Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 21)

Nasha by Aiman faisal

” ہائے رے احمد کے ابا ہماری قسمت……… ایک ہی بچہ ہے میرا، اب کیا کریں گے ہم آخر…. کہاں سے لائیں گے اتنا پیسہ……. “ گلناز جب سے ہسپتال سے آئی تھی اسکا رو رو کے برا حال ہوچکا تھا، شوہر اس کا معذور تھا محنت مزدوری کر نہیں سکتا تھا پھر اب اس کے بیٹے کی یہ جان لیوا بیماری……….. تکلیف ہی تکلیف تھی ہر سو……….. جو پیسے کو اہمیت نہیں دیتے نا وہ یہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ اس کی کہانی تو صرف پیسے کی محتاج تھی…….

” چھوڑ دے گلناز یہ رنج چھوڑ دے…….. جان دے اسے…… اتنی ہی جندگی لے کے آیا تھا یہ……. بلکہ میں تو کہتا ہوں مجھے بھی چھوڑ دے…….. اپنی جندگی جی لے تو اب بس……… “یہ احمد کا ابا تھا جو چار سال پہلے ہونے والے حادثے کی بناء پر معذور ہوا تھا اور اب سارا دن یوں بیکار بیٹھے بیٹھے اپنی زندگی سے اکتا چکا تھا ۔

”کان کھول کے سن لے میری اک گل……. آج تو بول دی ہے تو نے یہ بات، آئندہ نہ بولی احمد کے ابا….. تو ہی میری جندگی ہے اور احمد میری خوشی……… میں کر لوں گی پیسوں کا بندوبست……. یہ جو بڑے لوگ ہوتے ہیں نا ان کے پاس اتنا پیسہ ہوتا ہے کہ ان کو تو پیسے کی ضرورت بھی نہیں رہتی……. صاحب کا گھرانہ بھی ایسا ہی ہے، جو ان کو چاہیے جب میں انہیں دے دوں گی تو جو مجھے چاہیے وہ بھی مجھے دے دیں گے……… بس ایک بات……… تو…….. تو مجھ سے ایک وعدہ کر تو ہمیشہ مجھ پر اپنا بھروسہ قائم رکھے گا…… کر وعدہ؟؟ “ اس کی آنکھوں میں چمک تھی جیسے کوئی راز ہو جو وہ جانتی تھی۔

” وعدہ رہا…… “اس کے شوہر نے فورا اس سے وعدہ لے لیا اور کرتا بھی کیا وہ، بیٹھے بیٹھے سوچنے کی صلاحیت تو اس کی مفلوج ہی ہوچکی تھی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

”کام کرنا ہے نا تو نے………. اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے……. ٹھیک ہے پھر مرتضیٰ حسن تو سمجھ تیری مراد پوری ہوئی، ایک بندہ ہے میری نظر میں اس سے ملوا دیتا ہوں تجھے باقی کے معاملات تو خود طے کر لینا پھر….. “ آج بھی وہی گولڈن بالوں والے لڑکے نے مرتضیٰ کو سنا اور اس کے مسئلے کا حل نکالا، شاید وہ اس گروپ کا لیڈر تھا، نام اس کا محسن تھا اور مرتضیٰ کے لیے وہ واقعی محسن ثابت ہوا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” اماں بات کر نا ابا سے آخر اس میں مسئلہ کیا ہے…… شادی ہی کرنی ہے نا مجھے پھر جس سے بھی چاہے ہوجائے……. مان نا اماں وہ….. وہ بہت اچھا ہے مجھے پسند کرتا ہے خوش رکھے گا نا مجھے اور میں بھی تو پھر اسے پسند کرتی ہوں……. “ یہ مقدس تھی جو ضیاء سے اسکول جاتے میں ملی تھی اور ضیاء جو دیہاتی تھا َور پڑھنے شہر آیا تھا، دونوں میں دوستی ہوگئی اور پروان چڑھتی رہی اور اب جب کالج کے اختتام پر مقدس کی شادی کا تذکرہ چلنے لگا تو وہ ضد پر آگئی مگر اسکے والد ابھی اس بات سے بے خبر تھے، مگر کب تک بے خبر رہتے آج جب وہ اپنی امی سے ضد لگائے بیٹھی تھی اس کے ابا کے کانوں میں اس کی آواز پہنچ ہی گئی۔

”چٹاخ……… ایک سیکنڈ میں اپنا دماغ سیدھا کر لے…… آئندہ اس طرح کی کوئی بات کی تو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا یاد رکھنا اور یہ صرف الفاظ نہیں ہیں ایسا ہی ہوگا………. صغرا فوراً سے پہلے اس کی شادی کی تیاریان شروع کرو….. “ بیٹی کو دھمکی اور بیوی کو حکم دے کر وہ وہاں سے روانہ ہوگئے…….. پٹھان فیملی تھی اپنی بیٹی اپنے گھر میں ہی دینے کا رواج تھا ان کے ہاں اور خلاف ورزی پر سزائے موت کا ۔مقدس کے ابا گھر کے سب سے بڑے بیٹے تھے یہی وجہ ہے کہ سکہ بھی ان کا خوب چلتا تھا خاندان اور برادری میں۔

مگر بیٹی بھی تو پٹھان ہی تھی……. رات ہی گاؤں بھاگ گئی………. اور یہاں کہانی خوب تھی نہ لڑکے نے بلایا نہ لڑکا لینے آیا…… وہ تو خود اپنی مرضی سے گاؤں گئی تھی اندھیری رات میں سب ویران کر کے…….

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” استاد جی بندہ لایا ہوں، بہت کمال کا ہے…. آگے جانا ہے اس کو خوب….. بہت لگن ہے اس کے اندر….. لے لو گارنٹی دیتا ہوں پچھتاؤگے بالکل نہیں…. “ آج صبح سویرے وہی گولڈن بالوں والا محسن اسے ایک اڈے پہ لے آیا تھا جہاں ایک لمبی موچوں والا اسکا استاد، رعب دار آنکھوں کے ساتھ شیشہ پینے میں مصروف تھا…….

” جتنی قیمت بولو گے آج تمھاری ہوئی، آج اس کی ضرورت ہے……. مگر یاد رکھنا گڑبڑ ہوئی تو تو بھی گیا اور تیرا یہ بندہ بھی…… “ جب اس رعبدار شخص نے بات کی تو اس کا لہجہ بھی اتنا ہی سخت تھا جتنے اس کے چہرے کے خدوخال، مرتضیٰ کو وہ بہت اچھا لگا اور اس نے اسے اپنا آئیڈیل بنا لیا۔

” طے ہوا استاد……. “ گولڈن بالوں والا محسن تو جا چکا تھا مگر مرتضیٰ…… اس کی تو جیسے کائنات ہی بدل گئی تھی وہ اس بندے کی گھڑی سے لے کر کلف لگے کپڑوں اور چم چم کرتے جوتوں کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ وہ بھی ایک دن ایسا آدمی بنے گا جب اس کی ہر چیز پرفیکٹ ہوگی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” جھلی ہوگئی ہے تو…… گاؤں کیوں آگئی ہے….. میں نے سمجھایا بھی تھا تجھے صبر رکھ نہ کرنا جلدبازی میں کوئی فیصلہ…….. تیرا باپ ہم دونوں کو زندہ گاڑ دے گا زمین میں….. “کلاسز ختم ہوچکی تھیں کچھ ہی دنوں میں امتحانات تھے اس لے ان دنوں ضیاء گاؤں آیا ہوا تھا۔اور یوں شہر سے گاؤں کے بیچ راستے میں گزرتے ہویے جب اس کی نگاہ مقدس پر پڑی تو وہ بوکھلا سا گیا۔

” تو اچھا ہے نا کم از کم مریں گے تو ساتھ…… وہ میری شادی کر رہے تھے…. اور میں نے نہیں کرنی کسی اور سے شادی بس…… “ ایک تو عورت ذات بھی نا جس کو اپنا سمجھ لے پھر اس کے معاملے میں بڑی ضدی ہوجاتی ہے………

” پگلی ہو چکی ہے…… میں نے نہیں مرنا ابھی….. اماں بیٹھی ہے میری ابھی اس کو کون دیکھے گا.؟. پاگل نہ بن جا، گھر جا اپنے چل….. بلکہ میں چھوڑ آتا ہوں تجھے شہر…. “وہ اسے سمجھانے لگا۔

” نہیں جاؤں گی بس کہہ دیا ہے…… نکاح کر ورنہ گلہ گھونٹ دے میرا بس….. “ حوصلہ اسکا بلا کا تھا۔

” اچھا…….. چل گھر چل….. “ اور وہ تو مزید پریشان نظر آتا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” زین مرتضیٰ ! آپ اپنا بیگ پیک کریں اور باہر تشریف لے جائیں آپ کا بلاوا آیا ہے…… “ ان کی ابھی تو پہلی کلاس ہی شروع ہوئی تھی اور زین کے لیے کال آگئی، یہ زین کے اپنے لیے حیران کن بات تھی، اور الجھن تو اسامہ کی آنکھوں میں بھی تھی ۔

” آپ کے گھر سے کال آئی ہے….. آپ نے ابھی اپنے گھر جانا ہوگا، اپنا سامان پیک کریں باہر ڈرائیور آپ کا انتظار کر رہا ہے۔“وہ جب کال پر پرنسپل کے آفس آیا تو اسے ایک اور حکم مل گیا اور وہ الجھے ذہن کے ساتھ اپنا سامان پیک کر کے آکر گاڑی میں بیٹھ گیا۔اور نئی بات یہ تھی آج ان کا ڈرائیور کوئی اور تھا شاید بدل دیا گیا تھا۔

” میرے کمرے میں آؤ۔“ وہ جیسے ہی گھر پہنچا مرتضیٰ حسن لان میں ہی اس کا انتظار کر رہے تھے۔ اور انہوں نے فوراً ہی اسے اپنے کمرے میں طلب کرلیا۔

” کون ہے وہ لڑکی؟ “ اب سمجھ میں آیا سارا معاملہ زین کو۔اس کے ابا کے جاسوس اس کی کاروایوں تک پہنچ چکے تھے۔

” بیوی ہے میری…… بھول گئے آپ اپنی بہو کو… بس اتنے سے سالوں میں…. “ زین نے بھی آج دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر چونکہ وہ پہلی دفعہ بات کر رہا تھا ان سے اس طرح اس لیے اس کی آواز میں ایک بے قابو سی لغزش تھی۔

” بیوی…….. وہ تمھاری بیوی ہو ہی نہیں سکتی….. “ نا جانے مرتضیٰ حسن اس بار غصہ ہوئے تھے یا افسردہ……

” کیوں….. کیوں نہیں ہو سکتی ہاں…… بتائیں جواب دیں مجھے……. آپ جب چاہیں گے کسی کو میری زندگی میں لے آئیں گے اور جب چاہیں گے نکال دیں گے….. مذاق ہے میری زندگی انسان نہیں ہوں میں…… آپ کے اشاروں پر ناچنے والا کھلونا ہوں…… باپ ہو کر آپ میرے کیا سمجھتے ہیں میری کل کائنات آپ کے ہاتھوں میں آگئی…. اب آپ میری تقدیر لکھیں گے…… “ وہ پھٹ پڑا تھا آج۔

” چٹاخ……. “ جب زبان نے ساتھ نہ دیا تو ہاتھ اٹھایا گیا روکنے کے لیے۔

” وہ اس لیے تمھاری بیوی نہیں ہوسکتی کیونکہ تمھاری بیوی مر چکی ہے…… سنا تم نے آمنہ آج سے دس سال پہلے مر چکی ہے کینسر سے……. “ یہ الفاظ ادا کرنے کے لیے انہیں بہت قوت لگی تھی…..

اور زین کو ان پر یقین کرنے میں کئی لمحے لگنے تھے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *