Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 03)

Nasha by Aiman faisal

زین مرتضیٰ ،مرتضیٰ حسن کی اکلوتی اولاد تھا اور اس میں مرتضیٰ حسن کی جان بستی تھی اور انہوں نے اسے زندگی کی ہر آسائش دے رکھی تھی ۔

ا س صبح ناشتے کی ٹیبل پہ صرف زین اور اس کی والدہ عمارہ موجود تھیں، زین کے والد آفس میٹنگ کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہوئے تھے ۔

” امی ایک بات پوچھوں میں آپ سے….؟ “

” بالکل پوچھو میری جان۔“

” امی ہم پھپھو، تایا، چاچو، خالہ اور ماموں لوگوں سے ملتے کیوں نہیں ہیں ۔؟ “ زین نے آملیٹ چھری کانٹے کی مدد سے پیس کر کے منہ میں ڈالا۔

” آپ کے ڈیڈی کو نہیں پسند اس لیے بیٹے ۔“ عمارہ نے اپنی طرف سے بہت مناسب جواب دیا مگر وہ بھی زین تھا، لاجواب کرنے کا ماہر.. ….

” مگر امی یہ تو کوئی بات نہ ہوئی نا وہ ہمارے رشتہ دار ہیں اور رشتہ داروں سے مل کر رہنا چاہیے نا… “ زین نے اپنی بات مکمل کر کے انار کا جوس پیا۔

” میرا بچہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ وہ کرنا چاہیے جو آپ کے بابا کو پسند ہو، اور ویسے آپ کو اتنی صبح صبح اسکول جانے کے ٹائم یہ سب باتیں کیوں یاد آرہی ہیں۔“ عمارہ سے اس بار کوئی جواب نہ بن سکا اس لیے انہوں نے سوالوں کا رخ زین کی طرف موڑ کر اسے سوالوں میں الجھا کر یہ سب باتیں اس کے ذہن سے نکالنی چاہیں۔

” کیونکہ میں بہت لونلی فیل کرتا ہوں ماما، کوئی دوست ہی نہیں ہے میرا ہم کسی کے گھر نہیں جاتے، ہر دفعہ پارکس جانے کا دل نہیں چاہتا ۔“

” اچھا چلو ہم بعد میں اس بارے میں بات کریں گے ابھی اسکول وین آنے کا ٹائم ہوگیا ہے، آپ بابا سے کچھ نہ کہنا ٹھیک ہے نا میری جان ۔“

اور پھر زہن تو اسکول چلا گیا مگر عمارہ کو کشمکش میں مبتلا چھوڑ گیا وہ خوفزدہ ہوگئی تھی کہ اگر زین نے مرتضیٰ سے کوئی بات کر دی تو گھر میں طوفان آنا تھا مگر اس کے اندیشے تھوڑے دنوں میں ٹھنڈے ہو گئے کیونکہ زین نے اس دن کے بعد سے کوئی بات نہ کی مگر وہ اس بات کو بھلا چکا تھا یا نہیں یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا اور پھر وقت نے کروٹ بدلی اور وہ ننھا زین جب بڑا ہوا تو زندگی نے ایک نیا رخ بدلا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” بابا ! میں نے کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینا ہے ۔“ آج وہ لوگ ڈنر کرنے باہر ریسٹورنٹ آئے ہوئے تھے جن زین نے بات کا آغاز کیا ۔زین کا آئی کام کا رزلٹ آئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے اور اس نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی اور اب اسکا یونی میں ایڈمیشن ہونا تھا۔

” کراچی یونیورسٹی…… بیٹا تمھارے اتنے اچھے مارکس آئے ہیں تمھیں کسی بھی پرائیویٹ یونیورسٹی میں آرام سے داخلہ مل جائے گا۔“ مرتضٰی حسن ہمیشہ کی طرح زین کو بہترین سے بہترین سہولت مہیا کرنا چاہتے تھے ۔

” بابا ! کراچی یونیورسٹی بھی بہت اچھی ہے۔“ زین نے اسٹیک کا آرڈر دینے کے بعد مرتضٰی صاحب کو رضامند کرنے کی کوشش کی۔

” ہاں مگر بیٹا وہاں اتنے ڈیپارٹمنٹس ہیں تم الجھ کر رہ جاؤ گے اور پھر ایک ڈیپارٹمنٹ سے دوسرے ڈیپارٹمنٹ جانا اتنی مشقت بھی تو الگ ہے۔“ مرتضیٰ صاحب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

” ایسا کچھ نہیں ہوگا بابا، یہ میرے لیے ایک ایڈوینچر کی طرح ہے آپ پلیز میری یہ خواہش پوری کر دیں نا پلیز بابا ۔…. پلیز… “ زین نے بھی آج ضد کرنے کی ٹھان لی تھی۔

” اچھا ٹھیک ہے ۔“ انہوں نے چاروناچار بیٹے کی خواہش کے آگے ہتھیار ڈال ہی دہے مگر انکا ذہن کچھ الجھ سا گیا تھا جبکہ ساتھ موجود عمارہ اب تک بیٹے کی فرمائش پر کچھ الجھی ہوئی سی تھیں۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

زین نے پہلے ضد کر کے باپ کو کراچی یونیورسٹی کے لیے راضی کیا اور پھر ہاسٹل میں پڑھنے کے لیے اور اس نے کسی طرح مرتضیٰ حسن کو منا بھی لیا مگر اس کی اس طرح کی فرمائشوں سے عمارہ ٹھٹک چکی تھیں اور انہوں نے موقع ہاتھ لگتے ہی فوراً زین کے دل کا حال جاننے کی کوشش کی۔

” زین ! کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ تمھارے دماغ میں آخر کیا چل رہا ہے؟ “ عمارہ بہت زیادہ پریشان نظر آنے لگی تھیں۔

” کیا چل رہا ہے…….. کچھ بھی نہیں چل رہا میرا دل چا رہا ہے ایسی زندگی گزارنے کا مام بس۔“ زین نے عام سے لہجے میں جواب دیا ۔

” زین میں تمھاری ماں ہوں، تمھاری رگ رگ سے واقف رہتی ہوں اس لیے شرافت سے بتا دو کیا چکر ہے یہ سب…… “

” واقف تو میں بھی آپ سے بہت اچھی طرح ہوں امی، کبھی ایک لفظ نہیں کہتی آپ بابا سے کوئی فرمائش نہیں کرتی، کیا فائدہ بندے کا اتنا امیر ہونے کا کہ وہ اپنی زوجہ کو جوتے کی نوک پر رکھے۔“

” ایسا کچھ نہیں ہے فضول مت بولو…. جاؤ جاکر تیار ہو تمھارے دوست آنے والے ہونگے۔“عمارہ کو زین سے اس طرح کی بےباکی کی امید نہین تھی اس لیے انہوں نے بات کو مزید بڑھانے کے بجائے قصہ ختم کرتے ہوئے کہا۔

وہ لوگ باہر لان میں بیٹھے تھے اور زین نے اس کے دوستوں کے ساتھ ابھی آوٹنگ پر جانا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

عمارہ مرتضیٰ کے مزاج سے بھی واقف تھی کہ وہ غصے کے بہت تیز تھے اور زین بھی بالکل اپنے باپ کا پرتو تھا۔اس لیے زین کی ان عجیب سی خواہشات نے انہیں پریشان کر کے رکھ دیا تھا وہ اندیشے جو کچھ عرصہ پہلے ٹھنڈے پر گئے تھے پھر سے انہوں نے جنم لے لیا تھا انہیں ایسا محسوس ہو نے لگا تھا کہ جس بات کا انہیں ڈر ہے وہ حقیقت بن کے ان کے سامنے آنے والی ہے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” بلال تم نے اچھے سے پتہ کیا ہے نا اسنے واقعی وہیں ایڈمیشن لیا ہے نا؟ “ زین نے ڈرائیور کرتے ہوئے بلال کو مخاطب کیا وہ لوگ ساحل سمندر پر جا رہے تھے اور پھر ان لوگوں نے ایک اچھا سا ڈنر کر کے گھر جانا تھا۔

” ہاں دوست رپورٹ پکی ہے……. ویسے ایک مشورہ ہے یہ جو سب تم کر رہے ہو نا مت کرو، اتنا اچھا لائف اسٹائل ہے تمھارا، کس چیز کی کمی ہے تمھارے پاس؟؟ سب کچھ تو ہے تمھارا،، پھر کیوں اس اندھے کنویں میں چھلانگ لگا رہے ہو تم۔“ بلال نے زین کو سمجھانے کی اپنی سی کوشش کی۔

” میں کچھ غلط نہیں کررہا بلال اس بات کا یقین رکھنا ، میں تمھیں ہر بات نہیں بتا سکتا مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ بس یہ سمجھ لو کہ میں کسی حق دار کو اسکا حق دینا چاہتا ہوں بس ۔اور ایک بات ! عابد اور اسلم کے سامنے کوئی بات نہ کرنا اس بارے میں(عابد اور اسلم ان کے باقی دوست تھے) ۔“ وہ لوگ عابد کے گھر کے باہر کھڑےوہان پہنچ کر اسکا ویٹ کرنے لگے اور زین نے اس موضوع کو یہیں ختم کیا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

ڈنر کر کے جب وہ رات گھر آئے تو زین آگے کی منصوبہ بندی کرنے لگا ۔اسے پتہ تھا حالات اس کے لیے بہت مشکل ہوجائیں اس راستے پر جو وہ اختیار کرنے جا رہا ہے مگر وہ دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔دوسری طرف وہ اپنی ماں سے سب کچھ چھپانے پر بھی پشیمان تھا اور ایک طرف وہ ان سے اپنے دل کا حال بیان بھی کرنا چاہتا تھا مگر وہ ان کی مامتا کے ہاتھوں مجبور تھا اور ان کو تکلیف سے بچانے کے لیے اس نے انہیں اپنے ہر پلان سے بعض رکھا۔ اور یہ سفر اس نے اکیلے ہی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *