Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 28)

Nasha by Aiman faisal

مرتضیٰ حسن زین کو بہت چاہتے تھے اور اس کی باتوں نے انہیں بہت زیادہ پریشان کر رکھا تھا………. دادا کو مار دیا………. میری بہن کو مار دیا……… یہ سب باتیں…… یہ باتیں آخر کون کر سکتا ہے اس سے کون اس کی اتنی برین واشنگ کرے گا اور آخر کیوں…….

کچھ عرصہ پہلے بھی انہیں لگا تھا کہ کہیں کچھ غلط ہو رہا ہے ان کے ساتھ جب ان کے بہنوئی کی کال آئی تھی ان کے پاس…….

” کیا چاہتے کیا ہو تم مجھ سے مرتضیٰ؟؟ نفرت تھی نا تمھیں میری بیوی سے……. اس کی وجہ سے تمہیں پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا تھا اب تو وہ مر گئی ہے…….. پھر بھی اس کے جانے کے بعد بھی تمھیں سکون نہ ملا تو اب میری بیٹی کے پیچھے پر گئے ہو ہاتھ دھو کر…….. کیوں آخر کیوں کر رہے ہو ایسا……. میں……. میری بیٹی تمھارے بیٹے سے خلع لے لے گی مگر خدارا ہمارا پیچھا چھوڑ دو…… چھوڑ دو ہمارا پیچھا……. میرے کندھوں میں مزید بوجھ برداشت کرنے کی ہمت نہیں ہے اب…….. بخش دو مجھ غریب باپ کو……… بخش دو اس اصغر احمد کو……. خدارا بخش دو……. “ اور پھر فون بند ہوگیا……. پھر کبھی اس نمبر سے دوبارہ کال نہیں آئی کبھی بھی نہیں اور پھر جب مرتضیٰ نے ان کا پتہ کر کے ان کا پیچھا کیا تو پتہ چلا وہ تو اکیلے رہ گئے ہیں ان کی بیٹی مر چکی ہے…… اور مرتضیٰ نے جب ان سے مل کر ان کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی تو وہ ملنا بھی نہیں چاہتے تھے……. مگر یہ اب بہت پرانی بات ہوچکی تھی…….. پھر واپس یہ سب…….

وہ بہت الجھے ہوئے تھے……. دشمن سے پہلی بار ڈر لگا تھا کیونکہ اس بار وہ اولاد کو بیچ مین لاکر کھیل کھیل رہا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

اصغر احمد جن کو جاب سے نکال دیا گیا تھا……… بہت مشکل وقت تھا ان پر……. وہ دن رات ایک کر کے اپنی بیمار بیٹی کو پال رہے تھے، وہ ہسپتال میں ہی رہتی تھی۔ڈاکٹر کے مطابق اس کی حالت ہی ایسی نہ تھی کہ وہ اسے گھر رکھ سکتے۔

ناجانے وہ کون سی بُری گھڑی تھی کہ ان کی ہنتسی کھیلتی بیٹی ہسپتال پہنچ گئی…….. کچھ بھی تو نہیں تھا اسے….. وہ تو بس ہلکے سے بخار کی زد میں تھی اور اسے وہ ڈاکٹر کے پاس ہسپتال لے گئے تھے پھر وہاں جاکر پتہ چلا کہ اسے تو جان لیوا بیماری ہے……. کینسر جیسی اور پھر کیا تھا وہ ہسپتال کی ہو کر رہ گئی ہمیشہ کے لیے………

پھر انہیں یوں اچانک نوکری سے نکال دیا گیا…… تب اصغر احمد کو ایک کال آئی تھی کہ مرتضیٰ حسن کے کلیجے میں کہیں جاکر اب ٹھنڈ پڑے گی…… بس پھر کیا تھا وہ اپنی ذہنیت کے حساب سے تھیک ٹھیک وہ سمجھنے لگے جو انکو سمجھایا گیا۔

اور پھر بیٹی کے جانے کے بعد وہ بالکل خالی الذہن ہو کر رہ گئے.. کچھ بچا ہی نہیں جب زندگی میں……

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” سلطان، سلطان…….. سلطان کہان ہے؟ “ اس کو جیسے ہی ہوش آیا فوراً اس کے ذہن میں سلطان کا خیال آیا اور اس وقت اس کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اسے سلطان کے بارے میں بتایا جاتا اس لیے اسے یہ تسلی دے کر کہ وہ اپنے گھر جا چکا ہے ریسٹ کرنے کی تلقین کی گئی۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

آج تین دن بعد جب اس کی طبیعت کچھ بہتر ہوگئی تو اسے بھی ڈسچارج کر دیا گیا اور جب وہ گھر آئی تو اس پر سلطان کی موت کی خبر پہاڑ بن کر ٹوٹی……… مگر اس بار…… اس بار اسکا وجود انتقام لینے پر اتر آیا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” اسلام علیکم ! پرنسپل صاحبہ کیسی ہیں آپ؟ “ عمارہ نے آج برے دنوں بعد اسکول چکر لگایا تھا ورنہ وہ سوشل ورک کے سلسلے میں اکثر اسکول آیا کرتی تھی…….. مگر جب سے زین کا نکاح آمنہ سے ہوا تھا وہ اپنے اندر سے ایک جنگ لر رہی تھی کیونکہ وہ اب مزید اس خاندان کے ساتھ چلنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔

” وعلیکم السلام ! برے سالوں بعد چکر لگایا آپ نے آج عمارہ میم……. “

” ہاں بس کچھ کام تھا آپ سے……. ایک لڑکی ہے آپ کے ہاں….. بلکہ بچی کہنا چاہیے، فرست اسٹینڈرڈ میں….. آمنہ اصغر احمد…..،،،، ،اس سے ملاقات کروا دیں…… “ اس نے اپنا آنے کا مقصد کہہ ہی ڈالا۔

” جی بہتر…… “ پرنسپل کچھ الجھ سی گئیں….. ناجانے کیا کام تھا عمارہ کو اس بچی سے…….. اور پھر ان کی حیرت اور بڑھ گئی جب وہ اس بچی سے مل کر اسے ایک چاکلیٹ دے کر وہاں سے جاچکی تھی……. ناجانے کیا ماجرا تھا یہ….. “

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

مرتضیٰ نے سب سے پہلے اس دس سال پہلے ہونے والے دونوں واقعات کی جانچھ شروع کی……. ان کا شاطر ذہن اس بار بہت دیر کر گیا تھا وہ اب اس بار دس سال کے بعد کسی بات کی کھوج میں تھے……

اب ان کا ذہن چیج چیخ کر کہہ رہا تھا کہ نہ تو وہ حادثہ اتفاق تھا اور نہ ہی آمنہ کی موت……. بلکہ یقینی طور پر اس کی موت ایک قتل تھی…… اور اب انہیں ان سب باتوں کی تہہ تک پہنچنا تھا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” آگیا گل حسن……. بڑی دیر لگا دی تو نے اج تو….. “ سکینہ جو بڑی دیر سے راہ دیکھ رہی تھی اپنے گھروالے کی اس کی آمد پر کچھ سکھ کا سانس لیا….

” بس سکینہ…. کیا بتاؤں…… صاحب جی کو کام سے انکار کرنے کا بوجھ اتنا زیادہ تھا کہ میرے لیے اس کے ساتھ سفر کرنا دشوار ہوگیا…… پھر راستے میں ایک عجیب سا بندہ بی بی جی کا پرانا جاننے والا تھا کوئی اس نے روک لیا……. تو کچھ وقت ان سے بات کرنے میں گزر گیا اس لیے دیر ہوگئی بہت……. “ گل حسن نے پوری روداد سنائی اور کچھ دیر چارپائی پر لیٹ گیا۔

” بی بی جی کا پرانا جاننے والا…….. مگر وہ جب بی بی جی کے بارے میں نہیں جانتا تھا تو تجھ تک کیسے پہنچا گل حسن…. “ اور پھر جو بات وہ اس وقت نہ سوچ سکا اس کی گھروالی نے کر ڈالی….

” تو تو بہت پتے کی بات کر گئی سکینہ…… یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں……. اور…… اور میں تو اس کو پوری معلومات دے آیا بی بی جی کی……. سکینہ یہ…… یہ کون سا طوفان ہے جو ہم پر آنے والا ہے سکینہ……… ﷲ دی بندی…… تھک گیا میں….. “وہ تو سکینہ کی بات سن کر فوراً اٹھ کے بیٹھ گیا تھا اور اب سر دونوں ہاتھوں میں دیے بیٹھا تھا….

” تو ایک کام کر گل حسن …….. صاحب جی کو فون کر کے سب بات بتا دے……… فوراً سے پہلے بتا دے……… میں….. میں اب سکندر کے بعد تجھے نہیں کھو سکدی…….. بتا دے…… “ پریشان تو سکینہ بھی ہو چکی تھی اور پھر گل حسن نے فوراً سے مرتضیٰ حسن کو فون ملا دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *