Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 14)

Nasha by Aiman faisal

” امید ہے گل حسن تمھیں کام سمجھ آگیا ہوگا اور مجھے یقین ہے تم کام کرنے سے انکار نہیں کروگے….؟ تمھارے بچوں کی پڑھائی آج سے میری ذمہ داری ہے اور ہاں ایک اور بات جاتے جاتے روز پھل فروٹ لے کر جانا گھر، تمھارے بچے دیکھےتھے میں نے بڑے کمزور ہیں ؟؟“ اس نے بڑی شان سے کہا، شادی کے بعد سے اس نے اسی طرح کا انداز اپنا لیا تھا اور بلاشبہ اس پر یہ انداز بڑا جچتا تھا ۔

” بہتر میڈم…… “ گل حسن اس کے اس لہجے پر کچھ کہہ ہی نہ سکا مگر گھر جاتے ہوئے تمام راستے اسے بڑے میاں کے الفاط پتہ نہیں کیوں مگر آج بڑی شدت سے یاد آرہے تھے۔

” پتہ ہے گل حسن نمک حلالی کا کیا اصول ہے……. کہ اپنے مالکوں کا ہر حکم بغیر سوال کیے بجا لاؤ مگر جانتے ہو ہر مالک ایک سا نہیں ہوتا اور ہر کسی کا دیا ہوا کام بھی ایک سا نہیں ہوتا یعنی حلال…… ہر کوئی زندگی میں تمھیں حلال کرنے کو نہیں کہے گا اور پھر یہ وقت ہوگا جب تم نے اس مالک کی ماننی ہے جس نے تمھیں اور تمھارے مالک کو پیدا کیا ہے اور ایک بات جانتے ہو یہ سب سے مشکل مرحلہ ہے ایک چھوٹے آدمی کے لیے….. کیونکہ اب اسے ایک مالک کو چھوڑ کر ایک مالک کی سننی ہے اس میں جان کی قربانی بھی دینی پر سکتی ہے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ٹھاہ……… “

” پاگل ہو دیکھ کے گاڑی نہیں چلا سکتے، تمھارا دماغ خراب ہے کیا….. پوری رات رکھی ہوتی ہے تمھارے سونے کے لیے پوری رات مگر پھر بھی صبح تم سے ڈھنگ سے ایک کام نہیں ہوتا……. رکو بس آج تو تمھاری چھٹی کرواتی ہوں آنے دو تمھارے صاحب کو رات میں……. “ عمارہ آج بیماری کے بعد دوسری دفعہ کہیں باہر نکلی تھی ڈرائیور کے ساتھ مگر ڈرائیور نے آج گاڑی شدید زور سے سڑگ کنارے ٹکرا دی تھی اور نتیجتاً عمارہ کا سر بہت زور سے دروازے سے لگا تھا اور اس سے خون بہنا شروع ہوچکا تھا کیونکہ وہ ونڈو سیٹ پر بیٹھی تھی۔

” غلطی ہوگی میم صاحب آپ…. آپ بس پانچ منٹ رکیں میں آپ کو ہسپتال لے چلتا ہوں بس میم صاحب پانچ منٹ کی ہی دوری پر ہے ہسپتال ۔“ ڈرائیور اس کی بات سن کر بری طرح گھبرا چکا تھا، چوٹ تو اسے بھی آئی تھی اور اسے فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کی وجہ سے زیادہ گہری چوٹ آئی تھی مگر اسے اس وقت اپنی پروا نہیں تھی ڈرائیور جو ٹھہرا بیچارا ۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ہاں محسن اب جواب دے بھی چکو…….. ایسے کیسے گاڑی ٹکرا گئی؟ “ مرتضیٰ حسن جو کھانا کھا کر فارغ ہوئے تھے اور عمارہ کی آج کی داستان سن چکے تھے اب ڈرائیور کو بلا کر اس کی پیشی لگا کر چائے نوش فرما رہے تھے……

” غلطی ہوگئی صاحب جی آئندہ نہیں ہوگا میں تو پورے دھیان سے گاڑی چلا رہا تھا پتہ نہیں کیسے ہوگیا یہ سب…. بس صاحب جی اس بار معاف کردو آئندہ نہیں ہوگا…… “ وہ باقاعدہ گڑگڑا رہا تھا۔

” آئندہ کی گنجائش ہی نہیں نکلتی محسن میاں……. یہ بیوی ہے میری اور سب سے زیادہ عزیز ہے یہ مجھے اس لیے تم ابھی اپنا سامان باندھو اور نکلو یہاں سے اب تمھاری یہاں کوئی جگہ نہیں ہے……. اور سنو بلاوجہ کی بحث نہ کرنا بالکل بھی میں بہت تھکا ہوا ہوں اس وقت اور کچھ سننے کے موڈ میں نہیں ہوں سنا تم نے…. اب تم جا سکتے ہو….. “

مرتضیٰ نے حکم صادر کر کے بات ہی ختم کر ڈالی۔

” عمارہ تم جا کر آرام کرو اور اچھے سے ریسٹ کرنا خوب… کل ہم انشاءاللہ آوٹنگ پر جائیں گے ۔“

” آئسکریم کھانے؟ “

” ٹھیک ہے ڈن ہوگیا ۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

یہ بہت عرصے بعد تھا جب مرتضیٰ حسن خود سے عمارہ کو آوٹنگ پر لے کے جا رہے تھے اور اس کی وجہ سے وہ خوب واقف تھیں وہ جانتی دال میں کیا کالا ہے مگر یہ اس کے دن تھے اسے کسی چیز کا خوف نہیں تھا بس موت سے پہلے اپنا مقصد پورا نہ ہونے کی فکر تھی اور اب وہ اپنا مقصد پورا کرنے میں جت گئی تھی۔

” مرتضیٰ ! وہ دیکھیں ذرا….. بیچارے کمہار کے تو سارے ہی تقریباً مٹی کے برتن ٹوٹ گئے ہیں، اس بیچارے کے تو پتہ نہیں کتنے دنوں کی کمائی چلی گئی، ہمیں اس کی کچھ مدد کر دینی چاہیئے…… “ عمارہ نے دور سڑک کنارے ریڑھی لے کے کھڑے کمہار کی طرف نظر پڑتے ہی کہا جو افسوس سے اپنے ٹوٹے برتن سمیٹ کر شاید آج کی اپنی قسمت کو رو رہا تھا۔

مرتضیٰ نے عمارہ کی بات سن کر کوفت ہونے کے باوجود بھی گاڑی کا رخ اس طرف کر لیا کیونکہ ان کے لیے اب اذیت کے کچھ ہی دن رہ گئے تھے۔انہوں نے گاڑی روک کے چند نیلی نوٹیں نکال کر اس کمہار کو دینے کے لیے ونڈو کھولنی ہی چاہی تھی کہ اتنے میں عمارہ پھر مخاطب ہوئیں ۔

” آپ اسے یہ چار پیسے دینے کے بجائے ہمارا ڈرائیور کیوں نہیں رکھ لیتے مرتضیٰ، ہمیں ویسے بھی ڈرائیور کی ضرورت ہے اور اسے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کسی نوکری کی ہوگی لازمی…. “ عمارہ نے اپنی سمجھ سے بہت مناسب مشورہ دیا تھا اور مرتضیٰ بھی اس کے مشورے پر سوچ میں پڑ گئے تھے اور شاید بات ان کے ذہن میں آبھی گئی تھی ۔ تبھی وہ ونڈو کھول کر اس بندے سے جو بزرگ سا تھا، اور رنگ نسل سے بلوچ لگتا تھا، مخاطب ہوئے۔

” بات سنو…… یہ کچھ پیسے رکھ لو گھر جاتے ہوئے بچوں کے لیے کچھ پھل فروٹ لے جانا اور اس کے علاوہ کوئی محنت مزدوری کرتے ہو کیا؟ “

” نہیں صاحب بس برتن بنا کر ہی بیچتا ہوں اور میں نے کیا کرنا ہے….. “ شکل سے وہ انتہائی غریب اور ضرورت مند لگتا تھا ۔ایک ایسا باپ جو بچوں کے لیے سارا دن جتا رہتا مگر پھر بھی کچھ خاص جمع نہ کر پاتا۔

” ٹھیک ہے، یہ بتاؤ گاڑی چلا لیتے ہو؟ “

” ہاں صاحب پہلے یہی کام کرتا تھا، پھر میرا صاحب مر گیا اور میں نے یہ برتن بیچ بیچ کر بچوں کا پیٹ پالنا شروع کر دیا بس کیا کرتا پڑھا لکھا میں ہے نہیں کچھ……. “

” ٹھیک ہے پھر کل سے اس پتے پر آجانا ۔“ مرتضیٰ نے اپنا کارد نکال کر اس کے حوالے کر دیا اور اب ان کی زندگی نے نیا موڑ موڑنا تھا مگر کون جانتا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” سلام علیکم ! سکینہ او سکینہ یہ رکھ سب بچوں کو دے اور سن مجھے نوکری مل گئی یے شہر میں کل سے روز جانا ہوگا اب سے تم لوگ کھا لیا کرنا رات میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا….. “ وہ گھر آتے ہی ہشاش بشاش سا چہک رہا تھا اتنے میں سکینہ کھٹکی، چونکنا بنتا بھی تھا ابھی تو وہ شہر گیا تھا اور اتنا سب کچھ ایک ہی دن میں لے آیا تھا۔

” گل حسن ! سچ سچ بتا کن چکروں میں پڑ کر آیا ہے تو….. ایک ہی دن میں اتنا سب کچھ…. ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا اور میں نے سنا ہے بڑے گھر والے لوگوں کے دل چھوٹے ہوتے ہیں تو یہ سب تیری اس میم صا حب نے تو نہیں دیا ہوگا پھر کن غلط ہاتھوں میں تو میرے بچوں کو برباد کرنے کے لیے سامان کر آیا ہے……؟؟ “ وہ بہت خوفزدہ تھی، بہت پریشان تھی۔

” نی تم عورتوں کی بک بک کرنے کی عادت نہیں جا تی، میاں کھلائے تو رولا نہ کھلائے تو بین اور رونا، آخر تم ہم مردوں سے چاہتی کیا ہو…… تھکا ہوا آیا ہوں، آرام کرنا چاہتا ہوں، دفع ہوجاؤ یہاں سے سر نہ کھاؤ میرا اگر کھانا نہیں پوچھ سکتی تو….. “

وہ جاچکی تھی مگر ان کا زوال اب شروع ہونا تھا، حرام سے ہی تو اصل زوال شروع ہوتا ہے وہ دو بے تحاشا محبت کرنے والے آج خوب لڑے تھے پہلی دفعہ…. ہاں پہلی دفعہ… حرام آنے کے بعد ۔مگر گل حسن یہ بھول چکا تھا کہ وہ چھوٹے لوگ تھے اور چھوٹے لوگ بڑے اور بھاری وقت برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ ان کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *