Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 27)

Nasha by Aiman faisal

” ویسے مام ! نام کیا ہے اس لڑکی کا…… “ اسامہ نے اپنی ماں کی پلاننگ سن کر سیب کھاتے ہوئے سوال کیا۔

” مریم نام ہے اسکا مگر وہ ایک رول پلے کرنے والی ہے، پہلے بھی بہت سے میرے کام کر چکی ہے اس بار وہ جو رول پلے کرے گی وہ آمنہ بن کر کرے گی، اور تم بھی اسے ابھی تک نہیں جانتے یاد رکھنا یہ بات، میں تم دونوں کی اتفاقی ملاقات کرواؤں گی…… اسے اس بات کا علم بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہمارے بیچ کیا رشتہ ہے سمجھ رہے ہونا تم میری بات…….. “ نورالعین نے اسامہ کو آنے والے وقت کے لیے اچھے سے تیار کیا مگر مقصد……. مقصد اس نے اپنے بیٹے سے بھی مخفی رکھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” میڈم یہ ساری تفصیلات ہیں سلطان کی………. وہ لڑکی جس کے بارے میں آپ نے پتہ کرنے کا کہا تھا وہ سلطان کی بیوی ہے اور ان کی شادی کو پانچ سال ہوچکے ہیں، سلطان کے والد کے دوست نے مرتے وقت اس کے والد سے اپنی بیٹی کی حفاظت کا وعدہ مانگا تھا اور اس وعدے کے تحت سلطان کے والد نے ان دنوں میں ہی دونوں کا نکاح کروا دیا تھا تب سے وہ لڑکی اس گھر میں رہ رہی ہے ۔کل صبح اس لڑکی کی طبیعت کی خرابی کے باعث سلطان اسے لے کے ہسپتال گیا تھا، یہ تمام تفصیلات تھیں ان کی میڈم۔“ ثناء ایک بڑے گھر کی اکلوتی اولاد تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ بہت زیادہ پہنچے ہوئے تھے کسی کا ڈیٹا نکالنا ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

” گڈ جاب……. یہ بتاؤ ذرا سلطان کے والد. احمر انکل کے دوست تھے کون ؟؟ “ ثناء نے اور زیادہ پیچھے جانا چاہا….. اس نے سوچا شاید کہیں سے کوئی کڑی جڑ جائے. اور وہ اپنا کام نکال، سکے دنیا تو آخر گول ہی ہے۔

” میم انویسٹیگیشن سے پتہ چلا ہے کہ ایم ایچ کمپنی کے آنر مرتضیٰ حسن کے چاچا اکبر علی سلطان کے والد کے قریبی دوست تھے یعنی سلطان کی بیوی اس کمپنی کے آنر کی چچازاد بہن ہے ۔“ ایک اور قابلِ ستائش خبر اس تک پہنچا دی گئی۔

“Thats great!”

” اب پلان سنو میرا……مرتضیٰ حسن سے رابطہ کرو ان کو بزنس ڈیل کے لیے بلاؤ اور سلطان…….. سلطان کو کال کر کے کہو کہ وہ اپنی بیوی کو لے کر آفس آئے میں ان دونوں سے ملنا چاہتی ہوں…….. سمجھ گئے…. فوراً کام شروع کرو۔“ وہ حکم دے کر کھیل شروع ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” مجھے رئیس کمپنی سے کال آئی ہے جانا ضروری ہے، تم یہاں سب سنبھال لینا۔“وہ اپنے اسسٹنٹ کو ضروری ہدایات دے کر وہاں سے نکل چکے تھے……. بزنس ڈیلینگز کے سلسلے میں ہونے والی میٹنگز وہ فوراً اٹینڈ کرتے تھے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” نورالعین ! ہوچکی تم تیار…… چلیں ہم؟؟ “ وہ تیار ہو کر اسے لینے اس کے کمرے تک آیا۔میاں بیوی ہونے کی باوجود آج پانج سال بعد بھی ان کا کمرہ الگ تھا۔

” مگر ہم جا کہاں رہے ہیں آپ نے اب تک بتایا نہیں….. “ نور نے سوال کیا۔

” تمھیں لے جانا ضروری نہ ہوتا تو ہر گز نہ لے جاتا، مجھ سے یہ بیکار کے سوال نہ کیا کرو….. کتنی دفعہ سمجھا چکا ہوں تمھیں نہیں پسند مجھے تم سے بات کرنا…… “وہ غصے سے ڈھاڑا۔

” تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے…. کیوں رکھا ہوا ہے مجھے اس قید خانے میں، آزاد کر دیں نا…. “اس کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا۔

” ٹھیک ہے….. ایسا چاہتی ہو تو ایسا ہی سہی، آج آکر تمھارا قصہ تمام کرتا ہوں… “وہ کہہ کر گھر سے باہر جاچکا تھا اور وہ اس سخت دل پتھر انسان کو کھونا بھی نہیں چاہتی تھی اس لیے مزید رونے لگی۔اور ایسی ہی شکل کے ساتھ آکر گاڑی میں بیٹھ گئی۔شاید کے اس کے دل پر کوئی اثر ہو جائے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” سر ! آپ بس پانچ منٹ رکیں آتا ہوں میں ذرا نسوار لے کر….. “ ڈرائیور مرتضیٰ حسن کو گاڑی میں چھوڑ کر گاڑی سے چلا گیا۔

” ٹھاہ ٹھاہ……….“ اور زور سے ایک گاڑی آکر پیچھے آتی گاڑی سے شدت سے ٹکرائی اتنی زیادہ کے روڈ کے بیچ کھڑی مرتضیٰ حسن کی گاڑی بھی اس کی زد میں آگئی اور جو گاڑی ٹکرانے والا تھا وہ بہت ماہر معلوم ہوتا تھا اس اتنے شدت سے ہونے والے حادثے کے باوجود بھی خود کو اور اپنی گاڑی کو جائے وقوعہ سے نکال، کر وہاں سے بھاگ نکلا اور ایسا لگتا تھا کہ اسے کوئی خاص زخم بھی نہیں آیا ۔اور اگر وہ نہ بھی نکلتا تب بھی اس نے اس حادثے میں پکڑے نہیں جانا تھا کیونکہ یہ سب ایک مکمل پلاننگ کے تحت ہوا تھا اور اس میں جس نے پکڑے جانا تھا وہی پکڑا جائےگا…….

البتہ حادثے کا. شکار گاڑی سلطان کی تھی اور وہ اس حادثے میں بُری طرح مارا گیا تھا جبکہ نورالعین شدید زخمی ہوگئی تھی جبکہ مرتضیٰ حسن کی گاڑی پر بہت سے نشانات آئے تھے اور وہ اس حادثے کے پورے پورے مورد الزام ٹھہرائے گئے تھے۔چال چلنے والا ٹھیک بازی لے گیا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

”ہاں بولو کیسے کال کی؟ “ اس نے اپنے اسسٹنٹ کی کال ریسیو کی جس کا اسے پچھلے ایک گھنٹے سے انتظار تھا۔

” میڈم وہ……… ایک بُری خبر ہے…… سلطان صاحب کی کار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے، مرتضیٰ حسن کی کار کے ساتھ اور سلطان صاحب کی ڈیتھ ہوگئی ہے اور ان کی وائف کی ایکسیڈنٹ میں کڈنیز فیل ہوگئی ہیں…….. “

” واٹ؟؟؟ ہسپتال میں فوراً رقم جمع کرواؤ کڈنی ڈونر فورا ملنا چاہیے سلطان کی بیوہ کے لیے…… یہ میری ہدایات ہیں……. اور سنو کوئی غفلت نہیں… “ اس نے دل میں ایک بھرپور قہقہہ لگایا تھا۔

” اور میم مرتضیٰ حسن کا کیا؟ “ اسسٹنٹ نے پوچھا۔

” کون مرتضیٰ حسن…….. اسے ا سکے حال پر چھوڑ دو وہ خود اتنے اسرورسوخ والا ہے کہ اپنا معاملہ دیکھ لے گا…… تم بس وہ کرو جو میں نے کہا ہے۔“ اور یہ کہہ کر اس نے ایک بہترین کافی اپنے روم میں منگوائی کیونکہ وہ اس وقت اپنی خوشی سلیبریٹ کرنا چاہتی تھی ۔سلطان کی موت کی خوشی……. وہ ثناء تھی، اور اسے دھوکہ دینے والے کا انجام موت ہونا تھا، مگر اس نے ان سب میں مرتضیٰ حسن کو کیوں انوالو کیا یہ قصہ ابھی ادھورا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” آپ واقعی جانتی ہیں میرے اماں ابا کو….. “ وہ جس کے چہرے پر آج بھی گاؤں والوں کاسا بھول پن تھا، خوشی سے اس کی آنکھوں میں چمک اتر آئی۔

” ہاں جانتی ہو……. مگر تم ان کے پاس جاؤ گے تب…… جب میرا کام پورا ہوگا….. “

” کوئی مشکل نہیں بی بی جی میں اس بندے……… کیا نام بتایا اس کا آپ نے…. ہاں زین زین مرتضیٰ کی ہر خبر آپ کو دوں گا….. الف تا ی۔“ سکندر کی آنکھوں نے ماں باپ کی محبت کے خواب سجانے شروع کر دہے۔

” بس پھر تیار ہوجاؤ کل سے تم نے بھی اسامہ کے ساتھ جانا ہے، وہیں تمھیں یہ لڑکا مل جائے گا…… “ اس نے کام بتا دیا اور پھر وہ اپنے کمرے میں آرام کرنے چلی گئی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” سنو گلام دین ! جی صاحب سب خیریت ہے اتنی رات کو آپ نے کال کی…… “ گلام دین جو آدھی رات کے وقت نیند کی وادیوں میں گم تھا، مرتضیٰ حسن کی کال آنے پر بوکھلا سا گیا ۔ مگر گڑبڑ یہ تھی کہ نمبر کچھ مختلف سا تھا، خیر اس نے اس بات کو زیادہ اہمیت نہ دی…… بڑے لوگ ان کے لیے کیا مشکل الگ الگ نمبر سے رابطہ کرنا۔

” مجھے کل رات تک کچھ معلومات چاہیے…… “

” حکم صاحب جی؟؟؟ “

” یہ پتہ کرو کے شادی سے پہلے عمارہ کے والد کو کیوں قتل کیا گیا تھا……. ہر ایک معلومات چاہیے مجھے…….. اور ہاں ایک بات……. کل میں تمھیں اسی نمبر پر کال کروں گا تب تم مجھے بتاؤ گے… اس سے پہلے تک تمھیں یہ بات یاد نہیں ہونی چاہیے……. سمجھ رہے ہونا میں نے تمھیں کوئی کال نہیں کی…. “.

” بہتر صاحب…… “ عجیب ماجرا تھا….. ناجانے یہ سب کیا ہورہا تھا ، شوہر جو سب سے زیادہ بیوی کے بارے میں جانتا ہے وہی اس کے بارے میں پتہ لگانے کا کہہ رہا تھا ۔مگر خیر ان چھوٹے لوگوں کو تو ان کی روزی روٹی مل ہی رہی تھی پھر انہیں کیا یہ برگر لوگ جو بھی کرتے پھریں۔اور وہ پھر اپنے اوپر چادر تانے سوگیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *