Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 15)
Rate this Novel
Nasha (Episode 15)
Nasha by Aiman faisal
” ایک منٹ ایک منٹ گلام دین رکو…… وہ گاڑی دیکھ رہے ہو سفید رنگ کی اس کے پیچھے چلو…. “ آفس سے واپسی پر مرتضیٰ کی سواری گھر کی جانب رواں دواں تھی جب انہوں نے ڈرائیور کو حکم صادر کر دیا، آج موسم بہت گرد آلود تھا اور شاید اب آسمان میں تقدیر کے آثار ایسے تھے جیسے کسی کی زندگی میں کہرام مچنا تھا۔
” صاحب یہ تو……… “ ڈرائیور نے سگنل کھلتے ہی گاڑی اس سفید گاڑی کے پیچھے کر لی اور جیسے ہی وہ اس گاڑی کے قریب پہنچے ڈرائیور نے پیچھے بیٹھےمسافر کا چہرہ دیکھتے ہی کچھ کہنا چاہا مگر مالک نے بیک ویو مرر سے آنکھیں دکھا کر اسے خاموش کرادیا ۔
” جانتا ہوں میں، تم خاموشی سے اپنا کام کرو بس……… اور ہاں دھیان رکھنا کہ جس طرح تم اسے دیکھ چکے ہو وہ تمھیں نہ دیکھے ورنہ تم جانتے ہو تمھارا چھوٹا بیٹا کتنا زیادہ پیارا ہے۔“ وہ مرتضیٰ حسن تھے…….. مرتضی حسن ! جن کا تعارف کچھ ادھورا سا تھا اب تک ……….
” غلطی ہوگئی صاحب، معذرت خواہ ہوں۔“ وہ خوف اور شرمندگی کی ملی جلی کیفیات میں مبتلا ہوگیا اور شرمندگی کس بات کی بھلا……… شرمندگی اپنے مالک کے سامبے منہ کھولنے کی…….
ہاہ ! چھوٹے لوگوں کا ہر پل شرمندہ سا
خوشیوں سے خالی بکھرا بکھرا سا







” سوری اصغر صاحب ! میں آپ سے بہت معذرت خواہ ہوں پر کچھ مجبوریوں کی بنیاد پر آپ یہاں اب مزید نوکری نہیں کر سکتے……. “ وہ جو آج لفٹ لے کر آفس پہنچے تھے کیونکہ ان کی بائیک خراب ہوچکی تھی، ایک اور بُری خبر آفس میں ان کو سنا دی گئی تھی۔
” مگر سر میں…….. میں تو کئی سالوں سے یہاں جاب کر رہاہوں، آپ یوں اچانک ایسے کیسے مجھے فائر کر سکتے ہیں، ایسی بھی کیا مجبوری آگئی ہے کہ جس کمپنی نے مشکل سے مشکل وقت میں میری مہارت کی بناء پر مجھے یاد کیا اب وہ مجبوری کے تحت مجھے یوں اس طرح فائر کر رہی ہے…… مطلب ایسی خودغرضی یا پھر بے حسی…… “ ان کے لیے اس قدر افسوس کا مقام تھا کہ وہ اپنے جذبات بھی نہ روک پائے۔
” میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں اصغر صاحب میں آپ کو آنے والی مصیبت کا بتا بھی نہیں سکتا اور آپ کی کچھ مدد کرنے سے بھی قاصر ہوں، میں جانتا ہوں آپ کے ساتھ یہ ایک انتہائی غلط اور نامناسب رویہ ہے مگر آپ بس اتنا جان لیں کہ میرے ہاتھ پیر بندھے ہوئے ہیں، میں زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں ہوسکے تو مجھے معاف کر دیجیے گا……… “ پرانے تعلقات تھے اس لیے ان کے باس ان سے بہت شرمندہ تھے اور وہ کرتے بھی کیا ان کی بھی ایک الگ کہانی جو تھی۔
” ایک اور بات……. “ وہ جو جانے لگے تھے انہیں پھر مخاطب کیا گیا تھا۔
” آپ کی میں اتنی مدد کر سکتا ہوں کہ…….. کسی اور کمپنی میں کوشش نہ کیجیے گا آپ کو کہیں بھی نوکری نہیں ملنے والی اب، کچھ پابندیاں اوپر سے آئی ہوئی ہیں، میں زیادہ بات نہیں کھول سکتا مگر امید کرتا ہوں آپ جیسا سمجھدار اور تجربہ کار شخص میری بات کی تہہ تک پہنچ چکا ہوگا۔“
وہ مزید کوئی سوال کیے بناء وہاں سے چل دیے اور ہم ایک نہ دن جانے کے لیے ہی تو آئے ہیں مگر بس کسی کے لیے جانا اتنا بھاری نہ ہو جتنا آج اصغر اھمد کے لیے تھا۔








زندگی بھی کبھی بڑے عجب امتحان لے لیتی ہے، ایک بوڑھی جان جس میں اب کسی چیز کی سکت نہیں رہی تھی اس کا اس دور میں مشکل وقت تھا، اصغر احمد جسکا تو کوئی بیٹا بھی نہ تھا کہ اسکا سہارا بن سکتا بلکہ اس بیچارے انسان کا تو کوئی خاندان ہی نہ تھا ۔اماں ابا تو بہت پہلے ہی چھوڑ کے حقیقی خدا سے جا ملے تھے اور شادی کی تو بیوی بھی اتنی کم زندگی لے کر آئی تھی کہ ان کی پہلی بیٹی نے ٹھیک سے حوش بھی نہ سنبھالا تھا اور وہ بھی اسے باپ کے حوالے کر کر رخصت ہوگئی اور بیٹی…………








وہ لوگ اب گھر کے راستے پر رواں دواں تھے، سفید گاڑی کا جتنا پیچھا انہوں نے کرنا تھا کر چکے تھے اب مرتضیٰ حسن کی گاڑی ان کے گھر کے راستے کی طرف مڑ چکی تھی اور وہ اپنی سوچوں میں گم پرانے وقتوں میں کھوئے ہوئے تھے ۔
” اسلام علیکم ابا !……. “ اصغر باہر سے تھکا ہارا گھر آیا تھا اور بھوک کی شدت سے بے حال تھا۔
” وعلیکم السلام ! آگئے تم آوارہ گردیاں کر کے بس یہی کام رہ گیا ہے تمھارا اب…. پڑھائی کر کے نہ دی اب کوئی کام دھندا بھی نہ کرنا ڈھنگ کا ۔“
” ابا تم فکر نہ کرو، تم دیکھنا میں تمھیں ایک دن بہت بڑا آدمی بن کے دکھاؤں گا اتنا کہ تم میرے جیسی اولاد ہونے پر رشک کرو گے….. اماں وہ سموسہ دونا مجھے بڑی بھوک لگی ہے ۔“
” ٹن ٹن… ٹن ٹن…… “
” اے ہے کون ہے باہر آجاؤ اندر بھئی دروازہ کھلا ہی ہے….. “
” اسلام علیکم اماں ۔“ زلیخہ کا آنا ہوا تھا اور یہ تو ہر دوسرے دن کی بات تھی وہ اس گھر کی بیاہی بیٹی تھی مگر ہر دوسرے دن اسکا گھر میں چکر لازمی لگتا تھا،
” اماں سموسہ تو دو ۔“اصغر نے پھر سموسہ مانگا ۔
” ہٹ پرے ایک ہی ہے زلیخہ کے لیے رہنے دے ۔“
” اماں ہر چیز ہی تو آپا کے لیے ہوتی ہے، کبھی تم نے سوچا بھی ہے ہمارے باقی رہ جانے والوں کے بارے میں، ہم بھی ہیں اس جہاں میں، بس ہر وقت آپا آپا، یہ آپا بھی شادی ہوگئی پر پیچھا نہیں چھوڑتی اپنے گھر میں بھی تو کھاتی پیتی ہی ہوگی نہ کہ اس کا میاں بھوکا رکھتا ہے اسے، پھر بھی یہاں آجاتی ہے، ابا پتہ بھی ہے ہر چیز گن کے لاتا ہے اتنا دل مار کر بھی کچھ گزارے لائق جو اس گھر میں ملنے والا ہو تو وہ بھی یہ آپا اچک لیتی ہے، ہم تو بھوکے ننگے ہو کے زندگی گزار رہے ہیں ، اب جب پیدا کر ہی لیا ہے تو کچھ احساس بھی کر لو…….. “
” بے غیرت، بدتمیز، نہ شرم تجھ میں کوئی نہ حیا بس بلاوجہ بک بک کیے جاتا ہے کیے جاتا ہے، تجھے تو آج میں سیدھا کر کے رہوں گا نہ کام کا نہ کاج کا بس باتیں سناتا رہتا ہے، ذلیل کرتا رہتا ہے بے غیرت آخر اوقات کیا یے تیری ہاں…… “ ابا جو وہاں بیٹھے چائے کے چسکے لے رہے تھے اس کی باتیں سن کے نہ صرف آگ بگولہ ہوگئے بلکہ اس پر پوری طرح آج برس ہی تو پڑے تھے اور اس پر جو تابر توڑ حملے ہوئے جو حملے ہوئے کہ اس نئے نئے جوان ہوتے اصغر کاخون خوب جوش مارنے لگا اور پھر اس دن نے اسے یہاں تک پہنچا دیا کہ آج وہ سب سے قابل بزنس مین تھا مگر کیسے یہ ایک الگ کہانی تھی یا پھر ہوں کہا جائے کہ بہت تلخ حقیقت تھی……….. اور راستہ کیسا یہ قصہ بھی ابھی ادھورا تھا……








