Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 19)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 19)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
معصومہ اور عماد گھر آئے تو سوہا کو ہال میں چکر لگاتے پایا معصومہ نے اپنے سوکھے لبوں پہ زبان پھیری۔
سوہا نے جب معصومہ کو دیکھا تو بنا کوئی اور بات کیے اُس کو بازوں سے پکڑ کر سیڑھیوں کی طرف لیں جانے لگی عماد نے سختی سے اپنے ہونٹوں کو بھینچ لیا
ممی کیا ہوگیا ہے۔ سوہا اُس کو اپنے کمرے میں لائی تو معصومہ اپنا بازوں سہلا کر بولی
معصومہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کیوں دن بدن بگڑتی چلی جارہی ہو۔ سوہا اُس پہ چیخی
ایسا بھی کیا کردیا میں نے جو آپ ایسے ری ایکٹ کررہی ہیں یونی میں ایسا چلتا رہتا ہے۔ معصومہ نے جوابً کہا
تمہیں اندازہ ہے مجھے کتنی شرمندگی اُٹھانی پڑی ہے تمہاری وجہ سے اور ایک تم ہو جو بول رہی ہو ایسا چلتا رہتا ہے میں کل سے تمہاری وجہ سے پریشان تھی اب ایک اور نیا کارنامہ سرانجام دے ڈالا تم نے۔ سوہا خشمگین نظروں سے اُس کو گھورتی بولی
کل سے کیوں؟ معصومہ انجان بنی
جب میں نے کہا تھا عماد سے فاصلے پہ رہنا پھر کیوں تم اُس کے ساتھ ڈانس کی۔ سوہا نے سختی سے پوچھا
موم وہ کزن ہے میرا آپ سب کیوں چاہتے ہیں میں اُس سے دور رہو کزن کے ساتھ ہم فرینڈز بھی ہیں۔ معصومہ احتجاجاً بولی
کزن ہے جانتی ہوں دور رہنے کا نہیں کہہ رہی بس ایک حدتک بات کیا کرو اور یوں سہی نہیں ہوتا میں تمہیں کتنی بار کہوں۔ سوہا تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔
آپ ناراض نہ ہو۔ معصومہ اُس کے کندھے پہ بازوں حائل کیے کہا
تم ناراض کرنے والے کام مت کیا کرو یونی میں تہمیز سے رہا کرو اور اب میں نے سوچ لیا ہے تمہارا علاج۔ سوہا کی بات پہ معصومہ نے ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔
کونسا علاج میں بلکل ٹھیک ہوں۔ معصومہ نے گول گھوم کر اپنے سہی ہونے کا بتایا
تمہارے دماغ میں جو ہر وقت شیطانی خیالات آتے ہیں اُس کا علاج وہ کہہ رہی ہوں آج کے بعد یونی کے بعد کچن میں دو گھنٹے میرے ساتھ کام کروں گی۔ سوہا کی بات سن کر معصومہ کے چہرے کا رنگ اُڑا
یہ میرے ساتھ ناانصافی ہے ممی ایک گانا گانے کی سزا اتنی خطرناک۔معصومہ نے منہ بناکر کہا
پہلے تمہاری حرکتیں بچپنا سمجھ کر ہر کوئی نظرانداز کرجاتا تھا پر اب تم چھوٹی نہیں ہو جلد بائیس سال کی ہوجاؤں گی اِس لیے اپنے آپ میں سُدھار لاؤ۔سوہا دو ٹوک لہجے میں بولی
اچھا نہ میں اب کوئی گانا نہیں گاؤں گی کبھی ڈانس بھی نہیں کروں گی عماد سے بھی فاصلے پہ رہوں گی بس آپ کچن میں کام کرنے کی سزا نہ دے۔معصومہ ملتجی لہجے میں بولی
میں اب تمہاری باتوں میں نہیں آؤں گی اور نہ عباد کی میں نے جو کہا ہے اب وہ ہوگا اگر پھر بھی تم نے ایسی ویسی حرکت کی تو پاکٹ منی بھی ایک ماہ کی بند۔سوہا نے ایک اور کیل ٹھوکا
آپ میری سگی ماں ہے نہ یا کسی نے آپ کا روپ لیں لیا ہے کیونکہ میری ماں تو بڑی سویٹ ہے۔معصومہ سوہا کے گرد چکر لگاتی خود کو یقین دلوانے لگی۔
میں تمہاری ماں ہوں اِس لیے اب اپنے ڈرامے بند کرو۔سوہا نے اُس کو اپنے سامنے کھڑا کیے کہا
اِٹس ناٹ فیئر۔ معصومہ کی حالت سچ مچ رونے والی ہوگئ پر سوہا نے نظرانداز کرڈالا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
معصومہ لاوٴنج میں منہ لٹکا کر بیٹھی تھی سامنے والے صوفے پہ عماد شریر نظروں سے اُس کو دیکھ رہا تھا دوسری سائیڈ عبیر بڑی ہمدرد بھری نظروں سے معصومہ کو دیکھ رہی تھی۔
آپو اُڑتی اُڑتی خبر میرے کانوں میں پڑی ہے کے آج آپ نے اپنی سُریلی آواز سے یونی کے درو دیوار کو ہلا ڈالا ہے۔ حماد اُچھلتا کودتا معصومہ کے برابر بیٹھ کر بولا جس پہ اُس نے گھورا
اور نہیں تو کیا تمہاری آپو نے تو پاکستان کی گلوکارہ سحر گُل آئمہ بیگ مومنہ اِن سب کو پیچھے چھوڑ ڈالا۔ عماد نے جلے پہ نمک کا کام کیا۔
تم کس بات کا بدلا لیں رہے ہو مجھ سے۔معصومہ نے عماد کی طرف دیکھ کر زچ ہوتے کہا
بدلا نہیں تو میں تو تمہاری تعریف کررہا ہوں۔ عماد نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔
اسلام علیکم۔ اُن چاروں کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر عمار بھی ساتھ آکر بیٹھ کر مسکراکر سلام کرنے لگا جس کا جواب سب نے دیا۔
کیا ہوگیا ہے آج معصومہ کے ہوتے ہوئے اتنی خاموشی۔عمار نے حیرت سے پوچھا
آج آپو کی بیٹری لو ہے۔ حماد نے اپنا بولنا ضروری سمجھا۔
چچا جان میں آپ کے کندھے پہ سر رکھ سکتی ہوں۔ معصومہ معصوم شکل بنائے عمار سے بولی
کیوں نہیں میرا بچہ۔ عمار نے مسکراکر اُس کو اپنے بازوں کے گھیرے میں لیا عماد سب پہ ایک نظر ڈالتا اپنے سیل فون میں بزی ہوگیا
چچا جان ایک لڑکی کے لیے اُس کے محرم بس چار آدمی ہوتے ہیں باپ بھائی شوہر اور پھر بیٹا؟ معصومہ نے ایک نظر عماد پہ ڈال کر پوچھا
ایسا تم سے کس نے کہا محرم تو اور بھی ہوتے ہیں جیسے آپ کے چچا یعنی میں اور میرے ڈیڈ جو آپ کے دادا جان ہیں پھر چچا جان جو آپ کے نانوں ہیں یہ سب آپ کے محرم ہیں ماموں بھی ہوتے ہیں پر وہ تو آپ کے ہیں نہیں۔ عمار نے نرمی سے سمجھایا
پھر عماد کیوں نہیں؟ معصومہ کے سوال پہ عماد ساکت ہوا تھا۔
کیونکہ وہ آپ کا کزن ہے۔ عمار اُس کے ماتھے پہ چپت لگا کر بولا
آپ میرے چچا جان ہیں محرم ہیں تو آپ کا بیٹا کیوں نہیں؟ معصومہ نے پھر سے پوچھا
کیا تم چاہتی ہو عماد تمہارا محرم بنے؟عمار عماد کو دیکھتا پھر معصومہ سے بولا
کیا ایسا ہوسکتا ہے۔ معصومہ نے تعجب سے پوچھا
آپ بتادے کرنا ہمارا کام ہے۔ عمار کی بات پہ عماد سٹپٹاگیا۔
ڈیڈ اِس کے دماغ کا فیوز تو خالہ جان کی سزا سن کر اُڑ گیا ہے آپ کیوں اِس کی بات پہ غور کررہے ہیں چھوٹی بچی تو نہیں جو اِس کو محرم اور نامحرم کا پتا نہ ہو۔عماد نے مداخلت کرتے ہوئے کہا
تمہارا کیا جاتا ہے میں تم سے نہیں پوچھ رہی۔ معصومہ نے چڑ کر کہا
معصومہ آؤ آج روٹیاں تم پکاؤ گی۔سوہا لاوٴنج میں آتی معصومہ سے بولی جو اُس کو آتا دیکھ کر عمار سے چپک گئ تھی۔
چچا جان آج بچالیں پلیززززززززز۔معصومہ نے منت کی
کوئی کجھ نہیں بولے گا اُٹھو تم۔سوہا اُس کی بات سن کر جھٹ سے بولی
رہنے دو سوہا۔عمار نے روکنا چاہا
رہنے ہی تو دیتی آرہی ہو تبھی تو یہ حال ہے کل کو سسرال جاکر بھی اِس نے یہی کرنا ہے لوگ کیا کہیں گے کسی تربیت کی ہے ماں نے۔سوہا نے جوابً کہا
اِک تو ہر ایک کی بات شادی پہ ہی کیوں اٹکتی ہے۔عماد بدمزہ ہوتے بڑبڑایا
آپ میری شادی نہ کروانا۔ معصومہ نے اپنی طرف سے مفید مشورہ دیا۔
پڑھائی پوری ہوجائے بس تمہاری ایک منٹ کی دیر نہیں لگاتی میں تمہاری شادی میں۔ سوہا نے گھورتے کہا
اچھاااااااا۔ اب کی معصومہ نے شرمانے کی ناکام کوشش کی۔






اب تم موڈ ٹھیک کرلوں اپنا۔ تبریز نے آئسکریم کپ فرشتے کی طرف بڑھا کر کہا
آپ کو اندازہ ہے کل کتنے روڈ ہوگئے تھے آپ۔ فرشتے نے ناراض لہجے بولی
اندازہ ہے تبھی تو معافی مانگ رہا ہوں۔ تبریز نے کہا
معافی کب مانگی آپ نے۔فرشتے نے آئبرو اُچکائے
کہا جو ابھی۔ تبریز نے کہا
ایسے سوری بولتی ہیں حد ہیں اتنے بڑے ہوگئے ہیں پر آپ کو ابھی تک کسی سے معاف مانگنی نہیں آتی۔ فرشتے افسوس بھری نظروں سے اُس کو دیکھتی بولی
اب زیادہ میری اماں نہ بنو خاموشی سے آئسکریم کھاؤ پھر گھر بھی جانا ہے۔تبریز اُس کو آنکھیں دیکھاتا بولا تو وہ بھی فرمانبرداری سے اُس کی بات مانتی آئسکریم کھانے لگی





یہ میری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں معصومہ عباد گھرداری کرتے ہوئے یہ تو لیٹسٹ نیوز ہے۔عماد کچن میں پانی پینے کے غرض سے آیا تو معصومہ کو آٹا گوندھتا دیکھا تو کسی اینکر کی طرح بولنے لگا
میرا دماغ گھما ہوا ہے اِس لیے دفع ہوجاؤ یہاں سے۔معصومہ غصے سے پھنکاری
نہ کرو تمہارے پاس دماغ بھی ہے ایک اور لیٹسٹ نیوز۔عماد مصنوعی حیرت سے بولا
عماددددددد۔معصومہ نے دانت پہ دانت جمائے اُس کا نام لیا
مجھے بڑی ہمدردی ہورہی ہے آٹے سے بے چارہ بے قصور ہوتے ہوئے بھی تمہارے ہاتھوں سے کچل رہا ہے سوچتا ہوگا ایسا بھی کیا کردیا ہوگا اُس نے جو تم سے پالا پڑا۔عماد شیف سے ٹیک لگائے ہمدردی بھری نظروں سے آٹے کو دیکھنے لگا جس کے گرد سوائے پانی کے کجھ نہیں تھا معصومہ ہاتھوں میں لینا چاہتی تو پانی آجاتا
تم یہاں میری بے بسی کا تماشا دیکھنے آئے ہو یہ نہیں کے مدد کردوں۔معصومہ نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا
اب میں کیا تمہاری مدد کرسکتا ہوں اگر تم کبھی کچن کا رخ کرلیتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور ویسے بھی آٹے میں کون اتنا پانی ڈالتا ہے۔عماد نے اُس کی عقل پہ جیسے ماتم کیا
میرے تو ستارے گردش میں ہیں اِس لیے میرا قیام کچن میں ہوکر رہ گیا ہے پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں۔معصومہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی عماد سے بولی
میں تو دیکھوں گا بس تم روٹیاں جلدی پکالینا وہ کیا ہے نہ بھوک بہت لگی ہے تمہارے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھانے کو ملے گا یہ سن کر تو اور زیادہ اِس لیے پلیززز تھوڑا جلدی۔عماد نے شریر نظروں سے اُس کو دیکھ کر کہا معصومہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ عماد کا قتل کرڈالتی جو آج سارے حساب لینے پہ تُلا ہوا تھا۔
اپنی منہوس شکل لیکر دفع ہوجاؤ۔معصومہ نے چلاکر کہا
یوٹیوب پہ ایک چینل ہے وہاں ایک لڑکی بہت اچھے اچھے کھانا پکانے کے طریقے سیکھاتی ہے کہو تو اُس چینل کا لنک واٹس ایپ کروں تمہیں ضرورت پڑے گی اب۔عماد بنا اُس کی باتوں پہ دھیان دیئے اپنی دھن میں بولتا گیا۔
میرے ہاتھ میں یہ رزق نہ ہوتا تو تمہاری گردن ہوتی جس کو میں دبوچ ڈالتی۔معصومہ آٹے کی طرف اِشارہ کرتی اُس کو اپنے خطرناک منصوبے سے آگاہ کرنے لگی۔
اپسسس اٹس مین معصومہ عباد مجبور ہے ویری بیڈ۔عماد نے افسوس کا اظہار کیا۔
کیوں میرا دل جلارہے ہو جاتے کیوں نہیں امی امی عماد کو یہاں سے باہر نکالیں ورنہ آج میرے ہاتھوں سے ایک قتل ہوجائے گا۔معصومہ عباد سے کہتی سوہا کو آوازیں دینے لگی۔
سویٹ کزن ہائپر کیوں ہوتی ہو میں تو جسٹ تمہاری مدد کرنے کے لیے آیا تھا پر بھلائی کا تو زمانہ ہی نہیں رہا۔عماد ہاتھ اُپر کیے اُلٹے قدم لینے لگا۔
جاؤ جاؤ بڑے آئے مدد کرنے کے لیے۔معصومہ نخوت سے کہتی آٹے سے پانی نکالنے لگی جب دو منٹ بعد عماد نے کچن کے دروازے سے اپنا منہ نکالا
تم نے بتایا نہیں؟
کیااااا۔معصومہ نے ضبط سے پوچھا اس کو یاد نہیں آرہا تھا اُس کو کب اتنا غصہ آیا تھا۔
کوکنگ چینل کا لنک سینڈ کروں یا نہیں؟عماد نے مسکراہٹ ضبط کیے پوچھا ورنہ اُس کا بس نہیں چل رہا تھا معصومہ کی سرخ ہوتی رنگت دیکھ کر قہقہقہ لگائے۔
اپنی ہوتی سوتی کو سینڈ کرنا۔معصومہ نے پاس پڑی باسکٹ سے ایپل اُس کی طرف پھینک کر غصے سے کہا جو مہارت سے عماد نے کیچ کیا
شکریہ کزن مجھے اِس کی ضرورت تھی میں اِس کو کھاتا ہوں تب تک تم گول گول روٹیاں پکاؤ آل دا بیسٹ۔عماد جلانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے ایپل کی بائٹ لیتا معصومہ سے بول کر رُکا نہیں تھا۔
اللہ کریں تمہاری شادی کسی لولی لنگڑی اندھی کالی بھیس کے سراپے جیسی لڑکی سے ہو جو بات بھی کریں تو منہ پانی آئے۔معصومہ نے اُس کو جاتا دیکھا تو بددعائیں دینے لگی۔






ڈیڈ
تبریز اور فرشتے گھر واپس لوٹے تو سامنے جنید کو مناہل کے ساتھ بیٹھا پایا تبریز نے اُس کی موجودگی کا کوئی خاص تاثر نہیں دیا اُس کے برعکس فرشتے بھاگ کر جنید کے گلے لگی۔
کیسا ہے میرا بچہ۔جنید اُس کا ماتھا چوم کر محبت سے چور لہجہ میں پوچھنے لگا
بلکل فٹ اینڈ فائن پر آپ نے تو کل آنا تھا نہ۔فرشتے نے پرجوش لہجے میں بتا کر آخر میں سوال داغا
آنا تو تھا پر آج آکر سرپرائز دیا۔جنید نے اُس کی ناک دباکر کہا
واہ ہمیں آپ کا سرپرائز پسند آیا۔فرشتے نے خوش ہوکر کہا
کہاں جارہے ہو باپ ہوں تمہارا یہ نہیں ہوا کے پوچھ لیا جائے کہ کیسے ہیں۔تبریز کو اپنے کمرے میں جاتا دیکھا تو ناگوار لہجے میں کہا جس کو سن کر تبریز کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ نے بسیرا کیا اُس نے پلٹ کر جنید کو دیکھا جس کی نظریں اُس پہ تھی۔
کیسے ہیں آپ اُمید ہے آپ کا آپ کی نئ پی اے کے ساتھ ٹرپ کافی اچھا گُزرا ہوگا۔تبریز نے دانت پہ دانت جمائے کہا تو جنید اپنی بیوی اور بیٹی کے سامنے چوری پکڑنے پہ شرمندہ تو بہت ہوا پر ظاہر نہیں ہونے دیا تبریز کی بات پہ مناہل کی آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے کُھل گئ جب کی فرشتے کے سر سے اُپر یہ بات گُزری۔
پری روم میں جاؤ اپنے۔جنید سخت نظروں سے لاپرواہ کھڑے تبریز کو دیکھتا فرشتے سے بولا جو سرہلاتی اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
شرم حیا ہے کوئی اتنا قد ہوگیا ہے مگر یہ نہیں سیکھا باپ کے سامنے کیسے پیش آیا جاتا ہے۔فرشتے کے جاتے ہی جنید بھڑک اُٹھا
اب میں نے کیا کردیا نہیں پوچھ رہا تھا تو آپ کو اعتراض تھا اب جب پوچھ لیا ہے تو میرے پہ مزید بھڑک رہے ہیں۔تبریز نے انجان کر کہا
بکو مت تبریز۔جنید نے سخت لہجہ اپنایا
میں بکتا ہوں بھی نہیں۔تبریز دوبدو کہتا اُپر کی جانب بڑھنے لگا جب جنید نے کہا
کب میڈیکل کالج کی جان چھوڑو گے تمہارے بعد والے بھی آگے بڑھ گئے ہیں اور ایک تم ہو جس نے ابھی تک کالج کو خیرآباد نہیں کہا۔
کہہ دوں گا آپ کو کیا مسئلہ ہے۔تبریز بے زار لہجے میں بولا
سوسائٹی میں مذاق بنتا ہے میرا کے میرا اکلوتا بیٹا ابھی تک میڈیکل کالج ہے تیس سال کے ہونے والے ہو تھوڑا رحم کرو ہم پہ نہیں تو خود پہ کیوں اپنی جوانی برباد کرنے پہ تلے ہوئے ہو۔جنید کی بات پہ تبریز کے چہرے پہ عجیب مسکراہٹ آئی۔
بچپن بھی برباد ہوگیا جوانی بوڑھاپا برباد ہو بھی جائے تو مجھے گھنٹہ فرق نہیں پڑتا سب سے پہلے سب سے ضروری سب سے خوبصورت انسان کا بچپن ہوتا ہے جو کی میرا نہیں تھا اِس لیے مجھے یہ درس نہ دیا کریں۔تبریز ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ کر سخت لہجے میں بول کر رُکا نہیں تھا۔
میری ڈھیل کا نتیجہ ہے سب۔جنید نخوت سے بولا
مکافاتِ عمل ہے پہلے تمہاری ضرورت تبریز کو تھی جو تم نے پوری نہیں کی اب اُس کی تمہیں ضرورت ہے تو وہ تمہیں گھاس نہیں ڈال رہا اور نہ ڈالے گا پہلے پہل مجھ بے وقوف کو لگتا تھا تم بزنس میں بزی ہو پر اب پتا چلا آواراگردی کرنے میں مصروف تھے جس کی عادت اِس عمر میں بھی نہیں گئ تمہاری۔مناہل حقارت بھری نظروں سے اُس کو دیکھ کر بولی جس سے جنید کا پارہ ہائے ہوا۔
زبان سنبھال کر ورنہ
ورنہ کیا ورنہ چیخوں گے تو تمہیں کیا لگتا ہے میں ڈر جاؤں گی یہ اپنا مردانہ روعب کسی اور پہ ڈالنا میں نہ کبھی آئی تھی اور نہ کبھی آؤں گی مجھے باقی لڑکیوں کی طرح ہرگز مت سمجھنا میں چاہوں تو ایک منٹ میں تمہیں عرش سے فرش پہ پٹخ سکتی ہوں۔جنید جو غصے سے بول رہا تھا مناہل اُس کی بات بیچ میں کاٹتی پھنکار کر بولی تو جنید دنگ سا اُس کا دبنگ انداز دیکھنے لگا اُس کو یاد نہ آیا کب مناہل کا لہجہ اتنا گستاخ تھا
زیادہ پر نہیں نکل آئے کس غرور میں ہو یاد رکھو بیٹی کی ماں ہو بیٹے کی نہیں جس کی شے پہ منہ زور ہو رہی ہو۔جنید نے تمسخرانہ لہجے میں کہا تو مناہل طنزیہ ہنسی
پر ور نہیں میرے اور میں یہ بات اچھے سے جانتی ہوں میں ایک بیٹی کی ماں ہو جو اللہ کی رحمت ہوتی ہے بیٹا اللہ دیتا تو اُس کا شکر نہیں ہے تع مجھے کوئی غم نہیں کیونکہ تمہارا بیٹا کب تم سے اچھے سے رہا ہے خوامخواہ میرا اپنا بیٹا بھی اُس کے نقشِ قدم پہ چلتا بیٹیاں جب کی دور ہوکر بھی اپنی ماں کی فکر میں رہتی ہیں۔مناہل نے اچھے سے جنید کو آئینہ دیکھایا۔
لوگ سکون کے لیے اپنے گھر لوٹ آتے ہیں ایک میرا گھر ہے جہاں آؤ تو بے سکونی کے سوائے کجھ نہیں۔جنید مناہل کو آنکھیں دیکھتا لاوٴنج عبور کرگیا اُس کے جانے کے بعد مناہل صوفے پہ گِرنے والے انداز میں بیٹھی جنید سے اُس کی شادی پسند کی تھی شادی سے پہلے وہ نہیں جانتی تھی وہ پہلے شادی شدہ اور ایک بیٹے کا باپ ہے معلوم ہونے کے بعد اُس نے خود کو مضبوط کرلیا تھا اپنی طرف سے تبریز کا خیال رکھنا بھی چاہا پر یہ اُس کے لیے آسان نہیں تھا تبریز خود کو خود تک محدود کرنے والا انسان تھا وہ جنید سے پیار کرتی تھی اُس کو لگتا تھا جنید بھی کرتا ہے پر بعد میں اُس کو احساس ہوا جنید ایک عیاشی قسم کا مرد ہے جس کا گُزارا ایک لڑکی سے ناممکن سی بات تھی اُس کو یہ بات بھی سمجھ آگئ کیوں تبریز کیوں اپنے باپ سے چڑتا تھا وہ ساری زندگی جنید کی ہربات کو نظرانداز کرتی آئی تھی مگر آج تبریز کے منہ سے ایسی بات سن کر اُس کو اپنے اندر خنجر پیوست ہوتا محسوس ہوا۔
