Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 32)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 32)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
یہ آپ بول رہی ہیں۔عماد کو جیسے افسوس ہوا
تمہیں اپنے عمل پہ شرمندگی ہے تو یہی بہترین حل ہے کے اُس کو آزاد کردو۔زویا نے آرام سے کہا
میں اب چلتا ہوں پر ایک بات کہتا جاؤں گا۔عماد اپنی جگہ سے کھڑا ہوا جس پہ زویا نے اپنی سوالیہ نظریں اُس پہ ٹِکائی۔
آپ عبیر کی رخصتی کی تیاری کریں۔عماد بنا کسی تاثر کے بولا جس کو سن کر زویا کے تن بدن میں آگ لگ گئ۔
رخصتی کی تیار بھاڑ میں جائے رخصتی جانے کتنا سچ کتنا جھوٹ تھا اُس کی باتوں میں ابھی تو مجھے عبیر سے حساب لینا ہے پھر خلع کے پیپر اُس کے لڑکے کے منہ پہ ماردوں گی۔زویا نے سارا عمل ترتیب دیا۔
آپ ایسا کجھ نہیں کرے گی میں ہرگز نہیں چاہوں آپ اپنی نفرت کی آڑ میں میری بہن کے ساتھ زیادتی کرجائے یا اُس کے کردار پہ کوئی سوالیہ نشان لگائے۔عماد سنجیدگی سے دو ٹوک ہوتے بولا
ماں ہوں میں اُس کی تم سے زیادہ بہتر جانتی ہوں۔زویا نے سخت لہجے میں کہا
بیشک آپ ماں ہیں پر جانتی کجھ بھی نہیں اگر جانتی تو کب کا میرا رشتہ خالہ سے مانگ لیتی معصومہ کا۔زویا کی بات پہ عماد طنزیہ لہجے میں بولنے پہ خود کو روک نہیں پایا زویا حق دق سی عماد کو دیکھنے لگی جو اب کیبن سے باہر نکل گیا تھا یکلخت زویا نے ٹیبل پہ پوری ساری چیزوں کو اُپلٹ پُلٹ کر اپنا غصے اُن بے جان چیزوں پہ نکالا۔






معصومہ اپنی سوچو میں مگن تھی جب اُس کو اپنے پاس کسی کے بیٹھنے کا احساس ہوا تو دیکھا عمار سنجیدہ سا اُس کو دیکھ رہا تھا۔
اسلام علیکم۔معصومہ نے جلدی سے سلام کیا
وعلیکم اسلام ایک بات کرنی تھی سوچا پہلے تم سے کردوں۔عمار نے کہا
جی کہیں۔معصومہ اُس کی جانب متوجہ ہوئی
تمہارا جو بھی فیصلہ ہوگا میں اُس میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہوں تو تمہاری مرضی ہے کیونکہ رشتے محبت اور احساس سے جوڑے جاتے ہیں زور زبردستی سے بس رشتوں کو گھسیٹا جاسکتا ہے پر میں ایک بات واضع کروں گا نکاح اللہ کا پسندیدہ عمل ہے جب کی طلاق ناپسندیدہ عمل کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے ایک بار اپنے بارے نہیں اپنے قریبی رشتوں کے بارے میں سوچنا بھائی کے بارے سوہا کے بارے میں سوچنا کے تم کس کی بیٹی ہوں سوہا کی جس کی نظر میں والدین کا فیصلہ اپنی خوشیوں سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔عمار اُس کے سر پہ ہاتھ رکھتا نرم لہجے میں سمجھانے لگا جب کی معصومہ کو سمجھ نہیں آیا سوہا کا کیا ذکر۔ عبیر بھی اُن کو دیکھتی وہاں بیٹھ گئ تھی۔
آپ کی بات کا کیا مطلب؟معصومہ نے پوچھا
سوہا سے پوچھنا دوسری بات رشتے بظاہر مضبوط نظر آتے ہیں پر کبھی کبھی اُن کو ٹوٹ جانے میں ایک لمحہ کافی ہوتا ہے۔عمار اپنی کہہ جانے کے بعد اُٹھ کھڑا ہوا
ڈیڈ کیا بول رہے تھے کیا تم عماد سے علیحدہ ہونا چاہتی ہو؟عمار کے جانے کے بعد عبیر افسوس سے اُس کو دیکھتی بولی
ہاں کیونکہ تمہارا بھائی کمینہ ہے مجھے نہیں رہنا۔معصومہ بنا لحاظ کیے بولی۔
میرا بھائی بہت اچھا ہے اور تمہارا شوہر ہے اُس کو عزت دو ناکہ گالیاں دو۔عبیر کو اپنے بھائی کے لیے معصومہ کا ایسا جُملا پسند نہیں آیا۔
دیکھو عبیر مجھے فلحال کجھ سمجھ نہیں آرہا۔معصومہ کھوئے ہوئے لہجے میں بولی
ناسمجھی والی کوئی بات ہے تو نہیں تمہارا نکاح ہوگیا ہے عماد سے بس اب خوشی خوشی اُس کے ساتھ زندگی گُزارو۔عبیر کی بات پہ معصومہ اُس کے مشورے پہ عش عش کر اُٹھی۔
کاش اتنا سب آسان ہوتا جتنا آسان تمہاری زبان سے الفاظ نکل رہے ہیں۔معصومہ اُس کی جانب دیکھتی طنزیہ بولی
طنزیہ کرنے سے بہتر ہے ایک بار اُس بات کو سوچو جو ڈیڈ کہہ کر گئے ہیں اگر تم طلاق کا مطالبہ کروں گی اگر ہوجائے تو سوچا ہے فیملی میں کیسے حالات ہوجائے گے عباد بابا کا سوچا ہے کیا اُن کے درمیان اور ڈیڈ کے بیچ اب کی طرح سب نارمل رہے گا خالہ جان پہ کیا بیتے گی اگر اُن کی بیٹی جس سے انہوں نے اُمیدیں وابستہ کی ہے وہ طلاق لیکر بیٹھ جائے گی تو سب کجھ اب تمہارے ہاتھ میں ہے۔عبیر سنجیدگی سے اُس کو دوسرا پہلو دیکھا کر چلی گئ پیچھے معصومہ گومگو کی کیفیت میں رہی
عبیر کمرے میں آئی تو اُس کا سیل فون رنگ کرنے لگا کال اُٹھانے کے لیے جیسے ہی نظر اسکرین پہ پڑی تو تبریز کالنگ لکھا آرہا تھا۔
اسلام علیکم!عبیر نے سلام کرنے میں پہل کی۔
وعلیکم اسلام میں نے تمہاری ماں سے بات کرلی ہے۔دوسری طرف تبریز کی کہی بات اُس کو دھماکے سے کم نہ لگی۔
کیا مطلب کیا بات کرلی آپ نے؟عبیر کمرے کا دروازہ لاک کرتی گھبراہٹ سے بولی۔
ڈر کیوں رہی ہو وہی بتایا جو حقیقت تھی تم میرے نکاح میں ہو یہ بات وہ نہ جانتی تو شاید رشتے سے انکار کردیتی پر اب ایسا کرکے وہ تمہارے ساتھ غلط کریں گی ویسے بھی تمہاری ماں سیدھے طریقے سے ماننے والی ہڈی ہے ہی نہیں۔تبریز سرجھٹک کر بولا
امی مجھ پہ غصہ ہوگی وہ کبھی نہیں چاہے گی میری شادی اُن کی مرضی کے خلاف ہو آپ نے سہی نہیں کیا اُن کو بتاکر۔عبیر پریشانی سے بولی
مجھے جو صحیح لگا وہ میں نے کیا تمہیں اُن کے غصے سے ڈر نے کی کوئی ضرورت ہے بھی نہیں اگر نہ مانی تو سادگی سے رخصتی ہوجائے گی۔تبریز نے آرام سے سارے مسئلے کا حل تلاش کیا۔
آپ کے لیے یہ سب اتنا آسان ہے؟عبیر کو افسوس ہوا۔
پرسکون دماغ سے سوچو گی تو تمہیں بھی سب آسان لگے گا۔تبریز نے پتے کی بات بتائی۔
