Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 26)
Rate this Novel
Nasha (Episode 26)
Nasha by Aiman faisal
” اسلام علیکم ! کیسی ہیں میم آپ؟؟ “ وہ آنکھوں سے سن گلاسز ہٹاتے ہوئے وہاں رکھی کرسی پر براجمان ہوئی۔
” آج بچیوں ںسے ملنے نہیں آئی میں یہاں آپ کے پاس……… بلکہ ایک بچی کو لے جانے آئی ہوں۔مریم…….. نام ہے اسکا۔
” جی جی میم……. میں ابھی بلواتی ہوں۔“پرنسپل بات کچھ سمجھ نہ سکیں مگر اندر ہی اندر بہت خوش ہونے لگیں کیونکہ کوئی امیر کبیر عورت ان کے ہاں سے اگر کوئی لڑکی کو لے جارہی ہے تو لازمی وہ بہت کچھ دے بھی جائے گی ۔
” اسلام علیکم ! میڈم “ آمنہ بلاوے پر پرنسپل کے آفس آچکی تھی اور شاید وہ فیصلہ بھی کر چکی تھی اسی لیے میڈم کو دیکھ کر بالکل مطمئن تھی۔
” وعلیکم السلام ! ہمممممم تو امید ہے تم نےاب تک فیصلہ کر لیا ہوگا……. پھر کیا جواب ہے تمھارا…؟؟ “ وہ جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھے گئی۔
” میں……. میں سامان پیک کر لوں میڈم جی؟؟ “ عجیب کشمکش کا شکار تھی وہ…. دل تھا کہ جانے کے لیے مچل رہا تھا مگر دماغ الارم بجا رہا تھا کسی طوفان کے آنے کا…… اور پھر جیت دل کی ہوئی…… دل ہی کی تو جیت ہوتی ہے ۔
” یہاں کے سامان کی تمھیں ضرورت نہیں ہے اب….. بس فوراً دستخط کرو اور آکر گاڑی میں بیٹھو میں تمھارا انتطار کر رہی ہوں……. اور ہاں ذرا جلدی کرنا میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے.. “ پھر وہ کہہ کے رکی نہیں وہ تو فوراً ہی چل دی وہاں سے۔







” ہیلو ثناء ! بات تو سنو میری ہیلو…… “ سلطان جس لڑکی سے محبت کرتا تھا اس کا نام ثناء تھا اور پانچ سال تک عینی کو اور ان کے درماین رشتے کو اس نے ثناء سے چھپائے رکھا مگر آج جب ابا کے حکم پر وہ عینی کو لے کر اس کی دوائی لینے ڈاکٹر کے پاس لے گیا تو راستے میں ثناء، نے آج ان دونوں کو ساتھ دیکھ لیا کیونکہ وہ سلطان کے گھر اس سے ملنے ہی آرہی تھی ۔
” اف اف اف…….. سب ڈیڈ کی وجہ سے ہوا ہے سب ، آخر وہ میرا اس لڑکی سے پیچھا کیوں نہیں چھڑوا دیتے چاہتے کیا ہیں وہ آخر……. “ ثناء نے اسےخوب باتیں سنا کر فون بند کر لیا تھا اور وہ اس وقت اپنا سر پکڑ کر بیٹھا تھا ۔








” ہیلو گلزار ! پتا لگاؤ ابھی اسی وقت وہ لڑکی جو سلطان کے ساتھ تھی وہ کون ہے……. اور ذرا جلدی کرنا مجھے فوراً تمام معلومات چاہیں ۔“ ثناء جو ایک بہت بڑے بزنس مین کی بیٹی تھی، راستے سے آفس آکر اس نے فوراً سلطان پر انویسٹیگیشن شروع کر دی۔
” میم آپ کے گھر سے کال آئی ہے، وہ کہہ رہے ہیں آپ کے پارلر جانے کا وقت ہوچکا ہے۔“ ثناء کی آج منگنی تھی….. ہاں واقعی اسی ثناء کی جو سلطان کی جائیداد کے پیچھے اسے پاگل بنا رہی تھی وہ بھی پچھلے چھ سالوں سے مگر اب اسے کھیل ہاتھ سے نکلتا ہوا محسوس ہورہاتھا۔








” گل حسن صاحب ! کیسے ہو جی ؟“ میں تو بالکل ٹھیک پر آپ کون……معاف کیجیےگا میں نے آپ کو پہچانا نہیں…… “ وہ اپنے گھر جا رہا تھا ہمیشہ کے لیے شہر چھوڑ کر، مگر اس انجان نے اسے راستے میں ہی روک لیا۔
” پہلی دفعہ مل رہے ہو تو کہاں سے پہچانو گے، وہ میں…….. میں آپ کی میڈم عمارہ کا بہت پرانا جاننے والا ہوں، بتا سکتے ہو وہ اب بھی وہیں ہوتی ہیں جہاں پہلے ہوا کرتی تھی اپنے ابا کے پاس یا پھر کہیں اور…….. “ وہ شخص شکل سے تو اچھا خاصا بوڑھا لگتا تھا مگر آواز میں کچھ خاص لچک نہ تھی اس کی ایسال محسوس ہوتا کوئی بہت ہی خوبرو جوان بات کررہا ہو……. کچھ تو الگ تھا اس بندے میں کچھ مصنوعی سا……..
” ابا………. نہیں جی ابا کے پاس تو نہیں ہوتی اب وہ…. انکے ابا کا تو بہت پہلے انتقال ہوگیا، وہ تو اب اپنے گھر ہوتی ہیں…….. ماشاءاللہ سے ان کی اب شادی ہوچکی ہے بلکہ ان کا تو ایک جوان بیٹا ہے۔“ الجھا گل حسن سوالوں کے جواب دیتا گیا۔
” اچھااااااا…….. انکل جی کا انتقال ہوگیا… مگر کیسے؟؟ “ اس کے مطلب کی کہانی تک وہ پہنچ رہا تھا۔
” آپ کو نہیں پتہ کچھ بھی…….. یہ تو بہت پرانی بات ہے صاحب جی….. جب وہ گاؤں میں رہتے تھے تب کی….. “ گل حسن کی چھٹی حس اسے کچھ خبردار کرنے لگی۔
” ہاں یہ تو جانتا ہوں وہ لوگ گاؤں میں رہتے تھے، اسی لیے تو تمھیں جانتا ہوں اور تمھارے پاس ایا ہوں…….. مگر اُس وقت میں دوسرے شہر چلا گیا تھا پھر ان لوگوں ںسے رابطہ ہی نہ ہوسکا اب تمھارا پتہ لے کر اس گاؤں تک پہنچا ہوں…… خوب ہوگا اگر تم مجھے ان لوگوں کی خبر دے دو میں ملنا چاہتا ہوں ان سے یہاں ان کے علاوہ میرا اور کوئی نہیں ہے. “ اس شخص نے گل حسن کو صحیح اپنی باتوں کے چنگل میں پھنسا لیا تھا اور وہ اتنا زیادہ ان میں گم ہوا کہ اس کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ اس غریب کا پتہ آخر کس نے اس بوڑھے کو دیا ہوگا۔
” وہ جی صاحب جی……… کافی سال پہلے میاں جی کے گھر پر کچھ ڈاکوؤں نے حملہ کر دیا تھا اور انہیں اور ان کے بیٹے کو مار ڈالا تھا اور ان گھروالی کو بہت زیادہ زخمی کر کے چلے گئے تھے بیچاری بہت تڑپ کے مری ہے جی…… اور پھر بیٹی کو اغوا کر کے وہاں سے لے گئے تھے پھر ناجانے کیا ہوا……… اب اتنے سالوں بعد بی بی جی گاؤں ائی تھی ہمارے پاس تب ہمیں پتہ چلا کہ وہ تو زندہ ہیں اور پھر انہوں نے مجھے اپنے گھر کام پر رکھ لیا تو پتہ چلا وہ تو اب گھر والی بن گئی ہیں اور اتنا وڈا سا گھر ہے ان کا خوب جی اور ایک جوان بیٹا بھی ہے پورے قد کا……… یہ…… یہ ان کے گھر کا پتہ ہے جی آپ یہاں چلے جانا تو آپ کی ملاقات ہوجائے گی ان سے۔“ اس نے مرتضیٰ حسن کا دیا ہوا کارد نکال کر اس بوڑھے کو تھما دیا یہ بھی نہ سوچا کہ پرانا جاننے والا، عمارہ سے کیوں ملنا چاہتا ہے اس کی امں یا ابا سے کیوں نہیں……… خیر گل حسن تو ساری معلومات دے کر گاؤں کے راستے ہو لیا ۔اور وہ بوڑھا وہ وہاں کھڑا کچھ سوچ رہا تھا۔








” جی مام ! آپ نے بلایا مجھے…… “ ہاں اسامہ میں نے ہی تمھیں بلایا تھا ۔……… ایک کام کرنا ہے تمھیں میرا اس کے بعد تم………… تمھیں رابیل سے شادی کرنے کی اجازت ہے میری طرف سے…. “ وہ ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پہ رکھ کے بہت شان سے بیٹھی کافی پی رہی تھی جب اسامہ اس کے پاس حاضر ہوا۔
” سیرئیسلی ماما…… “ اسامہ جو پچھلے تین دن سے ضد لگائے بیٹھا تھا کہ وہ شادی کرے گا تو اپنے دوست رابیل سے کیونکہ وہ باہر سیٹل تھی امریکہ میں اور وہ بھی اس کے ساتھ باہر جا کر اپنا شاندار مستقبل چاہتا تھا۔
” جی بیٹے۔“ اجازت ملنے پر تو اسامہ ہر کام کر نے کو تیار تھا، اس کام کے لیے بھی راضی ہوگیا۔کام کی تفصیلات جانے بغیر…..
