Nasha by Aiman faisal NovelR50600 Nasha (Episode 07,08)
Rate this Novel
Nasha (Episode 07,08)
Nasha by Aiman faisal
” آج تو لازمی باتھروم پہلے میں جاؤں گا بس میں نے کہہ دیا ہے. “ سکندر نے بستر سے اٹھتے ہی اعلان کیا مگر اسامہ تیر کی رفتار سے باتھروم میں گھس چکا تھا ۔
” کمال کرتے کو یار زین تم بھی کبھی تو میرا بھی ساتھ دے دیا کرو نا اب پتہ ہے وہ کتنی زیادہ دیر لگا کر نکلے گا، ہم تو آج لازمی لیٹ ہو جائیں گے ۔“ اسامہ کے اندر جاتے ہی سکندر نے زین کے کندھوں پر بندوق رکھ کر چلانا شروع کر دی۔
” کچھ نہیں ہوتا سکندر اس نے تمھیں تنگ کرنا ہوتا ہے اور تم تنگ ہو بھی جاتے ہو اسی لیے تو وہ جان بوجھ کر روز تمھیں چڑاتا ہے ایک دن بس ایک دن چڑنا چھوڑ دو پھر دیکھنا ٹرین پٹری پر کیسے آتی ہے۔“ زین نے رازداری سے اسے سمجھایا۔
” وہ سب تو ٹھیک ہے مگر تم کس ٹرین کی بات کر رہے ہو میں تو اسامہ کی بات کر رہا تھا…… “ زین نے سکندر کی بات کے جواب می ںسر ہی پیٹ لیا ۔اسامہ ٹھیک کہتا تھا یہ بغیر دماغ کے پیدا ہوا تھا۔اس نے سکندر کو وہیں چھوڑ کر اپنے کپڑے نکالنے شروع کیے ۔







پورا دن جب گزر گیا اور شام میں جب وہ اسپورٹس کلاسز ختم کر کے فارغ ہوئے تو زین نے گرلز ہاسٹل کی راہ لی۔ اور وہ وہاں باہر دور سے باہر کھڑے ہو کر انتظار کرنے لگا کیونکہ اسے آج ہر صورت میں آمنہ سے ملنا تھا اور اس نے سکندر اور اسامہ کو ضروری کام کا بہانا بنا دیا تھا۔ کچھ دیر انتظار کے بعد بالآخر اسے آمنہ آتی ہوئی دکھائی دی ۔
” اسلام علیکم….. آمنہ ! مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ کچھ وقت مل جائے گا آپ کا۔“ زین نے آمنہ کا راستہ روک کر اسے مخاطب کیا ۔
” کیا دماغ خراب ہے تمھارا مسٹر پاگل تو نہیں ہو ہم کیوں تم سے بات کریں گے لگاؤں تمھاری شکایت پرنسپل کوابھی کیوں ماحول خراب کر رہے ہو یونی کا بلاوجہ…….. “ آمنہ کی دوست اسماء بہت بری طرح زین پر برس پڑی تھی ۔
” رکو اسماء، میں جانتی ہو انہیں تم اندر جاو میں آتی ہوں تھوڑی دیر میں…… “ اس سے پہلے کہ زین اسماء کی باتوں پر شرمندہ ہوکر وہاں سے جارہا تھا کہ آمنہ نے فورا ماحول کو بدل ڈالا اور اب وہ زین کے ساتھ یونی کے کینٹین کی طرف جا رہی تھی۔







” کیسی ہو؟ “ زین کو بات شروع کرنے کے لیے اس کے علاوہ اور کچھ نہ سوجھا۔
” بہت زیادہ جلدی خیال نہیں آگیا آپ کو ؟ “ آمنہ نے بھی خوب سخت لہجے میں جواب دیا۔
” خیال تو ہمیشہ سے تھا مگر پوچھنے کا موقع اب ملا ہے اور اب جب پوچھا ہے تو اب ہی بتا دو….. “ زین اچھا خاصا شرمندہ تھا۔
” ٹھیک ہوں میں…….. مگر آپ یہاں کیسے یہ یونی اور ہاسٹل دونوں ہی چیز یں آپ کی شان کے خلاف نہیں ہیں…..؟ “ آمنہ کچھ حیران ہوئی۔
” ہاں ہیں تو مگر تم تک پہنچنے کا یہ ایک واحد راستہ تھا میرے پاس بس اور اسی لیے میں نے اسے چنا “
” مجھے لگا تھا آپ مجھے اب تک بھول چکے ہونگے، اتنے سالوں میں کبھی آپ کی فیملی میں سے کسی نے رابطہ ہی نہیں کیا ہم میں سے کسی سے بھی۔“
” بھولا کوئی نہیں تھا بس… یوں سمجھ لو میں اور ماما کچھ مجبور تھے ۔“
” کیسی مجبوری؟ “
” پھر کبھی بتاؤں گا آج رہنے دو، یہ بتاؤ اب ہم رابطے میں رہ سکتے ہیں؟ “زین نے بنانا شیک کا آخری گھونٹ ختم کرتے ہوئے سوال کیا۔
” جی شیور ۔“ آمنہ بھی اپنا شیک ختم کر چکی تھی ۔
” ٹھیک ہے چلو پھر کل ملتے ہیں، میں اسی ٹائم یہیں تمھارا انتظار کروں گا ۔“








” ہاں بھئی کہاں آوارہ گردی کر رہے ہو تم اتنی دیر سے؟ “زین جب روم میں آیا تو اسامہ کی پوچھ گچھ شروع ہوگئی۔
” یہیں تو تھا کہاں جاؤں گا میں…… “ زین نے پانی پی کے بوتل دوبارہ سے فریج میں رکھی اور آکر بیٹھ گیا۔
” یہیں پر ہمیں تو تم پچھلے آدھے گھنٹے سے یہیں نظر نہ آئے ۔“اسامہ نے یہیں پر زور دے کر کہا۔
” یار مجھے کوئی جاب کرنی ہے جتنی جلدی ہوسکے مجھے کچھ بتاؤ۔“
” جاب….. تمھیں جاب کرنے کی کیا ضرورت ہے تمھارے پاس کس چیز کی کمی ہے یوں بیٹھے بیٹھے تمھارے پاس تو ہر فیلڈ کی جاب آجائے گی میرے دوست ۔“
” یار نہیں چاہیے ، مجھے اپنے باپ کے نام پر کچھ نہیں چاہیے تھک چکا ہوں میں ان کے نام سے مرتبے سے ایسی زندگی سے تھک چکا ہوں بہت تھک چکا ہوں میں……… یہ جو سب ہے نا میرے پاس یہ سب……… سب کا سب حرام ہے، میں نے اپبے بچپن سے حرام کھایا ہے، حرام پہ پلا بڑا ہوں میں، ایک منٹ کا…… ایک منٹ سمجھتے ہو…… ایک منٹ کا بھی سکون میسر نہیں ہوسکا مجھے، میرے باپ کی دولت کی ہوس نے مجھے اور میری ماں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، نہ ہم راتوں کو سکون سے سوتے ہیں، نہ ہمارے گھر میں سکون میسر ہے، ایک کونا بھی نہیں موجود سکون کا ایک کونا بھی، یہ جو پیسہ اتنا خوبصورت لگتا ہے نا دنیا کو، میں تمھیں بتاؤں یہ دنیا کا سب سے بُرا ترین نشہ ہے بندہ اس نشہ کا شکار ہوجائے نا تو وہ حیوان بن جاتا ہے حیوان پھر اسے نہ اپنے بوڑھے ماں باپ کا خیال رہتا ہے نہ اپنی اولاد کا اس پر بس ایک ہی دھن سوار رہتی ہے کہ اس پیسے کو اور کیسے بڑھایا جائے double سے double کرنے کی فکر بس اور کچھ نہیں، تنگ آچکا ہوں میں ایسی زندگی سے بہت زیادہ تنگ…. نہیں آتی مجھے سانس اس زندگی میں، آزاد ہونا چاہتا ہوں اب میں اس زندگی سے مکمل آزاد، مدد کرو میری پلیز میری مدد کرو اسامہ، خدا کے لیے کرو مدد……. “زین آج پھٹ پڑا تھا اور بولتے بولتے اس کی ہچکی بندھ چکی تھی اور آج اسامہ کے ساتھ سکندر نے بھی اسے سہارا دیا تھا۔
” بس کر دہ زین……. بس کر دہ غلطی ہوگئی مجھ سے آئندہ ایسی کوئی بات نہیں ہوگی وعدہ رہا میں ہیلپ کروں گا تمھاری جاب ڈھونڈنے میں ہم کل ہی یہ کام کر لیں گے ۔“







