Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 01)

Nasha by Aiman faisal

” تو بتا ئیے اسٹوڈنٹس پیسے اور محبت میں سے کوئی ایک چیز چننی پڑے تو آپ لوگ کیا چنیں گے؟“

سر احمد نے اپنا لیکچر مکمل کرتے ہوئے تمام اسٹوڈنٹس سے دریافت کیا۔

” پیسہ سر…… “

” پیسہ…… “.

” بالکل پیسہ سر…… “

” محبت سر……. “پوری کلاس کی ایک ہی رائے تھی مگر اس کی نظر میں محبت سب سے زیادہ اہم تھی، شاید وہ اسے نہیں ملی تھی اس لیے، کیونکہ انسان اس چیز کی خواہش کرتا ہے جو اس کے پاس موجود نہیں ہوتی یا پھر شاید وہ پیسے کی اصلیت سے واقف تھا اسی لیے اس کی رائے سب سے مختلف تھی اور وہ خود بھی سب سے مختلف ہی تو تھا۔

” وجہ؟……. وجہ جان سکتا ہوں میں زین مرتضیٰ آپ کی اس مختلف رائے کی، کس بنیاد پر آپ محبت کو چنیں گے……. پہننے کے لیے کپڑے نہ ہوں تن پہ، کھانے کے لیے روٹی نہ ہو گھر میں رہنے کے لیے چھت بھی نہ ہو تو پھر محبت کا کیا کریں گے آپ؟ “

سر احمد بھی شاید اس کی رائے کے خلاف تھے تبھی تو اس کے جواب میں انہوں نے سوال اٹھایا تھا اور وہ کچھ غلط بھی نہیں تھے واقعی خالی خولی محبت کس کام کی بھلا…….. کم از کم ایک حقیقت پسند انسان تو اسی طرح سوچتا ہے اور جواب تو اس کے پاس بھی نہیں تھا وہ خود بھی خاموش کھڑا سوچتا رہا کہ کس بنیاد پر اسنے محبت کو چنا جب زندگی کے یہ تقاضے ہی نہیں۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” اسلام علیکم! میں آپکا روم میٹ ہوں سکندر بلال.. آپکا کیا نام ہے؟ “

” اسامہ……… اسامہ کہتے ہیں مجھے گاؤں ہالہ سے ہوں،،،،، غریب دا پتر…… “وہ بات ختم کر کے تمسخرانہ ہنسا۔

” میں تو جی شہر سے ہی ہوں لوئر مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتا ہوں گھر دور ہے روز روز کا کرایہ بھاری پر جاتا ہے ہم پر اس لیے یہاں ہاسٹل میں رہنے آیا ہوں…….. پڑھ لکھ کر بڑا افسر بننا ہے پھر بہنوں کی شادی کرنی ہے، خیر سے چار بہنیں ہیں میری دو بڑی اور دو چھوٹی۔“

” اور خود کب شادی کروگے پھر؟ “اسنے مسکراہٹ دانتوں میں دبائی. ” بھئی اب جب تک بہنوں کی شادی کروں گے تمھاری اپنی عمر تو نکل ہی جانی ہے نا“. اسامہ کی بات کے ختم ہوتے ہی سکندر کا چہرہ دیکھنے جیسا تھا اور اسکی شکل دیکھ کر اسامہ کا فلق شگاف قہقہہ چھوٹ گیا۔

” مذاق کر رہا ہوں یار……. ویسے ایک بیڈ ابھی بھی خالی ہے دیکھو یہاں کون مائی دا پتر آتا ہے۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” سر ایک اسپیشل ریکوئسٹ آئی ہے، زین مرتضی کو مڈل کلاس سے بلونگ کرنے والے اسٹوڈنٹس کا روم میٹ بنا نا ہے؟ “ وائس پرنسل نے کال سن کر پرنسپل سے اجازت چاہی۔

” ریکوئسٹ کس کی ہے؟ “

” مرتضیٰ حسن صاحب کی سر….. “

” پھر تو پوچھنا بنتا ہی نہیں ہے عبید، اپروو کر دو اور زین کو ٤٠٨ کے لڑکوں کے ساتھ سیٹ کر دو ۔“

” جی سر، بہتر ۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” یہ آپکا روم ہے زین ۔ “ سر عبید زین کو کمرے تک لے کر پہنچے اور دروازہ ناک کیا، دروازہ کھلتے ہی انہوں نے سکندر اور اسامہ سے زین کو متعارف کروایا اور پھر وہ جا چکے تھے ۔

” مجھے یہ والا بیڈ چاہیے، ہم ایکسچینج کر سکتے ہیں بیڈز؟ “ زین نے اسامہ سے دریافت کیا۔

” کس خوشی میں؟ “ اسامہ نے فوراً آئبرو اچکائے۔

” اے سی کی ہوا وہاں سیدھ میں آ رہی ہے اس لیے۔“

” اچھا تم کونسا ساری زندگی اے سی میں گزار کر آ رہے ہو جو تم کو وہ بیڈ چاہیے،،، ہوں…… وڈا آیا مائی دا پتر “

” دیکھو تم اس طرح مجھ سے بدتمیزی نہیں کر سکتے ۔“

” اچھاااااااااا……. ایسی کون سی بڑی عزت ہے تمھاری جو میں نے بے عزتی کر دی ہاں، وہ بیڈ خالی ہے تمھیں وہاں سونا ہے تو سو جانا ورنہ زمین پہ سوجاؤ یہ بیڈ تو میراہے کیونکہ یہاں پہلے میں آیا ہوں تمھارے باپ کا راج نہیں ہے یہاں۔“

” زین کو اسامہ کی باتیں سن کر آگ ہی لگ گئی اور وہ ہاتھاپائی پر اتر آیا اور روم سے باہر جاتی آوازیں روم سے باہر گزرتے پرنسپل سر نے سن لی اور اب ان دونوں کی پیشی تھی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” پہلے دن ہی تماشے شروع ہوگئے آپ لوگوں کے؟ “

پرنسپل صاحب نے غصے سے دریافت کیا۔

” سر غلطی اس کی تھی، ہاتھ بھی اس نے اٹھایا تھا اور بات بھی اس نے غلط کی تھی، اسنے مجھ سے میرا بیڈ مانگا تھا اب جب یہ بعد میں آیا تو جو بیڈ بچا وہی اسکا ہوا نا؟ “

” جی زین مرتضیٰ…… آپ سابق وزیر خارجہ کے بیٹے ہیں اسکا یہ مطلب ہوا کہ آپ سب کو اپنی انگلیوں پر نچائیں گے؟ “

” کیا ! تم سابق وزیر خارجہ کے بیٹے ہو؟ “ اسامہ پرنسپل کی بات سن کر بیچ میں ہی بول پڑا ۔

” سائلینس اسامہ ﷲ دتا، مینرز بھول گئے ہیں آپ بات کرنے کے؟ “

” سوری سر….. “

” اپنے بیڈ ایکسچینج کریں اور آئندہ مجھے شکایت کا موقع نہ ملے، جاسکتے ہیں آپ دونوں ۔“ پرنسپل نے حکم صادر کر کے بات ختم کردی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” اسی لیے تو ہمارا ملک ترقی نہیں کرتا ہے، یہاں صرف اس کی چلتی ہے جس کی جیب ہری بھری ہے ہم جیسے گاؤں دے باسیوں کی کیا اوقات بھلا…… ہوں، آجاؤ یہاں اس بیڈ پر کر دیتا ہوں میں خالی……….. “ اسامہ نے جل بھن کر اپنا سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔

” نہیں دوست رہنے دو، میں یہیں ٹھیک ہو، تم صحیح تھے اس بیڈ پر واقعی تمھارا حق ہے تم پہلے جو آئے ہو ایسی ناانصافی نہیں چاہتا میں۔ “ زین نے اسے روک دیا اور اپنے بستر پر ڈھے گیا۔

” کیوں کیا ضرورت ہے ایسی دریا دلی دکھانے کی مجھے کوئی احسان نہیں چاہیے تمھارا…… “

” میں احسان کر بھی نہیں رہا، بس انصاف کر رہا ہوں، یار میں یہاں جینے آیا ہوں، دوست بنانے آیا ہوں، اپنی امارت جتانے نہیں۔ میں شرمندہ ہوں غلطی ہو گئی بلاوجہ غصہ آگیا مجھے اور میں تم سے الجھ گیا، آئندہ ایسا نہیں ہوگا اور کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم دوست بن کر یہ پورا عرصہ گزاریں کلاس کے فرق کو مٹا کر…..؟؟؟؟ “ زین کے الفاظوں اور لہجے میں سچائی تھی وہ واقعی ایسا ہی چاہتا تھا۔

” ویسے ایک بات تو بتاؤ تم یہاں ہاسٹل میں تم ایک پرائیویٹ روم میں بھی تو رہ سکتے تھے پھر یہ ہم غریبوں کا روم میٹ کیوں بنایا گیا تمھیں..؟؟ “ سکندر بھی اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے بولا۔

” پھر کسی دن بتاؤں گا، آج نہیں……. “ زین نے آنکھیں مونڈتے ہوئے بات مکمل کر لی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ابا پلیز ! مان لیں نا میری بات یہ شوق ہے میرا مجھے پورا کرنے دیں نا….. “ زین نے نخریلے لہجے میں ضد کی۔

” ایسے کیسے مان لوں زین، آپ جانتے ہیں وہاں ایک مشقت بھری زندگی ہے اور میں آپ کو مشکلات میں نہیں دیکھ سکتا میں آسانیاں چاہتا ہوں آپ کے لیے اور ویسے بھی ہماری لائف میں کمی کس چیز کی ہے جو آپ وہاں جاکر خوار ہونا چاہتے ہیں؟؟؟؟ “ زین کے والد اس کی ضد کے سخت خلاف تھے۔

” یہی تو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں بابا جان ! ہمارا تو لائف اسٹائل ہی اتنا شاندار ہے کہ میں گھر می‌ پڑھوں یا ہاسٹل میں رہ کر مجھے کوئی مشکل پیش آہی نہیں سکتی آپ وہاں پر بھی سورسز استعمال کر کے مجھے بہترین ماحول دے ہی سکتے ہیں، پلیز ڈیڈ مان جائیں نا میرا بہت دل ہے یہ ایڈوینچر کرنے کا پلیز………. آپ…… آپ ایک کام کیجیئے گا مجھے نا کسی لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اسٹوڈنٹس کے ساتھ سیٹ کروا دیجیے گا اس طرح میرا ان پر رعب رہے گا اور مجھے کوئی پریشانی بھی نہیں ہوگی وہاں……… “

زین کی خواہش تھی کہ وہ آگے تعلیم ہاسٹل میں رہ کر پوری کرے مگر اسکے ابو اس کی اس خواہش کے بالکل خلاف تھے وہ زین کو آرام میں رکھنا چاہتے تھے مگر زین ایک الگ مزاج لے کر پیدا ہوا تھا وہ جینا چاہتا تھا اسے پیسوں میں سکون نہیں ملتا تھا اور اپنے باپ کے پیسے میں تو بالکل نہیں جس نے اسے سب سے الگ کر دیا، اسے محبتوں میں، رشتوں میں سکون ملتا تھا اور اسی لیے وہ ہاسٹل جانا چاہتا تھا تا کہ وہاں کوئی اسے امیرزادے کی حیثیت سے جان کر لیے دیے والے معاملات نہ رکھے بلکہ اسے بھی اپنا سا سمجھ کر اس کے ساتھ کھل کر جیے اور اس بار اسنے گھر سے دور ہو کر ایک الگ دنیا بسانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اسی لیے وہ اپنے ابا کو منانے کی کوششیں کر رہا تھا۔

” ٹھیک ہے کرتا ہوں میں کچھ بندوبست لیکن تمھیں مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا، جس دن تمھیں لگے گا کہ تم غیر آرام دہ محسوس کر رہے ہو تو تم فوراً واپس چلے آؤ گے۔“

” جی ابو بہتر ! “

اور اس طرح مرتضیٰ حسن چاروناچار مان گئے اور پھر زین کا داخلہ ہاسٹل میں کرادیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *