Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 13)

Nasha by Aiman faisal

گہری رات ہر سو چہا چکی تھی وہ لوگ سونے کے لیے اپنے اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے اور بچے تو کب کے سو چکے تھے۔گاؤں کی زندگی کا ایک مزہ یہ بھی تھا کہ وہاں مغرب کے فوراً بعد اندھیرا چھاتے ہی ہر کوئی بستر سے لگ جاتا تھا۔ گل حسن نے اتنے میں برابر میں لیٹی سکینہ کو مخاطب کیا ۔

” سکینہ ! کل بی بی جی کے پاس جانا ہے شہر، آتے آتے شام ہو جائے گی تم لوگ کھا لینا میرا انتظار نہ کرنا ۔“ گل حسن نے سکینہ کو اطلاع دی اور پھر مزید اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔

” پتہ ہے سکینہ ! میاں صاحب کوئی بہت ہی اچھے دل کے مالک تھے بیوی تو انکا تھا نہیں، سنا تھا چھوٹی بی بی کی پیدائش پر ہی فوت ہوگیا تھا پھر بھی…… پھر بھی میاں جی کا جو دل تھا وہ بڑا ہی کوئی عظیم تھا سکینہ، وہ خود اپنے ہاتھوں سے چھوٹی بی بی کے بال بناتا روز اس کو تیار کرتا چھوٹے صحب اور بی بی کو ناشتہ بنا کر کرواتا بالکل ماؤں کی طرح کا خیال رکھتا تھا انکا ۔پھر جب ایک وقت آیا کسی امیرزادے نے گاؤں کے سب لوگوں کو شہر میں کم کام اور زیادہ پیسے کا لالچ دیا تو سب اپنی اپنی زمینیں چھوڑ کر جانے لگے. مگر صاحب نہیں گیا کہیں بھی اور ان پر ﷲ کا کتنا فضل ہوا دیکھو اس وقت ساری زمینوں کی میاں صاحب نے دیکھ بھال کی اور چند سالوں میں وہ امیر کبیر انسان بن گیا اتنی برکت دیکھی اس نے اتنی برکت کہ کیا ہی شہر جانے والوں نے دیکھی ہوگی ۔بڑی محبت تھی اسے اپنے بچوں سے، اپنے کام سے، اپنی زمینوں سے بہت ہی کوئی محبت سے کام کیا کرتا تھا مگر پھر نا جانے کیا قسمت لکھی تھی اس کی ان ڈاکوؤں کی وجہ سے سب تباہ وبرباد ہوگیا…….. مگر کل جب بی بی جی کو دیکھا نا میں نے تو میرے دل میں ایک ہی خیال آیا کہ اس کے ابے کی نیکی کا صلہ ہے جو بی بی جی نے ایسا نصیب پایا……… دیکھا تھا نا تم نے کیسی بڑی گاڑی میں آیا تھا بی بی جی…….. “

” ہاں گل حسن آیا تو بڑی سی گاڑی میں تھا بی بی جی مگر پتہ نہیں کیوں ہم کو ایسا لگا جیسے وہ کچھ تھکا ہوا ہے زندگی سے، پریشان ہے، خوش نہیں ہے، کوئی بہت بڑے دکھ کے ساتھ جی رہا ہے ۔“

” او چل کوئی نہیں….. ایک تو تم عورتیں بھی نا خامخواہ کا وہم پالتی رہتی ہو…. وہ تو اتنا دور آیا تھا شہر سے گاؤں اس لیے تھکا ہوا تھا۔“

” نہیں گل حسن وہ سفر کی تھکن نہیں تھی….. تو مان یا نہ مان کچھ تھا ادھورا سا، ہم عورتیں اگر چاہیں نا گل حسن تو دوسری عورت کا دکھ اس کے چہرے سے پڑھ لیتی ہیں یہ کوئی میرا وہم نہیں ہے یہ اس کے چہرے کی داستا ن ہے تم دیکھنا گل جب تم جاؤ گے تو تمھیں میری بات کا یقین آے گا.. دیکھنا تم…… “

اور پھر وہ دونوں آنکھیں مونڈے نیند کی گہری وادیوں میں جا چکے تھے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

لنچ کرنے کے بعد زین آمنہ کو اس کے گھر چھوڑ کے جا چکا تھا، آمنہ نے اسے گھر کے اندر آنے کی دعوت بھی دی مگر اس نے مصروفیت کا بہانا کر کے منع کر دیا اصل میں تو وہ ابھی بہت زیادہ الجھا ہوا سا تھا اس لیے اس نے انکا ر کیا۔آمنہ گھر آئی تو اس کی امی پہلے ہی ہسپتال سے گھر آچکی تھیں.

” آگئی گھر…… زین آیا چھوڑنے..؟ “

” جی میڈم… اسماء کہاں ہے آگئی ہے گھر…..؟ “

” آپ آج ابھی اسی وقت فیصلہ کریں آخر اسے مجھ سے مسئلہ کیا ہے، زین کے سامنے آج آپکا ذکر لے بیٹھی تھی اب اگر وہ اس طرح کر کے میرے لیے راستے مشکل کرے گی تو میں کیسے کام کروں گی پھر…… وہ زین…. وہ دنیا میں نکلا تو نہیں ہے پر وہ بہت ہی کوئی زیادہ شارپ ہے میڈم آج بھی کتنی ہی دیر تک مجھے اس اسماء کی وجہ سے شک کی نگاہوں سے گھورتا رہا ہے……. “ آمنہ نے آج اس قصے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا۔

” اسماء….. اسماء کہاں ہو یہاں مرو فوراً….. “ اور اس کی بات نے نورالعین کو خوب غصہ دلایا اور اس نے فوراً اسماء کو آوازیں دیں۔

” جی میڈم……. “اسماء بھی آج پوری طرح میدان مارنے کے موڈ میں تھی…

” یہ کیا سن رہی ہوں میں؟ “

” آپ ہی کی سب غلطی ہے میڈم….. ناانصافی ہر دفعہ آپ کرتی ہیں، ہمیشہ سے یہی ان امیرزادوں کے پلے بندھتی ہے، کبھی میرا سوچا آپ نے مجھے تو بس سائیڈ رول دے دیتی ہیں آپ روکھا سا، وہ زین آج اسے ریسٹورنٹ لے گیا کل کو شاپنگ پر بھی لے جائے گا…… اور میں….. میں تو بس اس کی دوست بن کے اس کا دوپٹا پکڑ کر چلتی رہتی ہوں….. “

” چلو پھر آج تم نے ذکر کیا ہے نا تو سنو پھر میری بھی…… یہ شکل وصورت میں تم سے زیادہ خوبصورت ہے دیکھو اس کی طرف، اس کی ادائیں دیکھی ہیں کبھی تم نے یہ تو مجھے پاگل کر دیتی ہے تم کیا کرتی ہو یہ کالی سی شکل پہ بھی جو تمھیں یہاں رکھا ہوا ہے سڑک سے لا کر کھلاتی پلاتی ہوں، عزت سے یو تمھیں اچھا نہیں لگ رہا، یاد نہیں ہے تمھیں پچلھی دفعہ تو اسے اس منڈے کے ساتھ رات بھی گزارنی پڑی تھی اچانک سے ہی، تم میں ہے اتنا دم کہ تم یوں اچانک ساری صورتحال سنبھال سکو، ہاں بتاؤ جو اتنی تمھاری زبان چل رہی ہے اتنا دم خم بھی تو رکھو نا پھر، ایک شکاری کے لیے میں نے اتنے سال تم دونوں کو تیار کیا یے اور اب وہ ہاتھ لگنے والا ہے اس کے بعد کیا ہوگا کوئی نہیں جانتا، آگے کے لیے میں نے تمھیں عزت والا اور صاف ستھرا نکھار کر، سنبھال کر رکھا ہوا ہے تاکہ کل کو تم کسی اچھے انسان کے ساتھ اچھی زندگی گزار سکو، تم نے سوچا ہے کبھی جو یہ عزت بھی ہاتھ سے چلی گئی تو ایسی شکل کے ساتھ تمھیں اپنے ساتھ کون رکھے گا……. کوئی نہیں سنا تم نے تمھیں کوئی نہیں پوچھے گا، اس کا کیا ہے اس کے پاس تو سب کچھ ہے اس پر تو ہزار مر نے کے لیے تیا ر ہونگے مگر تم رل جاؤ گی،…….. لیکن نہیں جب تمھاری سمجھ میں یہ سب باتیں نہیں آرہی تو ٹھیک ہے اگلے شکار کے پلے تم باندھی جاؤگی….. تمھیں لگتا ہے نا کہ تم اسے اپنے جال میں پھنسا لو گی اور پھر اس کے ساتھ سکون بھری زندگی گزارو گی تو ٹھیک ہے کر لینا تم اپنی یہ خواہش پوری لیکن اگلے شکار تک بالکل منہ بند کر لو اپنا…… یاد رکھ لو میری بات اچھے سے اس بندے کے لیے میں نے خود کو زندہ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس تک پہنچنے کے لیے ہر راستہ اختیار کیا یے اب اس معاملے کو اگر تم نے یا کسی نے بھی بیچ میں آکر خراب کرنے کی کوشش کی تو مرتضیٰ حسن سے پہلے اسکو میں راستے سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دوں گی سنا تم نے…… مرتضیٰ حسن مجھے ہر حال میں تڑپتا چاہیے ۔ اب جا سکتی ہو تم دونوں۔“

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *