Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 28)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 28)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
گاڑی جیسے ہی گھر کے سامنے رُکی معصومہ بنا عماد پہ نظر ڈالتی گاڑی سے اُترگئ اُس کے اُترتے ہی عماد گاڑی ریورس کرگیا جس پہ پلٹ کر معصومہ نے ایک بار ضرور دیکھا تھا پر جانے والا جاچُکا تھا
معصومہ اندر کی طرف جانے لگی جب ڈرائینگ ہال سے آتی آواز نے اُس کے قدموں کو جکڑا
تمہیں کبھی بتایا نہیں مجھے خوشبو عماد کے لحاظ سے بہت عزیز ہے میں نے عماد اور خوشبو کو ساتھ سوچا ہے دونوں آپس میں بیسٹ لگے گے تمہارا کیا خیال ہے۔زویا پرجوش آواز میں عائشہ سے بولی جو آج اُس سے ملنے آئی تھی معصومہ زویا کا انداز دیکھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ
مجھے کیا اعتراض ہونا تھا پہلے لگتا تھا شاید عماد معصومہ میں انٹرسٹ رکھتا ہو پر جب معصومہ کا نکاح ہے کجھ دن بعد عماد نے کجھ شو نہیں کروایا تو میں ایگری ہو۔عائشہ نے مسکراکر مثبت جواب دیا
ٹھیک ہے یہ نکاح کی تقریب ہوجائے اُس کے بعد کیونکہ اعیان اور عبی
سوری زویا عبیر مجھے پسند ہے پر اعیان کسی اور لڑکی کو چاہتا ہے۔زویا کی بات کا مطلب اخذ کرتی عائشہ پہلے ہی بول پڑی جس سے زویا کو خاموش ہونا پڑا
اچھا ٹھیک ہے۔زویا بس اتنا بولی
ہاں اعیان نہیں بتاتا تو میں خود عبیر کا ہاتھ مانگتی۔عائشہ نے وضاحت دیتے کہا
ارے نہیں کوئی بات نہیں ہوتا رہتا ہے۔زویا نے سرہلاکر کہا۔







تم یہاں خیریت۔عماد فیصل کے فلیٹ آیا تو کہا
کیوں نہیں آسکتا میں۔عماد صوفے پہ بیٹھتا بولا
ایسا بھی نہیں کہا اچانک آئے تو کجھ حیرت ہوئی تم بتاؤ آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے اپنی محبت پانی ہے یا قربان کرنی ہے۔فیصل نے بغور اُس کا چہرہ دیکھ کر کہا
وقت پہ چھوڑ دیا ہے۔عماد کی بات سن کر فیصل نے اُس کو گھورا
یہ کیا بات ہوئی۔
پتا چل جائے گا ابھی خاموش رہو۔عماد نے بے زاری سے کہا
سرفراز کو آج بہت مارا تم نے۔کجھ توقع کے بعد فیصل نے کہا
مر نہیں گیا۔عماد بنا تاخیر کیے بولا
میں بیچ میں نہ آتا تو مرجاتا۔فیصل نے باور کروایا
میں اُس کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا اِس لیے اپنا منہ بند رکھو ایسا نہ ہو میں تمہارا منہ توڑ کر اپنی ساری فرسٹریشن اُتارو۔عماد کی بات پہ فیصل احتیاطاً اُس سے دور بیٹھا
مجھے تو حیرت ہورہی ہے کول اینڈ کام بندے کو ہوکیا گیا ہے مار دھار کا شوق کب سے ہوگیا تمہیں۔فیصل نے تعجب کا اظہارہ کیا
ڈائریکٹ جانے کا کیوں نہیں کہتے۔عماد اُس کی ایک ہی رٹ پہ تپ اُٹھا
اب نہیں کہتا کجھ۔فیصل نے سنجیدگی سے کہا تو عماد نے اپنا سرجھٹکا




میں تمہارے گھر رشتہ جلدی بھیجوں گا پر تم پریشان مت ہو ہمارے نکاح کی بات کسی کو پتا نہیں چلے گی۔تبریز عبیر کو ریسٹورنٹ لایا تھا جہاں اُس نے پرائیوٹ ٹیبل بُک کروائی تھی تبھی کجھ بعد تبریز نے اُس کو بتایا
اگر گھروالوں کو اعتراض ہوا تو آپ پلیز یہ کاغذی رشتہ ختم کردینا۔ عبیر کی بات پہ تبریز نے اپنی مٹھیاں بھینچی
میں اگر سکون میں ہوں تو سکون میں رہنے دو اور ویسے بھی تمہاری ماں کے اعتراض کو میں کسی خاطے میں نہیں لاتا۔ تبریز بے نیازی سے بولا
آپ کو میری ماں سے مسئلہ کیا ہے۔
وہی جو تمہاری ماں کو مجھ سے ہے۔ تبریز دوبدو بولا
اُن کو کوئی اعتراض نہیں۔ عبیر نے بتانا چاہا
تو مجھے بھی نہیں۔تبریز نے کندھے اُچکائے
بہت عجبیب ہیں آپ۔عبیر نفی میں گردن ہلاتی بولی
جیسا بھی ہوں بس تم اپنا مائینڈ سیٹ کرلوں پہلے تو سوچا تھا تمہارا میڈیکل پورا ہوجائے گا پر اب لگتا ہے جلدی کجھ کرنا پڑے گا۔تبریز کی نئ بات پہ عبیر بس اُس کو دیکھتی رہ گئ جو بنا اُس کی راے جانے سب کجھ خود طے کررہا تھا۔





کجھ دن بعد!
میں آپ سب سے ایک بات کرنا چاہتی ہوں۔زویا نے کھانے کی ٹیبل پہ سب کو جمع دیکھا تو بات کا آغاز کیا
کہو۔حنان صاحب نے اِجازت دی
میری دوست ہے عائشہ اُس کی بیٹی مجھے پسند ہے عماد کے لیے۔زویا کی بات پہ خاموش بیٹھے عماد نے اپنا سراُٹھا کر اپنی ماں کی جانب دیکھا جو اُس کی راے جانے بنا سب کے سامنے اپنا فیصلہ سُنارہی تھی حیرت تو معصومہ کو بھی ہوئی تھی اُس نے ایک چور نگاہ عماد پہ ڈالی جس کے چہرے سے اندازہ لگانا مشکل تھا کے اُس کے اندر کیا چل رہا ہے۔
تم کیا چاہتی ہوں اب۔اب کی عباد نے استفسار کیا
معصومہ کی تقریب کے دوسرے دن میں خوشبو کا رشتہ لیکر جانا چاہتی ہوں تاکہ آپ میں سے بھی کوئی ساتھ چلیں۔زویا نے بتایا
ٹھیک ہے اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو ہمیں اعتراض نہیں عماد تمہارا بیٹا ہے تمہارا حق ہے فیصلہ کرنے کا۔حنان صاحب کی بات پہ زویا کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی۔
تمہیں کوئی اعتراض ہے تو بتادو۔عمار نے عماد سے کہا جو خود کو ایسے ظاہر کررہا تھا جیسے اُس کے مطلق نہیں کسی اور کے بارے میں بات ہورہی ہو
مجھے کیا اعتراض ہونا ہے سب کو کجھ امی نے طے کرلیا ہے تو شادی کی تاریخ بھی مجھے بتادے نکاح کے پیپرز پہ سائن کرنے آجاؤں گا۔عماد کرسی پیچھے گھسیٹ کر بولتا وہاں سے چلاگیا جب کی اُس کے انداز پہ سب خاموش ہوگئے تھے۔
تمہیں پہلے عماد سے راے لینی چاہیے تھی۔عمار نے سنجیدگی سے زویا سے کہا جس پہ وہ خاموش رہی۔
آجکل عماد برو جل ہوئے توے پہ بیٹھے ہوتے ہیں۔حماد معصومہ کے کان میں سرگوشی میں بولا تو معصومہ نے اُس کو گھورا
۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عماد مجھے ذرہ ڈراپ کردینا میری دوست ہے مناہل اُس کو نکاح کا انویٹیشن کارڈ دینا ہے۔عباد نے عماد کو باہر جاتا دیکھا تو کہا جس پہ عماد نے ناچاہتے ہوئے بھی اثبات میں سرہلایا
تمہیں کھانے کی ٹیبل پہ زویا کو ایسے نہیں بولنا چاہیے تھا سب کے سامنے وہ ہرٹ ہوئی ہوگی۔عباد نے گاڑی ڈرائیو کرتے عماد سے کہا
میں سوری بول دوں گا۔عماد نے سنجیدگی سے کہا
کرنا پھر دھیان رکھنا دوبارہ وہ ماں ہے تمہاری اگر تمہارے لیے کوئی فیصد لے رہی ہے تو بہتری سوچی ہوگی تمہارے لیے۔عباد نے کہا تو عماد نے سر کو جنبش دی
مطلوبہ جگہ پر پہنچتے ہی عباد گاڑی سے باہر اُترا تو عماد اُس سے مخاطب ہوا
آپ کہے تو میں یہاں ویٹ کرلیتا ہوں پھر ساتھ واپس جائے گے۔
یہاں ویٹ کرنے سے اچھا ہے ساتھ چلو۔عباد اُس کی بات سن کر بولا
میرا وہاں کیا کام۔عماد نے کندھے اُچکاے
کارڈ دے کر واپس آنا ہے مجھ بھی پھر آفس جانا تھا تم چلو ساتھ۔عباد کے اصرار پہ عماد نے دوبارہ انکار نہیں کیا اور اُس کے ہمراہ جنید مینشن کے اندر گیا
اسلام علیکم! چودھویں کے چاند۔مناہل نے عباد کو دیکھا تو پہلے اُس کو خوشگوار حیرت ہوئی پھر شکوہ کناں لہجے میں بولی
میں تو پھر بھی آتا ہوں تم تو وہ بھی نہیں آتی اور آپ محترمہ کے پھر بھی شکوے۔عباد کی بات پہ کھسیانی سی ہنسی
میٹھے میٹھے طنزیہ کررہے ہو خیر بیٹھو اور عماد بھئ تم کیسے ہو؟مناہل نے مسکراکر عباد کے بعد عماد سے کہا
تبریز یہاں آنا۔مناہل نے سیڑھیوں سے اُترتے تبریز کو دیکھا تو کہا جس کا پورا دھیان اپنے موبائیل میں تھا مناہل کی آواز پہ اُس نے سراُٹھایا تو عماد پہ پڑی جو بار بار اپنی گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا
سالے صاحب آے ہیں۔تبریز معنی خیز نظروں سے عماد کو دیکھتا سیل جیب میں رکھ کر اُن کی طرف آیا
اسلام علیکم!انکل۔تبریز نے پہلی بار اخلاقیات نبھائی۔
وعلیکم اسلام!عباد نے خوشدلی سے جواب دیا اُس کے برعکس عماد نے اُس کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کیا تھا۔
کیسے ہو تم۔تبریز عماد کے سامنے والے صوفے پہ بیٹھ کر بے تکلفی سے اُس سے مخاطب ہوا
ٹھیک۔عماد اُس کے ایسے مخاطب کرنے پہ پہلے تو خاموش رہا پھر کہا اُس کو تبریز کی نظریں عجیب لگ رہی تھی اُپر سے اُس کا بار بار یوں مسکراکر دیکھنا
پاگل۔عماد منہ میں بڑبڑاتا جیب سے اپنا سیل نکال کر بزی ہوگیا
مناہل یہ کارڈ ہے معصومہ کے نکاح کا۔عباد نے اپنے آنے کی وجہ بتائی
کس سے؟مناہل خوشگوار حیرت سے بولی تبریز کی نظریں پھر سے عماد پہ پڑی
اُس کا یونی فیلو ہے سرفراز۔عباد کے بتانے پہ تبریز ٹھٹک کر عماد کو دیکھنے لگا جو لاتعلق سا تھا۔
یہ کیا ماجرہ ہے بھئ۔۔۔ اب یہ کیا ناکام عاشقوں کی طرح اپنے محبوب کی شادی میں کرسیاں لگائے گا؟تبریز عماد کو ایکسرے کرتی نظروں سے دیکھتا سوچنے لگا پھر اپنی ہی سوچ پہ ہنسی آئی۔
اللہ نصیب اچھے کرے۔مناہل نے دعادی
آمین۔عباد نے بے اختیار کہا
نکاح کی ڈیٹ؟تبریز نے جان بوجھ کر عماد سے سوال کیا
کارڈ پڑا ہے سامنے اُٹھا کر دیکھ لو۔عماد نے دانت پیس کر کہا
تمہاری چچا زاد بہن۔۔۔۔۔۔ ہے تمہیں کیا نہیں پتا۔تبریز مصنوعی حیرت کا اظہار کرتے(بہن)لفظ پہ زور دے کر بولا عماد کا دل چاہا اُٹھ کر اُس کا منہ توڑدے مگر جانے کیا سوچ کر خاموش رہا
تمہیں کارڈ پڑھنا نہیں آتا تو وہ بات کرو نا۔عماد نے حساب بے باک کر اُس کی بات کو کسی خاطے میں نہیں لایا عباد اور مناہل کبھی اُن دونوں کو دیکھتے یا ایک دوسرے کو
ایسی تو بات نہیں مجھے پڑھنا تو آرہا ہے۔سرفراز ویڈز معصومہ۔تبریز نے اُس کو تپانے کی حد کردی
ویڈنگ نہیں جسٹ نکاح۔عماد نے دانت پہ دانت جمائے کیونکہ وہ بنا کارڈ دیکھے بتاسکتا تھا کارڈ میں ایسا کجھ نہیں لکھا ہوگا۔
ایک ہی بات ہے جن سے نکاح کی سرمنی ہوتی ہے ویڈنگ سرمنی بھی اُن کے ساتھ ہوتی ہے۔تبریز نے ناک منہ چڑھاکر پتے کی بات بتائی اِس بار عماد خاموش رہا کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
یہ خاموشی کسی اچھی بات کا پیش خیمہ تو بلکل نہیں ہوگی ضرور کسی آنے والے طوفان کی علامت ہوگی۔وہ بھی تبریز تھا غور سے عماد کی جانب دیکھتا اپنی سوچ کے تانے بانے جوڑنے لگا جو بھی تھا اُس کو مزہ آرہا تھا اِس کھیل میں یا یوں کہنا بہتر ہوگا اپنے(سالے صاحب) کو تنگ کرنے میں۔






عماد کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ تم اکیلے نہیں کرسکتی عماد کی دلی راضامندی ضروری ہے کیونکہ ساری زندگی اُس کو گُزارنی ہے۔عمار نے سنجیدگی سے دوٹوک ہوکر زویا سے کہا وہ اِس وقت ہسپتال میں اپنی ڈیوٹی پہ تھے
میرا بیٹا راضی ہے تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔زویا نے آرام سے کہا
کتنا راضی تھا وہ اُس کا رویہ بتارہا ہے۔عمار نے طنزیہ کیا
تمہارا مسئلہ کیا ہے عمار؟؟ میرے ہر فیصلے کی خلاف ورزی کرنا ضروری ہے کیا؟زویا نے چڑ کر پوچھا
مجھے تمہارا فیصلے سے کوئی سروکار نہیں۔۔۔۔۔۔جس کے لیے تم نے فیصلہ لیا ہے اُس سے ہے کیوں کے وہ میرا بیٹا ہے جس کو میں تمہارے جذباتی فیصلے کی نظر ہرگز نہیں ہونے دینا چاہتا۔۔۔۔۔۔عمار کی بات پہ زویا بس اُس کا چہرہ دیکھتی رہ گئ
تمہیں میرا یہ جذباتی فیصلہ لگ رہا ہے۔زویا کو جیسے یقین نہیں آیا
بلکل تم بس یہ بتانا چاہتی ہوں کے
اوو پلیز عمار ناٹ اگین میرا موڈ بہت اچھا ہے اُس کو سپوئل نہیں کرو۔عمار کی بات بیچ میں روک کر زویا نے بیزار کن تاثرات چہرے پہ سجاکر کہا کیوں وہ سمجھ گئ اب بات آگے جاکر سوہا اور معصومہ پہ روکے گی۔
زویا کی بات پہ عماد نے اُس کو ایک نظر ڈال کر کیبن سے باہر چلاگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج حمیرا بیگم معصومہ کو لینے آئی تھی نکاح کا جوڑا لینے کے لیے تاکہ معصومہ اپنی پسند سے لیں کیونکہ اگلے دن نکاح تھا گھر پہ کوئی مرد نہیں تھا سوہا نے اجازت دے دی بنا عباد سے پوچھے کیونکہ وہ اُس کی ہونے والی ساس تھی سرفراز تھا تو نہیں جو اعتراض کرتی۔
معصومہ کو حمیرا بیگم کے ساتھ گئے ابھی چند گھنٹے ہوئے تھے جب عماد گھر واپس لوٹا
عماد عباد سے بات ہوئی ہے تمہاری آج تم اُس کے ساتھ آفس گئے تھے نا؟سوہا نے اُس کو آتا دیکھا تو پوچھا
خالہ جان گیا تو تھا آپ کو کام تھا اُن سے۔بتانے کے بعد پوچھا
ہاں وہ اصل میں معصومہ اپنی ہونے والی ساس کے ساتھ نکاح کا جوڑا لینے گئ ہے ابھی تک نہیں آئی عباد سے پوچھا نہیں تھا اِس لیے ڈر لگ رہا ہے ناراض نہ ہو وہ۔سوہا نے پریشانی کے عالم میں بتایا
کیا سرفراز بھی ساتھ تھا؟عماد نے اپنا لہجہ سرسری کیا
نہیں۔سوہا نے بتایا
تو آپ پریشان مت ہو میں جاکر دیکھتا ہوں اُن کے گھر کا ایڈریس پتا ہے۔عماد نے کہا تو سوہا مشکور نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی
کجھ ہی دیر بعد عماد سرفراز کے گھر کے باہر کھڑا تھا اُس نے جیسے ہی ڈور بیل بجائی تو چوکیدار سامنے کھڑا تھا عماد نے اپنے آنے کا مقصد بتایا تو اُس نے اندر آنے کا راستہ دیا اندر آتے ہی اُس کا سامنا سرفراز کی ماں سے ہوا
تم
عماد معصومہ کا کزن اُس کو بتائے میں لینے آیا ہوں۔حمیرا بیگم کے کجھ کہنے سے پہلے عماد بول پڑا
جی ضرور پر ابھی ہم واپس لوٹے تھے سوچا معصومہ اپنا گھر دیکھ لیں اور کمرہ بھی اگر اُس نے کوئی چینجنگ وغیرہ کرنی ہو تو بتادے۔حمیرا بیگم کی بات عماد نے کس ضبط سے سُنی تھی بس وہ جانتا تھا۔
اُس نے دیکھ لیا ہوگا آپ بتادے میں باہر انتظار کررہا ہوں۔عماد کہہ کر باہر کی طرف جانے لگا پیچھے حمیرا بیگم نے حیرت سے اُس کا انداز دیکھا پھر شانے اُچکاکر اندر کی طرف بڑھی۔
پانچ منٹ بعد معصومہ گاڑی میں آکر بیٹھی بنا عماد پہ نظر ڈالے بول پڑی
میں نے واپس آنا تھا تمہیں آنے کی کیا ضرورت تھی۔بہت دنوں بعد اُن کی گفتگو ہونے والی تھی
شوق سے نہیں آیا تھا خالہ پریشان ہورہی تھی کیونکہ اُن کو نہیں تھا پتا تم مزے میں بیٹھی ہوئی بنا اُن کو اطلاع کریں۔عماد گاڑی سٹارٹ کرکے طنزیہ بولا
تمہاری ماں اگر زبردستی رشتہ کروا رہی ہے تو اُس کا غصہ مجھے پہ مت اُتارو۔معصومہ اُس کو دیکھ کر بولی جو نظرانداز کررہا تھا
کس نے کہا میں خوش نہیں میں تو بہت خوش ہوں میرا بس چلیں تو ابھی شادی کرکے کل بچیں پیدا کرلوں پھر پڑسو اُن کی شادی کروادوں اور
اور تڑسو اُن کے بچوں کی شادی پھر بچوں کے بچوں کی شادی ہے نہ رائٹ؟عماد جو جل بھن کے بول رہا تھا اُس کی ایسی بات پہ معصومہ تو حیران ہوئی پھر طنزیہ لہجے میں بولی جوابً عماد نے اُس کو گھورا
میرے بچیں میری مرضی جو میں کروں تم خاموش بیٹھی رہو۔عماد نے کہا تو وہ سرجھٹک گئ۔
اپنا ہی جہیز لیکر جاؤ۔گاڑی گھر کے پاس رُکی تو معصومہ اپنا شاپنگ بیگ اُٹھائے بنا جانے لگی تو عماد نے ناگواری سے بیک سیٹ پہ اُس کا بیگ دیکھ کر کہا
تمہارے ہاتھ ٹوٹ جاتے اگر لیکر آتے تو۔معصومہ نے تپ کے بولے
تمہارا فری کا نوکر نہیں اور نہ شوفر جو یہ خدمت انجام دیتا پھروں۔عماد کہتا اندر کی طرف بڑھا پیچھے معصومہ اُس نے انداز پہ کلس کے رہ گئ
عماد ہال میں داخل ہوا تو حماد کی کانوں کو پھاڑتی آواز سننے میں آئی جو ہاتھ میں سوہا کا سیل فون پکڑے کانوں میں ایئر پیس ڈالے زور شور سے گانا گانے میں مصروف تھا۔
آنکھوں کے پنوں پہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے لکھا تھا سؤ دفع
لفظوں میں جو عشق تھا
ہوا نہ آنکھوں سے بیان
تجھ سے ناراض ہوں
کیوں بے آواز ہوں
میری خامو
اپنی بے سُری آواز بند کرو۔عماد اُس کے کانوں سے ایئر پیس نکال کر کہتا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا پیچھے حماد نے گھور کر عماد کی پشت کو دیکھا
میری آواز تو سلمان خان سے بھی پیاری ہے۔حماد ناک منہ چڑھا کر کہتا معصومہ کو آتا دیکھا تو پھر شروع ہوگیا۔
نینوں کے بہتے اشکوں کے دھاگوں
میں ہم نے دیکھا تم کو چاند ستاروں میں
تیرے نام تیرے۔۔۔۔۔نام ہم نے کیا ہے
جیون اپن
خاموش رہو دیو داس۔معصومہ اُس کے گود میں بیگ پھنکتی بولی حماد اب کی بونچکار کے رہ گیا۔
میں کیا لاوارث ہوں جو ہر آتا جاتا زلیل کرتا جارہا ہے۔حماد بیگ صوفے پہ اُچھالتا جذباتی لہجے میں بولا
اپنا پھٹا ہوا اسپیکر بند کروگے تو کوئی کیوں کجھ کہے گا۔
آپ پوری یونی میں گاسکتی ہیں میں اپنے گھر میں بھی نہیں گاسکتا۔حماد منہ بسور کر کہتا وہاں سے اُٹھ گیا معصومہ نے جب کی اُس کی بات پہ کوئی ری ایکٹ نہیں کیا





آج معصومہ کا نکاح تھا جس کے لیے سب سے زیادہ پرجوش تبریز تھا اِس لیے وہ مناہل کے بنا کہے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہورہا تھا پھر ایک خیال کے تحت اُس نے اپنا سیل فون اُٹھا کر عبیر کا نمبر ڈائل کیا۔جو پہلی بیل پہ ریسیو ہوگیا تھا۔
آج تمہارے بھائی کا نکاح ہے تم اپنے بھائی کے نکاح پہ کس کلر کا ڈریس پہنو گی؟عبیر جو نہانے کے لیے واشروم کا رخ کرنے والی تھی پر فون پہ آتی کال سننے کے لیے رک گئ پر تبریز کی بات پہ اُس نے اپنا سیل کان سے ہٹا کر موبائیل اسکرین کو گھورا
میرے بھائی کا نکاح نہیں کزن کا ہے۔عبیر کو لگا شاید تبریز کو کوئی غلطفہمی ہوئی ہے تبھی تصیج کرتی بولی
وہ تو پتا چل جائے گا پر یہ بتاؤ ڈریس کس کلر کا ہے تمہارا۔تبریز نے اپنا سوال داغا تو عبیر کی نظر بیڈ پہ رکھے اپنے ڈریس پہ پڑی
پنک کلر کی میکسی۔عبیر کے بتانے پہ تبریز کے تاثرات بگڑے۔
تم وائٹ کلر کا فراق پہنوں گی۔تبریز کا لہجہ حاکمانہ تھا
کیوں؟
کیوں کے تمہارے مستقبل کا مجازی خدا بول رہا ہے۔تبریز کی پھر سے وہی بات پہ عبیر کا دل کیا اپنا سر دیوار پہ دے مارے۔
ٹھیک ہے پہن لوں گی۔عبیر کا انداز جان چھڑوانے جیسا تھا۔
گُڈ گرل۔تبریز کہتا کال کٹ کرکے تیار ہونے میں مگن ہوگیا۔






اسلام علیکم
جیسے اب گروپ میں پوسٹ نہیں ہوتی میں پیج پہ بھی نیکسٹ قسط اپلوڈ نہیں کروں گی پڑسو پوسٹ ہونے والی قسط پہ بلکل اچھا رسپانس نہیں تھا پہلے سب نے کہا قسط روز دیا کریں ہم ریویو دیا کرے گے میں نے ایسا کرکے بھی دیکھ لیا پر آپ قسط پڑھ کر چلے جاتے یا کجھ بس لائیک کرکے پر ناول کیسا لگا اُس کے مطلق ریویو دینا آپ میں کسی کو گوارہ۔نہیں تو مجھے بھی اب ایسے پوسٹ کرنا گوارہ نہیں
نیکسٹ قسط کا کوئی ویٹ نہ کریں پہلے میں یہ ناول جلد ختم کرنے کے بعد نیو پراجیکٹ سٹارٹ کرنے کے لیے پرجوش تھی پر آپ سب نے مایوس کیا ہے جس وجہ سے اب میں کجھ کہہ نہیں سکتی کے نیکسٹ ایپی کب آے گی آپ اِس ناول پہ رسپانس نہیں کررہے تو اگلے پہ کیا خاک دے گے
شاید میں پاگل ہوں جو اپنی محنت ضائع کردیتی ہوں ورنہ مجھے پیج کی ایڈمن نے منع کیا تھا ناول پوسٹ کرنے سے پہلے پر اب افسوس ہورہا اُن کی بات کیوں نہیں مانی۔