آپ بس اپنا سوچتے ہیں۔عبیر کو دُکھ ہوا۔
تو تم مجھ سے کونسا الگ ہو میاں بیوی ایک ہی تو ہوتے ہیں۔اب کی تبریز کے لہجے میں شرارت در آئی جس پہ عبیر نے جھٹ سے کال بند کردی۔







آپ سے بات ہوسکتی ہے؟عماد سوہا کے کمرے کے پاس آتا بولا۔
ہاں کیوں نہیں آؤ۔سوہا نے خوشدلی سے اجازت دیتے کہا۔
میں جو باتیں آپ کو بتانے والا ہوں اُس سے شاید آپ خفا ہو پر میں اپنے دل پہ کوئی بوجھ نہیں لیکر چل سکتا۔عماد نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔
کیا بات ہے عماد تمہیں ایسا کیوں لگ رہا میں خفا ہوگی۔سوہا نے مسکراکر پوچھا۔
مجھے امی نے ساری حقیقت بتادی ہے سوچا اپنا سب کجھ بتانے سے پہلے اُن کی باتیں آپ کو بتادوں۔عماد چہرہ دوسری طرف کرتا بولا۔
کمرے میں آتی معصومہ دروازے پہ ہی رُک گئ۔
آپ کی شادی ڈیڈ سے ہونے والی تھی
عماد یہ باتیں بہت پُرانی ہیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔سوہا اُس کی بات بیچ میں ٹوکتی بولی جب کی معصومہ کا منہ حیرت سے کُھل گیا۔
خالہ جان مجھے بات کرنے دے وجہ بتانا چاہتا ہوں کیسے عین نکاح کے وقت ڈیڈ نہیں آئے اور آپ کا نکاح چچا جان سے ہوگیا۔عماد نے اپنا سلسلہ کلام وہی سے جوڑنا چاہا۔
اگر میں کہوں میں سب جانتی ہوں تب بھی؟سوہا کی بات پہ اب حیران ہونے کی باری عماد کی تھی جب کی معصومہ کے چہرے پہ ناسمجھی کے تاثرات تھے۔
آپ کیسے۔عماد کو سمجھ نہیں آیا کیا کہے
معصومہ کی پیدائش پہ زویا کی دوست عائشہ مجھ سے ملنے آئی تھی تب اُس نے بتایا تھا سارا سچ وہ بہت اچھی ہے زویا کے سارے عیب جاننے کے باوجود اُس سے مخلص رہی۔سوہا اُداس مسکراہٹ سے بولی معصومہ اپنی ماں کی بات پہ گِرتے گِرتے بچی پھر یکدم جوش میں آتی دروازہ ڈھار سے کھولتی کمرے میں داخل ہوئی۔
تو یہ بات تھی جو چچا جان نے کہا میں آپ سے پوچھ لوں اور موم آپ کو پتا ہے سالوں پہلے جو آپ کے ساتھ جو ہوا نہ وہ اتفاق تھا اور نہ جو میرے ساتھ ہوا وہ اتفاق تھا آپ کے ساتھ اپنی بہن نے غلط کیا اور آپ کی بیٹی کے ساتھ آپ کی بہن کے بیٹے نے غلط کیا اب بھی آپ مجھے کہیں گی کے میں یہ رشتہ نبھاؤں۔معصومہ کمرے میں آتی ہی شروع ہوگئ۔عماد نے خود پہ سوہا کی نظریں محسوس کی تو گردن جُھکادی
یہ کیا بول رہی ہے عماد۔سوہا چلتی ہوئی عماد کے پاس آئی۔
سوری خالہ جان میں بہک گیا تھا بس اپنے بارے میں سوچنے لگا تھا پر اب احساس ہورہا ہے میں نے جو کیا وہ بہت غلط تھا۔عماد ندامت بھرے لہجے میں بولا سوہا بس اُس کو دیکھتی رہ گئ
تم دونوں جاؤ کمرے سے۔سوہا اپنے سر پہ ہاتھ رکھتی اُن دونوں سے بولی۔
پر
کہا نہ جاؤ۔معصومہ کجھ کہنے والی تھی جب سوہا تیز آواز میں بولی جس پہ وہ دونوں باہر چلے گئے




کجھ دن بعد!
عبیر اپنے کمرے سے باہر کم نکلتی تھی اُس کو زویا کی طرف سے اتنی خاموشی کی اُمید نہیں تھی پر کجھ پرسکون بھی تھی کے شاید زویا مان جائے اور کوئی غصہ نہ دیکھائے۔
دوسری طرف عماد اور معصومہ بلکل اجنبیوں کی طرح رہنے لگے تھے سب کی زندگیاں عجیب دوہراے پہ آگئ تھی۔
کب تک چلے گا یہ سب۔عماد سنجیدگی سے معصومہ سے بول کر اُس کے پاس بیٹھا جو کافی کا کپ پکڑے جانے کن سوچو میں تھی۔
پتا نہیں میں خود تھک چُکی ہوں۔معصومہ آہستہ آواز میں کہہ کر اُس کے بازوں پہ سر ٹکایا جس پہ عماد نے گہری سانس خارج کی۔
میں اپنی غلطی مانتا ہوں۔مجھے احساس ہے پر کیا تم مجھے ایک موقع نہیں دے سکتی؟عماد اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ایک احساس سے پوچھنے لگا۔
میرے موقع دینے سے کیا ہوگا۔ عماد کیا تمہاری ماں مجھے قبول کرے گی؟معصومہ نے کندھے اُچکاتے کہا
فلحال میرے لیے تمہارا جواب ضروری ہے تمہارا مجھے موقع دینا ضروری ہے تو وہ بات کرو۔عماد کا لہجہ ہنوز سنجیدہ تھا۔
میں علیحدگی نہیں چاہتی عماد میں جانتی ہوں میرے اِس فیصلے سے سب کی زندگیاں بدل جائے گی شاید دو بھائیوں کے درمیان دیوار بن جائے جو میں ہرگز نہیں چاہوں گی۔معصومہ کی بات پہ عماد نے سکون بھری سانس خارج کی۔
شکر اللہ نے تمہیں عقل دی۔عماد نے باقاعدہ ہاتھ اُپر کرکے شکر ادا کیا جس پہ معصومہ نے اُس کے بازوں سے سراُٹھاکر گھورا
گھور کیا رہی ہو تمہاری ایک رٹ سے پریشان ہوگیا تھا طلاق دو طلاق دو ایسے بول رہی تھی جیسے کوئی بچہ ٹافی مانگتا ہو۔عماد اُس کی ناک دباکر بولا
تو تمہارے ساتھ کیوں رہتی یہ وہ کمرہ ہے جس سے تم نے مجھے بے دخل کیا تھا میں نے سوچ لیا تھا اب دوبارہ یہاں نہیں آؤں گی مگر آنا پڑا
اچھا اب زیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں۔معصومہ مزید کجھ بولتی اُس سے پہلے عماد نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر ٹوکا جس پہ معصومہ نے آنکھیں چھوٹی کیے اُس کو گھورا
تم اِس لائق ہو ہی نہیں کے تم سے عزت سے پیش آیا جائے۔معصومہ زور سے اُس کے بازوں پہ چٹکی کاٹ کر بولی جس پہ عماد بُلبلا اُٹھا۔
جہمنی لڑکی ہو شوہر کی کوئی قدر ہی نہیں تمہیں۔عماد اپنا بازوں سہلاکر بولا
تم تو بڑے جنتی شوہر ہو یہ نہ ہوسکا شادی کے بعد اپنی بیوی کو منہ دیکھائی کا تحفہ دوں یا اُس کی شان میں قصیدے پڑھوں۔معصومہ طنزیہ بولی
کونسی منہ دیکھائی تمہیں اِتنے وقت بعد یاد آئی ہے۔عماد گڑبڑا کر بولا
وہ منہ دیکھائی جس پہ میرا حق تھا جو تم کھاگئے۔معصومہ کڑے چتون سے اُس کو گھورتی بولی۔
میں نے کوئی حق نہیں کھایا جانے کتنی بار لاتعداد لامحدود تمہاری شکل دیکھی ہے پھر شادی کے بعد تمہاری شکل کو کونسا بدل جانا تھا جو میں تمہیں منہ دیکھائی کا تحفہ دیتا۔عماد سرجھٹک کر بولا!جس کو سن کر معصومہ کا منہ حیرت سے کُھلا کا کُھلا رہ گیا۔