” ارے زین تم اب تک گھر نہیں گئے بلکہ…… جہاں تک مجھے یاد ہے تم تو کب کے نکل گئے تھے یونی سے پھر واپس یہاں کیسے….؟ “ اسامہ جو ابھی ابھی لائبریری سے نکلا تھا اس نے گیٹ سے واپس آتے زین کو دیکھ کر اس سے استفسار کیا۔
” ہاں جا تو گھر رہا تھا مگر پھر……… مگر اب ارادہ بدل لیا ہے میں اس بار یہیں رہوں گا گھر نہیں جارہا ۔“
” وجہ جان سکتا ہوں؟“
” کچھ الجھنیں ہیں، اکیلا رہ کر کوشش کرنا چاہتا ہوں ان کو سلجھانے کی…….. “
” بہت خوب…….. یہ بتاؤ کونسا جوس لوں تمھارے لیے؟ “ وہ لوگ باتیں کرتے کرتے کینٹین پہنچ چکے تھے اور اسامہ نے اپنے لیے جوس لیا تو زین سے بھی پوچھ لیا ۔
” سلائس…. “
” یہ لو اسٹرا…… ویسے تم تو بڑے گھر کے بڑے سے سپوت ہو تمھیں تو عادت نہیں ہوگی اسٹرا کے بغیر جوس پینے کی لیکن ایک بات تمھیں پتہ ہے…… ایکچولی بھی جوسز وغیرہ اسٹرا سے ہی پینے چاہیں….. “
” وجہ؟ “ زین نے اس کی بات پہ کچھ حیرانی کا اظہار کیا ۔
” کیونکہ اس سے یہ ہوتا ہے آپ بہت دیسنٹ اور نائس لگتے ہیں ۔“ پھر وہی ایک شرارتی سا جملہ ایک عدد شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ آیا تھا ۔زین خود اس قدر الجھا ہوا تھا کہ اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں آیا کہ یہاں سے ایسا ہی جواب آسکتا تھا مگر اس جواب نے اس کو ذہنی کشمکش سے نکال ضرور دیا تھا۔
” مجھے لگا تم کبھی تو کوئی انفارمیٹو بات کرو گے مگر تم سے ایسی ایکسپیکٹیشن رکھنے والا خود بےوقوف ہوتا ہے میری طرح، خیر میں تمھیں واقعی ایک مزے کی انفارمیشن دیتا ہوں، جوسز وغیرہ لاذمی اسٹرا سے ہی پینے چاہیں کیونکہ وہ اسٹرا سے سیدھا آپ کے حلق میں جاتے ہیں اس سے آپ کے خوبصورت دانت جلد کیویٹی لگنے سے بچے رہتے ہیں اور جوسز میں موجود شکر ان کی چمک کو ماند نہیں کر سکتی اور وہ پیلے ہونے کے بجائے سفید اور چمکدار ہی رہتے ہیں ایک طوہل مدت تک……… کیسا ہے نا مزے کی انفارمیشن…….. “
” بھئی واہ کمال کردیا تم نے تو میرے دوست اس خوشی میں ہوجائے ایک اور جوس؟ “ اسامہ بھی اپنے نام کا ایک ہی تھا اس نے زین کی تمام انفارمیشن کو ہوا میں اڑا کر اپنے مطلب کی بات فوراً ہی کر ڈالی ۔
” ہاں ایک بات اور میں اب واپس نہیں جاؤں گا کینٹن تم لادو نا پلیز پلیز پلیز…… اچھے دوست نہیں ہو…… “اسامہ نے دوستی کا ایک اور حق مانگا۔
” سر یہ بل ہے آپ کا… “زین جب اسامہ کے اصرار پر کینٹین پہنچا اور اس کے لیے جوس لے چکا تو ایک بار پھر اس کے ہاتھ ایک بڑی سی لسٹ آئی تھی جس میں وہ دو جوسز تو شامل تھے ہی جو انہوں نے ابھی پیے تھے اور ساتھ میں وہ تمام جوسز کے پیسے بھی شامل تھے جو اسامہ نے ہر پیپر کے آخر میں یہاں سے لے کے پیا تھا اور اس لسٹ کو دیکھ کر زین ان میں اتنا کھو چکا تھا کہ باقی ساری الجھنیں بھول چکا تھا۔
اور اسی لیے تو دوستیاں ہونی چاہیں تاکہ جب ایک مشقت کرتا، تھکا ہارا شخص خود سے جنگ کرتے کرتے نڈھال ہونے لگے تو یہ چھوٹی چھوٹی اس رشتے کی خوبصورتیاں آپ کو پھر زندگی کی طرف کھینچ لائیں۔
