Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 09)
Rate this Novel
Nasha (Episode 09)
Nasha by Aiman faisal
” میری کہانی سننی ہے نا تم نے، پھر سن لو آج…… “
” میرے ابا مرتضیٰ حسن ایک نامور کمپنی کے واچ مین کے بیٹے تھے یہ لوگ آپس میں3 بہن بھائی تھے، دو بہنیں اور ان کا ایک بھائی مرتضیٰ ۔ ان لوگوں نے کبھی اپنی زندگی میں آسائشات نہیں دیکھی تھیں، گوشت تو ان کے گھر تہورا کے تہوار ہی بنتا تھا باقی کے تمام دن تو یہ دال سبزی پہ ہی گزارا کرتے تھے، میرے ابا سے ایسی زندگی نہیں گزاری جا رہی تھی، وہ روز روز کا اپنا دل نہیں مار پا رہے تھے، اور پڑھائی میں تو ان کا بالکل دل لگتا ہی نہیں تھا پھر انہوں نے گلی کے آوارہ لڑکوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا اور ان سے انہیں کے طور طریقے سیکھنے شروع کر دیے اور مزے کی بات بہت جلد اپنا بھی لیے وہ ہر کسی سے بد تمیزی سے پیش آنے لگے اسطرح وہ ایک ایسا بدتمیز اور ہڈدھرم بچہ بن گئے کہ انہیں کوئی کچھ کہنے سے پہلے دس بار سوچتا کہ بدلے میں زبان درازی ملے گی اور پھر آہستہ آہستہ انہوں نے اپنے دوستوں سے کمائی کے ذرائع بھی سیکھ لیے اب چاہے وہ صحیح طریقہ ہو یا نہ ہو انہوں نے ہر طریقے سے جو خاص کر shortcut ہو کمانا شروع کر دیا اور پیسہ بنانا شروع کر دیا اور پیسہ بھی بہت………. وہ اپنے اس نشہ میں مشغول رہے اور دادی امی اپنا وقت آنے پر وفات پاگئیں اور میری پھوپھیوں کی تو شادی ہو ہی چکی تھی، اب دادا ابو کی کل کائنات میرے ابا ہی تھے وہ انہیں بہت سمجھاتے مگر ابا ہر دفعہ انہیں جھڑک کر خاموش کرا دیتے تھے۔








سمجھ نہیں آتی وفا کریں تو کس سے کریں وصی
مٹی سے بنے یہ لوگ کاغذ کے ٹکروں پہ بک جاتےہیں
” مرتضیٰ بیٹا ! یہ غلط ہے سب تم جو بھی کر رہے ہو سب غلط ہے میرا بچہ، یہ سب تم کو ایک دن ختم کر دے گا، تباہ ہوجاؤ گے، اتنے اندھے مت بنو کہ واپسی کا راستہ ہی نہ بچے۔“ بیمار اور ضعیف والد انہیں اکثر سمجھاتے رہتے مگر بدلے میں مرتضیٰ انہیں جھڑک دیتے۔
” ابا ! آپ تو بس ہمیشہ ایسی ہی باتیں کیجیئے گا خود تو ہم کو کبھی زندگی میں کچھ دے نہ سکے اور اب جب میں اتنا آرام دے رہا ہوں آپ کو تو میرے آرام سے بھی کوئی خوشی ہی نہیں ہے آپکو کبھی جو دعا ہی دے دی ہو آپ نے مجھے، الیکشنز ہیں جیتنے کے امکانات ہیں میرے وزیر خارجہ بننے والا ہوں میں مگر آپ ہمیشہ کی طرح میری کامیابی سے خوش ہونے کے بجائے مجھے درس ہی دے رہے ہیں، آپ سے بات کرنا بلکہ آپ کے پاس بیٹھنا بھی فضول ہے ۔“
مرتضیٰ ہمیشہ کی طرح اپنی دھن میں بہت کچھ کہہ گئے اور ان کے ابا کو ہمیشہ کی طرح روتا چھوڑ گئے۔یہی تو ہم کرتے ہیں جب جوان ہوجاتے ہیں تو بھول جاتے ہیں ان ماں باپ کی قدروقیمت جو ہم سے بغیر معاوضے کے بےلوث محبت کرتے ہیں ۔ جن کے احسانوں کا کبھی بدلہ نہیں چکا سکتے ان پر ہی رعب جمانے لگتے ہیں، بدتمیزی کرنے لگتے ہیں ہم۔








” وہ کہتے ہیں نا اسامہ کے اولاد ماں باپ کا عکس ہوتی ہے یا پھر یہ کہتے ہیں کہ آپ کی تربیت آپ کی سوچ سب کچھ آپ کی اولاد میں نظر آتا ہے یا پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کے گناہ کی سزا آپ کو اپنی نافرمان اولاد کی صورت میں بھگتنی پڑتی ہے……. “
” میں تمھیں بتاؤں سب غلط کہتے ہیں…… سب کچھ ۔ایسا کچھ نہیں ہوتا ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے اور انسان کیسا ہے وہ اس کے اپنے اوپر منحصر ہوتا ہے اسکے ماں باپ کی تربیت پر نہیں، مگر لوگ ماں باپ کو ہی ہمیشہ پلڑے میں لاکر کھڑا کر دیتے ہیں یہ جانے بغیر کہ ان ماں باپ نے اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کو پروان چڑھانے میں کیا کیا قربانیاں دی ہیں ۔“
” ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ ماں باپ نے ساری زندگی نیکیوں میں گزاری ہو تب بھی اولاد فرمانبردار، ہیرا نکلے، اب نوح علیہ السلام کی مثال ہی لے لو نا وہ تو اخلاق کے اعلیٰ درجے پر تھے نا، انسانوں میں سے بہترین انسان تھے پھر بھی ان کی اولاد ان جیسی تو نہ نکلی، اس دنیا میں بھی ایسا ہوتا ہے کبھی کبھی بہترین تربیت، ماں باپ کی اچھائی، قربانیاں سب کی سب چیزیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔میرے دادی دادا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا، میرے دادا……… میرے دادا ایک بہت اچھے انسان تھے اسامہ مگر بابا……. بابا ان کے بالکل الٹ نکلے، میرے بابا کو پیسے کی ہوس کھا گئی اور اس ہوس میں وہ عزت، احترام رشتوں کا تقدس سب کچھ کھو بیٹھے ۔“
” جانتے ہو میری امی بھی ایک غریب گھر کی بیٹی ہیں اور میرے بابا نے ان سے شادی بھی جان بوجھ کے کی تاکہ وہ کبھی بابا کے آگے سر اٹھا کر نہ جی سکیں اور ایسا ہی ہوا بلکہ اب تک ہورہا ہے ۔“







” اور سنو ! ان کی شادی کے بعد فوراً ہی میری پیدائش ہوگئی اور ابا کو میں ہی تو چاہیے تھا بیٹا پہلے دن سے سمجھتے ہو بالکل پہلے دن سے انہوں نے مجھے شہزادوں کی طرح رکھا ہے کبھی ایک آنچ بھی نہیں آنے دی اور پھر جب میں پانچ سال کا ہوا تو مجھے یاد ہے امی کی طبیعت خراب رہنے لگی تھی جانتے ہو کیوں…… کیونکہ میرا کوئی بہن یا بھائی آنے والا تھا مگر اب میرے باپ کا سفاکی کا دور شروع ہوچکا تھا وہ اتنا آگے نکل چکے تھے کہ اب انہیں اور بچے بھی نہیں چاہیے تھے اور اسی لیے زبردستی انہوں نے امی کا ابورشن کروادیا میری ماں اس وقت بہت تڑپی تھی بہت منتیں کی تھیں انہوں نے ابو کی مگر بابا نے ان کی ایک نہ سنی اور سب ختم ہوگیا ۔“
” پھر اس کے اگلے سال میری پھوپھو کی طبیعت بہت خراب ہو گئی اتنی کہ ان کے پاس زندگی کے آخری چار پانچ دن رہ گئے تھے اور یہاں بھی ابا نے چکر چلایا ان کی بیٹی کا مجھ سے نکاح پرھوا دیا گیا اور پھر پھوپھو کی وفات کے بعد سے آج تک ایک دفعہ بھی بابا نے یہ تک جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ اب کیسی ہے کہاں ہے کچھ بھی نہیں اور نہ امی اور مجھ میں سے کسی کو کسی بھی رشتہ دار سے ملنے کی اجازت ہے، ہر جگہ ابا کے گارڈز ہم پر نظر رکھے ہوئے ہوتے ہیں ہر جگہ ۔“
” وہ لڑکی جس سے میں آج کل مل رہا ہوتا ہوں نا وہ آمنہ ہے، میں نے اسی لیے اس ہاسٹل میں ایڈمیشن لیا کیونکہ میں فیسبک پر آمنہ کو ڈھونڈ چکا تھا اور وہ بچپن سے پڑھائی کی شوقین ہے مجھے یقین تھا وہ آگے ضرور پڑھ رہی ہوگی اور مجھے اندازہ ہے ان کے حالات کا اس لیے مجھے اس بات کا اندازہ بھی تھا کہ وہ ہاسٹل میں ہی رہ رہی ہوگی مگر کنفڑم نہیں تھا کچھ بھی اس لیے میں نے ایک رسک لیا اور یہاں ہاسٹل میں ایڈمیشن لے لیا اور پہلے دن ہی اسمبلی میں وہ مجھے دِکھ گئی تھی۔“
” یہ تھی میری کہانی ۔“ زین نے بات ختم کر کے پانی کی پوری بوتل پی کہ خالی کر دی۔وہ اپنی طرف سے اپنی کہانی مکمل کر چکا تھا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ کہانی تو ابھی شروع ہوئی تھی اور کہانی تو کچھ اور ہی تھی، اس نے خود ابھی بہت کچھ جاننا تھا جو وہ آج تک نہیں جانتا تھا۔







” مگر یہ بتاؤ جیسے لوئر مدل کلاس لوگوں کے ساتھ روم شیئر کرنے کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ “ اسامہ کے ذہن میں اب بھی کئی سوال تھے۔
” یہ کہ تم لوگ مجھے اور میرے ابا کو نہیں جانتے اگر میں اپنی کلاس کے کسی لڑکوں کے ساتھ رہ رہاہوتا تو وہ لوگ مجھے اچھے سے پہچانتے ہوتے پھر ان کے ساتھ دوستی کرنا بھی مشکل اور آمنہ تک رسائی تو اور مشکل کیونکہ ان میں سے کوئی بھی میرے ابا کو مخبری کر سکتا تھا اب یہ فائدہ ہے کہ چھوٹا سمجھ کے کوئی دھیان نہیں دیتا ۔“
” اب آگے کا کیا پلان ہے، آمنہ سے شادی کیسے کروگے؟ “ اسامہ نے ساری بات ہضم کر کے اس سے آگے کا پلان پوچھا ۔
” میں نے کچھ نہیں سوچا ہے بس یہ اندازہ کر رہا ہوں کہ حالات کیسے ہوسکتے ہیں اس کی پلاننگ کر رہاہوں، مجھے صرف اتنا اندازہ ہے کہ جب ابو کو پتہ چلے گا تو وہ مجھے گھر سے بھی نکال سکتے ہیں اور جائیداد سے بھی عاق کر دیں گے اس لیے میں نے جاب اسٹارٹ کی ہے اور پھر مجھے جلد از جلد پیسے جمع کر کے ایک گھر لینا ہے ۔“
” زین ! دیکھو مائنڈ نہ کرنا مگر جو ساری باتیں تم نے بتائی ہے نا تمھارے ابو کے حوالے سے تو یقین مانو وہ پتہ چلنے پر کچھ بھی کر گزریں گے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں، میری مانو تو آج ہی آمنہ کے ساتھ یہ ملک چھور دو ۔”
” اور بابا تمھیں لگتا ہے ملک سے باہر نہیں آ سکیں گے؟ “
” پھر کیا کروگے تم؟ “
” اسامہ آج مجھ سے ایک وعدہ کرو ابھی اسی وقت…….. “