میں تمہارا گلادبادوں گی۔معصومہ غصے سے کہتی جیسے ہی اُس پہ جھکی تبھی دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا عماد نے جھٹ سے معصومہ کو خود سے دور کیا اور دروازے کی طرف دیکھا جہاں زویا سرخ چہرہ لیے زویا دونوں کو گھور رہی تھی۔
یہ شرم سے چہرہ سرخ ہورہا ہے یا غصے سے؟معصومہ گردن پہ ہاتھ پھیرتی سرگوشی نما آواز میں عماد سے بولی جواب میں عماد اُس کو گھورتا زویا کی طرف متوجہ ہوا۔
آپ کو کوئی کام تھا امی۔عماد نے زویا کی طرف دیکھ کر استفسار کیا۔
باہر آؤ بات کرنی ہے۔زویا ایک اچٹنی نظر معصومہ پہ ڈال کر عماد سے بولی۔
جی۔عماد اتنا کہہ کر اُس کی طرف آنے لگا جب معصومہ نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر روکا عماد نے پلٹ کر سوالیہ نظروں سے اُس کو دیکھا۔
جلدی آنا پھر وہی سے کنٹینیوں کرے گے۔معصومہ شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہتی آنکھ ونک کرگئ عماد اُس کی حرکت اور بات سن کر سٹپٹاکر اپنا ہاتھ چھڑواکر جلدی سے کمرے سے باہر نکل گیا اُس کی پتلی حالت دیکھ کر معصومہ نے بامشکل اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا۔زویا خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھ کر جانے لگی جب معصومہ نے کہا
خالہ جان عرف چچی جان پہلے عماد اکیلا تھا اِس کمرے میں اب وہ شادی شدہ ہوگیا ہے تو آپ تہمیز کے دائرہ میں رہ کر دروازہ نوک کرکے آیا کریں آپ کو تو پتا ہوگا میاں بیوی کی بھی کوئی پرائیویسی ہوتی ہے۔
تمہیں میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں کجھ دنوں کی مہمان ہو اِس کمرے میں۔زویا تڑخ کے بولی۔
کون مہمان ہے وہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں خیر دوبارہ منہ اُٹھاکر یوں مت آئیے گا ہاتھ کو نوک کرنے کی زحمت دیجئے گا اب اپ جاسکتی ہیں۔معصومہ اپنی بات کہہ کر سکون سے بیڈ پہ بیٹھ گئ۔زویا غصے سے کھولتی کمرے سے باہر چلی گئ
عماد لاوٴنج میں ٹہلتا زویا کے آنے کا انتظار کررہا تھا جب اچانک وہ لاوٴنج میں آئی۔
آپ نے کیا بات کرنی تھی۔عماد نے جلدی سے پوچھا
کیوں بیوی کے پاس جانے کی جلدی ہے؟زویا نے اُس کو آڑے ہاتھوں لیا۔
ایسی کوئی بات نہیں۔عماد اپنا چشما ٹھیک کرتا بولا
دیکھو عماد میں تمہاری ماں ہوں میرا تم پہ زیادہ حق ہے اِس لیے تم مجھے یا معصومہ سے ایک کو چُننا پڑے گا۔زویا کی بات عماد کے لیے کسی شاک سے کم نہ تھی۔
امی پلیز مجھے اِس آزمائش میں نہ ڈالیں۔عماد تڑپ ہی تو گیا تھا۔
میں یا معصومہ۔زویا کا لہجہ سپاٹ تھا۔
نہ میں آپ کو چُن سکتا ہوں صرف اور نہ معصومہ کو میرے لیے آپ دونوں کا ہونا لازم ہے آپ کا الگ مقام ہے معصومہ کا الگ آپ ایسی سچویشن کریٹ نہ کریں۔عماد سنجیدگی سے بولا
ہے کیا اُس میں جو تم اُس کو چھوڑ نہیں رہے اپنی ماں کی بات تمہارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔زویا چیخی۔
وہ میرے لیے جینے کی وجہ ہے اگر میں آپ کی بات نہیں مان رہا تو آپ مان لیں آپ تو ماں ہیں کیا آپ چاہے گی اپنی اولاد کی خوشیوں کا گلا گھونٹنا۔عماد نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھا۔
مجھے بلیک میل نہ کرو عماد۔زویا نے اُس کو گھورا۔
سوری امی میں معصومہ کو چھوڑ نہیں سکتا۔عماد اٹل انداز میں بولا
ایک بار سوچ لو۔زویا نے جیسے تنبیہہ کی۔
سوچ لیا ہے امی میں نے معصومہ کو چھوڑنے کے لیے صحیح غلط کا راستہ نہیں بھولا تھا۔عماد بنا تاخیر کیے بولا






عبیر کمرے میں تھی جب زویا نے کجھ کاغذ اُس کے منہ پہ مارے اِس اچانک افتاد پہ عبیر بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی۔
امی
عبیر نے کجھ کہنا چاہا۔
خاموش یہ کاغذات ہے کجھ اُس پہ سائن کرو۔زویا سخت لہجے میں اُس کو ٹوکتی بولی
کونسے اور کس چیز کے۔عبیر ناسمجھی سے کہتی کاغذات دیکھنے لگی مگر جیسے ہی نظر کاغذات پہ پڑی حیرت زدہ نظروں سے اپنی ماں کو دیکھنے لگی جو خونخوار نظروں سے اُس کو دیکھ رہی تھی۔
خلع کے کاغذات؟عبیر کے منہ سے بامشکل یہ لفظ ادا ہوئے
ہاں خلع کے کاغذات چپ چاپ اِن پہ سائن کرو میں نے بڑی مشکل سے خود پہ کنٹرول کیا تھا ورنہ تمہاری اِس گھٹیاں حرکت پہ میں تمہاری چمڑی اُڈھیر دیتی۔زویا اُس کا بازوں سختی سے دبوچ کر بولی جس سے اُس کے منہ سے سسکی نکلی۔
امی۔۔۔کیا۔۔گھٹیاں۔حرکت کی؟عبیر کو زویا کا گھٹیاں لفظ بُری طرح چُبھا۔
جو کہا ہے وہ کرو۔زویا نے جھٹکے سے اُس کا بازوں چھوڑا۔
امی اُس کے حالات ایسے بن گئے تھے جس سے نکاح کرنا پڑا آپ یقین کریں میرا ورنہ میں ایسا کجھ سوچ بھی نہیں سکتی۔عبیر نے وضاحت کرنا چاہی۔
مان لی تمہاری بات اب سائن کرو۔زویا نے دو ٹوک کہا
میں نہیں کرسکتی۔عبیر سرجھکاکر کسی مجرم کی طرح بولی
کیا کہا پھر سے کہنا۔زویا اُس کا جبڑا دبوچتی پھنکاری۔
نکاح جیسے بھی ہوا پر ہوا تو صحیح نہ اِس لیے میں طلاق نہیں چاہتی اور نہ تبریز
چٹاخ۔
زویا کے تھپڑ سے اُس کی بات بیچ میں رہ گئ۔
اِس دن کے لیے تم جیسی نافرمان اولاد کو پیدا کیا تھا وہاں وہ تمہاری بھائی اور یہاں تم۔زویا چیخی عبیر اب کی خاموش رہی جب کی آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے۔
دیکھو عبیر یہ مت سوچنا میں کبھی تمہیں اُس بداخلاق لڑکے کے ساتھ رخصت کروں گی۔زویا نے وارن کیا۔
پر جب میں نہیں چاہتی تو آپ کیوں ایسا چاہتی ہیں۔عبیر نے بے ساختہ سوال کیا۔
ماں ہوں تمہاری جو کہا ہے وہ کیا کروں سمجھی۔زویا نے غصے سے کہا۔
آپ کی ہر بات سرآنکھوں پہ پر طلاق کا کوئی جواز نہیں جو میں اُس کا مطالبہ کروں۔عبیر کی بات پہ زویا نے زور سے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ مار مار کر عبیر کے چہرے کا نقشہ بدل ڈالتی پر جانے کیا بات تھی جو ایسا کرنے سے روک رہی تھی۔
