم مزاج شوہر واقع ہوئے تھے جن کے رعب سے گھر کی دیواریں سہمی رہتیں اور جو بچوں پر تربیت کے لیے نرمی کی بجائے سختی کو ترجیح دیتے۔

تین بچے تھے ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا۔بیٹیاں پرایا دھن تھیں ان کے لاڈ اٹھائے جاتے اور بیٹے یعنی مرتضیٰ کو سخت جان بنانے کے لیے اس پر سختی کے پہاڑ ٹوٹتے رہتے وقت کے ساتھ ساتھ جس کا مرتضیٰ نے بھر پور اثر لیا اور پھر جو نتیجہ نکلا وہ بہت تکلیف دہ ثابت ہوا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ابا جی ! میری امی جی کیسی تھی؟ “ وہ جو پھول سی تھی بالکل، اسکا سوال بھی پھول سا ہی تو تھا……. نازک

” بالکل تمھارے جیسی، خوبصورت، باحیا، سب کا خیال کرنے والی، ہر کسی کے دل میں بسنے والی، دل موہ لینے والی……. “وہ جو ابھی دفتر سے تھکے ہارے گھر آئے تھے، بیٹی کے ایسے تکلیف دہ سوال پر بھی ضبط کر کے اسے مسکرا کر جواب دے رہے تھے۔بیوی کا ذکر ان کے لیے اس کے جانے کے بات ہمیشہ سے تکلیف دہ ہی رہا تھا مگر اس شخص کے اندر ایک بلا کا شفیق باپ بھی بستا تھا ۔

” ابا ! یہ حیا کیا ہوتی ہے؟ “ ایک اور معصوم سوال کیا گیا۔

” حیا ایمان کا حصہ ہے میری جان، مطلب کے جب کسی کو دیکھو تو شرم سے دیکھو، عزت سے دیکھو اور محبت سے دیکھو…… “

” مطلب ابا……. محبت کرنا اچھی بات ہے ہے نا ؟ “ اس نازک پری کا ہر سوال مشکل تھا۔

” ہاں بیٹا، محبت کا تو درس ہے…….. مگر نفرت کرنا بری بات ہے، گناہ ہے۔“ اور یہ وہ آخری جواب تھا جس نے اسے خوابوں کی وادیو‌ں میں دھکیل دیا، جس نے اس کے سوالوں کی فہرست کو ختم کردیا، مگر یہ ادھورا علم تھا جو اس کم سن بچی کو غلطی سے ہی صحیح مگر دے دیا گیا تھا اور اس علم نے اس کی زندگی کو دیمک بنا دیا جو آہستہ آہستہ سب کچھ ختم کر رہی تھی۔

اور جانتے ہو اس میں ادھورا کیا تھا…….. اس میں ادھورا یہ تھا کہ اسے یہ نہیں بتایا گیا کہ نامحرم سے تو محبت کرنا بھی گناہ ہے……. اور پھر یہیں سے ہی تو اصل کہانی شروع ہوئی جسکا انجام انتقام ہونا تھا یا پھر شاید موت………

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” گھر چلا جا یار…… اتنی کوئی رات ہو چکی ہے…… کچھ ہے نہیں تیرے پاس کرے گا کیا، تیرا باپ کم ازکم تجھے کچھ تو کھلاتا ہے، تو خود کو دیکھ ایک پورے دن میں اپنے لیے ایک وقت کا کھانا نہ کرسکا…… چھوڑ دے ضد بڑوں کا تو مزاج ایسا ہی ہوتا ہے، اس میں اپنا حق کیوں چھوڑنا……… “

مرتضیٰ گھر چھوڑ کر اپنے دوست کے پاس چلا آیا تھا اور آج رات اسی کے گھر گزارنے کے ارادہ رکھتا تھا مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اپنوں سے زیادہ وفا شاید ہی کسی میں پائی جاتی ہے اور اس کے دوست میں یہ صفت موجود نہیں تھی اور یہ بات اس نے اگلے دن صبح ہی جان لی اور اس کے بعد اس نے ہر ایک چہرے کو پرکھنا سیکھ لیا ۔

” یار بس اب تو جا، جہاں بھی جانا ہے جا مگر میرے گھر سے جا….. میں اس طرح اتنے دن تجھے نہیں رکھ سکتا اپنےگھر…… “اور مرتضیٰ فوراً ہی اس کی اس حرکت پر گھر چھوڑ کر نکل پرا اور راستے میں اس کا سامنا گلی کے سب سے زیادہ آوارہ لڑکوں سے ہوگیا جو ساری رات جاگتے رہتے اور بیٹھے سگریٹ پھونکتے رہتے……

” کیا ہوا جوان….. اتنی صبح صبح کہاں جارہے ہو وہ بھی ایسے تیور لیے…….. گھر والوں نے تو کہیں نہیں نکال دیا عشق ہونے کے بعد….. “ اور پھر سب نے مل کر بلند قہقہہ لگایا……

” ارے نہ کرو یار…….. یہ تو اپنا ہی بندہ ہے، سہارے کی ضرورت ہے بچے کو، اس طرح نہ کرو اس کے ساتھ…… “ اور واقعی اس وقت نئے نئے جوان ہوئے مرتضیٰ کو سہارے کی ہی تو ضرورت تھی اس لیے وہ ان کے چنگل میں پھنس چکا تھا اور وہ بھی بری طرح سے، اور پھر اس دن سے اس کا اٹھنا بیٹھنا ان لوگوں میں ہونے لگا…….

کہتے ہیں بُرائی تب ہی جگہ لیتی ہے جب جگہ خالی ہو اس لیے اچھائی یا نیکی اول تو چھوڑنی ہی نہیں چاہیے مگر حالات کی بناء پر چھوڑنی پڑے تو فوراً سے وہ جگہ کسی نئی اچھائی کو دے دینی چاہیے تاکہ برائی اپنا بسیرا نہ کرسکے۔بالکل اسی طرح اچھے لوگوں کے جاتے ہی دوسرے اچھے لوگوں کو زندگی کا حصہ بنا لینا چاہیے ورنہ بری صحبت کا شکار ہونے میں دیر نہیں لگتی۔

مرتضیٰ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، اچھوں نے ایسا ساتھ چھوڑا کہ بُری صحبت نے آگھیرا۔ناجانے قصور کس کا تھا مگر سزا بہت سو نے کاٹی……..

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

ضمیر……. اسکا ضمیر اسکا ساتھ نہیں دے رہا تھا…….. وہ تو بُرائی کے راستے کو چن چکا تھا مگر بار بار اور ہر بار کوئی اندر بہت اندر اسے جھنجھوڑ رہا تھا ہر کسی کو روکا جاتا ہے مگر سنتا کوئی کوئی ہے اور وہ سن رہا تھا اپنے اندر کی آواز……….

جانے اس کا انجام کیا ہونا تھا، جانے کس نے جیتنا تھا……… اختتام تو خود اس کے لیے بھی اب تک تجسس ہی تھا۔ ناجانے اسامہ نے کیا بننا تھا….

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

وہ تو سونے کے لیے ہی لیٹی تھی مگر آج کافی عرصے بعد وہ پھر سے سو نہیں پا رہی تھی اور اس بار نیند نہ آنے کی وجہ بھی کچھ الگ تھی……..

ایک وقت تھا جب وہ بہت پاکیزہ ہوا کرتی تھی، نور ہمیشہ اس کے چہرے کی زینت بنا رہتا تھا ۔اسے تو فرائض کے ساتھ ساتھ نوافل کی ادائیگی کا بھی شوق تھا، مگر پھر اس نے کئی کئی دن اپنی نفلی عبادت کی جگہ دنیا کو دینا شروع کر دی اس کو پیسے کی کشش نے اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا اور پھر اس چھوٹتی عبادات کے ذریعے راستے بنتے گئے اور نفل سے سنت اور پھر فرائض چھوٹنے لگے اور یہی ہوتا ہے بندہ بننا بہت مشکل کام ہے عبادت کی عادت بنانا اور مستقل عادت بنانے میں سالوں لگ جاتے ہیں مگر جب ایک مقام تک پینچ کر بندہ اس سے گرتا ہے تو پھر پل بھر میں کئی کئی منزلیں پھلانگ کر گرتا چلا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ بھی یہی ہوا، ایک وہ وقت تھا جب اسے راتوں کو نیند نہیں آتی تھی اور پھر ایک یہ وقت ہے جب وہ سو نہیں پا رہی…….. مگر آج وجہ کچھ اور ہے……. اور وہ وجہ ہے محبت جو اس کے دل میں بس چکی ہے مگر اس کا وہ اقرار نہیں کرنا چاہتی یا پھر شاید وہ تو اب تک اس بات سے واقف ہی نہیں ہے……….. وہ تو اب آمنہ کے کردار میں کھوئی ہوئی لڑکی ہے……. جو اپنا آپ بھولانے کی کوشش جت گئی ہے…

Episode 20

” کیوں یارا……… کیا ہوا ہے کیوں گھر سے نکالا گیا ہے…….؟ “ مرتضیٰ نے اگلا پورا دن ان آوارہ لڑکوں کے ساتھ گزار دیا اور پورے دن میں کسی نے اس سے کوئی بات نہ کی اور اب رات کے وقت بھی وہ انہی لوگوں کے ساتھ تھا جب ان میں سے ایک آگے سے گولڈن لمبے والوں لڑکے نے اس سے پتے کھیلتے کھیلتے سوال جھاڑا۔

” گھر سے نکالا نہیں گیا خود گھر چھوڑ کر نکلا ہوں اپنی مرضی سے…… “ مرتضیٰ جو بائیک پر قمر کے بل سیدھ میں لیٹا تھا، نے جواب میں کہا۔

” ہممممممم……. مریضِ عشق لاحق ہے دوست کو…….. ویسے پتے کی بات بتاؤں تجھے یہ عشق و عاشقی ایسے ہی رول دیتی ہے قسمے…… “

” اس دنیا میں عشق کے علاوہ بھی ہے بہت کچھ کرنے کو……… اس عشق میں آخر رکھا کیا یے جو اس کے لیے اپنی قیمتی جان برباد کروں میں۔عورت کی حیثیت تو میرے نزدیک جوتی کی سی ہے اس کے لیے میں خود کو ایسا بے آسرا کروں گا، پاگل لگتا ہوں کیا………. میں نے گھر اس لیے چھوڑا ہے کہ میں منہ توڑ جواب دے سکوں ان سب کو جنہوں نے میری اہمیت دو کوری کی نہ رہنے دی، دیکھنا ایک دن ایسا آگے جاؤں گا کہ سب کو ایک ایک کر کے جواب دوں گا….. بس دیکھنا تم لوگ……. “ مرتضیٰ نے اپنا دل جو کھولا تو پھر اس میں سے انگارے برسنے لگے، آج وہ اٹھ کر بیٹھا اور اپنے عزائم پختہ کرنے لگا ۔بہت کچھ تھا اس نئے جوان میں بس اس کے اپنوں سے ہی اس کے ساتھ زیادتی ہوگی کہ وہ اس کا سہارا نہ بن سکے۔بعض دفعہ بڑے خود کو اتنا بڑا اور عقلمند سمجھنے لگتے ہیں کہ خود اپنے ہاتھوں اپنی تربیت اور اپنی اولاد جو انکا کل سرمایہ ہوتی ہے اپنی انا میں ضائع کر ڈالتے ہیں اور اس بات کا اندازہ انہیں وقت گزرنے کے بعد ہوتا ہے….. اس وقت جب تیار فصل کاٹنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

تم پر گزرے گی تو تم بھی جان جاؤ گے

کوئی اپنا یاد نہ کرے تو کتنا درد ہوتا ہے!

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” گل حسن ! ایک بات بتا تجھے وہ یاد نہیں آتا کبھی بھی؟ “ رات بہت گہری تھی بالکل سکینہ کے الفاظوں کی طرح۔

” جھلی ! تجھے اپنے الفاظوں پر بھی بھلا یقین ہے، یاد تو کیا ہی اس کو جاتا ہے جسے بندہ بھول بیٹھا ہو اور وہ…… وہ ہمیں بھولائے نہیں بھولے گا سکینہ،،، ،،گل حسن……… وہ واحد تو ہے ہمارے جینے کا سہارا…….. یہ جو اتنوں کو پال رہے ہیں یہ سب اسی کی آس میں اسی کی خیر نال تو پال رہے ہیں، ورنہ ہمیں کیا ضرور ت اتنی محنت کی اتنی مشقت کی….. “

” ہاں بات تو تیری ٹھیک ہے…….. ویسے اب تک تو وہ کتنا بڑا ہوگیا ہوگا نا خوبرو جوان…… “

” ہاں بس تو دعا کر سکینہ وہ زندہ ہو، ایک واری تو اسے گلے سے لگا سکیں بس ایک واری……. “

اور پھر دونوں کی آنکھیں اس کے خواب سجائے بند ہونے لگیں۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” اسلام علیکم ! بھئی واہ کمال ہے آج تو تم

دونوں ہی مجھ سے پہلے یہاں پہنچ چکے ہو…… “

سکندر جو ہاسٹل واپس آچکا تھا ان دونوں کو پہلے سے ہی روم میں دیکھ کر تھوڑا سا حیران ہوا.

” ہم گئے ہی کب تھے گھر، یہ جو بھائی ہے نا تیرا……… شادی تھی اس کی……. “

” کیا……… زین……. تو نے میرے بغیر ہی شادی بھی کر لی…… انتظار بھی نہ کیا میرا۔“ صدمہ سا صدمہ تھا۔

” تیرا کیوں انتظار کرتا…… شادی کے لیے لڑکی ضروری ہے باقی تو سب کا سب غیر اہم ہے سن لے یہ بات تو……. پتہ چلا اپنی شادی میں بھابھی کو ناراض ہی نہ کر دے کہیں ہمارے انتظار میں…… “

” تمھارے انتظار میں تو نہیں ہی کروں گا ناراض…….. مگر…… کسی کا انتظار تو ہے ۔“ اور یہاں تو کہانی اس جھلے سے بھولے سکندر کی بھی تھی جس کو ہر کوئی غیر اہم سمجھ بیٹھا تھا بلکہ شاید سب سے زیادہ اہم تو یہی کردار تھا یہاں……..

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” لائبہ کے ابا جاؤ نا جا کے دیکھو کہاں چلا گیا کاکا میرا……. ہائے سمجھاتی بھی ہوں جوان ہوگیا ہے بچہ اب اتنا غصہ نہ کیا کرو مگر تمھاری سمجھ میں تھوڑی آتا ہے کچھ، بس برستےچلے جاتے ہو ،چلے جاتے ہو…….. ہائے“ مرتضیٰ کی ماں اس کے جانے کے بعد سے پریشان ہوئی بیٹھی تھی اب جب کہ اگلے دن کی شام ہونے والی تھی تو ان کا دل درد سے پھٹا جا رہا تھا وہ رو رو کے ہلکان ہو چکی تھیں مگر وہاں ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا، ان کے الفاظوں کا اثر کسی پر نہ ہونا تھا سو نہ ہوا ۔

” کتنی دفعہ سمجھایا ہے یہ بے کار کی باتیں مجھ سے نہ کیا کر، اس نے جانا تھا چلا گیا اب اگر وہ خود اپنی مرضی سے آیا بھی نا تو اس کے لیے اس گھر میں کوئی جگہ نہیں بہت جوش مار رہا ہے نا اس کا خون تو کھائے دھکے، دیکھے وہ بھی ذرا دنیا کو قریب سے، اسے بھی تو پتہ چلے کتنے رولے ہیں زمانے میں…….. “اور وہ ابا تھے، وہی پرانے زمانے کے روایتی ابا…….. اب پتہ نہیں ایسے باپ کو بے حس اور حکمرانوں والا مزاج رکھنے والا کہیں یا پھر دل میں محبت مگر باہر سے لوہے جیسا چڑھا خول رکھنے والا بندہ…….. یہ تو ہر کسی کا اپنا فیصلہ اور اپنی اپنی سوچ ہے……… مگر ایک بات تو ہے محبت اظہار چاہتی ہے ایسی بھی سختی نہیں ہونی چاہیے کہ کبھی محبت کو اظہار ہی نہ ملے پھر دیکھنے والا تو بے حس اور پتھر دل ہی سمجھے گا نا…….. اتنا احساس تو جتانا چاہیے کہ کم از کم آپ کی اولاد آپ کے سامنے کبھی تو اپنا دل کھول کر رکھ سکے…….. اولاد کو بھی ماں باپ کے سہارے کی اکثر ضرورت پڑتی ہے، بلکہ سب سے زیادہ اولاد کو ہی تو ضرورت پڑتی ہے ……. سہارا صرف روٹی کپڑے سے نہیں ملا کرتا……..

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” کیا ہوا اتنی تھکی تھکی سی لگ رہی ہو آج، گھر سے آیا ہوا تو ہر اسٹوڈنٹ فریش ہوتا ہے…….. تم کیوں بجھی سی ہو، اداس ہو، کچھ ہوا ہے گھر میں….؟؟ “کلاس ختم ہونے پر جب آمنہ نے اپنا فون آن کیا تو زین کا میسج آیا ہوا تھا جسے پڑھ کر وہ کچھ گھبرا سا گئی۔

گھبراہٹ بھی بجا تھی…….. یہ رنگ تو وہ رنگ تھے جن کا اندازہ وہ خود اب تک نہیں کر پائی تھی یا پھر ان کا اقرار نہیں کرنا چاہتی تھی مگر زین تک ان کی خوشبو کا پہنچ جانا اسے شدید خوف زدہ کر گیا……

” نہیں تو……. میں کیوں اداس ہونے لگی، ٹھیک ہوں بالکل…… بس پڑھ پڑھ کے پک گئی تھی تھوڑا……. “ اس نے جواب تو دے دیا مگر اب بھی سوچ رہی تھی کہ زین نے اسے کب دیکھ لیا..

” اچھا ااااااااا…… تم اور پک گئی تھی پڑھائی سے……. جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے تمھیں تو پڑھائی کا اتنا شدید شوق تھا کہ تم تو بڑی ہو کر رائیٹر بننے والی تھیں؟ “ زین اس کے جھوٹ کو سن کر چونک سا گیا تھا کیونکہ اس نے آمنہ کو صبح دیکھا تھا جب اس کی آنکھیں نیند کی شدت سے لال ہو رہی تھیں مگر اس نے اس کے جواب میں بات بدل ڈالی……. اب زین کا زاویہ بدلنے لگا تھا وہ اب معاملے کو جانچے لگا تھا یا پھر اب وہ دنیا میں آنے لگا تھا،،،، اپنے خول سے نکلنے لگا تھا…….. جانے کتنی ٹھوکریں، کتنی چوٹیں اس کی منتظر تھیں…..

” ہا…… ہاں شوق تو اب بھی ہے….. مگر اب پڑھائی مشکل ہوگئی ہے نا اب کبھی کبھی دل اچاٹ ہوجاتا ہے…… “ وہ جو اب اپنے آپ میں آنے لگی تھی، آمنہ کو بھولنے لگی تھی،،،، ،،اچانک سے سنبھلنے کی کوشش کرنے لگی کیونکہ یہ بازی ہاتھ سے جانی نہیں چاہیے تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ دل نے اب ساتھ چھوڑ دیا ہے تو بازی تو وہ ہار ہی چکی تھی وہ اب ایسی کھائی میں گر گئی ہے جہاں سے واپسی ناممکن تھی…… جہاں صرف کئے کی سزا تھی……. ایک معصوم کے ساتھ زیادتی کی سزا……. اور کئے کی سزا تو وقت گزرنے کے بعد ہر ایک نے بھگتنی ہے…… اور سزا تو تکلیف دہ ہی ہوتی ہے چاہے وہ جس شکل میں بھی ہو…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *