Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573
Last updated: 10 March 2026
Mohabbatein (Episode 01)Mohabbatein (Episode 02)Mohabbatein (Last Episode)Part 2Mohabbatein (Episode 03)Mohabbatein (Episode 04)Mohabbatein (Episode 05)Mohabbatein (Episode 06)Mohabbatein (Episode 07)Mohabbatein (Episode 08)Mohabbatein (Episode 08)Part 2Mohabbatein (Episode 09)Mohabbatein (Episode 10)Mohabbatein (Episode 11)Mohabbatein (Episode 12)Mohabbatein (Episode 13)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
جانے وہ کونسے شوہر ہوگے جو اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے جان کی قربانی تک دے ڈالتے ہیں۔سوہا بیڈ پہ بیٹھ کر عباد کو دیکھ کر بولی جو سنجیدہ سا لیپ ٹاپ پہ کجھ ٹائپ کررہا تھا۔
یہ پکڑو اِس میں بہت مل جائے گے۔عباد نے اُس کے تکیے کے نیچے ڈائجسٹ نکال کر دیا تو سوہا کا منہ بن گیا۔
یہ نہ ہوسکا کے کہہ دوں ایک جیتی جاگتی مثال تمہارے سامنے ہے۔سوہا نروٹھے پن سے بولی
تمہیں خوش کرنے کا مطلب اپنے پیروں پہ کلہاڑی مارنے متراف ہے جو کی میں افورڈ نہیں کرسکتا۔عباد نے آرام سے جواب دیا۔
اب ایسا بھی نہیں آپ کو تو بس بہانا چاہیے رولا ڈالنے کا۔سوہا سرجھٹک کر بولی۔
میڈم سوہا میں جانتا ہوں تمہارے دماغ میں رات کے بارہ بجے کیا کھچڑی پک رہی ہے اِس لیے سارے فضول خیالات نکال کر چپ چاپ سونے کی کرو۔عباد کی بات پہ اُس کا منہ کُھلا کا کھلا رہ گیا کیونکہ وہ واقع ایسا سوچ رہی تھی۔
اگر آپ کو پتا چل گیا ہے تو یہ نہ ہوا خود مجھے آفر دیتے چلو باہر گھومنے چلتے ہیں۔سوہا اُس کا لیپ ٹاپ بند کرتی بولی۔
سوہا تنگ مت کرو میں امپورٹنٹ فائل بنارہا ہوں۔عباد نے دوبارہ لیپ ٹاپ کھول کر کہا
افف میری کیا قسمت ہے پہلے کتابیں سوتن تھی اب یہ آپ کا لیپ ٹاپ جو ہر وقت آپ ساتھ لگائے بیٹھتے ہیں۔سوہا بے زاری سے بولی
تمہیں ہی ہر ایک میں سوتن نظر آتی ہے ناولز پڑھ کر دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا۔عباد نے مزے سے کہا
آپ کو پتا ہے آج میں نے جو ناول پڑھا اُس میں ہیرو اپنی ہیروئن کے لیے کیا کرتا ہے۔سوہا متجسس ہوتی بولی۔
تم نہ بتاؤ میں اندازہ لگا سکتا ہوں ہیروئن کی سالگرہ ہوگی اور وہ اُس کو چاند پہ لیں گیا ہوگا پھر دونوں نے کیک چاند پہ کاٹا ہوگا یا اُس کو آسمان کی سیر کروانے کے لیے لے گیا ہوگا۔عباد کی بات پہ وہ سخت بدمزہ ہوئی۔
اب ایسی بھی بات نہیں دراصل نہ ہیروئن کو ایک رِنگ پسند آئی تھی بدلے میں ہیرو نے کیا کیا سارہ شاپنگ مال اپنی ہیروئن کے لیے خرید لیا۔سوہا پرجوش ہوتی بولی۔
بِل گیٹ کے خاندان سے ہوگا نہ۔عباد نے طنزیہ بولا
آپ سے بات کرنا بے کار ہے میں ہی پاگل ہوں جو آپ سے بات کرتی ہوں اب نہیں کرتی میں۔سوہا اُس کی بات پہ ناراض ہوتی بولی۔
اچھا سنیں۔کجھ منٹ بعد پھر سوہا نے عباد کو مخاطب کیا تو عباد کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی
جی بولیں۔عباد نے بے حد پیار سے جواب دیا۔
آپ کو بچے پسند ہیں؟سوہا کے سوال کیا
ہاں بچے تو سب کو پسند ہوتے ہیں۔عباد عام انداز میں بولا۔
میں سب کا نہیں آپ کا پوچھ رہی ہوں
مجھے بھی پسند ہے۔عباد نے جواب دیا
کتنے؟سوہا نے پھر پوچھا
معصوم بچے ہو تو بہت زیادہ اگر دن میں تارے دیکھانے والے ہو تو اپنے والدین کو مبارک۔عباد نے آرام سے کہا
اچھا اگر آپ کے بچے دن میں تارے اور رات میں سورج دیکھانے والے ہو تو آپ کیا کریں گے۔سوہا نے مسکراہٹ دبائے پوچھا۔
اللہ نہ کریں تم نہ سوجاؤ رات کے وقت کیسی باتیں کیے جارہی ہو۔عباد توبہ کیے بولا۔
Rate this Novel
Categories:
COUSIN BASE NOVELS Forced Marriage Based Innocent heroin based novels Love Story Based REVENGE BASED NOVELS Romantic Urdu Novel Rude Hero Based Novels Social Issues BAsed urdu novels
Tags:
Cousin Based Forced marriage Innocent Heroine Revenge Based Novels Romantic Urdu Novels Rude hero Social Issues Urdu Novels
