Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 07)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

ممی یہ لوگ رات کو سوتے کیوں ہیں۔سوہا معصومہ کے اُپر چادر ڈالنے لگی تو معصومہ نے سوال داغا۔

تاکہ جو تمہاری طرح بے چین ہوتے ہیں دوسروں کو بے سکون کرتے ہیں اُن کو بھی سکون آجائے۔سوہا نے جل کے جواب دیا

بیڈ ممی میں کیسے آپ کو ڈیفینڈ کرتی ہوں ڈیڈی کے سامنے اور آپ مجھے ایسے جواب دے رہی ہیں اِٹس ناٹ فیئر۔معصومہ نے معصوم شکل بناکر کہا تو سوہا کو دُکھ ہوا۔

میری جان میں تو مذاق کررہی تھی رات کو انسان اِس لیے سوتے ہیں کیونکہ سارا دن وہ سب کام کرتے ہیں محنت مزدوری کرتے ہیں اِس لیے اللہ نے ایک وقت رات کا دیا تاکہ وہ سب آرام کرسکے۔سوہا خود بھی دوسری سائیڈ پہ لیٹ کر جواب دینے لگی۔

اور ہم بچوں کے لیے بھی جو سارا دن مغز استعمال کرتے ہیں پڑھتے ہیں رائٹ۔معصومہ نے کہا تو سوہا ہنسی ۔

جی بلکل آپ اتنا پڑھتی ہو سارا دن تھک جاتی ہوگی نہ۔سوہا اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی بولی

اور نہیں تو کیا باقی بچیوں کو بھی میں سمجھاتی ہوں۔معصومہ فخریہ لہجے میں بولی

اوو میرا بچہ۔سوہا مسکراکر اُس کا ماتھا چومنے لگی۔

آپ کے شوہر کہاں ہیں ابھی تک نہیں آئے۔معصومہ کو نیند نہیں آئی تو عباد کا پوچھا

میرا شوہر تمہارا باپ بھی ہے شاید باہر ہو۔سوہا نے جواب دیا

تو ہم اندر کیا کررہے ہیں ہمیں بھی باہر ہونا چاہیے۔معصومہ نے جھٹ سے کہا

عباد آتا ہوگا اور تم سوجاؤ کل اسکول بھی جانا ہے۔سوہا نے گھور کر کہا

نیند نہیں آرہی۔معصومہ نے وجہ بتائی

آنکھیں بند کروں گی تو آجائے گی۔سوہا نے حل بتایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تبریز آپ ریڈی ہو اسکول کے لیے۔مناہل تبریز کے کمرے میں آتی پوچھنے لگی۔

ہمم۔تبریز اپنا اسکول بیگ کندھے پہ ڈالتا بس یہی بولا

اچھا فرسٹ ہے تمہارا کوئی لڑائی وغیرہ مت کرنا۔مناہل نے اُس کو سمجھانا چاہا۔

آپ کیا کہنا چاہ رہی ہیں میں ہروقت لڑتا رہتا ہوں۔تبریز اُس کی بات کا اپنا مطلب اخذ کرتا بولا

میرا یہ مطلب نہیں تبریز ہمیشہ نیگیٹو مت سوچا کرو میں نے اِس لیے کہا کیونکہ پہلے ہی جنید کو تمہاری اسکولز سے شکایات موصول ہوتی رہی ہے وہ تمہیں بورڈنگ اسکول میں بھیجنا چاہتا ہے ابھی تو میں نے اُس کو سمجھالیا ہے پر تم بھی کجھ احتیاط سے رہو لڑائی جھگڑوں میں کجھ نہیں رکھا ابھی تم چھوٹے ہو اِس لیے اپنی اسٹڈی پہ فوکس کرو۔مناہل نے سنجیدگی سے کہا

میرا جو دل کرے گا میں وہ کروں گا۔تبریز سنجیدگی سے کہتا سائیڈ سے گُزرگیا مناہل نے افسوس سے اُس کو جاتا دیکھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبریز بیگ کندھے پہ ٹِکاتا دوسرے ہاتھ سے فون یوز کرتا اپنے دھیان سے جارہا تھا جب ایک بچہ بھاگتا اُس سے ٹکراگیا جس سے تبریز کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر نیچے گِرپڑا

اندھے ہو۔تبریز فون کی ٹوٹی اسکرین دیکھ کر سامنے والے پہ چیخا۔

عماد جو جلدی سے کلاس کی طرف جارہا تھا تبھی غلطی سے سامنے والے سے ٹکڑاگیا تھا پر اُس کو خود پہ چیختا دیکھ کر وہ سہم گیا تھا

سوری۔عماد نے کہا

واٹ سوری تمہاری وجہ سے میرا انتا نقصان ہوا۔تبریز نے گھور کر اُس کو دیکھا جو عمر میں اُس سے چھوٹا تھا

میں آپ کا نقصان پورا کردوں گا ڈیڈ سے بول کر۔عماد نے آفر کی جس پہ تبریز کو مزید غصہ ہوا۔

عبو۔معصومہ نے ساتھ چلتی عبیر کو مخاطب کیا جو اپنے اسکول بیگ سے کجھ نکال رہی تھی۔

جی۔عبیر نے جواب دیا۔

وہ لمبو لڑکا ہمارے گولوں مولوں سے لڑرہا ہے۔معصومہ نےدور کھڑے عماد اور تبریز کی طرف اشارہ کیا تو عبیر نے بھی وہاں دیکھا

کیا پتا باتیں کررہے ہو۔عبیر نے اندازہ لگایا

باتیں ایسے کرتا ہے کوئی گولوں مولوں کیسے نظریں جھکائے کھڑا ہے اور اُس لمبو کا چہرہ دیکھو۔معصومہ نے ماہرِ جاسوس کی طرح دونوں پہ تبصرہ کیا۔

تو ہم لڑکیاں کیا کرسکتی ہیں وہ آپس میں میں معاملہ سُلجھادے گے نہ۔عبیر نے کہا

ایویں کجھ نہیں کرسکتے تم میرا بیگ پکڑو میں زرہ اِس لمبو سے نپٹ لیتی ہوں اِس کی ہمت کیسے ہوئی ہمارے گولوں مولوں سے لڑنے کی۔معصومہ اپنا بیگ کندھوں سے اُتارتی عبیر کو پکڑانے لگی

تم نہیں جاؤ وہ دیکھو دوسرے لڑکے کے ساتھ اور بھی لڑکے کھڑے ہوگئے ہیں۔عبیر نے اُس کو روکنا چاہا

شرم کرو بھائی کی مدد تو نہیں کررہی مجھے بھی روک رہی ہو۔معصومہ عبیر کو شرم دلاتی خود اپنے یونیفارم کی آستینیں فولڈ کرنے لگی۔

اب تم مجھے لالچ دو گے۔تبریز غصے سے کہتا اُس پہ ہاتھ اُٹھانے والا تھا جب معصومہ کسی طوفان کی طرح دونوں کے بیچ حائل ہوئی۔

بچی تم ہٹو۔تبریز نے معصومہ سے کہا جو اپنی آنکھوں کو کھول کر اُس کو دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی۔

فرسٹ آف آل آے ایم معصومہ۔بٹ یو ڈونٹ

اپنا تعارف کسی اور سے کرو ابھی سامنے سے ہٹو۔تبریز اُس کی بات پہ بے زاری سے بولا

یہ تم کیا کررہی ہو؟عماد نے سرگوشی میں معصومہ سے پوچھا

تمہیں پروٹیکٹ کررہی ہو۔معصومہ نے رازدرانہ انداز میں کہا

پروٹیکٹ لڑکیاں نہیں لڑکے کرتے ہیں۔عماد نے معلومات دی۔

کیوں پروٹیکٹ کرنے کا ٹھیکا صرف تم لڑکوں نے لے رکھا ہے لڑکیاں بھی بہت اچھے سے پروٹیکٹ کرسکتی ہیں۔معصومہ نے گھور کر کہا

