Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 29)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

خوش ہو؟سوہا نے مرر کے سامنے بیٹھی محبت سے معصومہ کو دیکھ کر پوچھا

پرسکون ہوں۔معصومہ نے مسکراکر کہا

سکون بہت قیمتی چیز ہے جو سب کے پاس نہیں ہوتا تم ہمیشہ پرسکون ہی رہنا۔سوہا اُس کے ماتھے پہ بوسہ دے کر بولی۔

آپ دعا کرنا۔

میں تو ماں ہوں میری تو ہر سانس اپنی اولاد کے لیے دعاگو ہوتی ہے۔سوہا کی بات پہ معصومہ کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔

تم بیٹھو یہی میں مہمانوں کو دیکھ آؤں عبیر اگر تیار ہوگی تو اُس کو بھیجوں گی۔سوہا اٹھ کر بولی تو معصومہ نے سرہلانے پہ اکتفا کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نائیس۔تبریز گاڑی سے اُترتا سامنے گھر کی جانب دیکھ کر بولا

جب ہم پہلی بار یہاں آئے تھے میں نے تعریف کی تھی تو کہا تھا شو آف ہے۔فرشتے اُس کے سامنے کھڑی ہوتی منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی

اب ہر ایک کے لیے ایک ہی راے قائم تو نہیں ہوتی نہ۔تبریز اُس کے سر پہ چپت لگاکر پتے کی بات بتایا گیا۔

اندر چلیں کیا پتا لڑکے والے آگئے ہو۔مناہل اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتی اُن دونوں سے بولی جو باہر ہی باتوں میں لگ گئے۔

آے ہی نہ جائے لڑکے والے۔تبریز بڑبڑایا

کجھ کہا آپ نے؟فرشتے نے ناسمجھی سے پوچھا

میں نے کہا لڑکے والے آتے ہوگے یا آگئے ہیں اندر چلتے ہیں پتا چل جائے گا۔تبریز نے ٹالنے والے انداز میں کہا پھر تینوں اندر کی جانب بڑھے۔نکاح میں صرف کجھ لوگوں کو انوائٹ کیا گیا اِس لیے نکاح کی تقریب گھر کے ہال میں ہی منعقد کی گئ تھی۔

تبریز اندر آیا تو سب مہمانوں پہ ایک نظر ڈال کر وہ عبیر کو تلاش کرنے لگا پر وہ کہیں اُس کو نظر نہیں آئی پر زویا پہ اُس کی نظر ضرور پڑی جو بلیو کلر کی نفیس ساڑھی میں ملبوس بالوں کا جوڑا بنائے کسی سے محو گفتگو تھی تبریز اُس پہ سرسری نظر ڈالتا گُزرنے لگا جب کی اُس کے الفاظ نے اُس کے قدم جکڑ لیے۔

ایک دفع اعیان سے بات کرو عبیر اُس کے لیے بیسٹ رہے گی میری بیٹی تو ہے بھی معصوم اعیان کو بہت خوش رہے گی۔زویا نے یہ الفاظ عائشہ سے کہے جو تبریز نے باخوبی سن لیے غصے کی ایک شدید لہر اُس کے پورے وجود میں سرایت کرنے لگی۔

منکوحہ صاحب سے بات تو کرنی پڑے گی۔تبریز اپنا موڈ صحیح کرتا آس پاس نظر ڈالتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔

منکوحہ کا کمرہ کونسا ہوگا؟اُپر کی جانب تبریز آیا تو سب کمروں کے دروازے پہ نظر ڈال کر تبریز ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے پرسوچ لہجے میں بڑبڑایا تبھی سائیڈ والے کمرے سے اُس کو عبیر نظر آنے لگی جو اُس کے کہے مطابق وائٹ کلر کے فراق اور چوڑی دار پاجامے میں ملبوس تھی ساتھ میں وائٹ کلر کا حجاب پہنے دیکھ کر تبریز کو وہ بہت پیاری لگی ایک احتیاط بھری نظر اردگرد ڈال کر وہ ایک جست میں عبیر تک پہنچ کر بنا اُس کو سمجھنے کا موقع دیئے جس کمرے سے وہ آئی وہاں لیں گیا۔

آپ؟عبیر نے تبریز کو دیکھا تو حیرت کا شدید جھٹکا لگا اُپر سے اُس کی حرکت۔

ہاں میں تمہارا مجازی خدا۔تبریز مزے سے جواب دیتا کمرے کا جائزہ لینے لگا

یہاں کیوں اور کیا کررہے ہیں۔عبیر نے اُس کو رلیکس دیکھا تو پریشانی سے کہا

یہاں میں اپنے سالے صاحب کا ایڈوینچر سے بھرپور نکاح اٹینڈ کرنے اور اپنی پیاری منکوحہ کا دیدار کرنے آیا ہوں۔عبیر تبریز کی پہلی بات پہ تو ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے پر دوسری بات سن کر پہلی بات بُھلائے وہ شرم سے گُلنار ہونے لگی تبریز دلچسپی سے اُس کے تاثرات نوٹ کررہا تھا پر اچانک اُس کے دماغ میں زویا کا جُملا یاد آیا تو تاثرات یکدم سپاٹ ہوئے

اعیان کون ہے؟تبریز نے سنجیدگی سے پوچھا

اعیان وہ امی کی دوست کا بیٹا ہے کالج میں آپ کو بتایا تھا نہ۔عبیر نے جھجھک کر بتایا

تم بات کرتی ہوں اس سے؟دوسرا سوال

میں کیوں کروں گی اُن سے بات۔

گُڈ کرنا بھی مت مجھے برداشت نہیں ہوگا اور خوامخواہ وہ میرے ہاتھوں پِٹ جائے گا۔تبریز بے نیازی سے بولا تو عبیر خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی جس کے لیے مار کُٹائی کرنا سانس لینے جیسا ضروری تھا۔

جانے اِن کے بچے کیسے ہوگے۔عبیر بے خیاری میں سوچنے تبریز کے بچوں کا بھی سوچنے لگی۔

اگر میرے ساتھ پرسنل ٹائیم گُزار لیا ہو تو باہر چلیں۔تبریز شرارت سے اُس کو دیکھ کر بولا تو وہ گڑبڑائی

آپ خود لائے تھے کونسا میں آئی تھی۔عبیر نے اپنا دفاع کیا

کون یقین کرنے لگا پیاری منکوحہ۔تبریز اُس کا گال کھینچ کر بول کر پہلے کمرے سے باہر نکل کر آس پاس دیکھا کسی کو ناپاکر اُس نے عبیر کو آنے کا اِشارہ کیا جو اپنے گال پہ ہاتھ رکھتی تبریز کا لمس محسوس کرنے میں تھی۔

کومہ میں چلی گئ ہو کیا آجاؤ۔تبریز نے اُس کو اِسٹل کھڑا پایا تو کہا جس سے وہ ہوش میں آئی

کیا آپ کو ڈر لگ رہا ہے کسی سے؟عبیر نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا

ڈرتا تو میں اپنے باپ سے بھی نہیں یہ ڈر نہیں احتیاط ہے میں نہیں چاہتا میری وجہ سے تمہارے کردار پہ کوئی انگلی اُٹھائے اور ساری زندگی ہاتھ کی انگلی سے محروم رہے۔عبیر کو پہلے اپنی قسمت پہ رشک آنے لگا پر تبریز کی آخری بات پہ جل بھن کے رہ گئ جہاں اُس نے ابھی بھی دھمکی دینا ضروری سمجھا تھا۔

۔…….۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کلک کی آواز پہ معصومہ نے دروازے کے پاس دیکھا تو عماد کو کھڑا پایا جو بے تاثر نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا معصومہ نے ایک نظر ڈال کر اپنا چہرہ دوسری طرف کیا۔

تمہیں پتا ہے تمہیں دیکھ کر میرے دل میں پہلا خیال کیا آیا ہے؟عماد چلتا ہوا اُس کے کجھ فاصلے پہ کھڑا ہوکر سنجیدگی سے بولا معصومہ نے اپنی سوالیہ نظریں اُس کے چہرے پہ ٹکائی

اتنے سالوں سے ہم ساتھ رہے ہیں ایک گھر میں اپنا بچپن ساتھ گُزارا ہے پر کبھی تم مجھے اتنی بُری نہیں لگی جتنی آج اِس وقت اِس جوڑے میں لگ رہی ہو۔عماد کی بات پہ معصومہ نے آئبرو سیکڑے.

تمہیں لگتا ہے عماد تمہاری اِس باتوں سے مجھے فرق پڑے گا۔معصومہ چلتی ہوئی اُس کے مقابل کھڑے ہوئی عماد کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر نمایاں ہوا

ابھی بھی وقت ہے سوچ لو بعد میں ورنہ پچھتانا پڑے گا۔عماد اُس کے کان کے پاس آتا سرگوشی نما آواز میں بولا

دھمکی دے رہے ہو۔معصومہ نے تیز نظروں سے اُس کو گھورا عماد اپنے قدم پیچھے لیتا ہنس پڑا

تمہیں کیا لگ رہا ہے میں دھمکی دے رہا ہوں۔عماد اپنی جانب اشارہ کرتا بولا

میرے پاس فالتو وقت نہیں جو یہ اندازے لگاؤ اور تم جاؤ یہاں سے۔معصومہ نے بے زاری کا مظاہرہ کیا

چلو پھر بعد میں ملتے ہیں پھر تو تمہارے پاس وقت ہی وقت ہوگا۔عماد اپنی بات کہہ کر کمرے سے باہر چلاگیا معصومہ بھی اپنی سوچو کو جھٹک کر خود کو پرسکون کرنے لگی جو کی ناممکن تھا

۔…۔۔۔۔۔۔۔

معصومہ کے کمرے سے نکلنے کے بعد عماد باہر جانے والے تھا جب تبریز اُس کے سامنے آیا

کیسے ہو اور تمہاری چچا زاد بہن کی شادی ہے ایسے رومیو مجنوں اور ناکام عاشقوں جیسا حُلیہ کیوں بنایا ہوا ہے تھوڑا تیار شیار ہوجاؤ کپڑے وغیرہ ہی استری شدہ پہن لو۔تبریز جچ کرتی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجاکر عماد سے بولا جس کا بس نہیں چل رہا تھا چچا زاد بہن لفظ سن کر اُس کی پوری بتیسی توڑ ڈالتا

میں رومیو جیسا حُلیہ بناؤں یا دیواداس جیسا تمہیں کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے اپنے کام سے کام رکھو دوبارہ مجھ سے اتنا بے تکلف مت ہونا۔عماد ناگواری سے بولا

سالے صاحب سے اتنا بے تکلف ہونا تو بنتا ہے عمر میں بھی بڑا ہوں تم سے تو تمہارا کام ہے مجھے اچھے سے پروٹوکول دینا۔تبریز نے کافی فرینک لہجے میں کہا

سالے صاحب کہنے کا مطلب دوبارہ ایسی بکواس کی نہ تو اپنا حال سوچ لینا۔عماد نے غصے سے کہا

پہلے تمہارا حال تو اچھے سے دیکھ لوں اور ایک بات تو بتاؤ جب نکاح ہوجاتا ہے اُس کے بعد رخصتی کا شور اُٹھتا ہے تو لڑکی کا بھائی اُس کے سر پہ قرآن پاک کا سایہ لیکر چلتا ہے اُس کا یعنی تمہاری چچا زاد بہن ہے کا بھائی تو چھوٹا ہے تو کیا یہ کام تم کروگے۔تبریز مصنوعی حیرت سے بولا

تمہیں انوائٹ کس نے کیا ہے۔عماد ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بھینچ کر سالم نگل والی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا

ارے بھول گئے سالے صاحب خود ہی تو کارڈ دینے آئے تھے اپنی چچا زاد بہن کے نکاح کا۔تبریز اب بھی باز نہ آیا۔

گو ٹو ہیل۔عماد غصے سے اُس کو دور کرتا سائیڈ سے گُزرنے لگا جب تبریز بولا

مجھے ایسی ویبز آرہی ہیں جیسے تمہارا نکاح بھی ہے اب دیکھو نہ سب مہمان آگئے ہیں لڑکے والوں کا نام ونشان نہیں نہ کسی کی توجہ اُن کی طرف گئ ہے۔عماد چند پل تو سوچنے لگا پھر سر جھٹک کر چلاگیا۔

لگتا ہے تیار ہونے جارہا ہے ظاہر ہے نکاح جو ہے۔تبریز ڈارھی پہ ہاتھ پھیرتا بڑبڑایا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نکاح میں کتنا وقت ہے یار میں تھک گئ ہوں بیٹھ بیٹھ کر۔عبیر اور سوہا معصومہ کو ہال میں بنائے گئے اسٹیج پہ بیٹھائے کجھ ہی منٹ ہوا تھا جب اُس نے نکاح کا پوچھا

بے صبری کی حد ہے معصومہ۔عبیر نے تاسف سے اُس کو گھورا جو چہرے پہ گھونٹ اُوڑے بیٹھی تھی۔

تو یہ چنڑی ہٹادو سچی میرا سانس بند ہورہا ہے۔معصومہ نے کوفت سے کہا

کجھ دیر پھر نکاح کی رسم ہوجائے گی۔عبیر نے کہا

سرفراز آیا نہیں ابھی؟معصومہ نے اپنے ساتھ والے صوفے پہ نظر ڈال کر کہا جہاں دولہے نے بیٹھنا تھا۔

پتا نہیں شاید راستے میں ہو۔عبیر نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا۔سوہا نے سائیڈ پہ آکر عباد سے پوچھا جو بار بار کسی کو کال ملانے میں مصروف تھا۔

سب لوگ نکاح کا پوچھ رہے ہیں کے کب ہوگا لڑکے والے کیوں نہیں آئے تبھی اُن کا نمبر ملا رہا ہوں جو مصروف آرہا ہے۔عباد نے پریشانی سے بتایا

آپ پریشان نہ ہو کیا پتا راستے میں ہو۔سوہا نے اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر تسلی آمیز لہجے میں کہا جب کی وہ خود اندر سے پریشان ہوگئ تھی پر ظاہر نہیں ہونے دیا

ہمم اللہ کریں ایسا ہی ہو۔عباد سب مہمانوں پہ نظر ڈالتا بولا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم یہاں کیا بس کھانے آئی ہو۔حماد نے فرشتے کو چپس کھاتا دیکھا تو پوچھا

نہیں تمہیں سبق سیکھانے آئی ہوں ایک قرض تھا جس کو اُتار کر جاؤں گی۔فرشتے حماد کو دیکھتی بدمزہ ہوکر بولی

ہونہہ لگتا ہے پچھلا حال تم اور تمہارا بھائی بھول گئے ہو تبھی یاد کروانے کے لیے آگئے۔حماد مذاق اُڑانے والے لہجے میں بولا

تم بند خود کو سمجھتے کیا ہو۔فرشتے آگ بگولہ ہوکر بولی

وہ جو میں ہوں۔حماد شانِ بے نیازی سے بولا تو فرشتے نے منہ بنایا

بیٹھے رہو تم۔فرشتے گھور کر دیکھتی واٹ آؤٹ کرگئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عباد مناہل کی باتوں کا جواب دے رہا تھا جب اُس کے سیل فون پہ کال آنے لگی معصومہ کے سسرال والوں کا نمبر دیکھا تو عباد کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑکا

کیا ہوا کال اٹینڈ کرو کیا پتا ضروری ہو۔مناہل نے اُس کو سوچو میں گم پایا تو کہا جس پہ عباد مصنوعی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر کال اُٹھاگیا تھا سوہا بھی تب تک وہاں آگئ تھی۔

ہیلو۔

کیا بکواس ہے۔عباد تیز آواز میں دھاڑا تو سوہا ڈر کر آس پاس دیکھنی لگی جہاں سب کی نگاہوں کا مرکز عباد تھا۔

میں جان سے ماردوں گا۔

عباد رلیکس کیا ہوگیا مہمان ہیں۔اُس سے پہلے عباد آپے سے باہر ہوتا سوہا اُس کا بازوں پکڑتی بولی عباد کال کاٹ کر اسٹیج پہ دیکھنے لگا جہاں معصومہ کے ساتھ اُس کی دوستوں کا جن غفیر تھا۔

عباد کیا بات ہے؟سوہا کو پریشانی ہونی لگی۔مناہل نے بھی سوالیہ نظروں سے عباد کو دیکھا

آج نکاح نہیں ہوگا عباد کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی

یہ کیا۔سوہا کو یقین نہیں آیا اچانک اُس کو اپنے نکاح کا دن یاد آیا

آرام سے بتاؤ عباد کیا بات ہے؟مناہل نے پوچھا

سرفراز کل رات سے گھر نہیں آیا اُس کی ماں کا فون تھا معذرت کررہی تھی۔عباد نے بے بسی سے بتایا۔

اب کیا ہوگا میری بچی۔سوہا کا ہاتھ بے ساختہ منہ پہ پڑا۔

مہمانوں سے معذرت کرو۔عباد آنکھوں کو میچ کر بولا

بدنامی ہوگی ہزار سوالات ہوگے کیوں نکاح نہیں ہوا۔سوہا کی آنکھوں میں نمی سی چمکی۔

تو کیا کرے اتنا وقت ہوگیا اب کہاں اُس کو تلاش کرے گے کیا گارنٹی ہے وہ نکاح کرے گا کیا اُس کو نہیں تھا پتا۔عباد سخت لہجے میں بولا

عباد پریشان نہیں ہو اور سوہا تم بھی کوئی بدنامی نہیں ہوگی میں تبریز سے بات کرتی ہوں وہ کرے گا معصومہ سے نکاح۔مناہل کی بات پہ عباد اور سوہا نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا

معصومہ نہیں مانے گی۔سوہا نے آہستہ آواز میں کہا

تمہارا بیٹا مان جائے گا۔عباد ایک نظر سوہا پہ ڈال کر مناہل سے بولا

میں بات کرتی ہوں اُس سے۔مناہل کہہ کر تبریز کو تلاش کرنے لگی اُن دونوں کو خاموش کھڑا دیکھ کر عمار بھی ان کے پاس آگیا

بھائی کیا کجھ ہوا ہے۔عمار کے سوال پہ عباد نے گہری سانس لیکر سب بتایا

بھائی عماد آپ بھول گئے کیا جو اب دوبارہ غیروں پہ یقین کررہے ہیں۔عمار کو عباد کی مناہل والی بات خاص پسند نہیں آئی

زویا میری اولاد کو پسند نہیں کرتی بہو کے روپ میں قبول کرے گی۔جواب سوہا نے دیا

نکاح عماد سے ہوگا وہ قبول کرلے گا زویا کو میں ہینڈل کرلوں گا ویسے بھی ہم نے تو یہی سوچا تھا نہ۔عمار نے سنجیدگی سے کہا

میں معصومہ کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتی۔سوہا ماننے کو تیار نہ تھی۔

معصومہ کی خوشی کی ضمانت میں دیتا ہوں اُس کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی زویا سنبھل جائے گی۔عمار نے جوابً کہا

مناہل کیا جواب دیتی ہے پھر سوچتے ہیں۔عباد جو اب تک خاموش تھا وہ بول پڑا

سوچ لیں بھائی کوئی بھی لڑکا عماد سے زیادہ معصومہ کو خوش نہیں رکھ پائے گا۔عمار کہتا ایک خاموش نظر دونوں پہ ڈال کر چلاگیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبریز تم سے بات کرنی ہے۔مناہل کو تبریز موبائیل میں مصروف نظر آیا تو اُس کو دیکھ کر کہا

کیا نکاح نہیں ہورہا۔تبریز مسکراہٹ ضبط کیے بولا

نہیں۔مناہل کا اتنا کہنا تھا وہ دل میں عش عش کر اٹھا اپنا اندازہ درست جان کر

اوو ویری سیڈ کیوں نہیں ہورہا ویسے؟تبریز نے مصنوعی افسوس کا اظہار کیا

یہ بعد میں بتاؤں گی پر آج ایک لڑکی کی عزت کا سوال ہے میں نے کبھی تم سے کجھ نہیں مانگا آج مانگ رہی ہوں معصومہ سے نکاح کرلوں۔مناہل نے منت بھرے لہجے میں کہا

واٹ آپ کا دماغ ٹھیک ہے۔تبریز مناہل کی بات پہ ہتھے سے اُکھڑگیا۔

معصومہ بہت اچھی لڑکی ہے۔مناہل نے اُس کو قائل کرنا چاہا

اوو پلیز مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں کسی میں اگر آپ کو میری شادی کا اتنا شوق ہیں تو رخصتی کی بات کریں۔تبریز بے زاری سے بولا

کس سے کس کی رخصتی کی بات کرو۔مناہل حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی

کسی کی بھی نہیں میں شادی نکاح جو بھی ہے نہیں کرنے والا تو پلیز آپ فورس مت کریں۔ تبریز بات ٹال کر بولا

تب

نو مینز نو۔ تبریز سرد لہجے میں کہہ کر رُکا نہیں مناہل نے اپنے سامنے عباد کو دیکھا تو شرمندگی سے نظریں چُرائی

تم نے میری بیٹی کے لیے اچھا سوچا یہی بڑی بات ہے شرمندہ مت ہو یہ اللہ کے فیصلے ہوتے ہیں۔عباد نے اُس کو شرمندگی سے نکالنے کے غرض سے کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عماد جیسے ہی تیار ہوکر نیچے آیا تو کجھ غیرمعمولی سا محسوس ہوا

امی کیا لڑکے والی نہیں آئے ابھی تک۔ عماد نے خاموش کھڑی زویا سے پوچھا

نہیں۔ زویا نے کوفت سے جواب دیا

کیوں؟ عماد نے تعجب سے پوچھا

پتا نہیں۔زویا تیز آواز میں کہتی جانے لگی جب عمار اُس کے پاس آیا

میرا فون کمرے میں پڑا ہوا ہے لیکر آنا ذرہ۔عمار کی بات پہ زویا نے اُس کو گھورا

میں لیکر آتا ہوں۔عماد نے کہا

زویا کو پتا ہوگا وہ لیکر آے گی تم رکو بات کرنی ہے تم جاؤ۔عمار نے دونوں کو ایک ساتھ مخاطب کیا

ملازم سے کہہ سکتے تھے۔زویا نے اکتاہت سے کہا

تمہیں جانے میں کیا ہے۔عمار نے کہا تو زویا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ

آپ کو کیا بات کرنی ہے۔زویا کے جانے کے بعد عماد نے پوچھا

معصومہ سے نکاح کرلوں۔عمار نے بنا کوئی اور بات کیے ڈائریکٹ مطلب کی بات کہی جس پہ عماد جتنا حیران ہوتا اُتنا کم تھا اُس نے وہم و گمان میں بھی نہیں آتا اُس کا باپ ایسی بھی کوئی بات کرسکتا ہے۔

جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *