Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 08)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 08)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
جنید ایک دفع اپنے فیصلے پہ نظرثانی کرو تمہارا اکلوتا بیٹا ہے تبریز بدذن ہوجائے گا تم سے۔مناہل نے پریشانی سے جنید سے کہا جو ملازمہ سے تبریز کا سامان پیک کرنے کا کہہ رہا تھا۔
بدذن ہوتا ہے ہونے دو نفرت کرتا ہے کرنے دو پر اُس کے مستقبل کے لیے یہی بہتر ہے کے اُس کو بورڈنگ اسکول بھیجا جائے ورنہ یہاں سوائے مار دھاڑ کے کجھ نہیں کرے گا پہلے ہی دن جاکر اسکول میں لڑائی کرآیا پرنسپل کی شکایت ملی اور تم نے اُس کا بیگ تیار کیا تھا نہ پھر اُس کے پاس سیل فون کیسے آیا۔جنید غصے سے کہتا آخر میں اُس سے جواب طلب کرنے لگا۔
مجھے وہ نہیں پتا پر تمہارا فیصلہ سہی نہیں۔مناہل دو ٹوک بولی
تبریز میرا بیٹا ہے تمہارا نہیں اُس کا فیصلہ میں کروں گا تم نہیں جب اپنی اولاد ہو تو اُس پہ حق جتانا۔جنید کی بات سن کر مناہل کو بے حد تکلیف ہوئی اِس لیے بنا کجھ بولے باہر جانے لگی جب دروازے کی طرف آئی تو اُس کو سامنے تبریز کھڑا نظر آیا جو سنجیدہ سا اُس کو دیکھ رہا تھا مناہل نم آنکھوں سے مسکراتی سائیڈ سے گُزر گئ تبریز ایک نفرت بھری نظر اپنے باپ پہ ڈال کر مناہل کے پیچھے گیا جو لاوٴنج میں بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔
آپ نے ڈیڈ سے شادی کیوں کی اُن کی نظر میں آپ کی کوئی عزت نہیں آپ اُن سے بہتر انسان ڈیزرو کرتی تھی۔تبریز فاصلے پہ بیٹھتا سنجیدگی سے بولا
مجھے تمہارے باپ سے محبت ہے۔مناہل بے بسی سے بولی
کیا اپنی عزت سے نہیں۔تبریز نے اُس کی طرف رخ کیے کہا
مجھے تمہاری ہر بات منہ پہ کہنے والی عادت پسند ہے پر آج جانے کیوں بُری لگی۔مناہل کو لگا جیسے تبریز نے اُس کا مذاق اُڑایا ہو
میری بات کڑوی ہو شاید پر انسان کو سب سے آگے اپنی سیلف رسپیکٹ کو رکھنا چاہیے۔تبریز نے کندھے اُچکائے۔
جنید کو غلط مت سمجھنا وہ تمہارا بھلا چاہتا ہے تبھی تمہیں بورڈنگ اسکول بھیج رہا ہے۔مناہل نے بات بدل کر کہا
میرے باپ نے نہ میری ماں کا بھلا چاہا نہ میرا کبھی چاہے گا اور نہ آپ کا چاہتا ہے۔تبریز کی بات پہ مناہل اُس کو دیکھتی رہ گئ جو بدگمانی کی حدود پار کرگیا تھا۔






سوہا مسکراتی ہوئی چلتی عباد کے پاس آئی جو ٹیرس کی ریلنگ پہ ہاتھ جمائے کسی سے کال پہ بات کررہا تھا سوہا بنا کجھ کہے اُس کی پشت سے سرٹکایا عباد نے حیرت سے سوہا کو دیکھا کال کٹ کرکے وہ سوہا کی طرف متوجہ ہوا۔
خیر ہے آج شوہر پہ کجھ زیادہ پیار نہیں آرہا؟عباد کہے بنا نہ رہ سکا جواب میں سوہا نے قہقہقہ لگایا۔
کیا ہوا ہے۔عباد نے کو مزید حیرت ہوئی سوہا کو پاگلوں کی طرح ہنستے ہوئے دیکھ کر کہا
عباد وہ۔
سوہا اِتنا کہتی پھر سے ہنسنے لگی۔
پہلے ہنس لو پھر بتادینا تاکہ میں بھی ہنس لوں۔عباد چڑ کر بولا تو سوہا نے ہنسی ضبط کی
I’m expecting’
سوہا اِتنا کہتی عباد کے تاثرات جانچنے لگی
واٹ سیریسلی۔عباد حیرانی سے نکلتا گہری مسکراہٹ سے بولا تو سوہا نے سر جو زور سے جنبش دینے لگی۔
تمہیں کیسے پتا چلا۔عباد نے بے تُکہ سوال کیا
عباد آپ ہربار یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں آپ کی زوجہ محترمہ ایک قابلِ ڈاکٹر ہے۔سوہا نے منہ بسور کر کہا تو عباد نے لب دانتو تلے دبائے
I’m so Happy ,
عباد سوہا کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے بھرتا بولا
می ٹو۔سوہا مسکراکر کہتی اُس کے سینے سے لگی۔
سوہا۔
عباد اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کجھ دیر بعد مخاطب کیا
ہممم۔سوہا نے بس اتنا کہا
اگر دوسرا بچہ بھی معصومہ جیسا ہوا تو؟عباد کو جیسے فکرلاحق ہوئی پر سوہا جھٹ سے عباد سے دور ہوتی اپنے ہاتھ کمر پہ رکھ کر اُس کو گھورنے لگی۔
کیا مطلب آپ کا معصومہ جیسا ہوا تو میری معصومہ اتنی معصوم سی ہے اچھا ہے میرے پانچ دس بچے اُس کے جیسے ہو آپ کو تو خوش ہونا چاہیے پر نا جی خوش ہونا تو آپ نے سیکھا ہی نہیں۔سوہا بنا سوچے سمجھے بولی جب کی عباد پانچ اور دس بچوں کو سوچنے لگا تو اُس کا گلا خشک ہوا۔
ایک معصومہ نہیں سنبھلتی دوسرا کیسے سنبھلے گا میں تو یہ سوچ رہا ہوں اگر معصومہ تم سے دو ہاتھ آگے ہیں تو اگر بے بی بوائے یا بے بی گرل ہوگا وہ تو معصومہ سے چار ہاتھ آگے ہوگا۔عباد کی سوچ دور تک گئ۔
میری تو اب یہ دعا ہے ہماری اولاد اب آپ کو دن میں تارے اور رات کو سورج دیکھائے تو آپ کو لگ پتا جائے۔سوہا ہاتھ آسمان کی جانب کیے بولی تو عباد نے آنکھیں گُھمائی۔






چار سال بعد !
اے فار ایپل۔
گیارہ سالہ معصومہ نے بے زار شکل بنائے اپنے تین سالہ بھائی حماد کو پڑھانا سٹارٹ کیا جو کی سوہا کا حکم تھا۔
اے پھار ایتل۔
تین سالہ حماد نے اپنی توتلی زبان میں پڑھا
اتنے بڑے ہوگئے ہو پر ایپل کہنا نہیں آتا ایتل نہیں ایپل۔معصومہ نے بنا یہاں وہاں دیکھے حماد کے سر پہ زور سے چپت لگائی جس سے حماد کی شکل رونے والی ہوگئ۔
بی فار بٙبل۔معصومہ اپنے منہ میں چوینگم ڈالتی بولی
بی پھار بُت ہوتا۔حماد نے معصومہ کو پڑھایا
اسکول میں جاتی ہوں یا تم۔معصومہ گھور کر کہتی ایک اور چپت اُس کے ماتھے پہ لگائی۔
سی فار چاکلیٹ۔معصومہ نے کتاب بند کرکے پڑھانے کا سوچا
سی پھار کیت۔حماد نے اپنی چلائی
بہت ہی بدتمیز ہو۔معصومہ اپنے بالوں میں لگا ہیئر بینڈ سہی کرتی بولی
ڈی فار ڈیئری مِلک۔معصومہ نے کہا تو حماد کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔
ڈی پھار دوگ۔حماد تیز آواز میں بولا
میسنے سب آتا ہے تو میرا ٹائیم کیوں ضائع کررہے ہو۔معصومہ اتنا کہتی پھر سے اُس کے ماتھے پہ چپت لگائی تو حماد کی بس ہوئی اور بھاں بھاں کرتا رونا شروع کرچُکا تھا جس سے معصومہ گِڑبڑاگئ۔
ارے میرے پیارے راج دُلارے بھائی میں تو مذاق کررہی تھی۔معصومہ نے سوہا کو آتا دیکھا تو جھٹ سے حماد کو گود میں اُٹھائے خود سے لگائے پیار سے کہا
معصومہ حماد کیوں رو رہا ہے۔سوہا نے فکرمندی سے کہا
نہیں ممی ہم تو گیم کھیل رہے تھے آپ جاکر آرام کریں۔معصومہ زبردستی مسکراہٹ سجاکر بولی
اچھا مجھے عباد کو کال کرنی تھی تم حماد کو دودہ دے دینا۔سوہا اتنا کہتی جانے لگی معصومہ اُس کے جانے کا یقین کرتی حماد کو پھٹک کر صوفے پہ اُچھالنے والے انداز میں بیٹھایا
پرے ہٹ ایک تو تمہاری وجہ سے ممی اور ڈیڈی کی محبت میں بٹورہ ہوچکا ہے اور اب میں بھی تمہارے لاڈ تھوڑئی نہ اُٹھاؤں گی اچھی خاصی اکلوتی تھی پر تم آگئے۔معصومہ حماد کو گھورتی بولی حماد اپنی آنکھیں کھول کر بس اُس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا
میرا فیورٹ ڈرامہ چلنے والا ہے میں جارہی ہوں اگر تم نے ممی کے سامنے رونے کا سیکشن شروع کیا تو قسم مجھے میرے نام کی ٹیرس سے اُلٹا لٹکا دینا ہے میں نے تمہیں۔معصومہ تین سالہ حماد کا خون خشک کرتی نو دو گیارہ ہوگئ
اِدھر دو ریموٹ بڑے مزے کرلیے تم نے۔معصومہ ٹیوی لاوٴنج میں آتی عماد سے ریموٹ چھین کر بولی
معصومہ ریموٹ واپس کرو میرا فیورٹ شو چلنے والا ہے۔عماد اپنا چشما ٹھیک کرتا بولا
تم کب سے شو میں آنے لگے۔معصومہ مصنوعی حیرت سے بولی
معصومہ
اب آواز نہ آئے مجھے۔عماد نے کجھ کہنا چاہا پر معصومہ نے شانِ بے نیازی سے کہا
عماد بے زاری سے سامنے چلتا سی آے ڈی ڈرامہ دیکھنے لگا جس میں اب شوہر اپنی بیوی کو پیٹ رہا تھا۔عماد نے معصومہ کو دیکھا پھر کہنے لگا۔
جب تمہاری شادی ہوگی نہ تمہارا شوہر بھی تمہیں ایسے مارا کرے گا کیونکہ تم بھی ہر ایک کو تنگ کرتی ہو۔
جتنی عمر ہے اُتنی باتیں کروں۔معصومہ نے تیز نظروں سے اُس کو دیکھا جس پہ عماد نے منہ بسورہ معصومہ عماد کی باتوں سوچتی پھر اُس سے بولی
تمہارا کہا سچ ہو بھی سکتا ہے اِس لیے میں نے سارے خیالوں اور تمہاری بات سننے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کے میں شادی تم سے کروں گی۔معصومہ نے سکون سے عماد کو بے سکون کیا
میں تم سے شادی نہیں کروں گا۔عماد بدک کر پیچھا ہوا جیسے معصومہ ابھی اُس سے شادی کرنے والی ہو۔
تم سے پوچھ نہیں بتارہی ہوں۔معصومہ نے اپنے کندھوں سے بال جھٹک کر ایک ادا سے کہا
میں اُس سے پہلے مرنا پسند کروں گا۔عماد کو سچ مچ فکر نے گھیرا
فکر ناٹ مجھ سے شادی تمہارے لیے کسی موت سے کم نہیں ہوگی۔معصومہ کو اُس کی حالت مزہ دینے لگی۔






آپ پلیز تبریز سے کہے اُس کا باپ اُس سے ملنے آیا ہے آپ کہتے کیوں نہیں اُسے چار سالوں سے ہم آتے ہیں اور بنا ملے چلے جاتے ہیں۔جنید سخت لہجے میں تبریز کی ٹیچر سے بولا مناہل خود پریشان کھڑی تھی جب کی اُس کی گود میں دو سالہ فرشتے تھی تین سالہ پہلے اللہ نے اُس کے یہاں خوشخبری کی نوید سُنائی تھی۔
میں آپ کی بات سمجھ رہی ہوں پر تبریز کہتا ہے جب آپ اُس کو گھر لے جائے گے تب وہ ملے گا ورنہ نہیں۔تبریز کی ٹیچر نے تحمل سے کہا چار سال پہلے تبریز کا داخلہ بورڈنگ اسکول میں کروایا تھا جنید نے تب سے وہ ضد لیکر بیٹھا نہ جب کی جنید اور مناہل چھوٹیوں میں اُس کو لینے آتے یا ملنے آتے تو وہ خود نہ آتا بس اپنا پیغام بھیجتا کے وہ نہیں ملنا چاہتا
آپ زبردستی اُس کو یہاں لیں آئے۔جنید نے جیسے حل پیش کیا تو ٹیچر دل شاد نے مناہل کو دیکھا جو اُس کی نظروں کا مطلب سمجھتی
جنید سے بولی
ابھی ہم چلتے ہیں ایک دو سال اُس کو مزید رہنے دو پھر اپنے ساتھ لیں جائے گے۔
میں ابھی ہی اُس کو یہاں سے گھر لیں جاؤں گا۔جنید سنجیدگی سے بولتا مناہل کو حیران کرگیا۔






آپ کا نام تو معصومہ ہے پر معصوموں جیسی آپ میں ایک بات نہیں آخر آپ کے والدین نے کیا سوچ کر آپ کا نام معصومہ رکھا۔ٹیچر رضوانہ نے گھور کر معصومہ سے کہا جو سرجھکا کر کھڑی تھی آج اُس نے اپنی کلاس فیلو کے بالوں میں چیونگم لگادیا تھا وجہ یہ تھی کے اُس نے معصومہ کی گِری ہوئی بُک اُٹھا کر نہیں دی۔
میرے ڈیڈی کہتے ہیں نام انسان کی شخصیت پہ اثر کرتا ہے پر کجھ چیزوں کا اثر اُلٹا ہوتا ہے مثال کے طور پہ میں۔معصومہ نے بڑے ادب سے جواب دیا۔اُس کے جواب پہ کلاس میں ہنسی کی آواز گونجی جب کی کلاس ٹیچر نے خشمگین نظروں سے اُس کو گھورا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. .
اوکے جناب اب میں چلتا ہوں۔عماد کا دوست فیصل اُس سے بغلگیر ہوتا بولا معصومہ کے چہرے پہ۔شیطانی مسکراہٹ آئی تبھی وہ جب گاڑی میں بیٹھے تو کہا
لفظ جناب
ج۔. . . جاہل
ن۔. . نااہل
ا۔ احمق
ب۔ بدمغز
تم مجھے گالیاں دے رہی ہو۔عماد اپنی آنکھوں پہ ٹِکا چشما درست کرتا اُس سے بولا
لاحول والاقوة تمہیں شرم نہیں آتی ایک لڑکی پہ اتنا سنگین الزام لگاتے ہوئے۔معصومہ نے مصنوعی افسوس سے کہا
دیکھو میں تمہیں کجھ نہیں کہتا اِس کا مطلب یہ نہیں تم کجھ بھی بولنے لگ جاؤں گی۔عماد نے انگلی اُٹھاکر کہا
دیکھو چشماٹو زیادہ میرے سامنے زبان چلانے کی ضرورت نہیں میں نے بس جناب لفظ کا مطلب یاد کیا اگر تمہیں گالیا لگ رہی ہیں تو میں کیا کہہ سکتی ہوں۔معصومہ اُس پہ غصہ کرتی بولی۔
میں تم سے بات ہی نہیں کروں گا۔عماد منہ پُھلا کر بولا
میری بٙلا سے۔معصومہ اپنے بال جھٹک کر کہتی ونڈو سے باہر کے مناظر دیکھنے لگی۔
