Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 16)
Rate this Novel
Nasha (Episode 16)
Nasha by Aiman faisal
” ویسے ایک بات بتاو اسامہ تم نے صبح اٹھ کے نماز پڑھی تھی، نماز تو تم بھی اکثر نہیں پڑھتے پھر صبح کیسے آنکھ کھل گئی اتنی آسانی سے مجھے تو یہ ایک بہت مشکل کام لگا بہت ہی……… مجھے لگا……….. مجھے لگا کہ میرے بس کی بات نہیں ہے یہ، میں نہیں کر سکوں گا کبھی بھی یہ۔کہتے ہیں عبادت کرنے والا انسان خوبصورت ہوتا ہے، میں کبھی خوبصورت نہیں بن سکتا اسامہ……. “ وہ لوگ اب اپنے روم میں آچکے تھے اور ویکینڈ میں ہاسٹل میں ان پر کچھ خاص پابندیاں نہیں ہوتی تھیں ۔
” یار زین ! کیا بات ہے تم آج کچھ زیادہ ہی اداس اور ہارے ہوئے لگ رہے ہو ایسا کیا ہوگیا ہے، بتاؤ مجھے ہو سکتا ہے میں تمھارے لیے کچھ کرسکوں شاید……. “
” پہلے تم میری بات کا جواب دو؟ “ زین کی سوئی اب بھی وہیں اٹکی تھی، کیونکہ صبح سکندر کی باتوں نے اس کے اندر ایک سچی طلب اور لگن پیدا کر دی تھی، خالقِ حقیقی کو پانے کی ابدی لگن….
” کچھ خاص جواب نہیں ہے میرے پاس، تمھاری بات کا بس یہ سب اچانک ہی ہواتھا، تم دونوں جب رات میں باتیں کر رہے تھے تو میں نے سوچا یہ تو بہت آسان ہے میں بھی اٹھ کے دیکھوں گا، ﷲ والے کہتے ہیں کہ ایک قدم تم ﷲ کی طرف بڑھاو نا تو وہ دس قدم آگے بڑھتا ہے تو میں نے سوچا ایک قدم.بڑھا کر دیکھوں بس پھر خود کی نماز ادا ہو گئی جیسے کوئی نیکی میں سہارا بن گیا ہو ۔“
” ٹھیک کہتے ہو تم ایک قدم بڑھانے کی بات ہوتی ہے بس اور ہم اس میں بھی سستی کر جاتے ہیں۔“ زین نے دل میں خود کو ملامت کی۔
” اب تم بتاو کیوں اداس ہو۔“ اسامہ کے سوال پر اس بار زین نے اپنی الجھنیں بانٹنے کا فیصلہ کر لیا۔







” تو ٹھیک پریشان ہو رہی ہے سکینہ، میں واقعی دلدل میں پھنس چکا ہوں مگر……… مگر میرا یقین جان میری نیت کبھی بھی بُری نہیں تھی، میں نے یہ سب جان کر نہیں کیا، میں……. میں اپنے بچوں کی فکر کرتا ہوں ان کو آسائشات دے کر آگ میں نہیں گھسیٹنا چاہتا، میں نے کبھی یہ سب نہیں چاہا تھا جو اب میرے کندھوں پر بوجھ بن چکا ہے میرا یقین کر ﷲ دی بندی…….. “
” میں………. میں مجبور ہوں، میں بے بس ہوں، میرے لیے خیر مانگ رب دے نال، دعا کر میرے لیے…….. “ رات کے اس پہر جب سب سو چکے تھے بلکہ آدھی نیندیں بھی کر چکے تھے، جاگتے گل حسن کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور اس نے اسی وقت اپنی گھروالی کو جگا کر سارا قصہ سنانے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اب اسکا اکیلا دل یہ بوجھ برداشت نہیں کر پارہا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اگر اس نے ذرا سی بھی اور دیر کی تو دل تکلیف کی شدت سے پھٹ پڑے گا۔
” کوئی مجبوری ایمان سے برھ کر نہیں ہوتی گل…….. میں حیران ہوں تو نے ایک باری میں منع کیسے نہیں کردیا ، تو نے……. تیرے دل نے اس بارے سوچا بھی کیسے…….. تو جانتا ہے یہ بڑے لوگوں کے چکروں میں ہم ایک بار پر جائیں تو واپسی کے سارے راستے ختم ہوجاتے ہیں ہمارے لیے…….. آخر کیسے….. کیسے جئیں گے ہم اس آنے والے طوفان میں گل حسن….. “
” مجھے موقع ہی کب دیا گیا سکینہ سوچنے کا، ارے مجھ سے پوچھنا بھی گورا نہ کیا بیگم صاحبہ نے تو……. انہوں نے تو بس…….. بس حکم دے دیا انہوں نے اور میں تجھے ایک سچ بات بتاؤں اب تک انہوں نے کچھ غلط کرنے کا نہیں کہا کوئی گناہ میرے سر نہیں لادھا مگر ان کے تیور چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے کہ وہ کسی بڑی واردات میں ہاتھ ڈالنے لگی ہیں، تو دعا کر……. دعا کر ہمارے لیے، ساڈھا رب اس مشکل سے ہم لوگوں کو ضرور نکال دے گا تو…… تو تو ماں ہے، تو نے بچے پیدا کرنے کی تکلیف سہی ہے تو تو ﷲ کو زیادہ محبوب ہے دیکھنا تیری دعا لازمی قبول ہوگی تو کر ہمارے لیے دعا، راستے بن جائیں گے مجھے ہمارے رب پہ پورا یقین ہے۔“
” ایک اور بات سمجھ نہیں آتی سکینہ مجھے، جب بھی بی بی جی سے ملتا ہوں نا میاں جی بڑے یاد آتے ہیں، یقین جان وہ بالکل مختلف انسان تھے ایسے کے کام بھی اتنی محبت سے کرتے کہ دوسرے کو نہ صرف اب سے بلکہ کام سے بھی محبت ہوجاتی، پتہ نہیں بی بی کیوں ان سے اتنا مختلف ہے ۔“
” ضروری نہیں ہے گل حسن جو بیج ہم نے بویا ہو وہ ہمیشہ ہماری توقعات کے مطابق نکلے، کبھی کبھار فصل بننے کے بعد ہتہ چلتا ہے کہ اتنے عرصے کی تمام محنت رائیگاں جا چکی ہے۔“








” اسلام علیکم ! کیسی ہو……. امید ہے ٹھیک ہی ہو گی اور ہونا بھی چاہیے….. اطلاع تو مل گئی ہوگی تمھیں؟ “ وہ اپنے گرے اور سفید کامبینیشن میں بنے ستائش سے بھرے بیڈروم میں موجود تھی اور وہاں موجود کھڑکی کے پاس کھڑی فون پر بات کر رہی تھی، اس کھڑکی سے انکا سوئمنگ پول دکھتا تھا اور وہ بہت خوبصورت منظر پیش کرتا تھا۔
” وعلیکم السلام ! ٹھیک تو خیر میں رہتی ہی ہوں اور کام پورا ختم ہونے کے بعد ہی سکون اصل معنوں میں ہوتا ہے اس بات کا اندازہ تو تمھیں بھی ہوگا ہی کردار الگ ہیں ہمارے اور انسان بھی الگ ہیں ہم پر مقصد……… مقصد تو ہم دونوں کا ایک ہی ہے۔“ اور یہ تو ایسی تھی جیسے بادشاہت کے زمانے کی شہزادیاں ہوا کرتی ہیں مگر اسکی چاہت نے پل بھر میں اس کی قسمت بدل دی تھی اور ایک فرشتہ صفت انسان شیطان کے شکنجے میں جکڑ گئی تھی، ایک………. صرف ایک غلط تجربہ اور کہانی تبدیل……… زندگی بھی کیسی ہے…..
لوگ عجائبات دیکھنے کے لیے سفر کرتے ہیں، حالانکہ زندگی تو بذاتِ خود ایک عجوبہ ہے…… ہےنا۔








زین اپنی بات شروع ہی کرنے لگا تھا کہ اسامہ کا فون بجنے لگا اور روم میں سگنل ٹھیک سے نہ آنے کی وجہ سے وہ بات کرنے باہر چلا گیا اور زین پھر سے اپنی امی کی باتوں میں کھو گیا۔
” تمھارے باپ نے ایک دفعہ بھی شادی کے بعد سے…….. فقط ایک دفعہ بھی مجھ سے محبت سے بات نہیں کی کبھی مجھے ہمیشہ جوتے کی نوک پر رکھا، مجھے اس نے انسان سمجھا ہی نہیں وہ انسان جو احساسات رکھتا ہے جس کے سینے میں دل دھڑکتا ہے، جس کی خواہشات ہیں، جو بےشمار خواب دیکھ کر اس کے آنگن میں آئی تھی۔بلکہ مرتضیٰ نے تو ہمیشہ اپنی خواہشات کو پہلی ترجیح دی، جانتے ہو کیا….. شادی کے شروع میں ایک دن میں نے تمھارے باپ سے کہا تھا بہت آس بہت محبت سے کہ کہیں آوٹنگ پر چلتے ہو، پھر پتہ ہے کیا ہوا……. ذلیل کر کے رکھ دیا اس بدتمیز، بے حس انسان نے مجھے، میری فرمائش بےجا تو تھی نہیں، اتنی چھوٹی سی بات تھی۔اس دن کے بعد سے کبھی کوئی خواہش نہیں کی میں نے….. میں نے اپنے دل کو مردہ کر لیا ہمیشہ کے لیے۔ایک زندہ لاش بن کر زندگی گزارنی شروع کر دی میں نے اس دن سے۔“
” کیسی زندگی ہے نا زین میری بھی لوگ تو ایسی زندگی کی خواہش کرتے ہیں،مجھے دیکھ کر میری قسمت پر رشک کرتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ پیسہ یہ چمک دمک بالکل کھوکلی ہے، خوشیوں سے، احساسات سے بالکل خالی۔
