Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 02)
Rate this Novel
Nasha (Episode 02)
Nasha by Aiman faisal
” تو پکا سوچ لیا ہے نا تم نے اپنا روم چینج نہیں کرنا اور ہمارے ساتھ ہی رہنا ہے؟ “ سکندر نے زین سے پوچھا، اسامہ اس وقت شاور لے رہا تھا ۔ آج انہیں ہاسٹل میں رہنے کے قواعد و قوانین سے آگاہ کیا جانا تھا ۔ اس وقت صبح کے سات بجے تھے اور ٹھیک آٹھ بجے ان لوگوں نے کلاس روم میں موجود ہونا تھا۔
” ہاں میں نے پکا سوچ لیا ہے کہ مجھے تم لوگوں کے ساتھ ہی رہنا ہے کوئی روم چینج نہیں کرنا اور بہتر ہوگا کہ تم لوگ بھی مجھے اپنے جیسا ہی سمجھو اور بھول جاؤ کہ میرا بیک گراؤنڈ کیا ہے تاکہ میں بھی زندگی کو ایک دفعہ تو کھل کے جی سکوں۔“ زین نے چمکتی آنکھوں سے جواب دیا اور اس کے الفاظوں میں بلا کی صداقت اور لہجے میں بھر پور سادگی تھی۔
” چل بھائی پھر تیار ہوجا جدوجہد کے لیے کیونکہ میرے جیسے گاؤں کے باسی کے ساتھ رہنا ہے تو جدوجہد تو کرنی ہی پڑے گی،کیونکہ مجھے سیدھی سادی زندگی نہ پسند ہے اور نہ شرافت آتی ہے۔“ یہ اسامہ تھا جو باتھ روم سے باہر آچکا تھا اور اس کی شوخی ہمیشہ کی طرح عروج پر تھی۔







” اچھا اسٹوڈنٹس سب سے پہلے آپ اپنے ذہن میں اچھے سے ہاسٹل میں رہنے کے تمام قواعد و قوانین نوٹ کر لیں، صبح آٹھ بجے سے دوپہر 1 بجے تک آپ کی کلاسز ہونگی اور اس کے بعد آپ ڈائنگ ہال میں لنچ کرنے تشریف لے جائیں گے آپ کے پاس صرف آدھا گھنٹہ ہوگا لنچ کرنے کے لیے، اسکے بعد قیلولہ ٹائم ہے جو کےایک گھنٹے کا ہو گا ۔اس کے بعد آپ سب اپنے اپنے گروپس کے ساتھ گروپ اسٹڈیز کریں گے اور ہر گروپ کا ایک لیڈر ہوگا جو کچھ دنوں بعد اپنی قابلیت کی بنا پر سلیکٹ کیا جائے گا اور گروپ کے ہر ممبر پر اس کی بات ماننا لازم ہوگا بغیر کسی بحث کے ۔شام چھ بجے آپکا اسپورٹس ٹائم اسٹارٹ ہوگا اور پھر آٹھ بجے آپ ڈنر کرنے تشریف لے جائیں گے، ڈنر کے بعد دس بجے تک آپ سب فری ہونگے اس وقت میں آپ جو چاہے کر سکتے ہیں آپ کو اجازت ہے مگر جیسے ہی دس بجیں گے ہر اسٹوڈنٹ اپنے بستر مین نظر آنا چاہیے.
So everybody understand??
یہ سر عبید تھے جنہوں نے ہال میں تمام اسٹوڈنٹس کو جمع کر کے انہیں ہاسٹل میں رہنے کے رولز سمجھا دہے تھے اور یونی کے ہاسٹل کو ڈسیپلنڈ رکھنے کی ذمہ داری بھی انہی کی تھی جو وہ کئی سالوں سے بہت احسن طریقے سے نبھا رہے تھے۔
ان کا لیکچر ختم ہوتے ہی سب اسٹوڈنٹس اپنی اپنی کلاسز میں جانے لگے مگر زین کا دھیان کہیں اور ہی تھا اور وہ اپنی کلاس میں جانے کے بجائے اسکا پیچھا کرنے لگا۔







” یہ زین کہاں ہے؟؟ “ اسامہ نے اپنے ساتھ زین کو نہ پا کر سکندر سے دریافت کیا۔
” پتہ نہیں ابھی تو یہیں تھا، پتہ نہیں اچانک کہاں چلا گیا ۔“
” ہممممممم،،، پھر تو موقع اچھا ہے،،،، چلو میرے ساتھ……. “
” تم اس کے ساتھ کوئی پرانک کرنے جا رہے ہو واقعی ، اس نے برا منایا پھر تمھیں پتہ ہے نا وہ کس کلاس کا ہے ہم بری طرح پھنس جائیں گے…… “سکندر تھوڑا سا ڈرپوک تھا اسی لیے اس نے اپنے خدشات ظاہر کیے۔
” یار تم بھی نہ کوئی اس صدی کے سب سے زیادہ پھٹو انسان ہو، کچھ نہیں ہوتا تم دیکھنا کچھ ہوگا ہی نہیں اب جب یونی لائف میں یہ سب نہ کیا تو زندگی کا مزہ کیسا پھر میرے دوست…. “ اسامہ کی شرارت عروج پر تھی اور وہ آج زین کے ساتھ شرارت کرنے کے موڈ مین تھا۔







” جی تو اسٹوڈنٹس……….. “ ان کی پہلی کلاس کمیونیکیشن کی تھی اور ٹیچر اپنا لیکچر شروع کر چکے تھے مگر زین ابھی تک کلاس میں نہیں پہنچا تھا۔
” مے آئی کم ان سر ! “ کلاس شروع ہونے کے پورے پندرہ منٹ بعد زین ہانپتا کانپتا کلاس تک پہنچا۔
” ویری گڈ زین مرتضیٰ کلاس کے پہلے دن ہی لیٹ، پھر آگے اب میں آپ سے کیا امید کروں؟ “
” سوری سر آئندہ نہیں ہوگا ایسا۔“
” آئندہ ایسا کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے تمھارے پاس، اندر آؤ اور بغیر کسی کو ڈسٹرب کیے اپنی سیٹ پر بیٹھو گے۔“
” اوکے سر۔“
” وہ اندر آتے ہی خاموشی سے کلاس میں موجود سب سے لاسٹ میں خالی سیٹ پر منہ بنا کر بیٹھ گیا۔ یہ انکی دوستی کی باقاعدہ شروعات تھی اور یہ دوستی کا پہلا سچا اور مخلص رنگ تھا جو زین نے اپنی زندگی میں دیکھا تھا ۔پہلے پہل تو اسے یہ بہت زہر لگا مگر جب حقیقت کھلی تو اس رنگ نے اس کی زندگی میں بھی نہ مٹنے والے رنگ بھر دیے۔








کلاسز ختم ہونے کے بعد زین منہ پھلائے کلاس روم سے نکل گیا اور وہ دونوں اس کے پیچھے لپکے ۔
” کیا ہوا برخوردار ! بس اتنی ہی برداشت تھی آپ میں، ویسے جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے وہ آپ ہی تھے نا جو دوستی نبھانے کے بڑے بڑے دعوے کر رہے تھے اب سے کچھ دیر پہلے؟ “ اسامہ نے مسکراہٹ دانتوں میں دباتے ہوئے اسے منانے کی جھوٹی سی کوشش کی۔
” ہاں بھئی، یاروں کے یار بننے کی خواہش ہے تو اب آگے بھی بہت کچھ برداشت کرنا پڑے گا اب بھی سوچ لو، کیونکہ یہ اسامہ بڑا کوئی کمینہ بندہ ثابت ہوا ہے ۔“ سکندر نے بھی ساتھ مین لقمہ دیا۔
” اچھا واقعی دوستی، مذاق……. ایسا ہوتا ہے مذاق…… پہلے دن ہی میرا تاثر خراب کردیا کلاس میں ۔“ زین نے بھی کوئی بڑا سا منہ بنا کہ بھرپور شکوہ کیا۔
” کیا کیا……. ایک، منٹ…… تاثر خراب؟؟؟ تمھارا امپریشن اسامہ نے خراب کیا؟؟؟؟ مگر کیسے…… مجھے بھی تو بتاؤ میری ناک کے نیچے ایسا کونسا کھیل کھیلا گیا جس سے لطف اندوز ہونے سے میں رہ گیا ہوں۔“ اس سے پہلے کے اسامہ کچھ جواب دیتا سکندر نے پہلے ہی پیٹ میں درد اٹھنے کی بنا پر بات میں چھلانگ مار لی۔
” اس نے مجھے کال کر کے آواز چینج کر کے لائبریری میں بلایا، اب بتاؤ بھلا ایسا کوئی کرتا ہے کیا۔“ زین کی شکل تو اب بالکل رونے والی ہوگی۔
” تو میرے ایسا کرنے سے تم لیٹ کیسے ہوئے بھلا۔“اسامہ نے اسے مزید آگ لگائی۔
” میں ایسے لیٹ ہوا کہ لائبریری چلا گیا اور پھر لائبریری دور اتنی ہے واپس آنے میں اتنی دیر لگ گئی، اور دوسرا لائبریرین سے بے عزتی الگ ہوئی ۔“ زین نے منہ بسورا۔
” کیوں بےعزتی کیوں ہوئی؟ “ سکندر کی ناسمجھی ہمیشہ کی طرح عروج پر تھی اور اسامہ نے اس کے اس سوال سے خاصہ لطف اٹھایا۔
” اس لیے کہ لائبریرین نے مجھ سے کہا کہ یہ یونیورسٹی ہے تاج محل نہیں یہاں لائبریری میں اسٹوڈنٹس کو بلانے کے لیے کال نہیں کی جاتی۔“زین نے سبکی سے سکندر کے سوال کا جواب دیا ۔
” بات تو صحیح ہے ۔“یہ سکندر تھا جب کہ اسامہ تو قہقہے لگا لگا کے دھرا ہو چکا تھا۔
” اب صاف ظاہر ہے دوست کے غلطی تمھاری تھی تم کو کامن سینس استعمال کرنا چاہیے تھا نا ظاہر ہے یونی میں کسی کام کے لیے کال، کرکے کون بلاتا لے، ہم ایڈوانس ہوگئے ہیں مگر ابھی اتنے نہیں۔“اسامہ نے کہہ کر پھر ایک لمممبا قہقہہ لگایا اور خوب لطف اندوز ہوا۔







وہ لوگ ڈائننگ ہال میں لنچ کرنے بیٹھے تھے جب اسامہ نے زین کو مخاطب کیا۔
” ویسے زین لائبریری سے کلاس تک کا راستہ پندرہ منٹ کا ہے، اور سر عبید کے انسٹرکشنز کے بعد کلاس تک جانے کے لیے ہمارے پاس پندرہ منٹ بچے تھے تم پھر بھی اور پندرہ منٹ یعنی کل ملا کر آدھے گھنٹے بعد کلاس روم میں آئے ہو تو جناب آپ یہ بتانا پسند کریں گے کہ باقی کے پندرہ آپ نے کس کھوج میں گزارے؟ “ اور آخر کار وہ اسامہ تھا اس کی نظروں سے بھی بھلا کچھ بچا تھا کبھی وہ زین کو دوسری سمت جاتے دیکھ چکا تھا۔
” نہیں وہ……. میں…. میں نیا ہوں نا یہاں مجھے سارے راستے اچھے سے پتہ تھوڑی ہیں اس لیے مجھے زیادہ دیر لگ گئی ۔“ زین فوری طور پر جواب دینتے ہوئے تھوڑا گھبرایا مگر پھر فورا ہی اس کے ذہن میں بہانا آگیا۔
” چلووووو…. ایسا ہے تو ایسا ہی صحیح مگر یاد رکھنا مسٹر ہم تو اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں، زرا سنبھل کے ۔“ اسامہ نے اسے آئی ٹو آئی کا اشارہ کیا اور پھر کھانے کی طرف متوجہ ہوگا اور زین نے بھی کھانا شروع کیا اور اسے یہاں کا کھانا بہت اچھا لگا بلکہ اسے تو یہ زندگی ہی مزے کی لگی اسے وہاں آئے ہوئے مہینہ ہوچکا تھا مگر اس نے اپنے گھر کو ایک دفعہ بھی مسِ نہیں کیا۔
