Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 04)
Rate this Novel
Nasha (Episode 04)
Nasha by Aiman faisal
” ویسے زین تم پڑھائی میں بھی کافی ذہین ہو ماننا پڑے گا۔“ وہ کلاسز ختم ہوتے ہی ڈاننگ ہال کی طرف جا رہے تھے جب اسامہ نے زین کو مخاطب کیا۔
” ہاں کبھی لائف میں کچھ خاص ایکٹیویٹی ہی نہیں رہی بس صرف پڑھائی ہی کرتا رہاہوں ہمیشہ سے اس لیے اس میں کافی حد تک بہتر ہوگیا ہوں، ہمہشہ سے ٹاپر رہاہوں۔“ زین نے اسکی بات کا جواب تو عام سے انداز میں دیا مگر اس کے چہرے سے ایک خلش سی واضح ہورہی تھی۔
” تم نے کبھی اور کچھ کیا ہی نہیں زندگی میں کوئی کھیل ہی نہیں کھیلا، حیرت ہے…… “
” تم نے کبھی آنکھ مچولی، گلی ڈنڈا ،فٹبال، کنچے وغیرہ کچھ نہیں کھیلا……. پھر تم نے زندگی کو اور خاص کر بچپن کو جیا کیا پھر…. “ اسامہ نے تاسف سے بولا۔
” اور وہ ٹِک ٹیک ٹوئے بھول گئے تم، وہ جس کو ہم کاٹی زیرو کہتے تھے نا اب تو ایڈوانس زمانہ ہے نا اس میں تو ٹِک ٹیک ٹوئے کہلاتا ہے یہ ۔“ سکندر چلتی ٹرین میں بیٹھا اور اچانک ہی اس نے ماحول بدل دیا، یہی اس کی خاصیت تھی وہ اکثر روتوں کو اپنی بےوقوفانہ باتوں سے ہنساتا تھا۔
” ہاں.. ہاں وہ بھی۔تو بھی یار سچ میں پوری کی پوری فلم ہے کوئی۔“ اسامہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔
” نہیں…… کچھ نہیں کھیلا میں نے ۔پتہ ہے کیا لوگ پیسے کو سب کچھ سمجھتے ہیں، لیکن میں بتاؤں جب پیسہ ہوتا ہے نا تو پھر صرف وہی ہوتا ہے پھر اور کچھ ہوتا ہی نہیں ہے ۔اصل قیدی تو امیرزادے ہوتے ہیں جو اپنے پیسوں سے بنے پنجرے میں ہمیشہ قید رہتے ہیں ۔ کبھی سناؤں گا تم لوگوں کو میری کہانی، میری زبانی ۔“ زین مکمل طور پر رنجیدہ ہوچکا تھا۔
” چٹاخ………. “
” اس سے پہلے کے وہ رو پڑتا ایک بھرپور مینگو سلش سے بھرا غبارہ آکر اس کے سر پہ گر گیا اور زین نے اس سلش میں آج کھل کر نہا لیا ۔ پہلے پہل تواسے بہت گھن آئی مگر سکندر اور اسامہ کے فلق شگاف قہقہوں نے اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ بکھیر دی اور پھر وہ سب بھول بھال گیا اور پھر ان تینوں نے مل کر ایک دوسرے کو خوب جوسز میں نہلایا اور زین پر اب ایک اور بم گرنا باقی تھا۔
کون کہتا کے سنورنے سے بڑھتی ہے خوبصورتی
دلوں میں چاہت ہو تو چہرے یوں ہی نکھر آتے ہیں







وہ لوگ نکلے لنچ کرنے تھے مگر ریسٹ روم میں پہنچ کر خوب مستی کر کے وہاں سے فریش ہو کر نکلے جب زین نے اسامہ سے پوچھا……
” ویسے اسامہ تم نے یوں اچانک وہ غبارہ بنایا کیسے تم تو میرے بالکل سامنے بیٹھے تھے ۔“ زین نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے دریافت کیا۔ اس وقت وہ اتنا جاذب نظر لگ رہا تھا کہ اس پر نگاہ نہ ٹکتی تھی ۔پیسہ تو اس کے پاس تھا ہی مگر کچھ وجاہت سے بھی قدرت نے اسے نوازا تھا ۔ اس کی سانولی رنگت میں بھی ایسی چمک تھی کہ اس کی قسمت پر رشک آتا اور پھر اس پر اس کی خوبصورت گھنی ڈاڑھی نے اس کے روشن چہرے کو چار چاند بخش دیے تھے۔
” ہر راز بتانے کا نہیں ہوتا دوست، کچھ باتیں خود بھی دریافت کرنا سیکھو۔“ اسامہ نے سامنے نظر آتے کینٹین کو دیکھتے ہوئے جلدی سے اپنی بات مکمل کی۔
” اچھا زین تم ذرا جاؤ کینٹین سے کچھ کھانے کے لیے لے آؤ، میں اور سکندر لائبریری سے ہو کر آتے ہیں، مجھے ابھی یاد آیا میں نے ایک بک لینی تھی وہ پھر تھوڑی دیر بعد نہیں ملے گی لمٹڈ اسٹاک ہے ۔“ یہ کہہ کر اسامہ سکندر کو لے کر پتلی گلی سے نکل گیا ۔
” اچھا سر ! تین زنگر برگر اور کالڈرنکس کا آرڈر لکھ لیں، پارسل کر دیں اور یہ میرا کارڈ اس پہ چارج کر دیں ۔“ زین نے اپنے بیگ سے کارد نکالتے ہوئے آرڈر لکھوایا۔
” جی آپ کا آرڈر لے لیا گیا ہے پانچ منت ویٹ کیجئے……… اچھا زین صاحب جو باقی کی ادائیگی ہے وہ بھی آپ کے کارڈ سے چارج کرنی ہے؟ “
” باقی کی ادائیگی ……. اور کونسی ادائیگی ہے، میں نے تو آج سے پہلے کچھ لیا ہی نہیں ہے؟ “
” یہ سر…..” اس کے سوال پر اسے ایک لمممبی لسٹ تھما دی گئی اور اس لسٹ میں ان تمام جوسز کو چارج کیا گیا تھا جو وہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک دوسرے پر ضائع کر آئے تھے اور زین کو اب سمجھ آیا تھا کہ اسامہ ایک بار پھر اسے چکما دے گیا ہے مگر اب پچھتائے کیا ہو جب چڑیا چگ گئی کھیت…… “







زین نے تمام ادائیگیاں تو کلئیر کردیں مگر پھر وہ آگ بگولہ ہو کر اپنے روم کی طرف لپکا اور اس بار اس نے بدلہ لینے کی ٹھان لی تھی ۔
” یہ لو سکندر تمھارا برگر، بھوکے ہوگے نا کھانا تو مس ہوگیا آج اب جلدی جلدی کھا لو۔“ زین نے کن اکھیوں سے باتھ روم سے نکلتے اسامہ کی طرف دیکھا ۔ مگر اس سے پہلے کہ زین اپنی ہوشیاری پر لطف اندوز ہوتا اور اسکا اسامہ کو جلانے کا پلان کامیاب ہوتا ایک بار پھر بازی الٹ گئی۔
” غڑاپ.. غڑاپ غڑاپ……. “ اسامہ سست ترین سکندر کے ہاتھوں سے برگر اچک کے تین سانسوں میں ہی کھا گیا حالانکہ تین سانسوں میں تو پانی پینے کا حکم تھا ۔خیر پھر وہ برگر ختم کر کے ایک منٹ بھی ضائع کیے بغیر فوراً سے ساری کالڈ ڈرنک بھی پی گیا اور ساتھ ہی اس نے ایک زبردست سی ڈکار بھی لے لی۔
“what the hell…… are you a human being or what.”
زین کا تو خون ہی کھول چکا تھا اس کا دل چاہا وہ دیوار میں سر مار لے بس ۔ایسی سبکی پلان فیل ہونے کی…. اتنی زیادہ۔
اور اب چاروناچار اسنے ایک اور برگر بھی آرڈر کیا سکندر کے لیے کیونکہ وہ تو صدا کا معصوم تھا اور زین نے ہوشیاری دکھاتے ہوئے اپنا برگر تو راستے میں ہی ہضم کر لیا تھا کیونکہ اسے خود پر حملہ ہونے کی زیادہ توقع تھی۔
” گاؤں ڈا پتر ہوں دوست… ہم سے ہوشیاری کا کوئی فائدہ نہیں ہے کچھ ہاتھ نہیں آنا تمھارے، اگلی دفعہ پھر ٹرائی کرنا کیونکہ مجھے اس جوابی حملے پر بڑا مزہ آیا… بہت ہی زیادہ ایسا لگا آج تو نے دوستی کا صحیح حق ادا کر دیا۔“ اور پھر وہ اپنے ہی الفاظوں سے محظوظ ہوتے ہویے گنگنانے لگا اور پھر ان لوگوں نے گروپ اسٹڈیز کے لیے جانے کی تیاری شروع کر دی۔







” ویسے زین میاں یہ برگر کا گھپلا آپ نے کس خوشی میں کیا تھا ذرا ہم وجہ جان سکتے ہیں؟؟؟ “ ان تینوں کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کا اسٹڈیز گروپ بھی ایک ہی تھا اور کسی دوسرے روم کا لڑکا ان کا گروپ لیڈر منتخب ہوا تھا۔
” اچھا جیسے تمھیں تو یاد ہی نہیں نا کہ تم نے کیا کیا تھا میرے ساتھ……. “ زین نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔
” نہیں…. مجھے سچ میں نہیں پتہ کیا کیا تھا میں نے بتاؤ ذرا…… ہوں؟؟؟ “ ہائے وہ اسامہ اور اس کی معصومیت……
” تم نے کینٹین کا سارا کا سارا بل میرے لیے جمع کروا دیا تمھیں پتہ بھی ہے وہ کتنا بل تھا…… “
” ہائے میرے جگری یار دوست کو دولت کی نگاہ سے نہ دیکھ وفا کرنے والے دوست اکثر غریب ہوتے ہیں “
” ہماری بھی کچھ یہی حالت تھی مگر تم کو اگر اتنی بھاری پر گئی ہے تو آئندہ نہیں کریں گے ہم خالی جیبوں والوں کی بھلا کیا اوقعات……. “ اسامہ نے اسے ایموشنل بلیک میل کیا ۔
” اچھا بس اب زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے سب پتہ ہے مجھے تمھارے ڈرامے افلاطون ! “
” کیا…… کیا کہا زین تم نے افلاطون؟ مگر….. یہ تو اسامہ ہے۔” ہاں یہ وہی تھا سکندر بلال جسکا اوپر کا فلور اکثر کراہے پر رہتا ہے اور اس کی بات کے ساتھ ہی ایک اور اسامہ کا قہقہہ فضاؤں میں گونج اٹھا۔“
