Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 26)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

تم نے واقع ایک لڑکے کا پرپوزل قبول کرلیا۔عبیر حیرت سے معصومہ کو دیکھ رہی تھی جو مزے سے اُس کو بتارہی تھی۔

اور نہیں تو کیا۔معصومہ گود میں کشن رکھ کر بولی

بھائی کے سامنے ایسی بات کررہی ہیں آپ تھوڑا تو خیال کریں۔حماد کجھ روعب سے بولا تو معصومہ نے دانت پیسے

اللہ نے ایک بھائی دیا وہ بھی کمینہ۔معصومہ کی بات پہ حماد کا مُنہ کھل گیا

ناٹ فیئر۔حماد نے منہ بسورتے کہا

تو تم چھوٹے ہو تو چھوٹے بن کر رہو نہ۔معصومہ نے آرام سے کہا

لڑکا جانے کیسا ہو۔عبیر نے معصومہ کو دھیان اپنی طرف کروایا۔

اچھا ہے ہمیشہ سے مجھ سے دب کر رہے گا۔معصومہ نے پرجوش آواز میں بتایا

دب کر رہے گا تبھی تم نے ہاں کی؟عبیر بے یقین ہوئی

ہاں اور نہیں تو کیا۔معصومہ بال جھٹک کر ایک ادا سے کہا تو عبیر نے تاسف سے سر کو جنبش دی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

میرا ایک بزنس پارٹنر ہے احتشام وہ اپنی بیٹی کی شادی تم سے کروانا چاہتا ہے ایک دفع اُس سے مل لینا۔رات کے کھانے کا وقت تھا جب جنید نے سرفراز سے کہا

میں شادی اپنی پسند کی کروں گا۔تبریز نے سکون سے جواب دیا

تمہاری پسند احتشام کی بیٹی سے اچھی نہیں ہوگی اِس لیے میری مانوں اپنی انا کو بیچ میں مت گھسیٹو اور شمائلہ سے ملو۔جنید نے ایک مرتبہ پھر کہا

میں کجھ دنوں تک آپ کو بتادوں گا پھر آپ اُن کے یہاں میرا رشتہ لیکر جائیے گا۔تبریز جنید کی بات نظرانداز کرکے نیپکن سے ہاتھ صاف کرتا مناہل سے بولا جو اُس کی بات پہ حیران ہوتی پھر خوشدلی سے سر کو جنبش دینے لگی۔

کون لڑکی پسند کی ہے؟جنید نے سختی سے پوچھا

میرے لیے لڑکی تو اللہ نے پسند کی ہے آپ بس ملانے کا وسیلہ بنے گے۔تبریز جلانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجاکر بول کر اُٹھ گیا۔

تم کہیں نہیں جاؤں گی رشتہ لینے۔جنید نے مناہل سے کہا اُن دونوں کو بات کرتا دیکھ کر فرشتے اندر کی طرف بڑھ گئ

تبریز کہے گا تو میں جاؤں گی پہلی بار اُس نے کجھ مانگا ہے مجھ سے۔مناہل کندھے اُچکاکر کہتی جنید کو آگ لگا گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیلو ایس پی برہان؟تبریز اپنے کمرے میں آتا ایک نمبر ڈائل کرتا بولا

یس پر آپ کون؟دوسری طرف مثبت جواب دیا گیا۔

میں وہ جس کا نکاح آپ نے کروایا تھا ایک دن پہلے۔تبریز نے دانت پیس کر کہا

او اچھا اچھا کیسے یاد کرلیا جی ہمیں۔ایس پی اب گرمجوشی سے بولا

ایک کام تھا مسجد میں جب ہمارا نکاح ہوا تھا تو آپ نے اصل نکاح نامہ اپنے پاس رکھا تھا جب کے اُس کی کاپی ہمیں دی تھی میں وجہ نہیں پوچھو گی بس یہ کہوں گا کے مجھے وہ نکاح نامہ چاہیے۔تبریز سنجیدگی سے بولا

کاپی ہم نے اِس لیے دی کیونکہ آپ تو پہلے سے شادی شدہ تھے تو یقینً اصل نکاح نامہ آپ کے پاس موجود ہوگا تبھی سوچا دوسرا کیا کرے گے تو ہم نے اصل اپنے پاس رکھ لیا اور کاپی آپ کو پکڑادی۔ایس پی کی بات پہ تبریز نے دانت پیس کر موبائل اسکرین کو گھورا

مجھے کجھ نہیں جاننا بس نکاح نامہ چاہیے۔تبریز بالوں میں ہاتھ پھیرتا بامشکل اپنے لہجے کو نارمل کرتا بولا

اُس کے لیے تو آپ کو تھانے آنے ہوگا۔ایس پی نے آرام سے کہا

ٹھیک ہے میں کل آجاؤں گا اور آپ بنا کوئی بہانا کیے مجھے وہ دے گے۔تبریز اپنی بات کہتا کال کٹ کرگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

معصومہ آج سرفراز کے ساتھ مال آئی تھی اپنے لیے انگھوٹی پسند کرنے کے لیے جب سرفراز نے اُس کو مخاطب کیا۔

تمہارے فادر نے انکار کردیا تو؟

تمہیں بار بار ایسا کیوں لگ رہا ہے کیا تم میں کوئی فالٹ ہے یا کریکٹر میں مسئلہ۔معصومہ جیولری شاپ پہ رنگز دیکھتی مصروف لہجے میں بولی اُس کے جواب پہ سرفراز بس اُس کو دیکھتا رہ گیا جو بات کرنے وقت شاید سوچتی نہیں تھی۔

ایسی کوئی بات نہیں۔سرفراز نے کہا

پھر ٹینشن ناٹ۔معصومہ ایک ہاتھ میں رنگ پکڑتی سکون سے بولی

دو دن ہوگئے ہیں ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا فکر تو ہوگی نہ۔سرفراز نے وجہ بتائی

ڈونٹ وری آج جواب مل جائے گا پر ایک دن بعد آجانا اپنے گھروالوں کے ساتھ۔معصومہ کا اعتماد قابلِ دید تھا

ہوپ سو۔سرفراز نے کہا

اچھا یہ دیکھو خوبصورت رنگ ہیں نہ۔معصومہ اپنے ہاتھ کی انگلی میں رنگ پہنتی اشتیاق سے پوچھنے لگی۔

ہاں بہت۔سرفراز ستائش بھرے لہجے میں بولا

اوکے تو پھر اِس کو ڈن کرتے ہیں۔معصومہ نے کہا تو سرفراز نے اثبات میں سرہلایا۔

کجھ کھانا پسند کروں گی۔جیولری شاپ سے باہر نکلنے کے بعد سرفراز اُس سے بولا

ہاں کسی اچھے ریسٹورنٹ میں چلو۔معصومہ نے جواب دیا کیونکہ اُس کو واقع بھوک لگی تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕

میں نے ٹکٹ کنفرم کروانے کا کہا تھا اُس کا کیا بنا؟عماد فائل لڑکے کی طرف بڑھا کر سنجیدگی سے بولا جو اُس کے ساتھ رہتا تھا کیونکہ وہ عباد کا قابل اعتبار ملازم تھا۔

سر فلائٹ نہیں کوئی مسلسل تین دنوں سے بارش تھی تبھی آپ کو دو تین دن ویٹ کرنا ہوگا۔لڑکے کی بات سن کر عماد نے اپنی کنپٹی کو دو انگلیوں سے مسلا وہ اب جلد از جلد اپنے گھر جانا چاہتا تھا جانے کیوں اُس کو کجھ دنوں سے بے چینی ہورہی تھی۔

بائے روڈ جانا پڑے گا۔عماد کی بات پہ لڑکا جس کا نام اصغر تھا وہ چونکا پھر بولا

سارے راستے بلاک کیے گئے ہیں سر۔عماد اُس کی بات سن کر گہری سانس بھر کر رہ گیا۔

ٹھیک ہے تو جاؤ۔عماد نے اُس کو جانے کا اِشارہ کرکے خود سیل فون کی طرف متوجہ ہوا

ہیلو حماد۔عماد نے سوہا کے فون پہ کال کی جانتا تھا اِس وقت حماد کے پاس اُس کا فون ہوگا اور حماد عماد کو کسی ماہر رپورٹر سے کم نہیں لگتا تھا۔

عماد برو آپ تو لاہوری ہوگئے ہیں۔حماد نے چھوٹتے ہوئے ہی شکوہ کیا

کیا بتاؤ بس اب ایک دو دن تک آجاؤں گا۔عماد نے بتایا

اچھا جلدی کریں آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے۔حماد نے پراسرا لہجے میں کہا تو عماد یکدم سیدھا ہوا۔

سرپرائز کونسا سرپرائز۔عماد نے جھٹ سے پوچھا

اگر بتادیا تو سرپرائز کیسا اِس لیے آپ جلدی سے فلائے کرکے آجائے۔حماد نے سکون سے عماد کو بے سکون کیا

اچھا بس یہ بتادو سرپرائز ہے کس کے مطلق؟عماد نے گہری سانس خارج کرکے پوچھا

یہ بھی ایک راز ہے جو وقت پہ کُھلے گا۔حماد کی بات سن کر عماد کا دل کیا فون میں گُھس کر حماد کا گلا دبادے

💕
💕
💕
💕
💕
💕

کیا بات ہے پریشان ہیں کسی بات پہ؟سوہا نے عباد کو خاموش بیٹھا دیکھا تو استفسار کیا

نہیں پریشان نہیں تم معصومہ سے کہنا وہ سرفراز سے کہے اپنے گھروالے لانے کے لیے۔عباد نے سنجیدگی سے کہا

کیا مطلب وہ قابل ہے ہماری معصومہ کے۔سوہا حیران ہوئی

پتا نہیں مجھے تو اُس کے خلاف کوئی بات نہیں ملی اگر کوئی بُرائی نہیں تو اچھا ہے رشتہ قبول کرتے ہیں معصومہ کی بھی خوشی شامل ہے۔عباد نے کہا

اگر ایسی بات ہے تو آپ پریشان مطلب خاموش کیوں ہیں۔سوہا نے جاننا چاہا

کیونکہ میں نے ہمیشہ عماد کو معصومہ کے لیے سوچا تھا مجھے لگا تھا ایسے معصومہ ہماری نظروں کے سامنے رہے گی اور غیروں کا کیا بھروسہ۔عباد نے وجہ بتائی۔

ایسی باتیں مت سوچے یہ تو قدرت کے فیصلے ہیں ہم یا آپ کیا کرسکتے ہیں دوسری بات کے کبھی کبھی اپنوں سے زیادہ غیر کام آجاتے ہیں۔سوہا نے اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر پرسکون کرنا چاہا

بات تو تمہاری سہی ہے پر باپ ہوں نہ تو بس معصومہ کے لیے فکرمندی ہورہی ہے کل کی بات ہے وہ پیدا ہوئی تھی اور آج دیکھو ہم اُس کی شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں وقت کتنی تیزی سے گُزر رہا ہے نہ۔عباد آبدیدہ ہوگیا تھا پر ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔

بیٹیاں جلدی بڑی ہوجاتی ہیں اللہ بس ہماری بچی کے نصیب اچھے کریں۔سوہا مسکراکر بولی

آمین۔عباد نے صدق دل سے کہا

💕
💕
💕
💕

کہا تھا نہ اچھا جواب ملے گا۔معصومہ نے مسکراکر سرفراز سے کہا وہ چاروں اِس وقت یونی کیفٹیریا میں تھے معصومہ نے جیسے ہی اُن کو اِطلاع دی کلثوم اور اجوہ نے ٹریٹ مانگی تھی۔

یہ تو اچھا ہوگیا پھر میں کل اپنی فیملی سمیت آؤں گا۔سرفراز نے اُس کی بات کے جواب میں کہا

تمہاری مرضی اب۔معصومہ نے آرام سے کہا

آج تم چاروں نے کلاس نہیں لی۔فیصل وہاں آتا ڈائریکٹ معصومہ سے مخاطب ہوا

پہلے تم منہ میٹھا کرو۔اجوہ اپنی جگہ اُٹھتی چاکلیٹ بڑھا کر بولی تو فیصل ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا۔

کس خوشی میں؟فیصل نے جاننا چاہا

معصومہ اور سرفراز کا رشتہ پکا ہونے والا ہے اُس خوشی میں۔اجوہ کی بات فیصل پہ کسی بم کی طرح گِری تھی وہ حیرت سے گنگ معصومہ کو دیکھنے لگا جو لاتعلق سی چاٹ کھانے میں مصروف تھی

کیا واقع؟فیصل کو لگا اُس کو سُننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔

ہاں نہ۔معصومہ نے سراُٹھا کر جواب دیا

عماد کو پتا ہے یہ بات؟فیصل کے سوال پہ معصومہ خاموش سی ہوگئ کیونکہ ایک ماہ سے زیادہ وقت ہوگیا تھا پر اُس نے عماد کو کوئی کال یا میسج نہیں کیا تھا پہلے وہ سوچا کرتی تھی اگر کبھی اُس نے کسی کو پسند کیا تو وہ سب سے پہلے عماد سے شیئر کرے گی پر اِس بار جب ایسا کجھ ہوا تو اُس نے عماد سے بات نہیں کی تھی دوسری طرف سرفراز عماد کا نام سُنا تھا بے زارگی سے فیصل کو دیکھا

اُس کو نہ بھی پتا ہو تو کیا ہوگیا وہ کون ہوتا ہے۔سرفراز ناگواری سے بولا اُس کا عماد کے بارے میں ایسے بات کرنا معصومہ کو ایک آنکھ نہ بھایا۔

وہ میرا فرسٹ کزن پلس بیسٹ فرینڈ ہیں اُس کو بات پتا ہونی چاہیے تھی پر میں نے ابھی تک نہیں بتایا پر گھر جاکر سب سے پہلے یہ کام کروں گی۔معصومہ اپنے لفظوں پہ زور دیتی آرام سے عماد کی اہمیت باور کرواگئ تھی اُس کی بات سن کر فیصل کیفٹیریا سے نکل گیا تھا۔

باہر آکر فیصل نے عماد کو کال کرنی چاہیے پر بار بار اُس کا نمبر بند جان کر فیصل نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ ڈالا۔

دیر مت کرنا عماد ورنہ تمہاری خاموش محبت کسی اور کی ہوجائے گی۔موبائل پہ عماد کا نمبر دیکھ کر فیصل تصور میں اُس سے مخاطب ہوا

💕
💕
💕
💕
💕
💕

معصومہ نے گھر آکر سوہا کو سرفراز کی فیملی کے آنے کا بتادیا تھا اُس نے عماد سے بات کرنی چاہی پر بات نہ ہوسکی تو اُس نے ارادہ ملتوی کرلیا معصومہ کے رشتے کی بات پہ زویا کو عجیب سی خوشی محسوس ہورہی تھی جو سب کو حیران کررہی تھی ہر وقت اب اُس کا مسکرانا سب کی سمجھ سے بالاتر تھا۔

آپ معصومہ سے اتنا پیار تو نہیں کرتی جو میں یہ سوچو آپ اُس کی خوشی میں خوش ہیں تو پھر کیا وجہ ہے آپ کیوں اتنا خوش ہیں معصومہ کے رشتے سے۔عبیر سے رہا نہیں گیا تو پوچھ لیا

ایسی بھی کوئی بات نہیں میرا موڈ ویسے ہی بہت فریش ہے کیونکہ۔عائشہ نے اپنی بیٹی خوشبو کا رشتہ عماد کے لیے دیا ہے اور بیٹا کا رشتہ تمہارے لیے معصومہ کی رسم ہوجائے تو میں اُس کو تاریخ دوں گی۔زویا آرام سے عبیر کے سر پہ بم گراکر چلی گئ۔

آپ کا نکاح تبریز جنید کے ساتھ طے پایا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟

کجھ دنوں پہلے کا گُزرا واقع آنکھوں کے سامنے لہرایا تو عبیر نے بے اختیار جھرجھری لی

💕
💕
💕
💕
💕

معصومہ اپنے کمرے میں کھڑی تیار ہورہی تھی سرفراز اپنی فیملی کے ساتھ آنے والا تھا اِس لیے وہ جلدی سے تیار ہونا چاہتی تھی۔

عبیر خاموشی سے اُس کی جانب دیکھ رہی تھی جو وائٹ کلر کا فراق پہنے بہت خوبصورت لگ رہی تھی چہرے پہ مسکراہٹ برقرار تھی جو پہلی بار عبیر کو بُری لگی تھی کیونکہ اُس نے ہمیشہ معصومہ کو عماد کی دولہن بننے کا سوچا تھا اور وہ جانتی تھی عماد معصومہ کو پسند کرتا ہے پہلے وہ سمجھی تھی معصومہ بھی کرتی ہوگی پر اُس کا خیال غلط ثابت ہوا

تم سرفراز سے پیار کرتی ہو؟عبیر نے اچانک سے پوچھا معصومہ جو آے لائنر لگانے والی تھی چونک کر عبیر کو دیکھنے لگی۔

پیار تو میں فلحال اپنے گھروالوں سے کرتی ہوں۔معصومہ نے بتایا

تو پھر آج خوش کیوں ہو اتنی۔عبیر نے جاننا چاہا

کیونکہ فائنلی میری شادی ہوگی اور میری جان پڑھائی سے چھوٹے گی۔معصومہ کے جواب پہ عبیر کا منہ حیرت کی زیادتی سے کُھلا کا کھلا رہ گیا

کیا مطلب تم شادی پڑھائی کی وجہ سے کررہی ہو تاکہ اُس سے جان چھوٹے۔عبیر بے یقینی سے اُس کو دیکھتی بولی

اور نہیں تو کیا ورنہ مجھے کونسا کسی پاگل کیڑے نے کاٹا ہے جو سکون بھری زندگی ختم کروں یا اپنے گھروالوں کو چھوڑ کر دوسرے آنگن کا خوبصورت پھول بنو بس یہ جو پڑھائی ہے سچی جان نکلتی ہے میری۔معصومہ سکون سے کہتی اپنے ڈریس سے میچ ڈوپٹہ اوڑھنے لگی۔

معصومہ تیار ہوگئ ہو تو نیچے آجاؤ۔سوہا اُس کے کمرے میں آتی بولی

جی تیار تو ہوگئ ہوں آپ بتائے لگ کسی رہی ہوں۔معصومہ مسکراکر پوچھنے لگی

ماشااللہ بہت پیاری۔سوہا اُس کے ماتھے پہ بوسہ دیتی بولی

چلیں پھر۔معصومہ نے کہا تو سوہا نے سر کو جنبش دی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ جم وم نہیں جاتے کیا۔حماد سرفراز کے ساتھ بیٹھتا سرگوشی میں بولا سرفراز نے کوفت سے حماد کو دیکھا جس نے مسلسل اُس کا دماغ خراب کردیا تھا سوال پوچھتے پوچھتے۔

جاتا ہوں۔سرفراز نے زبردستی مسکراہٹ سجاکر کہا

اچھا لگ تو نہیں رہا۔حماد اُس کے بازوں کو دیکھتا منہ بناکر بولا وہ جو پہلے بہت پرجوش تھا اپنی آپی کی پسند دیکھنے کے لیے پر جب سرفراز کو دیکھا تو اُس کا سارا جوش جاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا کیونکہ اُس کو سرفراز کجھ خاص پسند نہیں آیا تھا۔

اسلام علیکم۔معصومہ سوہا اور عبیر کے درمیان آتی سلام کرنے لگی تو سب کی نظر اُس پہ ٹھیرگئ۔

وعلیکم اسلام ماشااللہ آپ کی بیٹی تو بہت پیاری ہے۔سرفراز کی ماں مسکراکر سوہا سے بولی جس نے سرہلانے پہ اکتفا کیا پھر سرفراز کی ماں نے اُس کو اپنے اور سرفراز کے بیچ بیٹھایا دوسری طرف عباد اور عمار سرفراز کے والد سے بات کرنے میں مصروف تھے

پھر انگیجمنٹ کی تاریخ کب رکھے۔سرفراز کی ماں حمیرا بیگم اُن سب سے بولی

انگیجمنٹ نہیں ہم ڈائریکٹ نکاح کی رسم کرے گے کیونکہ وہ مضبوط رشتہ ہے۔عباد نے سنجیدگی سے بھرپور لہجے میں کہا تو سب اُس کی بات سے متفق ہوئے

آپ کی بات تو سہی ہے پر میں یہ انگھوٹی لائی تھی اگر آپ کی اجازت ہو تو سرفراز معصومہ کو پہنائے پھر ہم ڈائریکٹ نکاح کی تاریخ طے کرتے ہیں۔حمیرا بیگم اپنے پرس سے انگھوٹی نکال کر بولی جو معصومہ نے خود اپنے لیے پسند کی تھی جو سرفراز نے اپنے پاس رکھ لی تھی۔

جی ہمیں کیا اعتراض ہوگا۔سوہا نے عباد کے چہرے پہ نافہم تاثرات دیکھے تو خود ہی کہہ دیا جب کی زویا کی ایکسرے کرتی نظریں سرفراز پہ تھی وہ دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ایسا کیا دیکھ لیا معصومہ میڈم نے جو اِس لڑکے کو شادی کے لیے ہاں کہہ دی۔

شکریہ سرفراز یہ لو۔حمیرا بیگم سرفراز کے ہاتھ میں اُنگھوٹی پکڑاتی بولی جس کو اُس نے خوش اسلوبی سے تھام لیا ساتھ میں معصومہ کا ہاتھ بھی جس پہ حماد نے تیکھی نظروں سے اُس کو گھورا اُس کا تو بس نہیں چل رہا تھا سرفراز کو نظروں ہی نظروں میں بھسم کردیتا

کیا ہورہا ہے یہاں؟اچانک تیز ابھرتی آواز پہ سب نے چونک کر ڈرائینگ روم کے داخلی دروازے کی طرف دیکھا جہاں عماد سپاٹ تاثرات سجائے ہاتھ میں بیگ پکڑے کھڑا تھا اُس کی تیکھی نظریں سرفراز کے ہاتھ میں موجود معصومہ کے ہاتھ پہ تھی جس کو دیکھ کر اُس نے زور سے ہاتھ کی مٹھیوں کو بھینچا۔

عماد کو اتنے ماہ بعد دیکھ کر زویا جلدی سے اُٹھ کر اُس کے پاس ڈوری معصومہ نے عماد کو مسکراہٹ پاس کی پر جواب میں عماد نے سرد نظروں سے اُس کو دیکھا جس سے معصومہ کی مسکراہٹ سمٹ سی گئ عبیر نے اپنے بھائی کو دیکھ کر گہری سانس خارج کی۔

حماد غور سے عماد کو دیکھنے لگا جو بلیک شرٹ کے ساتھ بلیک ہی جینز پینٹ میں ملبوس تھا بالوں کو جیل سے سیٹ کیا گیا تھا آنکھوں پہ نظر کا چشما ٹکائے وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا پر اِس وقت جانے کیوں حماد کو کجھ زیادہ ہی پیارا لگا تھا

منگنی ہے آپو کی۔حماد منہ بسور کر بولا عماد کو لگا جیسے گھر کی پوری چھت اُس پہ آ گِری ہو وہ بے یقین نظروں سے سب کو دیکھنے لگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *