Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 23)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 23)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
عائشہ تم یہاں۔زویا نے مال میں عائشہ اور اعیان کو دیکھا تو خوشگوار لہجے میں بولی
ہاں بس شاپنگ کرنے کا موڈ بنا۔عائشہ اُس سے ملتی بولی
اور ساتھ میں مجھ معصوم کو بھی گھسیٹ لیا اب میں بے چارہ خوار ہورہا ہوں۔اعیان نے دوہائی دینے والے انداز میں کہا تو عائشہ اور زویا ہنس پڑی جب کی عبیر کو اکتاہٹ ہونے لگی کیونکہ خوار زویا نے بھی اُس کو کم نہیں کیا تھا اُس نے معصومہ کی شاپنگ کرلی تھی اب بس اُس کو زویا کے فارغ ہونے کا انتظار تھا۔
اگر ایسی بات ہے تو تم عبیر کو لیکر پاس والے ریسٹورنٹ کی طرف جاؤ تھوڑی دیر تک ہم بھی فری ہوکر جوائن کرلیں گے۔زویا کی بات پہ اعیان متفق ہوا پر عبیر بُری طرح نروس ہوئی
امی۔
جاؤ اعیان کے ساتھ اور اچھے سے بیہو کرنا۔عبیر نے زویا کو روکنا چاہا پر اُس سے پہلے زویا نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا تو وہ کجھ بول نہیں پائی
چلیں محترمہ ورنہ میری ٹانگیں چلنے پھرنے سے انکاری ہوجائے گی۔اعیان عبیر کو دیکھ کر شوخ لہجے میں کہا تو اُس نے گردن کو جنبش دینے پہ اکتفا کیا
کتنے اچھے لگ رہے ہیں نہ ساتھ میں۔اُن دونوں کو جاتا دیکھ کر زویا نے عائشہ سے کہا
لگ تو رہے ہیں پر تم سوچ کیا رہی ہوں۔عائشہ نے غور سے اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا
وقت آنے پہ بتادوں گی ابھی چلو۔زویا نے پُراسرار لہجے اپناتے ہوئے کہا تو عائشہ نے پھر سے نہیں پوچھا کیونکہ وہ جانتی تھی زویا بتائے گی تب جب اُس کا اپنا دل کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر سے نکلنے کے بعد تبریز پہلے تو بے مقصد گاڑی سڑکوں پہ چلاتا رہا پھر اُس نے اپنا رخ ریسٹورنٹ کی طرف کیا وہ کافی کا کپ ہاتھ میں پکڑے بیٹھا تھا جب غیرشعوری طور پہ اُس کی نظر سامنے آتی وجود پہ پڑی تو آنکھوں میں حیرت در آئی کیونکہ سامنے کوئی اور نہیں عبیر کے ساتھ اعیان تھا
مجھے کیا۔تبریز ایک تیز نظر اعیان پہ ڈالتا اپنا رخ وال گلاس کی طرف کیا۔
کیا آرڈر کروں تمہارے لیے۔اعیان نے مینیو کارڈ ہاتھ میں لیتے عبیر سے کہا جو جانے کن سوچو میں نکل پڑی تھی در حقیقت اُس کو یہ سمجھ نہیں آرہا تھا زویا نے کیوں کسی لڑکے کے ساتھ بھیجا پہلے تو نہ کبھی اُس کو دوستیاں بنانے دی نہ کسی کے ساتھ جانے کی اجازت پھر آج ایسا کیا ہوگیا جو لڑکے ساتھ اکیلے ریسٹورنٹ ہی بھیج دیا اِس بات کو وہ جتنا سمجھنے کی کوشش کرتی اُتنا اُلجھ جاتی۔
مجھے بھوک نہیں۔عبیر نے بنا اُس کی جانب دیکھے کہا
آپ شاید مجھ سے کترا رہی ہیں تو ایزی ہوجائے کیونکہ میں آپ کے نوالے نہیں گِنوں گا۔اعیان نے اُس کو رلیکس کرنے کے غرض سے مزاحیہ انداز اپنایا جو اُس کی طبیعت کا خاصہ تھا
ایسی کوئی بات نہیں۔عبیر نے سنجیدگی سے جواب دیا
اوکے تو میں جو اپنے لیے آرڈر کروں گا وہی آپ کے لیے بھی کرتا ہوں۔اعیان بھی اپنے نام کا ڈھیٹ نکلا عبیر نے کوئی جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔
جب کی دور تبریز اعیان کا یوں مسکراکر عبیر سے بات کرنا عبیر کا سر جھکاکر جواب دینے کا انداز دیکھ کر ایک الگ مطلب اخذ کرلیا تھا وہ جو پہلے ہی غصے سے بھنا بیٹھا تھا اب اور اُضافہ ہوا تھا اپنی کیفیت سے وہ یکسر انجان تھا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیوں اُس کی نظریں بے اختیار ہوتی بھٹک بھٹک کر اُن دونوں کی ٹیبل پہ پڑ رہی تھی
مجھ سے تو کبھی ایسے بات نہیں۔تبریز گردن کی پشت پہ ہاتھ پھیرتا جل کے سوچنے لگا اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ایک منٹ میں اعیان کو غائب کردیتا اچانک اُس کے دماغ میں جانے کیا سمایا تو چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آئی اپنی جگہ سے فورن اُٹھ کر وہ سامنے والی ٹیبل کی طرف بڑھنے لگا۔
تم یہاں مجھے بتایا کیوں نہیں۔تبریز دوسری ٹیبل کے سامنے سے چیئر اُٹھا کر عبیر کے سامنے رکھ کر مکمل اعیان کو نظرانداز کیے عبیر سے فرینک انداز میں مخاطب ہوا
عبیر پہلے تبریز کی اچانک موجودگی پھر یوں اُس کا مخاطب کرنا حیران کرگیا اُس کو سمجھ نہیں آیا کیا جواب دے اُس کے برعکس تبریز کو اُس کی حالت مزہ دے رہی تھی اُس کا موڈ یکدم بدل گیا تھا۔
آپ جانتی ہیں انہیں۔اعیان نے عبیر کو خاموش دیکھا تو لب کشائی کی
یس وی آر بیسٹ فرینڈ رائٹ عبیر۔تبریز اچٹنی نظر اعیان پہ ڈال کر بولا اور ساتھ میں تائید نظروں سے عبیر کو دیکھنے لگا
او دیٹس گریٹ بٹ مجھے ایسا لگ رہا جیسے میں نے پہلے آپ کو کہی دیکھا ہے۔اعیان پرسوچ لہجے میں بولا
دیکھا ہوگا ورنہ میں تو پہلی بار تمہاری شکل دیکھ رہا ہوں۔تبریز جلے کٹے لہجے میں بولا
ہاں کیونکہ میں اپنی شکل کا ون پیس ہوں۔اعیان اُس کے لہجے پہ غور کیے بنا مگن انداز میں بولا تب تک کھانا سرو بھی ہوچکا تھا پر ان کا دھیان باتوں میں لگ گیا تھا
امی نے شاپنگ کرلی ہوگی ہمیں چلنا چاہیے۔عبیر تبریز کی نظروں سے پزل ہوتی اُٹھ کھڑی ہوئی
یار بیٹھ جاؤ ابھی تو کھانا بھی نہیں کھایا ہم نے۔اعیان ناراض لہجے میں بولا عبیر کھڑی ہوتی اپنے ہاتھ چٹخانے لگی۔
عبیر کو چائینز کھانا نہیں پسند یہ تم ہی کھاؤ۔جلن میں تبریز کا لگایا ہوا تُکہ ٹھیک نشانے پہ لگا تھا یوں عبیر کے حرکت کرتے ہاتھ تبریز کی بات سن کر تھمے تھے
اوو آے سی میں نے تو آرڈر کا کہا تھا پر عبیر نے انکار کردیا تبھی میں نے اپنی پسند کا آرڈر دے ڈالا۔اعیان اب کی کجھ شرمندہ ہوا
کوئی بات نہیں میرا ویسے بھی کھانے کا دل نہیں۔عبیر نے اعیان کو جواب دیا تو تبریز کو آگ لگ گئ
دل کا کھانے سے کیا تعلق کھانے کا تعلق معدے سے ہوتا ہے۔تبریز نے عبیر کو اپنی طرف متوجہ کیا اعیان اب کی فضول تکرار سے بے نیاز کھانا کھانے میں مگن ہوگیا تھا۔
امی۔عبیر نے زویا اور عائشہ کو دیکھا تو اُس کی طرف لپکی تبریز نے پلٹ کر دیکھا تو زویا کو دیکھ کر اُس کا منہ ایسے بن گیا جیسے کڑوا بادام نگل لیا ہو۔
ایک دوسرے کی کمپنی انجوائے کی تم دونوں نے۔ عائشہ نے مسکراکر پوچھا تبریز ایک نظر عبیر پہ ڈال کر ریسٹورنٹ سے نکل گیا تھا۔
جی۔عبیر بس یہی بول پائی





رات کا وقت تھا عبیر شام کے وقت زویا کے ساتھ آئی تھی آنے کے بعد وہ فریش ہونے کے بعد ہی اُس نے معصومہ کو اُس کو کپڑے دیکھائے جو اُس کو بے حد پسند بھی آئے تھے۔
شکریہ جانوں۔معصومہ چٹاچٹ اُس کے گالوں پہ بوسہ دیتی بولی تو عبیر کا چہرہ سرخ ہوگیا
او ہو شرما رہی ہو۔معصومہ اپنا کندھا اُس کے کندھے سے مس کرتی چھیڑنے لگی
یار نہ کیا کرو ایسا۔عبیر آہستہ آواز میں بولی
اوکے بٹ تھینکس ونس اگین۔معصومہ نے بھی ٹالا
میں کمرے میں جارہی ہوں تھک چُکی ہوں۔عبیر اُٹھتی ہوئی معصومہ سے بولی
ابھی تو آٹھ بج رہے ہیں اتنی جلدی؟معصومہ نے اپنے کمرے میں موجود وال کلاک پہ وقت دیکھ کر کہا
ہاں کل کالج بھی جلدی جانا ہے تبھی۔عبیر نے وجہ بتائی تو معصومہ نے سرہلانے میں اکتفا کیا
اُس کے جانے کے بعد معصومہ نے ایک ایک ڈریس پہن کر چیک کیا پھر اپنا وارڈروب سیٹ کرتی نیچے آئی جہاں اُس کو کارٹونوں کی تیز آواز کانوں کے پردے پھاڑتی محسوس ہوئی معصومہ نے اپنا رخ ٹی وی لاوٴنج کی جانب کیا جہاں ہاتھوں میں پاپ کارن کا باؤل پکڑے حماد غور سے ٹی وی پہ نظریں مرکوز کیے بیٹھا تھا
رات کے دس بج رہے ہیں آواز آہستہ کرو۔معصومہ اُس کے ہاتھوں سے پاپ کارن کا باؤل پکڑتی بولی
بس یہ لاسٹ اینڈ ہوجائے اُس کے بعد کمرے میں سونے کے لیے جاؤں گا۔حماد نے ٹی وی کا ویلیم مزید تیز کرکے جواب دیا
ڈھیٹ۔معصومہ بڑبڑائی
ویسے آپو۔حماد نے کجھ دیر بعد معصومہ کو مخاطب کیا
ہمم۔معصومہ نے جواب دیا
عماد بھائی کے بنا گھر خالی خالی ہوگیا ہے نہ۔حماد کجھ اُداس لہجے میں بولا
مجھے تو نہیں لگتا ایسا کیونکہ تمہارے عماد بھائی کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے سارا دن تو اپنے کمرے میں رہتا اگر کبھی کبھار باہر بیٹھتا بھی تو زبان کو قفل ڈال دیتا۔معصومہ نے اعتراض کیا
اب ایسی بھی کوئی بات نہیں میں تو بڑا مس کررہا ہوں ان کو شام کو جب میں نے امی کے فون سے اُن کو کال کی تو معلوم ہوا ایک اور ماہ لگ سکتا ہے ان کو آنے میں ڈیڈ نے لاہور میں میٹینگز کیوں رکھ دی۔حماد نے ٹی وی آف کرکے کہا
عماد نامہ بند کرو اور کیوں نہ کوئی ہارر مووی دیکھے تمہارے کمرے میں؟۔معصومہ متجسس لہجے میں حماد سے بولی جس کو ہارر مووی کے نام پہ چپ لگ گئ تھی
میرے کمرے میں کیوں اگر آپ کو دیکھنا ہے تو اپنے کمرے میں جاکر دیکھے میرے کمرے والی ٹی وی ویسے بھی ایک شوپیز کے سِوا کجھ نہیں نہ تو میرے پاس پرسنل سیل ہے نہ کوئی یو ایس پی نہ میرے کمرے میں کیبل سسٹم ہے جو میں اُس کو آن کروں۔حماد کو جیسے موقع مل گیا اپنے دوکھوں کا انبار کھولنے کا
او ہو میرا سیل تو ہے نہ اور تمہیں یہ سب چیزیں اِس لیے کمرے میں موجود نہیں کیونکہ ابھی تم اٹھارہ کے نہیں ہوئے اِس لیے ڈیڈ اور مم چاہتے ہیں تمہیں جو بھی دیکھنا ہو لاوٴنج میں موجود ٹی وی پہ دیکھ لیا کرو اِس کی پابندی تو تم پہ عائد نہیں دوسرا سیل فون تمہارا اپنا نہ بھی ہو تو ہم سب تو دیتے ہیں نہ جب جب تم مانگتے ہو تو پرسنل نہ بھی ہو تو کیا فرق پڑتا ہے بس تمہارا مائینڈ باقی سوچو سے دور رہے کجھ غلط چیزیں تمہاری نظروں کے سامنے نہیں آئے اِس لیے ورنہ مجھے بھی تو اپنا پرسنل سیل فون انیسویں سالگرہ پہ ڈیڈ نے گفٹ کیا تھا۔معصومہ آرام سے اُس کو سمجھانے لگی۔
سہی پر میں ہارر مووی نہیں دیکھوں گا۔حماد کی سوئی ابھی تک ہارر مووی پہ اٹکی ہوئی تھی۔
میں تمہارے ساتھ ہوں تو کیسا ڈر اور میں تمہارے کمرے میں رہوں گی آج ٹھیک ہے۔معصومہ نے پھر کہا
پر میرا بیڈ تو سنگل ہیں آپ وہاں سوئی تو میں کہاں سوؤں گا۔حماد نے ایک اور نقطہ نکالا
صوفہ تو ہے نہ۔معصومہ نے دانت پیسے
اچھا پر آپ پرومس کریں آج رات میرے کمرے میں ہوگی۔حماد نے اپنا ہاتھ اُس کے سامنے کیا
اب یہ دن آگیا ہے تمہیں اپنی اکلوتی بہن پہ اعتبار نہیں اُس سے واعدہ لو گے تو یقین آے گا تمہیں۔معصومہ نے جیسے افسوس کیا
اچھا چلے۔حماد بے دلی سے بولا پر معصومہ خوش ہوگئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپو یہ تو بہت بُرانی فلم ہے۔ حماد نے معصومہ سے کہا جو اُس کے کمرے میں موجود ٹی وی پہ اپنا سیل فون کنیکٹ کررہی تھی کیونکہ معصومہ کا آج ہارر فلم1990 دیکھنے کا دل چاہا تھا اور حماد کو بھی راضی کرلیا تھا۔
تو کیا ہوا اولڈ از گولڈ اور یہ موسٹ ہارر مووی ہے آجکل کی ہارر مووی دیکھو تو ڈر تو نہیں لگتا خوامخواہ ہنسی نکل جاتی ہے۔ معصومہ بیڈ پہ بیٹھتی جواب دینے لگی
اچھا۔ ۔۔حماد نے ٹی وی پہ نظر ڈالی تو اُس کا خون خشک ہونے لگا وہ پچھتا رہا تھا ہاں کیوں کی۔
اور نہیں تو کیا اب تم اُٹھو اب کمرے کی ساری لائٹس آف کرو کھڑکیاں بھی بند کرکے پردے سامنے کرو پھر دیکھنا سینما والی فیلنگز آئے گی۔ معصومہ نے مزے سے کہا
اُس کا تو نہیں پتا پر میرا ہارٹ ضرور فیل ہوجائے گا کھڑکی سے بیڈ تک آنے پہ۔ معصومہ کی بات سن کر حماد بڑبڑایا
کیا بول رہے ہو۔ معصومہ نے کوفت سے پوچھا
آپ بھی ساتھ چلتی تو تسلی ہوتی۔ حماد کی بات پہ اُس نے گھورا
تمہارے کمرا ہے یہ اور بس کھڑکی بند کرنے کا کہا کونسا باہر جانے کا کہا ہے۔ معصومہ نے اُس کو جھڑکا تو حماد مرتا کیا نا کرتا کے مصداق حُرما حُرما چال چلتا کھڑکیوں کے پاس آیا تب تک ٹی وی پہ فلم کا خوفناک بھی سین بھی شروع ہوچکا تھا حماد کو اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز کانوں تک سُنائی دی۔
آپو۔
آآآہ
معصومہ جو ایک آنکھ بند کیے ٹی وی پہ چلتے مناظر دیکھ رہی تھی حماد کے اچانک آواز دینے پہ اُچھل پڑی جس سے حماد کی آدھی جان نکل گئ۔
کیا ہے جان نکال دی میری۔ معصومہ گہری سانس لیتی بولی
میں کیسے آؤں اندھیرا ہے۔حماد نے وجہ بتائی
ٹانگوں سے چل کر آؤ کمرہ ٹی وی کی روشنی سے روشن تو ہے۔معصومہ نے جھنجھلا کر کہا
اچھا۔حماد بس یہی بول پایا کیونکہ اُس کے سامنے بار بار وہ منظر آرہا تھا جب آدمی کھڑا تھا تو کسی نے اُس کی ٹانگوں سے کھینچا یہ فلم کا منظر حماد نے غلطی سے دیکھ لیا۔تھا کیونکہ فلم کی شروعات ہی ایسی تھی اب اُس کو ڈر لگ رہا تھا کوئی اُس کو بھی نہ ٹانگوں سے کھینچ لیں۔
حماد کلمہ پڑھتا ایک جست میں بیڈ پہ چڑھا
فلم آدھی چل گئ تھی اب لڑکی رات کو کمرے سے نکلتی جارہی تھی تو حماد بیڈ سے اُٹھ کھڑا ہوا کیونکہ اب اُس کی بس ہوئی تھی
کہاں۔ معصومہ کے گلے سے پھسی پھسی سی آواز نکلی
پانی پینے۔ حماد نے بہانا بنایا
پانی تو یہاں موجود ہے تم مجھے اکیلا چھوڑ کر جارہے ہو کمرے میں تو بتادوں آدھے راستے میں چھوڑ کر جانے والے بے وفا ہوتے ہیں۔ معصومہ نے ایموشنل لہجے میں کہا
وفا کے چکر میں میرا جنازہ نکل جائے گا۔ حماد نے کہا
بس تھوڑی بچی ہے وہ دیکھ لیتے ہیں۔ معصومہ نے منت کی تھی تو حماد بیٹھ گیا پر نظریں سامنے اسکرین پہ کرنے کی غلطی نہیں کی۔
فلم پہ لڑکی کچا گوشت کھانے لگی تو معصومہ کو قے آنے لگی وہ تھوڑا سا کھسک کر حماد کے قریب ہوئی جو آنکھیں بند کیے آیة الکرسی کا ورد کررہا تھا اللہ اللہ کرکے فلم کا احتتام ہوا تو حماد کی جان میں جان آئی
اوکے گُڈنائٹ۔ فلم کا اینڈ ہوا تو معصومہ بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی اُس کو جاتا دیکھ کر حماد کا رنگ اُڑا آنکھیں خوف سے پھٹی
آپو۔ حماد نے بے یقینی سے اُس کو دیکھا
کیااا۔ معصومہ نے آئبرو اُچکائے
آپ نے کیا کہا تھا ہارر فلم کے بعد میرے کمرے میں ہوگی اب آپ کیسے جاسکتی ہیں۔ حماد نے یاد دوہائی کروائی
بڑے ہو کونسا چھوٹے ہو جو میں تمہارے کمرے میں رہوں۔ معصومہ نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا
میں صوفے پہ سوجاؤں گا آپ بیڈ پہ پر یوں مجھے چھوڑ کر ناجائے۔حماد روہانسے لہجے میں بولا
ڈیئر برادر مجھے میرے کمرے اور بیڈ کے علاوہ کہیں اور نیند نہیں آتی۔معصومہ نے اپنی مجبوری بتائی
آپ نے ہی کہا تھا آدھے راستے میں چھوڑ کر جانے والے بے وفا ہوتے ہیں تو آپ مجھ معصوم کے ساتھ بے وفائی کیسے کرسکتی ہیں۔حماد نے اُس کی کہی بات یاد کروائی۔
نہیں بیٹا سب بے وفا نہیں ہوتے کجھ میری طرح مجبور بھی ہوتے ہیں اِس لیے گُڈ نائٹ ہیو آ سویٹ ڈریمز۔معصومہ آنکھیں پٹپٹاکر کہتی باہر جانے لگی حماد سہمی نظروں سے اپنے کمرے کو چاروں طرف سے دیکھنے لگا جب معصومہ نے دروازے سے سر نکالا کر کہا
سوتے وقت یہ یاد مت کرنا کیسے فلم میں لیزا لیٹی ہوئی تھی تو اُس کا بیڈ
آپوووووووو۔معصومہ کی بات پوری ہونے سے پہلے حماد چیخا تو معصومہ ہنستی اپنے کمرے کی طرف بڑھی
اللہ پوچھے آپ سے۔حماد کی حالت رونے والی ہوگئ۔
ڈیڈ کے پاس جانا ہوگا۔حماد کے دماغ میں خیال کوندا تو جھٹ سے بیڈ سے اُترا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر معصومہ کی اپنی حالت پتلی ہوگئ اُس کو ایسا لگنے لگا جیسے کمرے کے پردے اور بیڈ ہل رہا ہو اور کوئی اُس کو آواز دے رہا ہے۔
ہائے ساری رات کیسے کٹے گی۔معصومہ لب دانتوں تلے کچل کر بڑبڑائی
اللہ کا نام لیں اور سوجا بھلا جنات کا ہماری دنیا میں کیا کام۔معصومہ خود کو ہمت دیتی بنا لائیٹ آف کیے بیڈ پہ سوگئ۔
ابھی کجھ دیر ہی گُزری تھی جب اُس کو لگا جیسے اُس کی چادر کوئی کھینچ رہا تھا بس یہ محسوس کرنا تھا فلم کے سارے مناظر آنکھوں کے سامنے لہراے تو وہ اچھل کر بیڈ سے اُتری
تیرا گُزارا آج یہاں ممکن نہیں۔معصومہ فق ہوتے رنگ کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباد اور سوہا گہری نیند میں تھے جب دروازے پہ ہونے والی دستک نے اُن کی نیند میں خلل ڈالا تھا عباد نے آنکھیں کھول کر اپنی طرف کا لیمپ آن کیا اور سیل فون کی اسکرین آن کی تو رات کا ایک بج رہا تھا
اِس وقت کون ہوسکتا ہے۔ سوہا کی نیند سے بھری آواز سن کر عباد نے اپنے اُپر سے بلینکٹ ہٹایا اور دروازے کی طرف بڑھا
اِس وقت یہاں۔ عباد نے دروازہ کھولا تو حماد کو تکیے سمیت کھڑا پایا
آج میں آپ دونوں کے کمرے میں سوجاؤ۔حماد سوہا اور عباد کو دیکھتا آنکھیں جھپکا کر بولا
خیریت۔عباد کو تعجب ہوا
جی بس سوچا آج آپ لوگوں کے ساتھ سویا جائے۔حماد کمرے میں داخل ہوتا بیڈ پہ لیٹ گیا سوہا تاسف سے سرہلانے لگی عباد دروازہ بند کرتا جیسے ہی پلٹا دروازے پہ دوبارا دستک ہوئی عباد ایک نظر سوہا پہ ڈال کر دروازہ کھولا تو معصومہ نائٹ سوٹ پہنے کھڑی تھی
آج میں آپ کے کمرے میں سوجاؤں؟؟معصومہ نے مسکین شکل بنائے کہا تو عباد اور سوہا کو ساری بات سمجھ آگئ عباد بنا کوئی بات کیے سائیڈ پہ کھڑا ہوگیا معصومہ خوش ہوتی اندر آکر سیدھا بیڈ کی دوسری طرف لیٹ گئ عباد اور سوہا دونوں کو بس دیکھتے رہ گئے جو اُن کے بیڈ پہ آرام سے لیٹے ہوئے تھے۔
میں الماری سے دوسرا بستر نکالتی ہوں۔سوہا نے کہا تو عباد نے سر کو جنبش دی پر معصومہ نے پٹ سے آنکھیں کھولی
ڈیڈ آپ بیڈ پہ سوجائے میں امی کے ساتھ نیچے سوجاؤں گی۔معصومہ نے جلدی سے کہا اُس کو ایسے کہاں نیند آتی خود بیڈ پہ اور اپنے جان سے پیارے باپ کو نیچے بے آرام سوتا ہوا دیکھ کر۔
کوئی بات نہیں تم سوجاؤ۔عباد نے مسکراکر کہا
نو ڈیڈ آپ بیڈ پہ۔معصومہ بیڈ سے کھڑی ہوتی عباد کا بازوں پکڑتی بیڈ کی جانب لائی۔
آجاؤ معصومہ۔سوہا نے نیچے بستر لگایا تو معصومہ سے کہا تو وہ اُس کی طرف آئی۔
عباد جیسے ہی لیٹا حماد اُس سے چپک کر سوگیا۔
ساری زندگی میں کبھی ایسے سوہا مجھ سے چپکی نہیں ہوگی جیسے اُس کا بیٹا چپک رہا ہے۔حماد کو گھورتا عباد بڑبڑایا
تو آپ چپک کر سوجاتے پھر آج یہ حسرت نہ رہتی۔حماد نے بند آنکھوں سے جوابً کہا تو عباد سٹپٹاگیا اور خود کو کوسا کیسے اپنے بچوں کو انڈرسٹمینٹ کیا جو سوہا سے بھی دو تین ہاتھ آگے تھے۔
چپ کرکے لیٹو۔عباد نے خجالت مٹانے کی خاطر کہا
آپ اب آہستہ بڑبڑائیے گا۔حماد مسکراہٹ ضبط کیے بولا پر عباد نے سر جھٹکا
یوں ساری رات معصومہ سوہا کے ساتھ چپک کر سوگئ تو حماد عباد کے ساتھ جب کی عباد اور سوہا بس صبح ہونے کا انتظار کرنے لگے کیونکہ ایسے نیند دونوں کو نہیں آئی سوہا کو نیچے سونے کی وجہ سے تو عباد کو حماد کے کھراٹوں کی وجہ سے۔