اگلی صبح زین بہت سے عزائم لے کر بیدار ہوا تھا اس نے آج پورا دن جلد از جلد ختم ہونے کا انتظار کیا اور دن ختم ہوتے ہی اس نے اسامہ کے ساتھ مل کر آن لائن جاب ڈھونڈی ۔ وہ گھر سے اس بار اپنا لیپ ٹاپ بھی ساتھ لایا تھا اور پھر وہ کینٹن میں جا کر آمنہ کے آنے کا انتطار کرنے لگا۔اتنے میں اسے آمنہ سامنے سے آتی ہوئی دکھائی دی۔
” کیا لو گی…. کچھ زیادہ بتانا کیونکہ آج مجھے تم سے تھوڑی لمبی بات کرنی ہے، کچھ بہت ضروری بات……… “
Episode 08
” پتر ! ادھر آ بیٹھ ادھر میرے پاس، دیکھ میری بات دھیان سے سننا، ہمارا ساتھ شاید یہیں تک ہے اس لیے کچھ اہم باتیں کرنا چاہتا ہوں تجھ سے، جانتا ہوں ابھی تیری کوئی بات سمجھ میں نہیں آئے گی مگر تو یہ سب باتیں یاد کر لینا جب بڑا ہوگا نا تو سب تیری سمجھ میں خود بخود آجائے گا اور ہاں وہ وعدہ یاد ہے نا تجھے……؟ “
” جی دادا ! میں نے آپ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہمارے بیچ جو بھی باتیں ہوچکی ہیں اور آئندہ ہونگی ان میں سے کچھ بھی کسی کو بھی نہیں بتانا ہے یہ ہمارے آپس کے راز ہیں اور مسلمان پر راز کی پاسداری لازم ہے سچے مسلمان پر ۔“ ننھے زین نے حرف بہ حرف ساری بات دھرا دی تھی۔
” شاباش میرا پتر ۔ اب سن غور سے تو نے زندگی میں کبھی بھی اپنے باپ جیسا نہیں بننا ہے سنا تو نے وہ ایک انتہا درجے کا لالچی انسان واقع ہوا ہے، میں مانتا ہوں اسے زندگی میں آسائشات نہ دے سکا مگر میں نے پھر بھی اسے بہت کچھ دینے کی کوشش کی تھی مگر خواہشات جو ہوتی ہے نا وہ کبھی ختم ہی نہیں ہوتی اور تیرے باپ نے ساری زندگی بس اپنی خواہشات کی ہی پیروی کی اور اس میں وہ اتنا اندھا ہو گیا ہے اب کے نہ اس کے نزدیک کسی کی کوئی عزت ہے نہ اس کے دل میں کسی کے لیے محبت ہے ۔ پیسہ اب اسکا نشہ بن چکا ہے اسے نہیں ملا نہ تو وہ پاگل ہوجائے گا اب ۔وہ اب پیسہ کمانے کی صرف ایک مشین ہے بس اور کچھ نہیں ۔“
” اسی لیے میں تجھے ایک بات سمجھا رہا ہوں اپنے باپ جیسا کبھی نہیں بننا تو نے اگر زندگی میں کوئی چیز نہیں مل رہی تو کوئی بات نہیں ہر چیز نہیں ملتی اس جہاں میں اب دیکھ نہ سب کچھ ہی جھولی میں ڈال دیا جائے تو پھر تو اپنے بنانے والے کو یاد کیسے کرے گا، کس لیے کرے گا…… اور ایک آخری بات وہ جو رشتہ کچھ مہینوں پہلے تو نے قائم کیا ہے نا اسکو ہمیشہ نبھانا اور وہ بھی احسن طریقے سے، کبھی اس دن کو بھولنا مت اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی زیادتی ہونے دینا، اپنی آخری سانس تک حسن سلوک کی کوشش کرتے رہنا ۔“ یہ وہ آخری باتیں تھیں جو دادا نے زین سے کہی تھیں جو آج بھی اسے یاد تھیں زین اپنے دادا سے بہت زیادہ اٹیچ تھا اور ان کے جاتے ہی وہ گم صم سا ہوگیا تھا اور اس بات کو آج بہت عرصہ بیت چکا تھا، آج اپنے دادا کی آخری خواہشات کو پورا کرنے کا وقت تھا ۔







” کہیں کیا بات کرنی ہے آپ نے؟ “ آمنہ نے فکرمندی سے پوچھا ۔زین کو آج اس کے دادا اور ان کی باتیں بہت زیادہ یاد آرہی تھیں۔
” تم جانتی ہو نہ ہمارے بیچ کیا رشتہ ہے؟ “
” جاتے ہوئے دادا نے مجھے کچھ تین چار نصیحتیں کی تھیں آمنہ اور ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اس ہمارے رشتے کو قائم بھی رکھوں اور اسے نبھاؤں بھی، میں واقعی اس رشتے کو نبھانا بھی چاہتا ہوں، مگر میرے ڈیڈ….. وہ ایسا نہیں چاہتے اور وہ ایسا ہونے بھی نہیں دیں گے، اس لیے آگے آنے والا وقت ہمارے لیے ایک مشکل وقت ہوگا، تم بتاؤ تم میرا ساتھ دو گی آنے والے وقت میں…..؟ “ زین نے آگے بڑھنے سے پہلے آمنہ کی مرضی جاننی چاہی ۔
” میں نے اپنی اب تک کی زندگی اس رشتے کے سنگ گزار دی ہے زین، میرے لیے تو اس رشتے کو ختم کرنے کا سوال ہی نہیں ہے ۔“
” میرے پاس اپنا کچھ بھی نہیں ہے، میں اگر اپنے ڈیڈ کے خلاف گیا تو جو کچھ بھی ہے سب ختم ہوجائے گا اس کے بعد بھی تم میرے ساتھ رہ سکو گی؟ “
” میرے ابا آج بھی ایک سرکاری افسر ہی ہیں میں نے اب تک بہت سے اتار چڑھاو دیکھے ہیں مجھے مسئلہ نہیں ہوگا….. “
” اور تمھارے ابو کو…؟ “
” وہ ہمہشہ سے میری خوشی ہی چاہتے ہی ںبس ،مجھے یقین ہے وہ بھی کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔
” ٹھیک ہے میں پڑھائی میں ہمیشہ سے بہت اچھا رہا ہوں، آج کل آنلائن کچھ جابز ڈھونڈ رہا ہوں جب تک ہماری اسٹڈیز کملیٹ ہوتی ہیں تب تک سب ایسے ہی چلنے دیتے ہیں انشاءاللہ تب تک میں گزارے لائق کچھ نہ کچھ ڈھونڈ بھی لوں گا تم اس بار ویک اینڈ پر گھر جاؤ تو اپنے ابو کو ان سب بات سے باخبر کر دینا بس ۔“
” جی بہتر ۔“
” ہم کل نہیں ملیں گے اس طرح روز روز ملنا کچھ مناسب نہیں ہے، لیکن فون پر تم مجھ سے رابطہ میں رہنا ۔“ اور پھر وہ دونوں بات ختم کر کے اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔







” خیریت ہے آج کل گلز ہاسٹل کے بڑے چکر لگ رہے ہیں تمھارے؟ “ زین جب روم میں آیا تو اسامہ نے کتابوں میں سے اپنا سر نکال کر اسکا بھر پور جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
” بیکار باتیں نہ کرو، میں کینٹین میں تھا کوئی گلز ہاسٹل ووسٹل میں نہیں تھا ۔“
” ہاں مگر تھے تو کسی حسینہ کے ساتھ ہی نا، اب دیکھو جھوت نہ بولنا میری ان گناہگار آنکھوں نے خود دیکھا ہے تمھیں اس دراز قد لمبی پلکوں والی حور کے ساتھ ۔“
” بیوی ہے وہ میری…… “زین نے اس کے سر پہ بم پھوڑا تھا۔
” کیا……. کیا کہا تم نے بیوی، تم تم شادی شدہ ہو اور تم نے اب تک بتایا ہی نہیں ہمیں۔“ اسامہ کی حیرت عروج پر تھی۔
” اب بتا رہا ہوں نا۔“ زین نے پانی گلاس میں انڈیلتے ہوئے کہا۔
” مگر شادی ہوئی کب تم لوگوں کی؟ “
” بچپن میں ہوا تھا ہمارا نکاح ۔“
” پھر…… یار پوری بات بتاو نا اتنا سسپنس قسم سے تم پورا کا پورا سسپنس ہو گئے ہو میرے لیے اب ۔“
” بتاتا ہوں چلو،. آج تمھیں سب بتاتا ہوں اپنے بارے میں، باہر چلو لان میں چل کے بیٹھتے ہیں ۔”







” کون ہے وہ ، کل بھی تم اس سے ملی تھی؟ “ آمنہ جب روم میں آئی تو اسماء نے اس سے سوال کیا۔
” شوہر ہے میرا ۔“ آمنہ نے بھی صاف صاف بات کی۔
” شوہر……. پر پہلے کبھی تو، تم نے بتایا نہیں اس بارے میں کہ تم میڑڈ ہو ۔“
” تم نے کبھی پوچھا ہی نہیں ۔“
” ویسے کب ہوئی تم لوگوں کی شادی؟ “
” کچھ ٹائم پہلے، اچھا مجھے پڑھنے دہ اب ۔“
” ویسے ہے بڑا ہینڈسم ۔“ اسماء کو تو آمنہ نے پڑھائی کا بہانا کر کے خاموش کروادیا تھا مگر اس کا اپنا ذہن اس وقت بھی زین کی باتوں میں الجھا ہوا تھا اس نے اپنے اس رشتے کو قائم رکھنے کی خواہش ضرور کی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ سب کچھ اتنا اچانک ہوجائے گا مگر اب جب زین بھی اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا تو وہ اس کے لیے ہر مشکل برداشت کرنے کو تیار تھی مگر جو مشکل ان دونوں کے مقدر میں لکھی جاچکی تھی اس سے یہ دونوں ہی نا آشنا تھے۔