اچھا

ہاں اب میں تمہیں پروٹیک کررہی ہو بڑے ہونے کے بعد تم مجھے پروٹیکٹ کرنا۔معصومہ نے حکیمہ لہجے میں کہا

میں کیسے کروں گا۔عماد نے معصومیت سے پوچھا

جیسے میں کررہی ہو۔معصومہ نے جیسے اُس کی عقل پہ ماتم کیا۔

تم کیسے کررہی ہو؟عماد نے نیا سوال داغا

ابھی میں تمہاری ڈال بن کر سامنے کھڑی ہو ایسے۔معصومہ نے سمجھایا۔

تم دونوں کیا کھسر پھسر کررہے ہو۔تبریز نے دونوں کو گھورا۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی گولوں مولوں سے لڑنے کی اور اُس پہ ہاتھ اُٹھانے کی۔معصومہ نے تیز آواز میں کہا

تمہیں میں کجھ نہیں کہہ رہا تو سر پہ مت ناچو ایک لڑکی ہو دوسرا بچی ہو اِس لیے لحاظ کررہا ہوں سمجھی۔تبریز نے سخت لہجے میں کہا

نہیں سمجھی اب تم میری بات سمجھو گولوں مولوں سے معافی مانگوں۔معصومہ نے آرام سے کہا

معافی نہیں مانگوں گا اور کس چیز کی معافی تم ہٹو نہیں تم میں لحاظ نہیں کروں گا۔تبریز نے تنے ہوئے تاثرات سے کہا

میں نے بھی کونسا ہاتھوں میں چوڑیاں پہن رکھی ہے تمہیں لحاظ کرنے کا کون کررہا ہے۔معصومہ اپنے چھوٹے ہاتھ اُس کے سامنے لہراتی بولی۔

میں تمہارا منہ توڑدوں گا۔تبریز نے دھمکی دی

میں اُس سے پہلے تمہارے ہاتھ نہ توڑدوں۔معصومہ نے گھور کر کہا

معصومہ میڈم اپنے آفس میں بولا رہی ہیں تمہیں اور تبریز تمہیں بھی۔ایک سولہ سالہ لڑکا دونوں کو دیکھ کر بولا

۔۔۔۔۔۔

آپ لوگوں نے کیوں اسکول گراؤنڈ میں تماشا لگایا ہوا تھا۔میڈم دونوں کو گھورتی بولی جب کی عماد پریشان سا معصومہ کو دیکھ رہا تھا

اِس اے ٹو ذی نے میرے کزن سے لڑائی کی۔معصومہ کے غصے سے بھرے ہوئے تبریز کی جانب اِشارہ کیا

تبریز بیٹا کیا معصومہ سچ بول رہی ہے۔میڈم نے تبریز سے پوچھا

اِس کے کزن نے میرا مہنگا فون توڑ دیا۔تبریز خونخوار نظروں سے کبھی معصومہ کو دیکھتا تو کبھی عماد کو۔

آپ اِتنے بڑے ہیں اسکول کے رول ریگیولیشن کا نہیں پتا کے فون اسکول میں لانا الاؤ نہیں۔میڈم کے کجھ کہنے سے پہلے معصومہ نے طیز کرتی مسکراہٹ سے کہا

باندری تم چپ کرو۔تبریز غصے سے چلایا

باندری ہوگی تمہاری بہن تم خود بندر ہو۔معصومہ دوبدو بولی

خاموش آپ میں تہمیز نہیں بڑوں کے سامنے کیسے رہا جاتا ہے۔میڈم نے سخت لہجے میں کہا

سوری۔معصومہ نے معصوم شکل بنائے کہا

تبریز آپ معصومہ سے سوری بولے اور معصومہ آپ تبریز سے سوری بولے۔میڈم نے حکیمہ لہجے میں کہا

میں کیوں بولوں غلطی اِن دونوں کی ہے۔تبریز ہتھے سے اُکھڑ گیا

یہ پہلے گولوں مولوں سے سوری بولے تو میں بھی بولوں گی۔معصومہ نے اچھا بننے کی اداکاری کی۔

تبریز سے سوری ٹو عماد۔میڈم نے وارن کرتی نظروں سے اُس کو دیکھتے کہا

سوری۔تبریز نے احسان کرنے والے انداز میں کہا تو میڈم نے معصومہ کی طرف نظریں مرکوز کی

میں چھوٹی اور لڑکی ہوں اگر تبریز جی سے سوری کروں گی تو اُن کو بُرا لگے گا وہ بچیوں کا لحاظ کرتے ہیں۔معصومہ آنکھیں پٹپٹا کر کہا تو تبریز نے اپنے ہاتھوں کی متھیاں بھینچ گیا جب کی میڈم نے تاسف سے سر کو جنبش دی

💕
💕
💕
💕
💕
💕

سوہا اپنے ساتھ معصومہ کو بیٹھائے بیٹھی تھی جب کی عباد سنجیدہ سا کبھی یہاں تو کبھی وہاں ٹہل رہا تھا۔

ممی۔معصومہ نے سوہا سے کجھ کہنا چاہا پر سوہا کی ایک گھوری پہ چُپ کر کے رہ گئ

معصومہ تمہیں کتنی بار کہا ہے فساد سے دور رہا کرو بس اپنی پڑھائی میں دھیان دیا کرو تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی تم کیوں چاہتی ہو میں تم پہ سختی سے پیش آؤ۔عباد کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی سخت ہوگیا تھا

ڈیڈی فساد کون۔معصومہ کی سوئی بس ایک لفظ پہ اٹک گئ سوہا نے بامشکل اپنی ہنسی کو ضبط کیا

تمہارے اسکول سے کال آئی تھی روزانہ کا معمول ہے جب سے تمہارا اسکول میں ایڈمیشن ہوا ہر دن تمہاری کوئی نہ کوئی شکایت موصول ہوتی ہے لڑاکا نام سے بدنام ہو تم۔عباد اُس کو غیرسنجیدہ دیکھ کر غصے سے بولا

بدنام نہ ہوگے تو نام کیسے ہوگا۔معصومہ کے کہے جُملے پہ جہاں عباد کی آنکھیں حیرت سے پھیلی وہی سوہا نے جھٹ سے اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر مزید بولنے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔

یہ سب یہ سب تمہارا کیا تھرا ہے خود تو ڈرامے دیکھتی ہو ساتھ میں اِس کو بھی بیٹھالیتی ہو۔عباد حیرانگی سے باہر آتا سوہا سے بولا جو خود پہ لگے الزام پہ احتجاج بھی نہ کرپائی۔

نو ڈیڈی یہ ممی نے ڈرامے میں نہیں دیکھایا آپ کے سیل فون پہ کسی کا اسٹیٹس دیکھا تھا۔معصومہ نے معصوم شکل بنائے کہا۔

معصومہ یہ میری لاسٹ وارننگ ہے اب کی اگر تمہاری شکایات موصول ہوئی تو تمہارے سارے کِھلونے میں اسٹوروم میں بھیجوادوں گا اور اپنی نگرانی میں تمہیں بیٹھایا کروں گا۔عباد کی بات پہ معصومہ کا ننہا دل تڑپ اُٹھا

ایسے کیسے آپ میری بیٹی کے سارے کِھلونے اسٹوروم میں بھیجوادے گے مفت میں نہیں لیے تھے میری حلال کمائی سے لی ہوئی چیزیں ہیں ساری آپ ہاتھ لگاکر تو دیکھائے۔سوہا کب تک خاموش رہ سکتی تھی وہ بھی میدان میں اُتر آئی اُس کی بات پہ عباد نے اپنی ایک آئبرو اُپر کی جیسے کہہ رہا ہو واقعی؟جب کی اب سوہا کو جوش میں آتا دیکھ کر معصومہ کی اٹکی سانس بحال ہوئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *