Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 18)
Rate this Novel
Nasha (Episode 18)
Nasha by Aiman faisal
” ایک بات میں پوچھوں تم سے آمنہ کے حوالے سے؟ “
” ضرور پوچھو……. “
” آمنہ……. تم نے بتایا بچپن سے تمھارے نکاح میں ہے……. مگر تم دونوں میاں بیوی کی طرح کچھ لگتے ہی نہیں ہو۔میرا مطلب ہے جب بھی میں نے تم دونوں کو ساتھ دیکھا ہے ایسا لگتا ہے دو اجنبی ایک ساتھ ہوں۔کہتے ہے نا کہ نکاح کے رشتے میں بڑی طاقت ہوتی ہے وہ دودلوں کو ایک کردیتا ہے مگر پھر تم دونوں کا رشتہ اتنا روکھا پھیکا سا کیوں محسوس ہوتا یے۔کوئی بات ہے کیا تم دونوں کے بیچ….. “ وہ اسامہ تھا اس نے جو محسوس کیا آج کہہ دیا۔
” ایسا کچھ نہیں ہے یار تمھارا وہم ہے ۔ہم اتنے عرصے بعد یوں ملیں ہیں اس لیے ہمارے بیچ ابھی تک ایسی انڈرسٹنڈنگ نہیں ہوئی کہ ایک دوسرے کے سامنے کھل سکیں ۔“ زین نے اگرچہ دل میں اسامہ کی بات کا اقرار کیا مگر وہ زبان سے اس کی تصدیق نہیں کرسکتا تھا ۔
” اچھا…….. پھر ایک بات بتاؤ؟ آمنہ کو دیکھ کر کبھی تمھارے دل میں گٹار بجے، کبھی تو کوئی تار ہلا ہو تمھارے دل کا…… ہاں بتاؤ اب…… “ پہلے والا اسامہ ایک بار پھر جاگنے لگا تھا شاید۔
” اسامہ ! ایسا فلموں ڈراموں میں ہوتا ہے، حقیقی زندگی میں نہیں ۔“زین نے برا سا منہ بنایا۔
” میں تمھیں ایک پتے کی بات بتاؤں….. فلم اور ڈرامے اصل میں حقیقی زندگی کا مشاہدہ کرکے ہی بنائے جاتے ہیں دوست۔“بات تو گہری تھی بہت مگر بات سچی تھی۔
” تمھیں میرا وعدہ یاد ہے نا اسامہ؟“ زین نے ایک بار پھر اس وعدے کو دہرایا جس کا ذکر وہ پہلےبھی کرچکا تھا۔
” ہاں یاد ہے مگر مجھے وہ کسی صورت قبول نہیں، میں ہرگز تمھارے مرنے کے بعد تمھاری بیوہ کو نہیں اپناؤں گا تم اچھے سے جان لو یہ بات ۔اور ایک بات بتاو تم اتنا پر یقین کیوں ہو کہ تم مر ہی جاؤ گے؟ “ اسامہ کے تیور یکدم بدل گئے، بات ہی کچھ ایسی تھی۔
” تم نے کہا تھا نا ہر انسان کی زندگی میں مشکلات ہوتی ہیں چاہے وہ امیر ہو یا غریب ۔میں تمھیں بتاؤں تم نے بالکل ٹھیک کہا تھا مگر ایک بات تم نہیں جانتے بس چھوٹے لوگ اپنی زندگی کے کئی چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں الجھے رہتے ہیں۔بہن کی شادی نہیں ہورہی، جاب نہیں لگ رہی، کھانے والے زیادہ ہیں مگر کھانا کم ہے، ڈھنگ کا گھر نہیں ہے وغیرہ وغیرہ ان کے پاس دوسری کسی چیز کی فرصت ہی نہیں ہوتی۔مگر جو بڑے لوگ ہوتے ہے نا ان کے یہ مسئلے نہیں ہوتے کیونکہ ان کے پاس سب ہوتا ہے پھر وہ جس چیز کی فکر میں لگتے ہے نا وہ یہی ہوتی ہے کہ کس کو کب کیسے راستے سے ہٹانا ہے کس سے کتنی نفرت کرنی ہے، کس کو کتنا بدنام کرنا ہے ۔ بڑے لوگوں کے مسئلے چیزیں نہیں ہوتی ان کے مسئلے انسان ہوتے ہیں اور پھر اس لیے ان کے جرم بھی بڑے ہوجاتے ہیں وہ غلطیاں نہیں کرتے وہ تو گناہ کرجاتے ہیں ۔
کمرے کو ان سب باتوں کے بعد ایک گہری خاموشی نے آگھیرا تھا۔








” ڈاکٹر صاحب ! کیا ہوا ہے میرے بچے کو ڈاکٹر صاحب؟ “ وہ پریشان ہانپتی کانپتی گھر سے فون آنے پر بھاگتی ہوئی کام چھوڑ کر فوراً ہسپتال پہنچی تھی۔
” دیکھیں بہن بات تھوڑی مشکل ہے، لیکن اب آپ کو ہمت کرنی ہوگی اپنے بچے کے لیے۔“
” ایسا کیا ہوگیا ہےآخر ڈاکٹر صاحب.؟ “
” آپ کے بچے کو بلڈ کینسر ہے…….. “
” علاج کروانے سےآپ کا بچہ پھر سے صحت مند ہوجائے گا مگر خرچہ بہت زیادہ ہے، آپ رقم کا بندوبست کیجیئے ہم کل سے ہی علاج شروع کر دیں گے۔اور ایک بات یاد رکھیے گا جتنا آپ وقت لگائیں گے اتنی زندگی آپ کے بچے کی ہاتھ سے نکلتی جائے گی۔“
اس پر تو یہ خبر جیسے قیامت بن کر گری تھی، چھوٹے لوگ بڑے مسئلے اور بڑی بیماریاں جھیل ہی نہیں سکتے مگر جس کی جیسی آزمائش لکھی ہو اس نے اس سے گزرنا ہی ہوتا ہے، یہی تو زندگی ہے جہاں ہمارا بس نہیں چلتا۔








مرتضیٰ حسن آفس آچکے تھے پر ان کا ذہن آج کچھ زیادہ ہی بٹا ہوا تھا وہ اپنے کام پر توجہ نہیں دے پارہے تھے بار بار ذہن میں ملازمہ کی کچھ دنوں پہلے کی ہوئی باتیں گونج رہی تھیں جو تقریباً ہر روز ہی ان کو اب پریشان رکھ رہی تھیں۔
” صاحب ! ایک بات بتانی ہے مجھے آپ کو…… وہ صاحب بی بی جی آج کل کچھ عجیب سی مصروفیت میں پر گئی ہیں، اکیلے باہر جاتی ہیں ڈرائیور کو لیے بغیر، ایک خاص نمبر ہے اس سے جب بھی فون کال آتی ہے تو بی بی جی اپنے کمرے میں جا کر اس طرح بات کرتی ہیں کہ کوئی سن نہ سکے۔ پچھلے ایک ہفتے سے میں نے ان کو یہ سب کرتے دیکھا ہے۔میں تو صاحب جی غریب عورت ہوں پر جی آپ کی کمائی کھاتی ہوں، آپ کے ذریعے میرے بچوں کا پیٹ پلتا ہے، اس لیے وفاداری نے یہ بات چھپانے کی اجازت نہ دی………. “
” ہوں شکریہ…….. تم جا سکتی ہو اب……… سنو رکو……… یہ کچھ پیسے ہیں اپنے بچوں کے لیے کپڑے خرید لینا…….. “
” ایک عرضی پیش کروں صاحب جی اگر آپ برا نہ منائیں اور مجھے غلط نہ لیں تو……….. “
” بولو ! “
” وہ صاحب جی میں اندر کی تمام باتوں کا پتہ لگا سکتی ہوں اگر…….. اگر ماہانہ معاوضہ مقرر ہوجائے میرے لیے اور وہ بھی میرے مطابق……. “
” میں کیسے تمھاری پر یقین کر لوں ……. تم لالچ میں بھی تو یہ سب کر سکتی ہو…… “
” کل چار بجے…. ٹھیک چار بجے گلام دین کو فون کر کے پتہ کر لیجیئے گا آپ، کہ غلام دین کہاں ہے اور گھر کی گاڑی کہاں ہے۔ امید کرتی ہوں پھر فیصلہ کرنے میں آپکو آسانی ہوگی ۔







وہ وقت…….. وہ وقت تھا کہ جس میں صرف تکلیف ہی تکلیف تھی……….
” لے پتر کھانا کھا لے…… چھوڑ دے ضد اب رات سے کچھ نہیں کھایا تو نے…… “
” چھوڑنے کے لیے ضد نہیں لگائی میں نے اماں، تو دیکھنا بس اب میں کیسے اس بڈھے کو منہ توڑ جواب دوں گا ۔بچپن سے جوانی تک ترسا ترسا کے کھلایا ہے اس نے اور پھر ہاتھ بھی اٹھاتا ہے جب دیکھو تب ذلیل کر کے رکھ دیتا ہے……. “
” جھلا ہوگیا ہے کیا مرتضیٰ…… باپ ہے وہ، تیرا ایسے کون بات کرتا ہے باپ کے بارے میں…. “
” جس نے ساری زندگی میں کبھی پیٹ بھر کر روٹی نہ کھائی ہو اماں، ہم غریب لوگ ہیں مان لیا ۔گھر میں آسائشات بےشک نہیں ہیں مگر محبت سے تو پیاس بجھائی جا سکتی ہے نا، مگر ابا……. ابا تو بس ہر وقت نفرت دکھاتا رہتا ہے مارتا پیٹتا رہتا ہے وہ صرف آپی اور چھوٹی سے محبت جتاتا ہے بس، مجھے تو ہر وقت طعنے اور گدھا بن کر کوئی کام مزدوری کرنے کے درس ہی ملتے رہتے ہیں بس……… جارہا ہوں میں، آج جارہا ہوں اور اب کچھ کما کر ہی لاؤں گا دیکھنا تو……. “
