Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 16)Part 2

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

عبیر کا پورا چہرہ پسینے سے شرابور ہوگیا تھا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا اُس نے ایسا بھی کیا کردیا اب جو زویا اتنا غصہ ہوگئ تھی وہ خود کو سنبھالتی معصومہ کے پاس جانے کا سوچنے لگی۔

حماد جوس کا گلاس پکڑے آرہا تھا جب اُس کا پاؤں ٹیبل پہ اٹکا جس سے جوس کا گلاس سامنے آتی فرشتے کے کپڑوں پہ گِرپڑا فرشتے کا منہ کُھلا کا کُھلا رہ گیا اپنے ڈریس کی یہ حالت دیکھ کر جب کی حماد سر کُھجاتا گِرے ہوئے گلاس کو دیکھنے لگا

اے یو اندھے یہ کیا کردیا میرا اتنا مہنگا ڈریس خراب کردیا۔فرشتے نے چیخ کر کہا

محترمہ جو آپ نے اتنا مہنگا گلاس اتنا خوبصورت گلاس توڑ دیا اُس کا کیا تمہارا ڈریس تو پانچ روپے کے صابن سے صاف ہوجائے گا لیکن یہ گلاس کبھی جڑ نہیں پائے گا کیونکہ کانچ کا گلاس انسان کے دل کی طرح ہوتا ہے ایک دفع ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں جُڑتا۔حماد نے ٹھیک ٹھاک تقریر کردی

کیا بکواس کررہے ہو گلاس انسان کے دل کی طرح نہیں بلکہ دل گلاس کی طرح ہوتا ہے جو ٹوٹنے کے بعد نہیں جڑتا۔فرشتے نے اُس کی عقل پہ ماتم کیا

مجھے کیا پتا میرا دل کونسا کانچ کا ہے یا ٹوٹا ہوا ہے ویسے بھی سائنس نے تو ہمیں نہیں بتایا کے دل کے کسی حصے میں ششہ لگا ہوا جس سے دل کے ٹوٹنے کا خدشا ہو۔حماد ایک ہی پل میں اپنی بات سے مکرگیا

واٹ ایور مجھ سے سوری بولو۔فرشتے نے گھور کر کہا

ہوش میں ہو میں ہوں حماد عباد سوہا عباد کا بیٹا معصومہ عباد کا بھائی میں کیوں کہنے لگا تم چھپکلی کو سوری۔حماد نے ناک سے مکھی اُڑائی۔

کیا چھپلی خود کیا ہو تم مینڈک۔اپنے لیے ایسا لفظ سن کر فرشتے کا غصہ ساتویں آسمان پہ پہنچا

مینڈک ہوگا تمہارا خاندان میری شکل تو شہزادے گلفام سے ملتی ہے۔حماد نے کہا تو فرشتے کی طنزیہ مسکراہٹ سے اُس کو دیکھا

تم چھپلے تمہاری بہن

اے میری آپو کو کجھ نہ کہنا ورنہ میں

حماد اتنا کہہ کر چُپ ہوگیا اُس کو سمجھ نہیں آیا کے کیا کہے

کیا ورنہ ہاں بولوں۔فرشتے نے کمر پہ ہاتھ ٹکائے گھور کر پوچھا

اے لڑکی سائلینٹ ہوجا ورنہ میں وائلینٹ ہوجاؤں گا۔حماد کے شیطانی دماغ میں جیسے ہی ڈائیلاگ آیا جھٹ سے اُس کے سامنے انگلی کھڑی کیے دھمکی آمیز لہجے میں کہا

بچے وائلینٹ تو تم نے مجھے کردیا ہے معافی مانگوں نہیں تو اپنا حشر سوچ لیو۔ فرشتے نے اُس کے بال کھینچ کر کہا

اپنے ڈائن جیسے ہاتھ میرے ایس آر کے بالوں جیسے سے دور کرو۔ حماد تپ کے بولا

واہ جی واہ شکل شہزادہ گلفام جیسی بال شاہ رخ خان جیسے اپنا کجھ بھی ہے۔ فرشتے نے طنزیہ کیا

میری اپنی پرسنل زبان ہے دیکھو۔ حماد نے زبان چڑائی۔

معافی مانگو ورنہ میں گنجا بنادوں گی تمہیں۔فرشتے نے دونوں ہاتھ اُس کے بالوں پہ رکھے وارن کیا

آ آہ جھنگلی چھوڑو میرے بال۔ حماد نے ایک ہاتھ اُس کے لمبے بالوں میں ڈال کر دوسرے ہاتھ سے اپنے بال آزاد کروانے چاہے۔

اپنے ہاتھ میرے بالوں سے ہٹاؤ میرے بھائی کو پتا لگا نہ اچھا نہیں ہوا اُس کی ایک پھونک کے مار ہو تم۔فرشتے اُس کے بالوں کو زور سے کھینچ کر بولی

اور تو تمہارا بھائی میری بہن کو نہیں جانتا اُس نے تمہارے بھائی کو ایسی ایسی سُنانی ہے کے دوسرے دن تمہارا بھائی پاگل خانے میں شفٹ ہوگا۔حماد نے اُس کے بالوں کو زور سے مٹھیوں میں بھیچ فرشتے کو لگا اُس کے بال آج جڑ سے اُکھڑ جائے گے

معصومہ بریانی کی پلیٹ ہاتھ میں پکڑے اب بیٹھ کر کھانے کا ارادہ کرنے والی تھی جب دور کونے میں اُس کو حماد کسی لڑکی سے لڑتا نظر آیا

یہ حمو نے سب کے سامنے ناک کٹوانی ہے۔ معصومہ پلیٹ ٹیبل پہ رکھتی بھاگنے والے انداز میں اُن کی طرف جانے لگی۔

تبریز کا موڈ بُری طرح آف ہوگیا تھا اُس کو کاشف کی کال آنے لگی تو وہ ہجوم سے نکلتا کسی کونے میں جانے کا سوچ رہا تھا جب نظر فرشتے پہ پڑی جسے کے بال کسی کی مٹھیوں میں تھے یہ دیکھ کر تبریز کی آنکھوں میں خون اُتر آیا فون کو جیب میں ڈالتا دندناتا وہاں جانے لگا۔

کیا پاگل ہوگئ ہو لڑکی میرے بھائی کے بال چھوڑو کیوں بھری جوانی میں اُس کو گنجا کرنے پہ تلی ہو ابھی تو اُس نے ٹھیک سے جوانی کی دہلیز پہ پیر بھی نہیں رکھا۔معصومہ فرشتے کے ہاتھ حماد بالوں سے ہٹاتی نان سٹاپ بولنے لگی

جاہل انسان پیچھے ہٹو۔ تبریز کرخت آواز میں بولا

جاہل کس کو بول رہے ہو میرا بھائی میٹرک کلیئر ہے۔ معصومہ حماد کو اپنے پیچھے کرتی گھور کر بولی

میری بہن کو دوبارہ ہاتھ لگانے کی کوشش کی تھی ہاتھ کاٹ دوں گا۔

او تو یہ تمہاری بہن ہے بلکل تم پہ گئ ہے۔ معصومہ دونوں پہ طنزیہ نظر ڈال کر بولی

حد میں رہو اپنی لڑکی سمجھ کر لحاظ کررہا ہوں ورنہ گدی سے زبان کھینچ لیتا۔ تبریز سرد لہجے میں بولا

ایسے ہی زبان گدی سے کھینچ لیتے میں ابھی زندہ ہوں دیکھتا ہوں کون میری بہن کو آنکھ اُٹھا کر دیکھتا ہے ہاتھ لگانا تو دور کی بات ہے۔ حماد کے اندر بھائی کا جوش اُبھرا

تم چپ کرو کدو۔ فرشتے نے آستین چڑھا کر کہا

کیوں چپ کریں خبرادر جو میرے ہینڈسم بھائی کو کدو کہا تو تمہارے لمبو بھائی کی شکل اُس سے ملتی جُلتی ہے کبھی دونوں کو ایک ساتھ بیٹھا کر دیکھنا لگ پتا جائے گا۔ معصومہ حماد کو اپنے ساتھ لگائے دونوں سے بولی

تبریز کا بس نہیں چل رہا تھا وہ معصومہ کا کیا حال کرتا پر لڑکی سمجھ کر اُس پہ ہاتھ اُٹھانے سے گریز کررہا تھا ورنہ دل تو ایسا ہی کجھ کرنے کو چاہ رہا تھا۔

تیری کزن نے تو آج کا دن بھی نہیں چھوڑا دیکھو کیسے دبنگ بنی ہوئی ہے۔ فیصل ہنس کر عماد سے بولا جو کول ڈرنک کا سپ لیں رہا تھا فیصل کی بات سن کر اُس نے اُس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا جہاں معصومہ پورا ہال چھوڑے ڈرائنگ کے باہر کسی سے لڑنے میں مگن تھی۔

یااللہ اِس بندی کو عقل دے۔ گلاس ٹیبل پہ رکھتا عماد معصومہ کو لینے کے لیے جانے لگا جب فیصل نے کہا

اپنے یہ خوبصورت گلاسز مجھے دے دو خوامخواہ تم لوگوں کی لڑائی میں یہ بے موت مارا جائے گا۔ فیصل عماد کی آنکھوں سے چشما اُتار کر پھونک مار کر خود پہن کر بولا جس سے عماد نے اُس کو گھورا

جلدی جاؤ اگلے سین کا مجھے بے صبری سے انتظار ہے۔فیصل اُس کے گھورنے کا اثر لیے بنا جانے کا بولنے لگا اور آس پاس بھی دیکھنے لگا جہاں اب سب جانے کی تیاریوں میں تھے بس کجھ لوگ ہی بچے تھے اب

عماد کے جانے کے بعد فیصل دلچسپ نظروں سے سامنے دیکھنے لگا جیسے کوئی پسندیدہ شو چل رہا ہوں ایسے ہی تو لوگ نہیں کہتے کے دوستوں سے زیادہ کمینہ اور کوئی نہیں ہوتا اگر دوست فیصل جیسا ہو تو انسان یہ نام دینے پہ مجبور ہوجاتا ہے۔

فیصل بھائی آپ نے عماد کو دیکھا ہے۔ عبیر کی آمد پہ فیصل کی ہنسی نکل گئ۔ اُس کے ہنسنے پہ عبیر ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

سوری وہ بس تمہارا ہی انتظار تھا وہاں جاؤ وہاں سب موجود ہیں سوائے تمہارے تمہارا جانا بھی ضروری ہے۔فیصل اپنی مسکراہٹ دباتا معصومہ کی طرف اِشارہ کرنے لگا تو عبیر ایک نظر اُس کی آنکھوں میں موجود عماد کے گلاسز پہ ڈال کر چلی گئ

معصومہ گھر پورا مہمانوں سے بھرا پڑا ہے اور تم یہاں تماشا لگا رکھا ہے چلو یہاں سے۔ عماد معصومہ کے پاس سخت لہجے میں آکر بولا

اوو رومیوں صاحب بھی آگئے آپ کا ہی انتظار تھا ویلکم ویلکم۔تبریز تالیاں بجاکر طنزیہ بولا

بکواس بند کرو۔ عماد سخت لہجے میں بولا

کیوں بے بی بُرا لگا۔ تبریز نے بچوں کے لہجے میں اُس کو پچکارا فرشتے نے اپنی ہنسی کنٹرول کی

مہمان ہو مہمان بن کر رہو ورنہ میں یہ نہیں سوچوں گا کے گھر آئے مہمان کی عزت کی جاتی ہے۔ عماد نے وارن کیا

اچھا جی تو لیں جاؤ اِس بدزبان کو۔تبریز نے حقارت سے معصومہ کو دیکھ کر کہا تب تک عبیر بھی وہاں آگئ تھی۔

آپ کا کوئی حق نہیں میری کزن کے بارے میں ایسا بولنے کا۔عبیر کو تبریز کا معصومہ کو ایسا کہنا پسند نہیں آیا تو جھٹ سے کہا اُس کی بات پہ عماد معصومہ حماد تینوں کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ایسا پہلی بار ہوا تھا جو وہ کسی کے حق میں بولی تھی یا کسی لڑائی کے بیچ میں آئی تھی پر تبریز کو عبیر کا ایسے مخاطب کرنا پھر معصومہ کی طرفداری کرنا بلکل پسند نہیں آیا

آپو ہماری انوسینٹ کزن بہادر ہوگئ ہے۔حماد معصومہ کے کان میں سرگوشی میں بولا تو معصومہ نے داد دیتی نظروں سے عبیر کو دیکھا

جو ہے وہ کہوں گا تمہیں زیادہ حمایتی بننے کی ضرورت نہیں۔تبریز بدلحاظی سے بولا

میری بہن کو کیا دھمکارہے ہو مجھ سے بات کرو۔عماد عبیر کے سامنے کھڑا ہوکر بولا تو تبریز نے ایک مُکہ اُس کے چہرے پہ رسید کیا معصومہ اور حماد کا ہاتھ بے ساختہ منہ پہ گیا عبیر نے جلدی سے عماد کے کندھے پہ ہاتھ رکھا

یو بلڈی۔عماد کے ہونٹوں سے خون کی بوند ٹپکی تبھی غصے میں آتا جواب میں تبریر کے چہرے پہ مکہ دے مارا۔

یار آپو معاملہ بڑھ گیا ہے ہمارے ابا کو پتا چل گیا نہ تو لینے کے دینے پڑجائے گے۔حماد کی حالت پتلی ہوگئ تھی تبھی معصومہ سے بولا جو خود پریشان ہوگئ تھی

عبیر جاؤ جاکر ڈیڈی یا چچو کو لیکر آؤ۔معصومہ نے بت بنی عبیر سے کہا

تم کیوں کومہ میں چلی گئ ہو چلو میرے ساتھ۔معصومہ اُس کا ہاتھ پکڑتی اپنے ساتھ لیں جانے لگی۔

فرشتے پرشوق نظروں سے عماد اور تبریز کو آپس میں لڑتا دیکھ رہی تھی۔

یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا شیطان کی نانی۔حماد نے فرشتے سے کہا

تم زمیدار ہو شیطان کے ابا۔فرشتے نے گھور کر کہا

تم ہو شیطان۔حماد یہاں وہاں دیکھتا ٹیبل پہ ٹرے نظر آئی تو اُس میں سے ایک گلاس اُٹھا کر فرشتے کے اُپر گِرایا جس سے اُس کے کپڑے جو پہلے خراب ہوگئے تھے پانی کی وجہ سے گیلے بھی ہوگئے۔

کمینے تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں۔فرشتے نے ہاتھوں سے پوری ٹرے اُٹھا کر کہا

جس سے حماد پُھرتی کا مظاہرہ کرتا دوسرا گلاس اُٹھا کر اُس میں موجود پانی فرشتے کے سر پہ گِرایا

دماغ کافی گرم ہوتا معلوم ہوتا ہے اِس کو ٹھنڈا کرو۔حماد جلانے والی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے بولا

کیا ہورہا ہے یہ۔عباد کرخت لہجے میں دھاڑا

تو تبریز کے ہاتھ اور عباد کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبان پہ تھے جھٹکے سے چھوڑ دیئے۔

اپنے سب گھروالوں اور کجھ مہمانوں کو دیکھ کر عماد شرمندہ سا سرجھکاگیا تھا اُس کے پورے بال بکھرے ہوئے تھے واسکٹ کے اُپری بٹن بھی ٹوٹ گئے تھے جب کی تبریز کے شرٹ کے بٹن سارے کُھل گئے تھے سوائے ایک کے جس سے اُس کا سینہ نظر آرہا تھا خود پہ کجھ لڑکیوں کی نظر اور باقی لوگوں کی نظریں محسوس کرکے تبریز نے اپنے سامنے فرشتے کو کھڑا کردیا کیونکہ شرٹ کے بٹن تو جانے کہاں پہنچ گئے تھے

زویا نے خون آشام نظروں سے تبریز کو دیکھا جس کی وجہ سے عماد کا یہ حال ہوا تھا وہ الگ بات تھی تبریز کا حال بھی عماد جیسا تھا

لڑنے کے علاوہ کجھ آتا بھی ہے تمہیں۔زویا نے نفرت سے کہا

زویا۔ عمار نے سب کے سامنے اُس کو چیختا دیکھا تو تنبیہ کی مناہل اپنی جگہ شرمندہ ہوگئ تھی۔ سوہا سارے حالات کو سمجھتی جو مہمان موجود تھے اُن سے ایکسکیوز کیا

تبریز فرشتے باہر آؤ۔مناہل سخت لہجے میں کہتی باہر چلی گئ وہ دونوں بھی اُس کی تلقید میں چلنے لگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *