Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 22)
Rate this Novel
Nasha (Episode 22)
Nasha by Aiman faisal
مقدس زمان خان آج مقدس ضیاء بن چکی تھی، اس ضیاء کی دلہن جس کی ما ں بیمار بستر پر پڑی رہتی جو گاؤں میں رہتا تھا اور فصلیں کاٹ کاٹ کر خود کھانا بنا بنا کر اپنے اور امی کا پیٹ بھرتا تھا، نکاح کی بعد شروع کے دن تو بڑے بھاری تھے ان پر….. ایک تو مقدس کے ابے کا ڈر تھا دوسرا کام کاج کی فکر……..
مگر کہتے ہیں نا کہ نکاح کرو غنی ہوجاؤ گے تو وہ واقعی غنی ہوگیا اس کی دلہن واقعی اپنا بہترین نصیب لے کر اس کے آنگن میں اتری تھی،………..پھر سال بھر میں ایک ننھی پری ان کے آنگن میں اتر گئی اور ان کے ہاں رحمتون کی برسات سی ہوگئی اور پھر کچھ ضیاء اپنی محنت سے اور کچھ اپنی تعلیم سے اتنا آگے بڑھا کہ تین سالوں میں کھیت کی ایسی سمجھ بوجھ ہوئی اسے پھر وہ دوسروں کو اونچ نیچ سمجھا کر بھی کمانے لگا اور پھر اسکا نام میاں جی ٹھہر گیا سب اسے میاں کہہ کر پکارنے لگے اب گاؤں میں میاں کی خوب واہ واہ تھی……. اور کسی کو اسی وقت کا خوب انتظار تھا اور اب بازی الٹنی تھی………..







مرتضیٰ حسن جب سے استاد کے پاس آیا تھا استاد نے اسے اپنے پاس رکھ لیا تھااور اسے تمام اونچ نیچ سکھانی شروع کر دی تھی اس کے اندر کی لگن دیکھ کر اس پر توجہ زیادہ دی جاتی جو دوسرے استاد کے بندون سے برداشت نہ ہوتی۔
” صاحب جی…… اس بندے پر اتنا لگا رہے ہو، جو یہ سب چھوڑ کر بھاگ گیا پھر….. “
” بھاگنے کے لیے ٹھکانہ چاہیے، اس کے پاس کچھ نہیں ہے اور جو کام اس سے لینا ہے وہ اور کوئی نہیں کرسکتا…… اور تو منہ بند کر کے اپنا کام کر بس۔“
” اس کے ہاتھ اس کام میں ڈالنے ہیں کہ کوئی اور اس قابل نہیں…….. جب تک یہ تیار ہوگا تب تک اس کام کا وقت آجائے گا……“
” دنیا دیکھے گی پھر مجھ سے دغا کرنے والے کا انجام، مجھ سے بازی لینے کی کوشش کا انجام…….. “ پر سوچ انداز میں کہا گیا۔
” تو ٹھیک سے پاؤں دبا، دم خم نہیں ہے کیا تیرے ہاتھوں میں…….. “








” ابا اتنے دن ہوگئے ہم چاچے کے گھر نہیں گئے………. چلو نا چاچے کے پاس جاتے ہیں ابا…….. “ وہ معصوم سی لڑکی آج ایک معصوم سی خواہش کر رہی تھی۔
” دھی رانی……… ایک بات آج سن لے اور اچھے سے سمجھ بھی لے……… ہم اب کبھی حسن کے گھر نہیں جائیں گے……… “
” مگر کیوں ابا…….. وہ…. وہاں مرتضیٰ ہوتے ہیں وہ…… وہ بہت اچھے ہیں ابا میرے دوست ہیں میں نے ان سے ملنا ہے یاد آتی ہے ان کی…… “ وہ روہانسی ہوگئی۔
” مرتضیٰ نہیں ہے اب وہاں وہ جا چکا ہے ہمیشہ کے لیے…… “اس کے باپ نے اب بھی اس کے لہجے سے اس کی بات کا مطلب نہ سمجھا وہ سمجھتا کیسے اس کے تو ذہن میں کبھی ایسا کچھ تھا ہی نہیں۔
” نہیں ابا…… وہ… وہ ایسے کیسے جا سکتے ہیں……. میں نے تو ان سے شادی کرنی تھی ابھی بڑے ہوکر ان کے ساتھ رہنا ہے……… “ یہ بچی ہی تھی مگر دن میں ابا کے آفس جانے پر پڑوس والوں کے پاس رہ کر ڈرامے دیکھنے سے اسے اتنی سمجھ ضرور آگئی تھی کہ جب کوئی اچھا لگتا ہے تو اس سے شادی کی جاتی ہے۔
” کیا بکواس کر رہی ہے تو……… جھلی ہوگئی ہے کیا، کہاں سے سیکھا تو نے یہ…… “کھانا پکاتے ابا کا تو یہ بات سن کر دماغ ہی گھوم گیا مگر وہ شفیق باپ تھا ہاتھ نہیں اٹھا سکتا تھا بلکہ اس نے پس منظر جاننا چاہا اور پھر ڈرامے والی بات سن کر اسے ایک بار پھر اپنی بیوی بہت یاد آئی۔
” میرا بچہ ایسا نہیں ہوتا……. یہ سب گندی باتیں ہیں یہ نہیں بولتے اور اب چھوڑ یہ سب چل اپنا بستہ نکال پڑھائی کر بیٹھ کر…… “ ایک غمگین انسان آج خود کو بہت بےبس محسوس کر رہا تھا۔








” مر گئی ہے آمنہ، سنا تم نے……؟ “ تھک چکے تھے وہ…… واقعی تھک چکے تھے…… اپنا سب کچھ لگا دیا پیسہ کمانے میں مگر اب جب بیٹھ کر کھانے کا وقت تھا تو گنتی کے دن رہ گئے تھے زندگی کے اور وہ بھی بڑھاپا کے………اور اس، میں بھی یہ سب کچھ……… ایسے حالات
” اسے بھی یقیناً آپ نے ہی مروایا ہوگیا……. آپ انسان ہیں یا درندے… مجھے تو آپ کو اپنا باپ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے……. کوئی اتنا سنگ دل اتنا بےحس کیسے ہوسکتا ہے….. “ زین…….. وہ بہت بے بسی محسوس کر رہا تھا آج……. اور یہ بےبسی ہی تو ہوتی ہے نا کہ بندہ چاہ کر بھی اپنی زندگی کے سب سے تکلیف دہ رشتے کو نکال نہیں سکتا……
” اور کس کو مارا ہے میں نے…… ہاں بتاؤ آمنہ کو بھی میں نے مارا ہے سے تمھاری کیا مراد ہے…… دوسرا کون مرا میرے ہاتھوں؟ اور کس نے تمھارے ذہن میں یہ غلط باتیں بھری ہیں؟ “ وہ تو چونک سے گئے تھے…. آج گھر میں کوئی نہیں تھا آج صرف ان دونوں باپ بیٹے کا دن تھا…….سارے ملازموں کو صبح ہی چھٹی دے دی گئی تھی اور مرتضیٰ کو بتا دیا گیا تھا کہ عمارہ آج گھر پہ نہیں ہونگی۔
” آپ کے لیے یہ اہم نہیں ہونا چاہیے کہ کس نے بتایا، آپ کو صرف یہ پتہ ہونا چاہیے کہ اور لوگ بھی آپ کے راز جانتے ہیں…… اور کس کو مارا ہے آپ نے یہ اپ میرے منہ سے سننا چاہتے ہیں نا تو اپنے باپ کو آپ نے مارا ہے. اپنی بیٹی کو اور اب مجھے بھی مار ڈالیں…….. مار ڈالیں مجھے بھی کیونکہ اب میں بھی تو آپ کے راز جان گیا ہوں نا……. “ وہ غصے سے چلایا۔
” کوئی ثبوت ہے تمھارے پاس……..ہاں میں ترسا ہوا تھا…. ہمیشہ سے بہت ترسا ہوا رہا ہوں…… سسک سسک کر زندگی گزاری ہے میں نے……. تمھارے لیے باتیں کرنا بہت آسان ہے….. جانتے کیا ہو تم مجھے، جو میری زندگی تمھیں ملتی تو ترس کر مر جاتے….. احساس کمتری بھی رہ چکا ہے مجھے مگر ایک بات بتاؤں میں تمھیں زین مرتضیٰ پھر چاہے تم یقین نہ کرو……. میں سب کچھ ہوں بےایمان، گناہگار، سنگدل، بدتمیز، نافرمان مگر……. مگر میں قاتل نہیں ہوں……. کیا تمھیں بتانے والے نے یہ نہیں بتایا کہ مجھے خون سے ڈر لگتا ہے…… “ وہ تکلیف سے زین کا گریبان پکڑ کر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک ایک لفظ کہہ رہے تھے اور ان کا ہر لفظ سچا تھا اور پھر بات ختم کے کے انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور زین، اسکا تو ذہن ہی مفلوج ہوچکا تھا…….. وقت ہی ایسا تھا اس پر………… ماں اور باپ دونوں کی الگ الگ کہانی تھی ناجانے کون سچا تھا ان میں سے…..








” کیا ہوا کیوں اتنا ارجنت بلایا ہے تم نے مجھے؟ “ آمنہ نے کینٹین میں آتے ہی اسامہ کو جھاڑا.
” زین کو گھر بلا لیا گیا ہے…… بات گڑبڑ لگ رہی ہے کچھ…… اس لیے میں نے تمھیں ارجنٹ بلایا ہے کہیں پلان خراب نہ ہوجائے۔“ وہ بہت پریشان سا لگ رہا تھا۔
” ٹھیک ہے میں فوراً میسج کر کے آگے بات کرتی ہوں، تمھیں کچھ پتہ چلے مزید تو انفارم کرنا مجھے لازمی۔“ سکندر جو جوس لینے کینٹین آیا تھا دور بیٹھے اسامہ اور آمنہ کو دیکھ کر اسے یقین نہ آیا مگر یہ دنیا تھی یہاں بہت کچھ ہوتا ہے ایسا جس پر یقین نہیں آیا کرتا۔








” تم نے کہا تھا زین کی پڑھائی مکمل ہونے دوں……. اور بدلے میں میں نے تم سے کہا تھا کہ تم اپنے میاں کو سنبھالو گی، لیکن لگتا ہے تمھاری کچھ زیادہ چلتی نہیں ہے اپنے گھر میں تبھی معاملات خراب ہورہے ہیں ۔مرتضیٰ کو، آمنہ کے بارے میں پتہ چل چکا ہے اور میں نے جلد از جلد اس کا قصہ اب ختم کرنا ہے اس سے پہلے کہ اسے مزید کچھ پتہ چلے…….. تمھیں یہاں اس لیے بلایا ہے کہ تم آگے ساتھ رہنے کا ارادہ رکھتی ہو یا نہیں؟“ اپنی بات ختم کر کے بھاپ اڑاتی کافی سے گھونٹ اس نے لیا۔
” ٹھیک ہے بڑھو آگے مجھے کوئی اعتراض نہیں، مگر ڈیل وہی ہونی چاہیے جائیداد میری ہوگی….. “ اس نے بھی اپنی بات یاد دلانا ضروری سمجھا۔
” مجھے پیسہ چاہیے بھی نہیں. میرا بس ایک ہی مقصد ہےاس نے مجھ سے میرا سلطان چھینا تھا اب میں اس سے اس کی پوری سلطنت چھین لوں گی برباد کردوں گی اسے اور یاد رکھنا ہمیشہ اسے اس کی اپنی ذات نے برباد کیا ہے اس کے اپنے نشہ نے اس نے اس نشہ میں دھت اپنی راہیں ہموار کرتے یہ بھی نہ سوچا کبھی کہ وہ کتنی زندگیاں برباد کر کے آگے بڑھ رہا ہے۔
