Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 11,12)

Nasha by Aiman faisal

” سلام بی بی ! بڑے سالوں بعد ہمارے غریب خانے پر چکر لگایا آئیں بیٹھیں….. “گل حسن اسے دیکھ کر بچھ سا گیا۔

” بس گل حسن ! انتقام کے لیے اقتدار کا ہونا ضروری ہے اور اس اقتدار کے ہی انتظار میں یہ تمام سال بیت گئے ۔“ اس نے پرسوچ نگاہوں سے گل حسن کو جواب دیا ۔

” کیا مطلب بی بی جی ! میں کچھ سمجھا نہیں؟ “ گل حسن نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔

” تمھارا سمجھنا ضروری بھی نہیں ہے، تمھیں اب بس وہ کرنا اور سمجھنا ہے جو میں تمھیں کہوں گی اور سمجھاؤں گی ۔“

” بی بی جی آپ بس حکم کرو گل حسن کی جان بھی آپ کے لیے حاضر، آخر کو اتنے سال نمک کھایا ہے آپ کا ۔“

” اب بی بی جی ! آپ کھڑی کیوں ہیں بیٹھیں نا، مانا کہ یہ غریب خانہ آپ کی شان کے مطابق نہیں ہے مگر پھر بھی بی بی جی بیٹھیں تو………. سکینہ او سکینہ ارے کہاں ہو جلدی آؤ مہمان آئے ہیں ہمارے گھر ان کو تازہ لسی پلاؤ ۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

گل حسن کی آواز پر اس کی بیوی دوری چلی آئی وہ لوگ گاؤں کے رہنے والے تھے خالص بلوچ لوگ ان کے ہاں تازہ دودھ کی لسی بنائی جاتی اور ہر آنے والے کو وہی تازہ لسی پلائی جاتی تھی ان کے ہاں اس لسی کو بنانے کا بھی ایک خاص طریقہ تھا پہلے یہ اپنی بکریوں کا تازہ دودھ دھوتے پھر اس دودھ کو خوب ابالا جاتا پھر اسکا دہی بنایا جاتا پھر اس دہی کو مشکیزے میں ڈالا جاتا پھر اس مشکیزے کو کہیں اونچا کر کے لٹکایا جاتا اور پھر اسے ہاتھ سے خوب ہلایا جاتا اور تقریباً تین گھنٹے ہلایا جاتا ہےاس طرح کرنے سے اس دہی میں سے لسی اور مکھن الگ ہوجاتا ہے اور پھر یہ لسی یہ لوگ خوب پیتے ہیں اور اپنے ہاں آنے والے تمام مہمانوں کو بھی یہی پلاتے ہیں اور مزے کی بات یہ کہ یہ سارا مشقت بھرا کام ان کی عورتیں کرتی ہیں۔

وہ جو آج اس غریب خانے کی مہمان بنی بیٹھی تھی، جب بچپن میں چھوٹی ہوا کرتی تھی اور ان عورتوں کو ایسے ہی لسی بناتے دیکھتی تھی تو سوچا کرتی تھی کہ وہ بھی ان جیسی مضبوط اور محنت کش بنے گی مگر آج گل خان کی بیوی کو دیکھ کر وہ سوچ رہی تھی کہ وہ بھی کتنی بے وقوف تھی جسکی زندگی میں ہر شے کی ملکیت لکھی گئی تھی جو مکمل نازکی کا پیکر تھی جس کے ہونٹ دیکھو تو گلاب کی پنکھری سے لگیں، اس کا چہرہ ایسا جسے کبھی کسی نے اسے چھوا تک نہ ہو اسے بھلا کیا ضرورت ایسی مشقتوں کی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کے ان عورتوں کے پاس ایسی خوبصورتی بےشک نہیں تھے مگر ان کے دل خوبصورت تھے اور یہ نعمت ظاہری خوبصورتی سے کہیں زیادہ بڑھ کر تھی اور وہ یہ بھی بھول رہی تھی کہ جس مقصد سے وہ یہاں آئی ہے یہاں کی عورتیں ایسے مقاصد لے کر بھی نہیں جیا کرتی ہیں ان کی زندگی میں اسی لیے تو چین ہوتا ہے جو اس کی زندگی میں کہیں تھا ہی نہیں ۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” کیا سوچ رہے ہو بی بی جی ! یہ دیکھو ان سے ملو یہ ہمارے بچے ہیں، ماشاءاللہ سے پورے پانچ ہیں ۔“

” ہوں ! اچھے ہیں سب، بہت فکر رہتی ہوگی نا تم کو ان کے مستقبل کی…. “

” جی بی بی رہتی تو ہے بڑی زندگی پڑی ہے ان کے آگے ابھی تو…. “

” تمھاری مشکل ہی آسان کرنے آئی ہوں مجھے اندازہ تھا کہ تمھارے بھی تمھارے بہت بھائیوں کی طرح ان گنت بچے ہونگے جن کی فکر میں تم خوار ہوگے ۔“

” بس بی بی جی ﷲ کی دین ہے سب جی ۔“

” چلو اب تم یہ لو کچھ پیسے ہیں یہ رکھو اور یہ لو…… یہ پتہ ہے یہاں کل ٹھیک دوپہر میں چار بجے آجانا اب میں بار بار تو یہاں نہیں آؤں گی اور ہاں ایک بات اچھے سے یاد رکھنا تم مجھے بالکل نہیں جانتے…… سمجھ رہے ہونا جو میں کہہ رہی ہوں ۔”

” جی بی بی سمجھ گیا اچھے سے ۔“

اسنے وہاں سے اٹھ کر اپنی جھیل سی آنکھوں پر سن گلاسز لگائے اور جانے کے لیے نکل پڑی اور تھوڑا سا کھیتوں کے بیچ چل کے وہ اپنی گاڑی میں شان سے بیٹھ چکی تھی اور اسکے بیٹھتے ہی گاڑی زن سے وہاں سے جا چکی تھی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” کون تھی یہ عورت گل حسن ! “ اس کے جاتے ہی گل حسن کی بیوی نے اس سے پوچھا ۔

” بچپن سے میں ان کی حویلی میں رہتا آیا ہوں ہم ان کی حویلی کے پچھلے حصہ میں رہا کرتے تھے انہی کے ہاں کھاتے سوتے تھے، تو یوں سمجھ لے کہ اس کے ہی ابا نے ہماری پرورش بھی کی اور ہمیں بڑا بھی کیا ۔“

” مگر جب ہماری شادی ہوئی تب تو تو ایک خیمے میں رہتا تھا گل حسن ۔“ اسکی بیوی بچوں کے منہ میں نوالے بنا بنا کے ساتھ ساتھ ڈال رہی تھی۔

” ہاں وہ اس لیے کہ ایک بہت سخت دن ان پر قیامت بن کر ٹوٹا تھا اور پھر تب سے سب ختم ہوگیا تھا۔“

” وہ بہت گہری شام تھی میں ابے کے ساتھ نانا ابو کے گھر جا رہا تھا کام ختم کر کے امی جی صبح ہی جا چکی تھی، جب بچوں کی اسکول کی چھٹیاں شروع ہوتی تو دو دن کے لیے صاحب ہم کو بھی نانا ابو کے گھر بھیج دیتے تھے اور خود کہیں اپنے بچوں کو لے کے گھومنے نکل جاتے تھے اس دن بھی یہی ہونا تھا، مگر شام میں جب میں اور ابا نکل چکے تھے اچانک ہی کسی نے حویلی پر حملہ کر دیا اور حویلی قبضے میں لے لی، صاحب جی جن کو ہم میاں جی کہتے تھے اس وقت نہیں مانے انہوں نے تھوڑی منہ ماری شروع کر دی، ٹیرھا بن کے دکھایا تو ان کو اور ان کے بیٹے کو تو موقع پر ہی مار دیا گیا پھر بی بی جی کو اغوا کر لیا گیا اور پھر ان کا کچھ پتہ نہ چلا اس پورے عرصے میں بیگم صاحبہ کا بھی انتقال ہوگیا غم سے کچھ سالوں، میں ہی پھر اس خاندان کی کہانی ختم ہوگئی ۔

ابھی مہینہ پہلے مجھے ایک فون کال آئی تھی بی بی جی کی کہ وہ خیریت سے ہیں اور آج وہ ملنے آ گئیں اب میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بی بی جی کو میرا فون نمبر اور پھر پتہ ملا کہاں سے بس اور یہ دوبارہ ملنے کے پیچھے ان کا مقصد کیا ہوگا ۔ اور ان کا اتنے سالوں بعد یوں اچانک سامنے آجانا……. “ گل حسن کسی گہری سوچ میں جاچکا تھا اور وہ حد درجہ پریشان ہوچکا تھا ۔

Episode 12

” حیرت میں ڈال دیا ہے تم نے مجھے یہ بتا کر کہ وہ تمھارا شوہر ہے یار…… “

” اس میں حیرت کی کیا بات ہے، وہ میرا شوہر کیوں نہیں ہو سکتا؟ “ آمنہ نے اس کی طرف پورا گھوم کر اس سے سوال کیا۔

” بچپن سے تمھارے ساتھ ہوں میں ایک ایک لڑکے کو میں نے تمھاری خوبصورتی پہ مرتے دیکھا ہے مجھے پہلی سوچ یہی آئی کہ یہ بھی ان ہی میں سے ایک ہوگا…. “ اسماء نے پیزا کا بڑا سا ٹکڑا منہ میں ڈالا۔

” یار ایک ہی لائف سے میں کچھ بور سی ہوگئی تھی سوچا کچھ نیا کرنا چاہیے پھر میں قسمت ہی اتنی شاندار لے کر پیدا ہوئی ہوں کہ خود بخود ایک زندگی کا یادگار ایڈوینچر ہاتھ لگ گیا میرے۔“ اس نے خوب مزے لے کر یہ بات کہی۔

” کیا مطلب…….. میں کچھ سمجھی نہیں؟ “

” سمجھ جاؤ گی وقت آنے پر سب کچھ سمجھ جاؤگی….. تمھیں تو سب پتہ چلنا ہی ہے جگری دوست ہو تم میری کرائم پاٹنر…… اب میری بات سنو تم نے پتہ ہے کیا کرنا ہے…….. تم نے نا بس اب اسے بھائی بھائی کرتے نہیں تھکنا آخر کو میاں جی ہیں وہ میرے۔“

کہہ کر اسنے ایک بھرپور قہقہہ لگایا ایک ایسا قہقہہ جو نفرت کا پیکر تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” زین اٹھ جاؤ نماز کا وقت ہوگیا ہے…… زین سن رہے ہو…… زین یار اٹھ بھی چکو اب….. “ دور فضاء میں کہیں فجر کی اذانیں گونج رہی تھیں ایسے میں سکندر جو ہر روز پابندی سے نماز پڑھنے اٹھتا تھا آج بھی جاگ چکا تھا مگر آج چونکہ زین نے بھی اسے جگانے کا کہا تھا اس لیے وہ اسے بھی جگا رہا تھا جبکہ دوسرے بستر پر ہوش وخرد سے بےگانہ اسامہ لمبی تانے سو رہا تھا ۔

” یار کیا مصیبت ہے تمھاری میں نے کوئی نہیں اٹھنا ابھی….. وقت دیکھو پانچ بج رہے ہیں ابھی دو گھنٹے میں پیپر کے لیے بھی اٹھنا ہے اور رات بھی اتنی دیر سے سویا ہوں میں پڑھ پڑھ کے، تم….. تم جاؤ یہاں سے….. “ زین اٹھنے کے موڈ میں بالکل نظر نہیں آرہا تھا مگر ان دونوں کی آوازوں سے اسامہ کے بستر میں ہل جل شروع ہو چکی تھی۔

” نہیں اٹھنا؟؟؟؟ پر ابھی رات میں تو تم نے مجھ سے کہا تھا کہ تمھیں نماز کے لیے اٹھاؤں…… “

” یار پلیز ابھی جاؤ یہاں سے۔“اور زین پھر کمبل پورا منہ تک تانے سو چکا تھا ۔

سکندر بھی اپنی سی کوشش کر کے نماز پڑھنے جا چکا تھا مگر آج ایک تبدیلی ضرور آئی تھی اس کمرے میں اور وہ یہ کہ جب سکندر نماز پڑھ کے آیا تو اسامہ نماز میں بیٹھا تشہد پڑھ رہا تھا۔

اٹھنا کسی اور نے تھا مگر نیکی کے لیے کوئی اور اٹھ چکا تھا یہی دستورِ زمانہ ہے جو نیکی میں آگے بڑھ گیا وہ فلاح پا گیا ۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

صبح جب وہ امتحان دینے جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے تب زین پشیمان سا سکندر کے پاس آیا ۔

” سوری سکندر میں نے صبح تمھارے ساتھ بدتمیزی کی، میں نہیں اٹھ سکا، دراصل میں کبھی اٹھا ہی نہیں ہوں نا اس لیے میری عادت ہی نہیں ہے، تبھی میرے لیے مشکل ہے اتنی صبح نماز کے لیے اٹھنا ۔“

” نہیں دوست یہ بات نہیں ہے اصل میں کھوٹ تو تمھاری نیت میں ہی ہے تم نے اپنے امتحان کو اہمیت دی اس کے لیے تم جاگ گئے تم نے خوب یاد کیا، دھیان دیا وقت لگایا تمھاری نیت بھی تھی صبح اٹھنے کی، اچھا سا امتحان دینے کی، آگے بڑھنے کی اپنے ماں باپ کا نام روشن کرنے کی، تم نے اصل میں سب کو اہمیت دی سب کو، اگر کسی کو اہمیت نہیں دی تو نماز کو، تم نے رات کو نیت ہی نہیں کی اتھنے کی، تمھارے ذہن میں تھا ہی نہیں، اس طرح تو ظاہر ہے آنکھ نہیں ہی کھلنی نا ﷲ بھی بندے کی نیت دیکھ کر اس کے لیے راستے آسان کرتا ہے زین صرف کھوکھلے الفاظ کی کہیں بھی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور ہم کیا کرتے ہیں۔“ سکندر بہت افسردہ لگ رہا تھا،

” ہم انسان بھی کیا عجیب مخلوق ہیں انسانوں کے لیے اتنی سرتوڑ محنتیں کرتے ہیں جان مارتے ہیں، تھک تھک کے بھی اپنوں کی خوشی چاہتے ہیں اپنی استطاعت کی آخری حد تک جتےرہتے ہیں اس کے لیے جس سے ہمیں جی جان سے محبت ہو، مگر پھر ہمیں صلہ کیا ملتا ہے ناراضگی، بے اعتباری، دھوکہ، بےرخی ۔محنت کرنے والے کی محنت کا اندازہ اسے کبھی ہو ہی نہیں پاتا جس کے لیے جی جان سے محنت کی جا رہی ہو پھر بھی……. ان سب کے باوجود ہم ان بےقدرے رشتوں میں ساری زندگی پھنسے رہتے ہیں اس محبت کی خاطر جو ہم ان سے کرتے ہیں ۔

کیا ہی خوب ہو جو یہ ساری ریاضتیں، یہ ساری مشقتیں اس خالقِ حقیقی کے لیے کی جائیں جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا جو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے جو جنت کی صورت میں انعام تو دے گا کم از کم اس کے ساتھ معاملات میں ہم ان جھوٹی محبتوں کے نام پر گھنٹوں ملنے والی اذیتوں سے تو بچ ہی جائیں گے۔

مگر ہم……… ہم نہیں سوچتے……… پتہ نہیں ہم آخر کار سوچتے ہی کیوں نہیں ہیں………!

خیر چھوڑو تم جاؤ امتحان دینے وقت کے ساتھ تم سمجھ جاؤ گے اس اہمیت کو، تم نے کم از کم چاہ تو لیا ہے نا اب اور تمھیں نہ اٹھنے پر افسوس بھی تو ہے…….. ” آج والا سکندر ایک بالکل مختلف سکندر تھا جس نے زین کو اپنی باتوں سے اندر تک ہلا دیا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

آج انکا آخری پیپر تھا اور آج ان سب نے اپنے اپنے گھر جانا تھا، زین اور آمنہ بھی اتنے دنوں بعد آج یونی کے باہر ملے تھے کافی دن سے باقی اسٹوڈنٹس کی نظروں میں آنے سے بچنے کے لیے وہ دور دور رہے تھے۔

” کیسا گیا پیپر تمھارا؟ “

” اچھا گیا….. “آمنہ نے زین کے سوال کا بہت مختصر سا جواب دیا۔

” چلو پھر کہیں لنچ کرنے چلتے ہیں پھر میں تمھیں ڈراپ کر دوں گا گھر؟ “ زین نے آمنہ کے ساتھ چلتے ہوئے سوال کیا ۔اسماء بھی آمنہ کے ساتھ ہی چل رہی تھی کیونکہ وہ دونوں ہمیشہ سے ہی ایک ساتھ گھر جایا کرتی تھیں ۔

” ہوں ٹھیک ہے…… “

” مگر آمنہ ہم نے تو ہاسپٹل جانا تھا تمھاری امی کا اپائنٹمنٹ ہے آج بھول گئیں؟ “ آمنہ زین کو ہامی بھر ہی رہی تھی کہ اسماء بیچ میں بول پڑی اور اس کی بات سن کر زین کچھ چونک سا گیا جبکہ آمنہ معاملے کی نزاکت کو بھانپ چکی تھی اس لیے اس نے جلدی سے بات بنائی۔

” ہاں میں زین کے ساتھ چلی جاؤں گی تم رکشہ لے کے گھر چلی جاؤ ٹھیک ہے اور آنٹی کو میرا سلام کہنا۔“

زین نے آمنہ کو تھوڑا دور کھڑا کر کے ڈرائیور کو یہ کہہ کر کے وہ دوستوں کے ساتھ آوٹنگ پر جا رہا ہے گھر بجھوادیا اور پھر وہ کار آمنہ کے پاس لے آیا آمنہ کے گاڑی میں بیٹھتے ہی زین نے گاڑی اسٹارٹ کر دی اور چھوٹتے ہی پوچھ لیا۔

” تمھاری امی کا تو انتقال ہوگیا ہے نا آمنہ ، میرا مطلب ہے پھوپھو کا؟ “ اس کی نگاہوں میں واضح الجھن تھی۔

” ہاں وہ جن کا اسماء ذجر کر رہی تھی میری پھوپھو ہیں، امی کے انتقال کے بعد میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں اس لیے انہیں امی کہتی آرہی ہوں، میری دوستیں اسی لیے انہیں ایسے جانتی ہیں، وہ….. ان کی کڈنیز فیل ہوچکی ہیں تو انکا روز ڈائلیسز ہوتا ہے اس وقت اسی لیے وہ ابھی ہسپتال میں ہونگی، میں نے ان کے ڈائلیسز کے بعد ان کے ساتھ ہسپتال سے گھر جانا تھا……. مگر اب کوئی بات نہیں میں انہیں فون کر کے بتا دیتی ہوں کہ ہم جا رہے ہیں لنچ پر وہ فارغ ہوکر گھر چلی جائیں، لنچ کے بعد میں گھر چلی جاؤں گی…….. “

آمنہ نے اپنی بات ختم کر دی تھی اور زین نے بھی اس کی سن لی تھی مگر آمنہ کی بات میں کچھ تھا کچھ ادھورا کچھ خالی پن سا جو زین کو شدید کھٹک رہا تھا مگر ابھی ان کی انڈرسٹنڈنگ ویسی نہیں تھی کہ وہ کچھ سوال کر سکتا اس لیے خاموش رہا مگر ایک جستجو اور کئی سوال اس کے ذہن میں جنم لے چکے تھے…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *