Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Nasha (Episode 17)

Nasha by Aiman faisal

” ہاں زین اب کہو کیا کہ رہے تھے تم…؟ “ اسامہ نے کال سن لی تھی اور اب وہ روم میں آچکا تھا اور اس کی آواز زین کو سوچوں سے کھینچ لائی تھی۔

” اسامہ کاش میری زندگی بھی تمھاری طرح ہوتی……… میں بھی تم لوگوں کی طرح عام سے باپ کا بیٹا ہوتا، کتنا اچھا ہوتا نا اگر ایسا ہوتا تو ۔زندگی میں خوشیاں ہوتیں، سکون ہوتا، پھر ہر چیز خوبصورت ہوتی، اتنی الجھنیں نا ہوتی کہ جینے کا دل ہی نہ چاہے، کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کیسی بےبسی ہے کہ ہم چاہ کر بھی زندگی میں موجود سب سے زیادہ تکلیف دہ رشتے کو بھی نکال کر زندگی سے پھینک نہیں سکتے۔“

” یار زین تم ہمیشہ ہی ایسی باتیں کیوں کرتے رہتے ہو آخر……… میں تمھیں ایک بات بتاؤں اتنی زیادہ ناشکری بھی اچھی نہیں ہوتی، ہم کیا ہیں، ہماری زندگی کیا ہے…… تم کبھی اس بات کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔مشکلات ہر کسی کی زندگی کا حصہ ہیں، ہماری زندگی بھی اس سے کچھ زیادہ خالی نہیں ہے اور میں تمھیں بتاؤں تم کبھی ہماری مشکلات کو تو جی بھی نہیں پاو گے، تمھیں میری زندگی جینی ہے نا…….. میں تمھیں بتاؤں آج کہ میری زندگی کیا ہے، جاننا چاہوگے؟ “اسامہ آج زین کی ہر دفعہ کی ایک طرح کی باتوں سے بےزار ہوچکا تھا اور اس نے آخر کار بے زار ہونا ہی تھا وہ جو ٹھہرا انسان، اور انسان تو تھک ہی جاتے ہیں بے زار ہی ہوجاتے ہیں وہ زیادہ وقت آپ کے دکھ آپ کی تکلیفیں سن ہی نہیں سکتے ان میں اتنی استطاعت ہی نہیں ہوتی اور جو سننا چاہتا ہے اس خالقِ حقیقی کو ہم سنانا نہیں چاہتے اور پھر بار بار ٹھوکریں کھاتے جاتے ہیں بس۔

” میری ماں میری پیدائش پر ہی وفات پا چکی تھی اور ابا میرا فالج زدہ ہے،سارا دن بستر پر پڑا رہتا ہے، میرا چاچا اس کو دن بھر دیکھتا ہے اور بدلے میں اس کی روزی روٹی ہمارے اور دوسرے لفظوں میں کہوں تو میرے ذمہ ہے، دو بہنیں ہیں ایک مجھ سے دس سال بڑی ہے اور ایک پانچ سال دونوں کی شادی کی عمریں بیت چکی ہیں اور پھر بھی میں نے ان کی شادی کروانی ہے ۔غریب گھرانہ ہے جہاں کوئی قدم رکھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔یہ جو تم غم کرتے رہتے ہو نا کہ پیسہ ہے خوشی نہیں ہے تو مجھے دیکھو میرے گھر میں تو نہ خوشی ہے نہ پیسہ ہے، دو وقت کا کھانا سونگ سونگ کر کھاتے ہیں ہم، میں یہاں محنت کر کے اسکالرشپ لے کر اسی لیے پہنچا ہوں کہ کچھ بن کہ اپنے گھر کی گاڑی چلاسکوں۔وہاں میری بہنیں صبر سے گھر میں میرا انتطار کر رہی ہیں کہ بھائی گاؤں آئے گا اور راستے کھل جائیں گے قسمت کے ۔ اس سے زیادہ اور کیا سناؤں میں تمھیں اپنی کہانی، کس طرح سمجھاؤں کہ پیسے کی زندگی میں اہمیت کیا ہے، جس کے ہونے پر تم رشک کرنے کے بجائے افسوس کرتے رہتے ہو۔“ اسامہ کی باتیں دل چیڑنے والی تھی اس کی زندگی واقعی مشکلات کا پیکر تھی مگر زین…….. زین کی زندگی بھی طوفانوں کی زد میں ہی تھی بس فرق اتنا تھا کہ وہ دونوں اپنے اپنے حصے کی تکلیف کو محسوس کر رہے تھے اور ایک دوسرے کو سمجھنے سے قاصر تھے۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” ہاں……. کیا ہوا، ہوگیا کام میرا؟ “

” یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے، پہلے کبھی بغیر کام کیے لوٹا ہوں کیا ۔بس ایک بات ہے اس بار تمھیں بانٹنا پر رہا ہے وہ بھی ایک اتنے مکمل انسان کے ساتھ۔بڑی تکلیف ہوتی ہے سچ میں۔“

” یار تھوڑے ہی دن کی تو بات ہے، میڈم نے کہا ہے جلد از جلد اس کا قصہ ختم کردیں گی بس پھر ہم شادی کریں گے اور ملنے والے پیسوں سے ایک زبردست سا ہنی مون…….. “

” اسی لیے تو سب خاموشی سے برداشت کر رہا ہوں، ورنہ تو جب اس سے بات کر رہا ہوتا ہوں دل چاہتا ہے وہیں زمین میں گاڑ دوں سالے کو۔ویسے ہے قسم سے وہ بہت زیادہ روتو ، بس جب دیکھو روتا ہی رہتا ہے، مردوں والی کوئی بات ہی نہیں سالے میں….. “

” ہاں صحیح کہہ رہے ہو بالکل تم، میرے ساتھ بھی ہوتا ہے تو ایسا کوئی جینٹل مین بنتا ہے، ہنسی آرہی ہوتی ہے مجھے تو اس کی شرمیلی نگاہوں کو دیکھ کر……. “اور پھر ان دونوں نے ایک فلق شگاف قہقہہ لگایا۔

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

” پتہ ہے کیا سکینہ ! جب گھر آتا ہوں نا اور تیرا چہرہ دیکھتا ہوں تو میری تو سمجھ دن بھر کی تھکن پل بھر میں دور ہو جاتی ہے ۔میرا گھر اتنا کوئی ستھرا ہوتا ہے، میرے بچے اتنے نکھرے ہوتے ہیں جی خوش ہوجاتا ہے ﷲ دی بندی۔ اتنا مزیدار سا، خوشبودار سا گرماگرم کھانا کھانے کو ملتا ہے، رونق سی رونق لگی ہوتی ہے گھر میں۔“

” آج جب صاحب کو آفس سےلے کر آیا نا تو بی بی جی گھر پر نہیں تھا تو میں یہی سوچ رہا تھا کہ ان بڑے لوگوں کی بھی کیا زندگی ہے نا، ان کے سارے کام تو ملازم کر ڈالتے ہیں پھر جو بیوی کی اپنائیت ہے وہ تو انہیں کبھی محسوس ہی نہیں ہوتی تبھی تو انہیں ایک دوسرے کی کبھی بھی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور نہ انہیں ایک دوسرے کے بغیر زندگی میں خالی پن لگتا ہے ۔ کیسی بے رونق سی زندگی ہوئی نہ یہ بھی……. “

” تو چھوڑ یہ سب باتیں گل حسن، تو بس راستہ نکال اور اس دلدل سے کیسے بھی کر کے نکل آ۔مجھے……… مجھے ڈر ہے ہم……. ہم برباد ہوجائیں گے، میرے بچے……. میرے بچے رل جائیں گے۔ہمارا ایک بوئے ہوئے غلط بیج کی سزا ان کو کاٹنی پڑے گی۔“

” یہ بات تو بھی اچھے سے جانتی ہے سکینہ کہ ہم اگر قبر بنا کر اس کے اندر دفن بھی ہوجائیں نا تو ان لوگوں نے ہمیں ڈھونڈ نکالنا ہے ان کے ہاتھ اس قدر لمبے ہیں، یہ جو طاوقتور انسان ہوتا ہے نا وہ درندے سے بھی بدتر ہوتا ہے ہم چھوٹے لوگ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔اب بار بار یہ بات کر کے خود کو اور مجھے پریشان کر کے تجھے کچھ وی نہیں ملنا ہے، پھر بہتر ہے اپنے مالک کے آگے گڑگڑا بس وہ جلد کوئی سرا پکڑا دے گا مجھے اس پر پورا یقین ہے۔“

” جا پانی لے آ جا کر میرے لیے اور چائے بھی دے دے۔“ گل حسن کا کھانا ختم ہوچکا تھا اور سکینہ بھی چائے لینے کچن میں چلی گئی اور پچھلے ایک ہفتے میں گزرے دنوں کی طرح ایک بار پھر ان کی پریشانی وہیں رہ گئی تھی۔“

🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺
🌺

”ایک بات کہوں اسامہ……. “ اسامہ کی کہانی ختم ہونے کے بعد تقریباً پورا دن ان دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی اور پھر بلآخر زین نے اس خاموشی کو رات کے وقت ڈنر کے دوران توڑ ڈالا۔

” کہو…… “اسامہ جو ہر وقت سب کو اپنے چلبلے پن سے ہنساتا رہتا تھا آج اندر کہیں بہت رویا تھا شاید تبھی بہت خاموش سا تھا ۔ عجب دنیا کے عجب لوگ ہیں اتنے رنگ رکھتے ہیں اور ہر رنگ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے……. کبھی ہنسانے والا ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود کبھی رویا ہی نہ ہو اور کبھی وہی ایک شخص اپنا دوسرا رنگ دکھاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سب سے بڑے دکھ تو اسی کے ہوں۔یہی اسامہ کی بھی کہانی تھی۔

” تم اب جو نئی چھٹیاں آئیں گی نا اس میں اپنے گاؤں چلے جانا اپنے گھر والوں سے مل آنا، میں بھیجوں گا تمھیں…… “

” میں نے تمھیں اپنی کہانی اس لیے نہیں سنائی کہ میں تم سے مدد چاہتا ہوں ۔ہم گاؤں والی کی ناک بڑی اونچی ہوتی ہے ہم غیرت مند ایسے ہوتے ہیں کہ دل مار لیں گے لیکن مدد نہیں مانگیں گے ۔تم رکھو اپنے پیسے اپنے پاس ۔میں بس اس وقت کچھ ڈسٹرب تھا اس لیے وہ سب کہہ گیا ۔جانتا ہوں غلطی ہوگئی مجھے تم سے وہ سب باتیں نہیں کرنی چاہیے تھیں۔تم بے شک امیر ہو لیکن انسان ہو زندگی ہے تمھاری بھی مشکلات ہونگی ہی تمھاری زندگی میں بھی ۔“

” ویسے ایک بات میں پوچھوں تم سے آمنہ کے حوالے سے؟ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *