Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 25)

Nasha by Aiman faisal

” تو پاگل ہوگئی ہے گلناز…… اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے کسی کا گھر برباد کرے گی۔“گلناز کا شوہر تو اسکا پلان سن کر ہی ہتے سے اکھڑ گیا ۔

” میں کسی کا گھر نہیں خراب کر رہی……. وہ بی بی جی ویسے ہی یہ گھر نہیں بسانا چاہتی۔سنا ہے اسکی مرضی سے یہ شادی نہیں ہوئی کچھ گڑبر ہے انکا معاملہ…….. تفصیل تو میں نہیں جانتی مگر اس گھر میں کوئی بہت بڑی سازش چل رہی ہے۔وہ جو عورت آئی تھی نا آج گھر اس کی باتیں کچھ ایسی ہی تھیں مرنے مارنے والی۔میں تو صرف ان سب میں اپنا راستہ نکال رہی ہوں بس……. اپنے بچے کے لیے اتنا کرنا تو میرا حق بنتا ہے۔“ وہ ایک خود غرض ماں تھی۔

” پچھتائی گی بہت…. سنبھل جا۔“ وہ معذور انسان اسے زیادہ کیا سمجھا سکتا تھا بس اتنا بولا اور پھر خاموش ہوگیا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” گل حسن نام ہے نا تمھارا……. ایک بہت اہم کام دینے جا رہا ہوں تمھیں اگر کر گزرے تو دنیا بدل جائے گی تمھاری……. بولو منظور ہے……. “ مرتضیٰ نےآج ملازمہ کی باتوں پر اچھے سے سوچ بچار کر کے ایک لائحہ عمل تیار کر لیا تھا اور اب وہ اسے عملی جامہ پہنانے جا رہے تھے۔

” نہیں صاحب جی، یہ دنیا ہی ٹھیک ہے میری…… آپ مینو اجازت دے دو میں اب مزید یہاں کام نہیں کرنا چاہتا، مجھے نہیں بدلنی دنیا اپنی، میں ایسے ہی خوش ہوں۔“ وہ جو آج استعفیٰ دینے آیا تھا، اپنا مطلب کہہ گزرا۔

” وجہ جان سکتا ہوں…….. ویسے مجھے لگتا ہے کہ میں بہت کچھ جانتا ہی ہوں…….. بہت پاپر بیلے ہیں میں نے زندگی میں…… شروع دن سے چھٹی حس کہہ رہی ہے تمھارا آنا کوئی اتفاق نہیں تھا…… جانا چاہتے ہو چلے جانا مگر حقیقت بتا کر جاسکتے ہو یہ شرط ہے……. “ وہ چال چل رہے تھے۔

” صاحب جی ! رازدار سمجھ کر جانے دو…… “

” تم کہہ کر سمجھو میں بھول گیا…… بلکہ ایک کام کرو کہانی میں تمھیں سناتا ہوں اس کی فقط تصدیق کر دینا۔“

” گلام دین بے قصور تھا عمارہ نے جان بوجھ کے اسے کام سے فارغ کروایا تاکہ تمھاری جگہ بن سکے، تمھیں موقع کے مطابق سیٹ کیا گیا اور پھر تمھیں اس گھر میں لایا گیا….. یہی بات ہے نا اصل……؟ “ پرسوچ نگاہوں سے اندر تک جھانکا گیا ۔

” جی صاحب…… “وہ نظریں جھکا گیا۔

” ہممممممم ٹھیک ہے تم جا سکتے ہو……… یہ میں خود پتہ لگا لوں گا کہ تمھیں لانے کے پیچھے مقصد کیا تھا۔“ ایک طرح سے یہ بات دھمکی لگی۔

” سنو ایک بات……. تمھارا بیٹا کراچی یونیورسٹی میں ہاسٹل میں پڑھتا ہے مل لینا جا کے اس سے مگر ابھی نہیں……. میرا کارڈ ہے نا تمھارے پاس جب میں کال کروں تمھیں تب……. مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے بس ابھی……… اگر تم اس سے ملنے گئے میرے منع کرنے کے باوجود تو اس بات کا خیال رکھنا کہ ابھی اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے……. “

وہ حیران پریشان سا تھا مگر پھر گاؤں جانے کے لیے کھڑا ہوچکا تھا، سوال کرنے کی ہمت جو نہیں تھی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ڈید یہ کیا چکر ہیں، وہ مرتے مرتے اپنی بیٹی میرے گلے سے باندھ گئے کوئی ایسا کرتا ہے کیا…… مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے اس بےکار لڑکی میں ڈیڈ، یو نو دیٹ……. “ اتنے دنوں بعد آج اکبر علی کے انتقال کے بعد سلطان نے اپنا منہ بالآخر کھول ہی لیا۔

” ایسے مت کہو بیٹے، وہ واقعی بہت پیاری بچی ہے اور تم اتنے روڈ کیوں ہو رہے ہو….. وہ ہمارے گھر میں رہے گی تمھارے سارے کام کرے گی تمھارے لیے ہی تو آسانی ہے نا کیونکہ جس لڑکی سے تم شادی کروگے اس نے تو گھر کا ایک کام نہیں کرنا یہ بات تم بھی اچھے سے جانتے ہو……… میں تمھیں لالچ دے رہا ہوں اس لیے میری بات پر غور ضرور کرنا…….. اور ایک بات یا درکھنا اصل میں تو میں اس لڑکی کو اس گھر میں ہی رکھو ں گا پھر اگر تم اسکو اپنی زوجیت میں نہیں رکھنا چاہتے تو میرے پاس اور راستے بھی ہیں, یاد رکھنا…….. “

سلطان نے خاموشی تو سادھ لی مگر دل ہی دل میں اس نے اپنے ابا کی بات سے اتفاق بھی کیا اور پھر اچانک ہی اس کا فیصلہ بدل گیا مگر…….. مگر ایک عورت دوسری عورت کو اتنی آسانی سے برداشت نہیں کر پاتی یہاں بھی کچھ یوں ہی ہونا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” صاحب جی کوئی نورالعین نام کی عورت ہے جس سے بی بی جی رابطہ میں ہیں……. فون کال پر کیا باتیں ہوتی ہیں وہ تو آپ پتہ کروا سکتے ہیں کیونکہ اس عورت نے ایسے سِسٹم بنائے ہوئے ہیں کہ کوئی عام بندہ ان کی بات تک نہیں پہنچ سکتا اور باقی ملاقات ان دونوں کی ہمیشہ اکیلے ریسٹورنٹ میں ہوتی ہے اور وہاں اس عورت کی پہنچ کی وجہ سے کوئی اندر نہیں جاسکتا جب تک وہ دونوں وہاں موجود ہوں…… اور وہ کھانا بھی کچھ آرڈر نہیں کرتی بس آتے ساتھ ہی کافی لیتی ہیں دونوں ایک کپ………. “ گلناز نے تمام تفصیلات مرتضیٰ حسن کو بتا دیں اور اپنی رقم وصول کر کے گھر کو ہولی….. جب کہ مرتضیٰ حسن اپنے ماضی سے کسی نورالعین کو ڈھونڈنے میں مصروف ہوگئے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” یہ دیکھ احمد کے ابا……. لے آئی میں پیسے،اب جاتی ہوں اسے لے کے ہسپتال، تو جب تک سو جا آرام کر لے، آکر پھر میں تجھے کھانا دوں گی۔“

” ہاں لے جا…… اس کی لاش کو ہسپتال لے جا کر غسل دلوا دے، میں تو اس کو نہ غسل دینے جیسا ہوں نہ کندھا…… اور یہ جو پیسے تو کما لائی ہے نا ان سے اس کی اب سونے کی قبر بنوانا…… سمجھ رہی ہے نا میری بات…. “ وہ پتھر بنا کہہ رہا تھا۔

” تو….. تو کیا کہہ رہا ہے یہ…….. لاش، سونے کی قبر…… یہ سب کیسی باتیں کر رہا ہے تو…. “.

” حقیقت……. حقیقت بول رہا ہوں تجھ سے……… تجھے کیا لگا تھا کسی کا گھر برباد کر نے میں حصہ ڈال کر تو اپنے بیٹے کی زندگی آباد کر دے گی…… پھر دیکھ لے ہوگئی ہے آباد تیرے بیٹے کی زندگی مگر دوسرے جہان میں اور ہماری زندگی اب ویران ہوگئی ہے ہمیشہ کے لیے……… اتنی مشکل زندگی کے بعد بھی گلناز تو آخر کیوں نہیں سمجھ پائی کے دوسروں کے راستے میں پتھر ڈال کے اپنا راستہ نہیں بنتا، بندہ جو گڑھا اپنے لیے کھودتا ہے وہ آپ پہلے اس میں گرتا ہے…… آخر کیوں نہ سمجھ پائی تو یہ بات….. “ اور گلناز وہ تو بالکل اپنی جگہ جم سی گئی تھی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا انجام اتنی جلدی بھی اس کے سامنے آکر کھڑا ہو سکتا ہے۔ہم بھی نہی سوچتے اکثر ضمیر جب گناہ کرنے سے روکتا ہے تو ہم بھی سوچتے ہیں کہ ابھی گناہ کر لیتے ہیں پھر توبہ بھی کر لیں گے، بھول جاتے ہیں کہ خالق اگر رحیم ہے تو وہ قہار بھی تو ہے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” اسلام علیکم گلام دین ! ایک کام ہے تم سے، مگر تمھاری وفاداری درکار ہے، آج شام میں آکر آفس میں ملو مجھ سے….. “ مرتضیٰ حسن نے کمزوری کو طاقت بنا کر راستے بنانے چاہے یہ ایک وہ کام تھا جس میں اب تک وہ استاد بن چکے تھے۔

” صاحب بندہ حاضر ہے……“گلام دین تو جیسے موقع کے انتطار میں تھا فوراً ہی وقت پر پہنچ چکا تھا۔

” مجھے پتہ چلا ہے کہ تمھارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اس دن تمھاری غلطی نہیں تھی…… تمھیں ٹریپ کیا گیا تھا…….. “ وہ اس سے اگلوانا چاہتے تھے۔

” صاحب جی پرانی باتیں کرید کر کچھ حاصل نہیں آپ آگے کا بتائیں….. مجھے کام کی بہت ضرورت ہے میرے بچے رل جائیں گے صاحب جی…. “ وہ بھی ان کے ساتھ کام کر چکا تھا جانتا تھا منہ کھولے گا تب بھی پھنسے گا اور اگر خاموشی سادھ لی تو بھی اگے کھائی ہے اس لیے بات بدل گیا۔

”ٹھیک ہے کام یہ ہے کہ کسی کو بھی بتائے بغیر میرے لیے تم کام کرو گے اور عمارہ کا پیچھا کرنا ہے، وہ ہفتے کو دوپہر میں فلاں ریسٹورنٹ جائے گی تمھیں پتہ کرنا ہے وہ وہاں جاتی ہے یا نہیں۔“

” بہتر صاحب…… کام ہوجائے گا۔“

” جا سکتے ہو….. معاوضہ کام کے بعد مل جائے گا… “ ملازمہ کی بات کی تصدیق کرنا آگے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے. بہت ضروری تھا ۔ اس لیے انہوں نے گلام دین کے ذمہ یہ کام لگایا ۔اور پھر گھر کے لیے نکل گئے جہاں عمارہ ان کا کھانے پر انتظار کر رہی تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *