Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 10)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 10)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
واہ تم نے فرسٹ پوزیشن لی۔ سوہا حماد کا رزلٹ کارڈ دیکھتی خوش ہوتی بولی حماد گردن اکڑا کر بیٹھ گیا تھا تبھی وہاں عماد معصومہ عبیر والے بھی آگئے تھے۔
اِتنے شوخے مت بنو۔ معصومہ اُس کے ساتھ بیٹھتی بولی
کیوں آپ کو اپنا رزلٹ کارڈ یاد آگیا تھا کیسے سی گریڈ لیا تھا۔ حماد حساب بے باک کیا
امی دیکھ لیں بڑی بہن سے کیسے بات کررہا ہے۔ معصومہ حماد کو گھورتی سوہا سے بولی ۔
حماد تنگ مت کرو میری معصوم بیٹی کو۔ سوہا رزلٹ کارڈ عماد کو دیتی حماد سے بولی
واقع آپو بہت معصوم ہے اُن کو تو یہ بھی نہیں پتا پاکستان کا نیشنل اینیمل کون ہے۔ حماد عماد کے کندھے پہ سر رکھتا معصومہ کو چِڑانے لگا عماد کے چہرے پہ ہلکی مسکراہٹ آگئ تھی۔
پتا ہے مجھے تم میرے اُستاد مت بنو۔ معصومہ تیز آواز میں بولی
اچھا تو پھر بتائے نام۔ حماد چیلینج کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا
بتاتی ہوں صبر کرو۔ معصومہ اپنے چہرے پہ سوہا کی نظریں محسوس کرتی ہڑبڑا کر بولی
جی جی ایک نام تو بتانا ہے اُس میں سوچنا کیا آپ بتادے ہم میں صبر کا سسٹم نہیں۔حماد نے چھیڑنے والے انداز میں کہا
تمہیں خود نہیں پتا تبھی مجھ سے پوچھا پر اُستاد کے ساتھ اُستادگی نہیں چلے گی اِس لیے میں نہیں بتانے والی۔ معصومہ نے مزے سے کہا عماد اُس کی چلاکی پہ عش عش کر اُٹھا
آپ تو شادی کے بعد ہماری ناک کٹوادے گی خیر میں آپ کو بتادیتا ہوں مارخور جانور ہے۔ حماد نے افسوس سے کہا
پتا تھا مجھے میں بس تمہارا امتحان لیں رہی تھی۔ معصومہ اُٹھ کر جانے لگی۔
ویسے آپ کو مادری زبان کا تو پتا ہے نہ۔حماد کی بات پہ معصومہ تب اُٹھی
جی پتا ہے اُردو ہے۔ معصومہ جھلا کر بولی
ارے واہ اتنی اہم معلومات تمہیں کہاں سے ملی۔ عماد کی کہی طنزیہ والی بات نے جلے پہ نمک کا کام کیا تھا تبھی معصومہ دونوں پہ نظر ڈالتی واک آؤٹ کرگئ۔
آپو نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا۔ حماد کو معصومہ کا خاموشی سے جانا ہضم نہیں ہورہا تھا
پتا نہیں۔ عماد نے کندھے اُچکائے
وہ ناراض ہوگئ ہے۔ عبیر نے آہستہ آواز میں کہا
آپو ناراض نہیں ہوتی۔ حماد نے اُس کی بات رد کی۔
کمرے میں آکر معصومہ نے زور سے دروازہ بند کیا
جانے کیا سمجھتا ہے خود کو اللہ نے تھوڑا دماغ کیا دے دیا جب دیکھو تب زلیل کرتا رہتا ہے اب نہیں کرنی میں نے اُس سے بات بدتمیز کہیں کا۔ معصومہ بیڈ پہ بیٹھتی پاؤں جھلاتی تصور میں عماد کو سُنانے لگی۔
کزن ہوں اُس کی مگر نہیں ذرہ جو احساس ہو۔معصومہ کے آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی جس کو اُس نے پیچھے دھکیلا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عماد تم نے ایم بی اے کیوں چُنا میڈیکل چُنتے تو عبیر کے ساتھ کالج جاتے۔ زویا عماد کے کمرے میں آتی بولی جو اپنے شوز کی لیس کھول رہا تھا
امی آپ ڈیڈ چچی یہ سب ہیں نہ اب عبیر بھی ہوجائے گی ویسے بھی میرا اور معصومہ کا انٹرسٹ ایم بی اے میں تھا۔ عماد نے نرمی سے کہا
اُس کا کسی شعبے میں انٹرسٹ نہیں یہ بس تمہارے آس پاس منڈلانے کے بہانے ہیں۔زویا نفرت سے بولی عماد کے ہاتھ ایک پل کو ساکت ہوئے تھے۔
امی میرا اِرادہ آپ کو ہرٹ کرنے کا نہیں مگر مجھے آپ کی نفرت سمجھ نہیں آتی خالہ سوہا سے آپ کو کیا پرخاش ہےجو آپ اُن کی اولاد سے بھی کھینچی کھینچی سی رہتی ہے وہ تو سویٹ سی ہے رہی بات معصومہ کی تو اُس کی سوچ ایسی بلکل نہیں آپ اُس کو غلط مت سمجھا کریں۔ عماد سنجیدگی سے بولی
تم اُس کی حمایت بول رہے ہو۔ زویا کو جیسے یقین نہیں ہوا
خالہ ذاد اور چچا ذاد ہے میری اگر حمایت میں بول دیا تو کوئی بڑی بات نہیں۔ عماد شرٹ کے کف کھولتا بولا
معصومہ سے دور رہا کرو۔ زویا نے سنجیدگی سے کہا
کتنی بری بات ہے امی سوری میں ایسا نہیں کرسکتا۔ عماد انکار کرتا بولا
عماد
امی آپ اور خالہ کے درمیان اگر کوئی مسئلہ ہے تو آپ دونوں مل کر اُس کو سوٹ آؤٹ کریں پر ہمیں بیچ میں مت گھسیٹے۔زویا کجھ کہنے والی تھی جب عماد اُس کو کندھوں سے تھامتا نرمی سے بولا
تمہیں اپنی ماں غلط لگتی ہے۔ زویا کو بُری لگی عماد کی بات۔
آپ کا معصومہ کو غلط سمجھنا بُرا لگتا ہے۔عماد نے صاف گوئی سے کہا
اُس کو پسند نہ کرنے کی وجہ ہے اُس کا نان سیریس ہونا ہے۔ زویا نے وضاحت دی جس کو سن کر عماد مسکرایا
امی وہ جو لوگ ظاہری طور پہ غیرسنجیدہ ہوتے ہیں وہ اندر سے اُتنے ہی حساس ہوتے ہیں معصومہ بھلے عجیب حرکتیں کرتی ہے پر اُس کو پتا ہے کونسی بات کہاں کرنی ہے کب سنجیدہ ہونا ہے کس کے ساتھ ہونا ہے۔ عماد آہستہ آہستہ زویا سے بولنے لگا
مجھے جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تم میرے ہاتھ سے نکل گئے جیسے سالوں پہلے
زویا اتنا کہتی چُپ ہوگئ۔
سالوں پہلے کیا؟ عماد اُس کو خاموش دیکھ کر پوچھنے لگا
کجھ نہیں ڈنر کا وقت ہورہا ہے نیچے آجانا۔ زویا اپنی بات کہہ کر چلی گئ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈائینگ ہال میں اِس وقت سب ڈنر پہ موجود تھے عماد معصومہ کو دیکھ رہا تھا جو ابھی اُس کو نظرانداز کیے ہوئی تھی وہ ہمیشہ اُس کے ساتھ والی چیئر پہ بیٹھا کرتی تھی بچپن سے جو چیز عماد لینے کی کرتا اُس سے پہلے معصومہ اچک لیتی پر آج ایسا پہلی بار ہوا تھا جو معصومہ اُس کے بجائے حماد کے ساتھ بیٹھی تھی۔
عبیر تمہاری ٹیسٹ کا مجھے پتا چلا مبارک ہو تمہارے بہت۔ عباد نے مسکراکر عبیر سے کہا
شکریہ بڑے ابو۔ عبیر مسکراکر وہ عباد کو بڑے ابو کہا کرتی تھی چچا کے بجائے جس سے عباد کو بھی خوشی ہوتی۔
ڈیڈ میں نے منگل کے دن گھر میں فنکشن کرنے کا سوچا ہے۔ عباد نے حنان صاحب کو مخاطب کیے کہا جس پہ سب کی نظریں عباد پہ ٹک گئ عماد کی نظریں معصومہ پہ تھی جب کی معصومہ بڑے رغبت سے کھانا کھارہی تھی جیسے پہلی مرتبہ ملا ہو۔
فنکشن کیوں؟ حنان صاحب نے جاننا چاہا
آپ لوگ بھول گئے ہیں کیا کجھ دنوں بعد عماد اور عبیر کی سالگرہ ہے دوسرا یہ کے عبیر کے ٹیسٹ پاس کرنے کی خوشی میں کتنا نروس تھی وہ اب جب ماشااللہ سے پاس کرلیا ہے تو سیلیبریشن بنتی ہے۔ عباد نے مسکراکر سب کو بتایا جس پہ عبیر کے چہرے پہ گہری مسکراہٹ آئی۔
یہ سب تمہیں سوچنا چاہیے تھا۔ زویا تیکھے لہجے میں عمار کے کان کے پاس بولی جس کو عمار نے نظرانداز کیا
مجھے واقع بہت خوشی ہوئی جب ٹیسٹ پاس کرنے کا پتا چلا تو۔ عبیر نے چہکتے کہا
بیٹا تمہاری خالہ سے زیادہ نہیں ہوئی ہوگی وہ تو اینٹری ٹیسٹ پاس کرنے کا سن کر خوشی کے مارے بے ہوش ہی ہوگئ تھی۔ عباد سوہا کو چھیڑنے والے انداز میں بولا سب کے سامنے عباد کی بات سن کر سوہا نے اُس کو گھورا جو آج بھی اُس بات پہ مذاق اُڑایا کرتا تھا۔
صغریٰ بیگم کو جب کی زبردست قسم کا غوطہ لگا تھا
عباد بُری بات کیوں تنگ کرتے ہو میری بیٹی کو۔ صغریٰ بیگم نے مصنوعی غصے سے کہا
اِن کی عادت ہے چچی جان جب تک مجھ سے لڑتے نہیں کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ سوہا منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی۔
شروع ہوگیا اِن کا میلو ڈرامہ۔ زویا ناگواری سے بولی جو اِس بار عمار کے ساتھ پاس بیٹھے حماد نے بھی سن لیا تھا اُس نے معصومہ کے کان میں سرگوشی کی جواب میں معصومہ نے بھی کی عماد حیرت سے اُن کی کاروائی ملاحظہ فرمارہا تھا۔
خالہ عرف چچی جان کبھی آپ بھی اِس میلو ڈرامے میں شامل ہوجایا کریں۔ حماد نے کہا تو زویا نے تیکھے چتون سے اُس کو گھورا جواب میں حماد نے دانتوں کی نمائش کرنا لازمی سمجھا آخر کو معصومہ کا بھائی تھا۔
میں نے غلط کیا کہا کیا تم بے ہوش نہیں ہوگئ تھی۔ عباد نے معصوم شکل بنائی جس کو دیکھ کر سوہا نے لاحول پڑھا
معصومہ پانی کا گلاس تو پاس کرنا۔ عماد کو مزید معصومہ کی خاموشی برداشت نہیں ہوئی تو کہا جس پہ معصومہ کے بجائے حماد نے گلاس پاس کیا ساتھ میں آہستہ سرگوشی بھی کی۔
بھیو فلحال آپو کا میٹر گرم ہے اُس سے ایسی چیزیں لینے سے گریز کریں ایسا نہ ہو ہاتھ میں دینے کے بجائے سر پہ ماردے۔ حماد کی بات پہ عماد نے اُس کو گھورا
تمہارے ہمارے معاملے میں مت بولوں۔ عماد نے وارن کیا
میں تو بولوں گا آخر کو اِس معاملے میں میری اکلوتی بہن ہے۔ حماد نے ناک چڑھائے بولا
دونوں ایک سے بڑھ کر ہیں۔ عماد بڑبڑایا
عمار تم لِسٹ تیار کرلینے جس کو بلوانا ہے تمہاری طرف زویا تم بھی جب کی میں اور سوہا ایک ساتھ بنادے گے۔ عباد نے پہلے عمار پھر زویا سے کہا
جی بھائی۔ عمار نے مسکراکر کہا جب کی زویا نے محض سرہلایا
ڈیڈی میں نے بھی اپنے دوستوں کو انوائٹ کرنا ہے آخر کو میرا بھائی نے بھی میٹرک کی رزلٹ میں اے ون گریڈ لیا ہے۔ معصومہ نے جھٹ سے کہا
جی میرا بچہ جس کو چاہو بُلا لو منع تھورئی ہے۔ عباد نے مسکراکر جواب دیا ۔
اففف پھر تو میری لسٹ سب سے زیادہ لمبی ہونی ہے۔ معصومہ خوش ہوتی بولی
اُس لسٹ میں میرے فرینڈز کو بھی ایڈ کرلیجئے گا۔ حماد نے میسنی شکل بنائے کہا
کرلوں گی فقیروں جیسی شکل تو مت بناؤ۔معصومہ نے گھورتے کہا
عبیر تم بھی بنالینا۔عباد نے مسکراکر عبیر سے کہا جس کی نظر بے ساختہ زویا پہ پڑی تھی کیونکہ زویا نے کبھی اُس کو زیادہ دوستیں بنانے نہیں دی تھی اُس کی بس اِیک دوست تھی شمائلہ جو اب دوسرے شہر شفٹ ہوگئ تھی جس سے دونوں کا رابطہ فون تک محدود ہوگیا تھا اُس کے چہرے پہ چھائی مایوسی سوہا اور معصومہ نے بغور دیکھی تھی۔
میرے فرینڈز اور عبیر کے ایک ہی ہیں اِس لیے میری لسٹ ہم تینوں کی ہوگی۔ معصومہ نے پرجوش ہوکر کہا
اُس کی ضرورت نہیں عبیر خود کرلیں گی۔ زویا خاموش نہیں رہ پائی۔
بچوں کا معاملہ ہے خود دیکھ لیں گے تم میرے لیے چائے لیکر آؤ۔عمار تنبیہہ کرتی نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولا جس پہ زویا بنا کسی پہ نظر ڈالیں اُٹھ کر چلی گئ۔
اففف میں تو سلاد لانا بھول گئ۔سوہا سر پہ ہاتھ مار کر بولی
آپ بیٹھے میں لاتی ہوں۔معصومہ منہ میں ایک ہاتھ سے نوالہ ڈالتی دوسرے ہاتھ سے سوہا کو بیٹھنے کا بولنے لگی۔
ہمیشہ توڑنا نہیں جوڑنا سیکھیں کیونکہ توڑنے والوں کی حویلیاں بھی ویران رہ جاتی ہے اور جوڑنے والوں کی قبریں بھی آباد رہتی ہیں۔ معصومہ سلاد کی پلیٹ اُٹھاتی ساتھ میں بولنے لگی ملازماؤ کے سامنے معصومہ کی بات پہ زویا کو غصہ آیا تبھی اُس کی طرف پلٹی
تم
ایسا میں نہیں بانو قدوسیہ کہتی تھی اور مجھے میری کیوٹ امی نے بچپن سے سیکھایا ہے کیسے رشتوں کو جوڑنا چاہیے تبھی ایسی باتیں بتاتی تھی بچپن میں پریوں کی کہانیوں کے بجائے مجھے سبق آموز کہانیاں سنائی تھی تاکہ بڑی ہوکر مجھے پرنس اور پرنسز کی یاد نہیں بلکہ وہ باتیں یاد آئے جس کو یاد کیے میں کبھی کہیں موڑ پہ بھٹک نہ جاؤں۔معصومہ زویا کو اپنی طرف آتا دیکھا تو پہلے شرارت پھر سنجیدگی سے کہہ کچن سے باہر چلی گئ۔
جیسی ماں ویسی اولاد۔ زویا نخوت سے بڑبڑائی
معصومہ اُس کی بڑبڑاہٹ سن لی تھی تبھی رُکی اور اُس کی طرف آکر بولی
واقع جیسی ماں ہوتی ہے اولاد بھی ویسی ہوتی ہے پر شکر آپ کی اولاد آپ پہ نہیں گئ ورنہ یہ پرسکون گھر تو مچھی مارکیٹ بن جاتا اور اگلی بار کجھ اور آہستہ آواز میں بڑبڑائیے گا کیونکہ میرے کان خرگوش سے میل کھاتے ہیں۔ معصومہ ڈرامائی انداز میں بولتی لبوں کو دانتوں میں دبائے رُکی نہیں تھی زویا کی آنکھوں سے شرارے پھوٹ رہے تھے اُس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ معصومہ کو جلا کر بھسم کر ڈالتی





آپ نے بہت اچھا سوچا عبیر کو دیکھا کتنی خوش ہوگئ تھی آپ کی بات پہ۔ عباد سونے کے لیے لیٹنے لگا تو سوہا نے مسکراکر کہا
ہمم میں نے دیکھا اُس کا دل کرتا ہے پر وہ اپنی بات شیئر نہیں کرتی زویا نے اُس کو دبا کر رکھا ہے عمار نے بھی دھیان نہیں دیا عماد تو لڑکا تھا پر عبیر کو خاص توجہ دینی چاہیے تھی۔ عباد سنجیدگی سے بولا
بس ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔سوہا نے کندھے اُچکائے۔
معصومہ سے کہنا وہ بھی کجھ پڑھائی کو سیریس لیں ماشااللہ سے حماد بھی فوکس کرتا ہے شرارت اپنی جگہ پر تعلیمی رکارڈ اچھا ہے اُس کا۔ عباد کو معصومہ کا خیال آیا تو کہا
میری معصومہ اور کتنا دماغ لگائے جتنا اُس کے پاس ہے اُتنا لگاتی ہے رہی بات حماد کی تھی آپ ہی تو کہتے ہیں نام انسان کی شخصیت پہ اثر کرتا ہے تو آپ نے حماد کا نام اپنے نام سے میچ رکھا تبھی آپ پہ گیا ہے۔ سوہا نے منہ بسور کر کہا
اچھا رہنے دو سوجاؤ میں خود بات کرلوں گا۔عباد اپنی طرف کی لائیٹ آف کرتا بولا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معصومہ پاپ کارن کھاتی ساتھ میں ڈرامہ دیکھ رہی تھی جب دروازے پہ ناک ہوا اُس نے وقت دیکھا تو رات کے گیارہ ہورہے تھے۔
اِس وقت کون ہوگا۔ معصومہ بڑبڑاتی دروازے کے پاس آئی دروازہ کُھولا تو سامنے عماد کو دیکھ کر منہ بنایا
کیا ہے۔ پھاڑ کھانے والا انداز
تم ناراض ہو۔ عماد اُس کی جانب دیکھ کر بولا جو نائٹ ڈریس میں ملبوس تھی
ہوں تو۔ معصومہ نے کہا
تو ناراضگی ختم کرلوں۔ عماد نے مسکراکر کہا
پھر مجھے کیا ملے گا۔ معصومہ اپنے مطلب کی بات پہ آئی۔
جو تم کہوں گی۔ عماد نے جھٹ سے کہا
واقع۔ معصومہ پرجوش آواز میں بولی
ہاں۔ عماد اُس کا چمکتا چہرہ دیکھ کر مسکرایا
اچھا کل جو ہمیں اسائمنٹ ملا تھا وہ مجھے بناکر دینا پھر ہم یونی کے بعد لانگ ڈرائیو پہ چلے گے اُس کے بعد شاپنگ کرنے ٹھیک ہے۔ معصومہ ایک کے بعد ایک فرمائش کیے بولی عماد کی نرمی پل بھر میں اُڑن چھو ہوئی
اتنا بھی میں نے کجھ نہیں کیا جو تم نے فرمائشوں کا پٹارہ کھول دیا ہے۔ عماد نے گھورا ہے
تو کیا ناراض تو میں ہوں نہ میں معصومہ عباد ہوں کوئی عام نہیں اِس لیے تمہیں میری ہر بات ماننی ہوگی۔ معصومہ روعب سے بولی۔
اوکے فائن۔ عماد نے جان چُھڑائی جب کی معصومہ خوش ہوگئ
