Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 05)

Nasha by Aiman faisal

” دیکھو ہم سب سے پہلے باسکٹ بال سے شروع کریں گے، سب سے پہلے میں تمھیں یہ کھیلنا سکھاؤں گا …… “

” مگر پلیز اس میں کوئی پرانک نہ کرنا یار….. میں واقعی سیکھنا چاہتا ہوں اسپورٹس….. “ اسامہ کی بات کے دوران زین نے اپنی سی معصوم شکل بنا کر کہا۔

” ہاہاہاہاہا……..“ اسکی بات اور لہجے نے تو اسامہ کو قہقہہ لگانے پر مجبور کر دیا۔

” نہیں کروں گا بھائی کوئی پرانک نہیں کروں گا، یہاں میں سیریس ہوں اور تمھارا استاد ہوں لہٰذا میرا ادب کرنا تمھاری ذمہ داری ہے اب سے ان دو گھنٹوں میں…. “ اسامہ نے بھی اترانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

” چلو اب باقاعدہ سیکھنا شروع کرتے ہیں ٹھیک ہے۔“

” سب سے پہلے یہ سمجھ لو کہ باسکٹ بال میں پانچ کھلاڑی ہوتے ہیں اور ہر بندہ الگ ہوتا ہے کوئی لمبا کوئی طاقتور کوئی چھوٹا،۔تو اس گیم میں سب سے زیادہ دھیان کھلاڑیوں کی پوزیشنز ہے کہ کس کھلاڑی کو کس پوزیشن پر ہونا چاہیے اگر یہ ٹھیک سے کر لیا نا تو سمجھو گیم آپ نے ہی جیتنا ہے جو لمبے قد کا ہوتا ہے نا جیسے سکندر اس کی جگہ سینٹر پر ہوگی،، اس کی بعد جو دوسرا ٹیم میں لمبا کھلاڑی ہوگا مگر ساتھ میں طاقت بھی رکھتا ہو کہ وہ اسپیڈ میں اور یکدم سے ہیندل کر سکے وہ پاور فارورڈ پوزیشن پہ کھڑا رہے گا اور پھر ایک ہوتا ہے تھوڑا سا چھوٹے قد کا کھلاڑی وہ یہاں کھڑا ہوگا اسمال فارورڈ پوزیشن پہ اور جو سب سے زیادہ چھوٹے قد کے اشرف المخلوقات ہونگے وہ دونوں بہترین بال ہینڈلر ہونے چاہیں اور وہ دونوں شوٹنگ گاڑد اور پوائنٹ گاڑد پوزیشنز پہ کھڑے رہیں گے اور پتہ ہے کیا یہ جو چھوٹے قد کی مخلوق ہے نا یہ بھی اس گیم میں بڑے ہی کوئی کام کی چیز ہے مخالف ٹیم کو ان شوٹنگ گاڑدز سے زیادہ خطرہ رہتا ہے کیونکہ یہ کبھی بھی اسکوڑ کر سکتے ہیں نظریں بچا کے گھومتے گھومتے گھومتے…… “

” لو اب یہ بال پکڑو ہاتھ میں، سیکھو بال تم نے کیسے پکڑنی ہے…

* تمھاری نگاہیں باسکیٹ ہر ٹکی ہونی چاہیں.۔

* گیند پر تمھاری انگلیاں پوری طرح سے پھیلا دو لیکن نیچے سے گیند پکڑ کے اس پر انگلیاں پھیلانی ہیں۔

* تمھاری کہنیاں دونوں گیند کے نیچے کی طرف ہوں اور بال اوپر اٹھی ہونی چاہیے۔

* اور اپنے گھٹنوں کو ہلکا سا جھکاو دو اور پھر پوری قوت سے دے مارو۔

” نہیں گیا……. خیر ہے پہلی دفعہ میں تو نہیں ہی جاتا مگر یاد رہے دوسری دفعہ میں بھی نہیں جائے گا….. ابھی تو سیکھنا پڑے گا۔“

” ویسے پتہ ہے سارے رولز وغیرہ بھی سیکھ جاؤ نا لیکن اگر لگن نہیں ہے اور کرنے کا شوق، جوش، جذبہ تو کوئی بازی بندہ نہیں جیت سکتا یہ میرا ماننا ہے۔“

” چلو اب آج کے لیے اتنا کافی ہے، ریسٹ روم میں چلتے ہیں، ہاں یاد آیا کل پرسو تو ویک اینڈ ہے کل رات تو ہم نے اپنے گھر جانا ہے ہممممممم….. “ اسامہ نے اپنا بیگ اٹھایا اور وہ لوگ ریسٹ روم کی طرف چل پڑے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ویسے وہ گیم بہت مزے کا لگا مجھے اسامہ …… “ وہ لوگ سونے کے لیے بستر پر لیٹ چکے تھے جب زین نے اسامہ سے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

” ہاں واقعی اسپورٹس بہت ہی مزے کی چیز ہے اور اصل مزہ تو تمھیں تب آئے گا جب تم یہ سیکھو گے کہ مخالف ٹیم کو ہرانا کیسے ہے، گیم میں اصل چیز ہار جیت ہی ہوتی ہے اور اصل مزہ بھی اسی کا ہے۔“ اسامہ نے بھی آنکھیں مونڈے مونڈے جواب دیا۔

” ایک اور بات کہوں……. تم بھی بہت اچھے انسان ہو….. “زین نے ہلکی سی آواز میں اسطرح کہا جیسے کوئی خفیہ بات کررہا ہو ۔

” ہاں پتہ ہے یہ تو سب ہی کہتے ہیں میرے بچپن سے……. “

” کسی دااااا یار نہ وچھڑے……. “ سکندر اپنے رنگ میں بھنگ ڈالنے والی عادت سے مجبور آج ایک نیا سین آن کرچکا تھا ۔

” سکندر…… اوئے سکندر دیوداس کیا ہوگیا ہے کیوں اس وقت ٹارچر کر رہا ہے……. سکندر….. “ اسامہ نے اسے کئی آوازیں دیں مگر وہ تو بےسدھ سوتے میں گا رہا تھا وہ بھی فل آواز میں ۔چاروناچار زین نے اسے زور زور سے ہلا کے جگایا ۔

” کیا ہوا……. کیا ہوا،،،، زلزلہ….. زلزلہ آگیا اتنا زور کا بھاگو بھاگو بھائیوں بھاگو…… “ سکندر نیند میں ہڑبڑا کر اٹھ کے بھاگنے لگا جب اسامہ نے اسے ایک زور کی چپیڑ ماری۔

” بدھو کہیں کے…. یہ زین نے تمھیں ہلا کے جگایا ہے کیونکہ تمھارے کانوں میں میری آواز نہیں پہنچ رہی تھی اور تمھاری آواز ہمارے کانوں کو زخمی کررہی تھی……. یہ کیا نیند میں تم اتنے زور زور سے گانے گا رہے تھے ہاں….. “اسامہ نے اسے کان سے پکڑ کر اسکی کھنچائی کردی۔

” وہ میں…… وہ…… پہلے بتاؤ تم لوگ مارو گے تو نہیں مجھے؟ “ اسنے ڈرتے ڈرتے سوال کیا۔

” اگر تو بات ایسی کی کہ مارنا پڑے تو لازمی کوٹیں گے اور ہاں اگر بات نہ بتائی تو لاتیں بھی ساتھ میں پڑیں گی اب سوچ لو…… “

” یہ تو مجھ غریب کے ساتھ زیادتی ہے نا…. “ سکندر نے برا سا منہ بنایا اور کافی بڑا سابھی۔

” اب پھوٹ بھی چکو نا یار جلدی سے نیند آرہی ہے بہت….. “زین کو ان دونوں کی باتوں سے جھنجھلاہٹ سی ہوئی۔

” وہ… میری نا رات میں بولنے کی اور خاص کر گانے گانے کی عادت ہے نیند میں مجھے پتہ نہیں ہوتا……. “ کہہ تو گیا وہ مسکین شکل بنا کر مگر ان دونوں کے سر پر بم کا پھاڑ ٹوٹ پڑا اور وہ دونوں اب اسے آخری دن تک برداشت کرنے کا سوچ کر سر گھٹنوں میں دیے بیٹھے تھے ۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

آج رات زین نے گھر آنا تھا کیونکہ کل ویک اینڈ تھا ۔عمارہ نے اس کے لیے صبح سے تیاریاں شروع کردی تھیں وہ ان کا اکلوتا بیٹا تھا اور کبھی ان سے دور نہیں رہا تھا اس لیے اب جب زندگی میں پہلی بار ایسا موقع آیا تو یہ تمام ہفتہ عمارہ نے بڑی تڑپ سے گزارا اور کچھ زین کی اس عجیب خواہش کی مسلسل ٹینشن بھی تھی ۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” اسلام علیکم امی جان ! کیسی ہیں آپ؟ “ زین ہشاش بشاش سا گھر میں داخل ہوا۔

” بالکل ٹھیک میری جان تم سناؤں اتنے دن گھر سونا کر کے چلے گئے، کیسا لگا پھر ایڈوینچر جس کا بھوت تمھارے سر پہ سوار تھا؟ “ عمارہ نے بھی بیٹے سے چھوٹتے ہی شکوے اور سوال سب ایک ساتھ کر لیے۔

” لگتا ہے آپ کے مجازی خدا نہیں ہیں گھر پر تبھی آپ اتنا چہک رہی ہیں ہے نا…… ورنہ تو میں آپ کی آواز سننے کے لیے ترس جاتا ہوں۔“ پتہ نہیں کیوں مگر زین نے اب اس طرح کی باتیں کچھ زیادہ ہی کرنا شروع کر دی تھیں، جانے کون سا راز وہ ماں سے اگلوانا چاہتا تھا۔

” فضول باتیں نہ کرو، میٹنگ تھی تمھارے بابا کی ایک بہت اہم، جیسے ہی ختم ہوگی آجائیں گے، تم فریش ہولو فوراً میں کھانا لگواتی ہوں، آج تو سب میں نے تمھاری پسند کا بنوایا ہے۔“ عمارہ اس کو خاموش کرا کر کچن کی طرف چلی گئیں ۔

” ہممممم…… بہت ہی مزے کا کوئی کھانا ہے ماما… طبیعت اچھی ہوگئی سچ میں… “ زین نے لطف لیتے ہوئے تعریفوں کے پل باندھ دیے۔

” وہاں تو ایسا کھانا نہیں ملتا ہوگا ہے نا؟ “

” ظاہر ہے امی گھر جیسا کھانا کہیں اور تھوڑی ملتا ہے مگر وہاں کا کھانا بھی لاجواب ہوتا تھا ۔“

” ہاں اب ضد کر کے گئے ہو تو یہی کہو گے نا ۔“ عمارہ ناراض ہوتے ہوئے گویا ہوئیں ۔

” امی شوق تھا میرا تھک گیا تھا میں اتنی کوئی بورنگ لائف سے جس میں کوئی مزہ ہی نہیں تھا، وہاں بہت سا پیسہ بالکل نہیں ہے پر وہاں خوشی ہے امی، سکون ہے، میرے روم میٹس میرے اتنے اچھے دوست بن گئے ہیں ہم وہاں اسٹڈیز بھی مل کر کرتے ہیں ایک کمرے میں اکیلے بیٹھ کر نہیں پڑھنا پڑتا اور وہاں تو اسپورٹس بھی کھلاتے ہیں اور بھی بہت کچھ ہے وہاں کرنے اور سیکھنے کو وہ لائف بہت اچھی ہے……

انسانوں کی دنیا پیسے کی دنیا سے بہت خوبصورت ہے امی جان…… میرا دل پاہتا ہے ہم دونوں نا ہمیشہ کےلیے انسانوں کی دنیا میں چلے جائیں اور پھر وہاں جاکر کہیں کھو جائیں بس….. “

” ہم ! تو اب میرے بیٹے کو بڑی بڑی باتیں بھی کرنی آگئ ہیں لیکن ابھی آپ بہت کچے ہیں اس میں کیونکہ یہ پیسے کی دنیا بھی انسانوں کی ہی دنیا ہے بیٹا۔“

” نہیں امی جی یہ انسانوں کی دنیا نہیں ہے یہاں انسان کی اوقات ہی کوئی نہیں یہاں آپ کو کوئی انسان کی حیثیت سے جانتا ہی نہیں ہے یہاں سب پیسوں کی حیثیت سے جانتے ہیں جس کے پاس جتنا پیسہ اسکی اتنی عزت، یہاں جیب میں وزن ہو تو لوگ بکواس بھی غور سے سنتے ہیں اور پھر بھی عزت کرتے ہیں بس، جس دن آپ کی جیب سے سِکوں کا شور ہونے لگا نا اس دن سب آپ کے منہ پر صرف شور ہی شور کریں گے یہ خاموشی تو صرف نوٹوں کی خاموشی ہے عمارہ مرتضیٰ حسن اور یہ بات آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے آپ نے تو میرے لالچی باپ کے ساتھ ایک عمر گزار دی ہے۔“

” یہ تم کس طرح کی باتیں کر رہے ہو زین ! “

” جو باتیں آپ کبھی نہ کر سکیں امی۔“

” بیٹا ان سب سے دور رہو ورنہ زندگی وبال بن جائے گی تمھارے لیے میری جان۔“ عمارہ آبدیدہ ہونے لگیں۔

” امی میں اس پنجرے میں خوش نہیں رہ سکتا میں……. میں جینا چاہتا ہوں پلیز مجھے روکنے کے بجائے میری ہمت بن جائیں پلیز امی میں اب چھوٹا نہیں ہوں میں اور اپنا دل نہیں مار سکتا میں آزادی چاہتا ہوں اور دوسرا میں کیا چاہتا ہوں آپ وہ بھی اچھے سے جانتی ہیں۔“

” تمھارے ابو ایسا نہیں ہونے دیں گے، حالات بہت برے ہوجائیں گے، زندگی تمھارے لیے اور مشکل ہوجائے گی۔“

” کیا کریں گے زیادہ سے زیادہ گھر سے نکال دیں گے، جائیداد سے عاق کردیں گے نا ٹھیک ہے سہہ لوں گا یہ مگر میں کسی کی حق تلفی نہیں کرنا چاہتا اپنے باپ، کی جھوٹی انا کے لیے اور وہ میری ذمہ داری اس سے کیسےمنہ موڑ لوں، ایک بےگناہ کو اتنی بڑی سزا بلاوجہ کیسے دے دوں۔“

” میں تمھیں مشکل میں نہیں دیکھ سکوں گی۔“روتی عمارہ نے اپنے دل کی بات بھی کہہ ڈالی۔

” کیا یہ باعثِ فخر نہیں آپ کے لیے کہ اپکا بیٹا حقوق العباد کی ادائیگی کر کے سرخرو ہوجائے گا؟ “اس بات نے عمارہ کو اندر تک مضبوط کر دیا اور اب ان کے آنسوؤں تھم گئے اور پھر جو انہوں نے کہا اسنے زین کے سفر کو اور آاان کردیا اور اس کے ارادوں کو اور مضبوط کردیا۔

” میں تمھارے ہر قدم پر ساتھ ہوں، ڈگمگانا بالکل مت، میری دعا ہے کہ اپنے مقاصد میں کامیاب وکامران ہوجاؤ اور ڈھیر ساری خوشیاں دیکھو ۔“ اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *