Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 10)

Nasha by Aiman faisal

” تمھیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا ابھی اسی وقت……. “

” تمھارا دماغ خراب ہوگیا ہے، میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں….. میں یہ نہیں کر سکتا مجھ سے نہیں ہوگا ۔“

” کیوں آخر……. تم اپنے دوست کے لیے اتنا نہیں کرسکتے؟ “ زین نے اسے دوستی کا واسطہ دیا۔

” دوست ہو تم میرے اسی لیے میں یہ نہیں کر سکتا یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا تمھیں لگ رہا ہے، اور…….. اور تم نے آمنہ سے پوچھا ہے، زین تم…… تمھارا دماغ واقعی خراب ہوگیا ہے تم ایسا سوچ بھی کیسے سکتے یو، مجھ سے نہیں ہوگا یہ، اس کے لیے علاوہ میں ہر طرح سے تمھاری مدد کر دوں گا مگر یہ نہیں……. بالکل بھی نہیں…… “ اسامہ کے تو ہاتھ پیر ہی پھول گئے تھے زین کی بات سن کر مگر زین اپنی ضد پر قائم تھا ۔

وہ دونوں ابھی بات کر ہی رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔

” زین مرتضیٰ ! اپنا سامان پیک کریں آپ کے گھر میں ایمرجنسی ہے آپ کو فوراً گھر جانا ہے۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” کیا ہوا بابا امی کو…..؟ “ زین ہاسٹل سے سیدھا ہسپتال آیا تھا ۔

” کچھ نہیں اب بہتر ہے، بس معمولی سا ہارٹ اٹیک ہوا تھا، تم پریشا ن نہ ہو.. “

زین کی امی کچن میں کام کرتے کرتے گر گئی تھیں ہسپتال لے جانے پر پتہ چل؛ کہ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور اب آج صبح انہیں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” دیکھو زین تمھاری ماں نے ایک مہینے میں کیسی حالت بنا لی اپنی، تم یہ ہاسٹل وغیرہ کے چکر چھوڑو اور گھر آجاؤ، یہاں سے بھی تو تم روز یونیورسٹی جا سکتے ہو ۔“ مرتضیٰ حسن نے موقع پا کر پھر زین کو قائل کرنے کی کوشش کی۔

” نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے، اسے وہیں پڑھنے دے، میں بالکل ٹھیک ہوں ۔“ اس سے پہلے کہ زین کوئی جواب دیتا، آج عمارہ زین کی حمایت میں بول پڑیں ۔

” ٹھیک ہے چلو جیسے تمھاری مرضی، میں تو تمھارے لیے ہی کہہ رہا تھا ۔“ مرتضیٰ حسن نے اس وقت تو بات ختم کر دی مگر آج عمارہ کا بولنا انہیں کچھ کھٹکا تھا اور وہ سوچ میں پڑ گئے تھے اور پھر انہوں نے ایک چال چلنے کا فیصلہ کر لیا۔عمارہ کی طبیعت صحیح ہوتے ہی زین پھر یونیورسٹی جا چکا تھا اور اب اس کے امتحانات اسٹارٹ ہونے والے تھے اس لیے ان لوگوں کی مصروفیت کچھ بڑھ گئی تھی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

زین ہاسٹل تو آگیا تھا واپس مگر اسے عمارہ کی باتیں بار بار یاد آرہی تھیں۔

” مجھے ہارک اٹیک نہیں ہوا ہے زین ! “ عمارہ نے نحیف زدہ حالت میں زین سے بات شروع کی۔

” امی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ، میں نے خود آپ کی رپورٹس دیکھی ہیں ابھی……. “ زین کچھ الجھا۔

” میں جانتی ہوں تمھیں میری بات عجیب لگے گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمھارے ڈیڈ مجھے سلو پوائزن دے رہے ہیں۔ “

” امی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں…….. ڈیڈ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ “

” ان کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے وہ اپنے راستے کے کانٹے ایسے ہی ہٹاتے ہیں میں نے ساری زندگی اسی لیے ان کے کسی معاملے میں کچھ نہیں بولا اب جب تمھارے لیے آواز اٹھانی چاہی تو انہوں نے میری زندگی بھی مختصر کرنے کا سوچ لیا یے، پہلے تمھارے دادا پھر تمھاری بہن اور اب میرا قتل ہوگا۔تمھارا باپ ایک انتہائی سفاک درندا ہے پیسے نے اسے پاگل کر دیا ہے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر کے رکھ دیا ہے ہمیشہ کے لیے اچھے برے کی تمیز وہ کھو بیٹھا ہے، تم جلد ازجلد آمنہ کو ڈھونڈو اور اس کو لے کے دور چلے جاؤ یہاں سے بس ہمیشہ کے لیے اور یہ کام جتنی جلدی ہو سکے کر لو……. “ عمارہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

” امی ! آپ نے کیسے سوچ لیا کہ میں باہر چلا جاؤں گا تو بابا وہاں تک میرے پیچھے نہیں آئیں گے، آپ جانتی ہیں وہ تو میرے پیچھے سایے کی طرح ہوتے ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کے بعد تو میں بھی انہیں اب نہیں چھوڑوں گا۔“ زین نے الجھن بھری نگاہوں سے ماں کو دیکھا۔

” ایک مدت تمھارے باپ کے ساتھ گزاری ہے میں نے زین مجھے پتہ ہے آگے کیا کرنا ہے، میری بات غور سے سنو اور یاد کر لو سب کچھ ، میں نہیں جانتی زندگی مجھے کتنی مہلت دے گی اس لیے آج ہی سب ذین نشین کر لو اچھے سے۔ اور یہ باپ کے پیچھے جانے کی ضد چھوڑ دو اور میری بھی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اب میری بات غور سے سنو ۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” تمھاری امی کی طبیعت کیسی ہے اب زین؟ “

” بہتر ہیں وہ اب…….. “ سکندر کے سوال پر زین کا ارتکاز ٹوٹا۔

” تم اتنی جلدی گھر کیوں آگئے تھوڑے دن رک جاتے نا ان کے پاس، انہیں تمھاری ضرورت ہے ابھی ۔“

سکندر نے زین کا دل بہلانے کو بات جاری رکھی۔

” امی ٹھیک ہیں اب، میرے بابا سے میری پڑھائی کا حرج برداشت نہیں ہوتا اور امتحانات ہونے والے ہیں ہمارے اگلے ہفتے سے اس لیے مجھے لازمی آنا ہی تھا ۔“ زین نے وضاحت کی ۔

” تمھارے ابو بھی بڑے عجیب مزاج کے ہیں ویسے، خیر یہ بتاؤ تیاری کتنی ہوگی اور یہ اسامہ کہاں ہے نظر ہی نہیں آ رہا؟ “

” اسامہ لائبریری گیا ہوا ہے اور میری تیاری مکمل ہے بس اب دہرانا ہے سب ۔“

” ایک بات بتاؤ سکندر……. “

” تم…….. تم اتنی پابندی سے اور اتنے انہماک سے نماز کیسے پڑھ لیتے ہو؟ میں نے تمھیں شروع سے نماز کا پابند دیکھا ہے……. “

” تم نہیں پرھتے نماز؟ “

” مجھے نماز پڑھنے آتی ہی نہیں ہے، ہمارے گھر کا ماحول ایسا ہے ہی نہیں ۔“ زین نے افسوس سے کہا۔

” ایک کام کرنا کل میرے ساتھ مسجد چلنا صبح فجر میں، میں سکھاؤں گا تمھیں نماز پڑھنا ۔”

” ہوں……. ایک بات بتاؤ سکندر…. جو گناہ

کرنے کا ارادہ رکھتا ہو کیا وہ بھی نماز پڑھ سکتا ہے؟ “

” بالکل پڑھ سکتا ہے اور یہی تو نماز پڑھنے کا فائدہ ہوگا کہ وہ گناہ کرنے والے کو گناہ سے روک لے گی ۔“

” نہیں روک سکتی…….. بالکل نہیں روک سکتی کچھ چیزوں کا توڑ ان کے طرز کا ہی ہوتا ہے، جیسے اگر قتل کیا ہے کسی نے تو اس کو قتل سے ہی روکا جا سکتا ہے ۔“

” پھر یہ گناہ نہیں ہوگا یہ قصاص ہوگا اور تمھیں کسی اتنے بڑے مجرم کو اتنے بڑے لیول پہ سزا دینے کے لیے قانون کی مدد لینی چاہیے یہ اصول ہے ۔تب ہی سزا سزا ہوگی وعنہ پھر وہ تمھارے لیے وبال بن جائے گی وہ تمھارا گناہ بن جائے گا“

” ہمارے ملک میں سارے کھیل پیسے والوں کے لیے ہین بس اور جیت بھی انہیں کی ہے یہاں قاتل اور مقتول کی کسی کو پروہ نہیں ہے اور ایک بات جانتے ہوکیا سکندر اگر قانون کی پاسداری ہو رہی ہوتی نا یہاں تو اس زندگی کے بعد پھر انصاف کی عدالت نہ لگتی ہر کسی کو انصاف یہیں مل جایا کرتا میرے دادا کو بھی ۔“

” کیا ہوا تمھارے دادا کو…..؟ “

” کچھ نہیں…….. چلو ہم بھی چلتے ہیں لائبریری اسامہ کے پاس….. “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *