Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 08)Part 2
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 08)Part 2
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
کجھ سال بعد!
معصومہ
معصومہ
اُٹھ جاؤ یونی جانے کا وقت ہوگیا ہے۔سوہا معصومہ کے کمرے میں آتی کھڑکیوں سے پردے ہٹاتی ساتھ میں اُس کو آوازیں دینی لگی۔
تم سن بھی رہی ہو۔سوہا چلتی ہوئی بیڈ کی جانب آکر بلینکٹ ہٹایا تو اُس کی تپ چڑھی کیونکہ بیڈ پہ ترییت سے تکیے رکھے گئے تھے۔
معصومہ
سوہا تیز آواز میں اُس کو آواز دیتی باہر جانے لگی جب ایک خیال کے تحت رک کر بیڈ کے نیچھے دیکھا پھر جُھک کر دیکھا تو ٹھنڈی سانس بھری کیونکہ اُن کی لاڈلی پورا بیڈ چھوڑ کر بیڈ کے نیچھے خواب وخروش کے مزے لوٹ رہی تھی۔
معصومہ باہر آؤ۔سوہا اُس کے ہاتھ کو ہلاتی بولی تو وہ تھوڑا سا کسمکسائی۔
کیا ہے امی بیڈ کے نیچے بھی سونے نہیں دے رہی۔معصومہ بند آنکھوں سے بولی
ابھی کے ابھی باہر آؤ۔سوہا نے گھورا تو معصومہ منہ بناکر باہر آئی۔
یہ جگہ تھی سونے کی۔سوہا نے استفسار کیا
اور نہیں اتنی سکون کی نیند آتی ہے کبھی آپ بھی ٹرائے کرنا۔معصومہ جمائی لیتی سوہا کو مشورہ دینے لگی۔
فٹافٹ تیار ہوکر باہر آؤ نیچھے عماد بے چارہ کب سے تمہارے انتظار میں کھڑا ہے۔سوہا بلینکٹ کو تحہ لگاتی بولی۔
تو اُسے کہے بیٹھ جائے مجھے یہ شیطانوں کی جلدی نہیں ہوتی میں تو آرام سے آرام سے تیار ہوتی ہوں اور پلیز آپ اُس چشماٹو کو بے چارہ نہ کہے۔معصومہ سوہا کو پیچھے سے گلے لگاتی بولی۔
باتوں میں وقت ضائع نہیں کرو جلدی سے واشروم میں جاؤ میں نے کپڑے ہینگ کرکے رکھے ہیں فریش ہوجاؤ تب تک میں تمہارا بیگ اور ناشتہ سیٹ کرتی ہوں۔سوہا اُس کے ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹاتی اُس کو واشروم جانے کا اِشارہ دینے لگی۔
اوکے امی لو یو امی یوئر دا بیسٹ امی۔معصومہ سوہا کے گالوں میں پیار کرتی بولی۔
بہت بُری ہو کیسے جان بوجھ کر لیٹ کررہی خود کو۔سوہا اُس کی چلاکی کو سمجھتی واشروم کی طرف دھکیلنے لگی۔
ہاہاہاہاہا شاگرد کو اُستاد ہی جانے۔معصومہ قہقہقہ لگاکر بولتی واشروم میں بند ہوگئ سوہا تاسف سے سر کو جنبش دیتی رائٹنگ ٹیبل سے اُس کی کتابیں سمیٹ کر یونی بیگ میں رکھنے لگی۔
معصومہ فریش ہوتی باہر آئی تو بیڈ پہ سب کجھ ترتیب سے نظر آیا بالوں کو تولیے سے رگڑتی وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی
او ہو کہی یہ پمپل تو نہیں۔معصومہ بغور اپنے چہرے کا جائزہ لیتی ٹھوڑی کے نیچھے غور کرنے لگی۔
ہونہہ ہوتا ہے تو ہو میری بلا سے ایک پمپل معصومہ عباد کی خوبصورتی کو مانند نہیں کرسکتا۔ معصومہ فخریہ انداز میں خود سے کہا
اففف میرا بریک فاسٹ۔معصومہ جلدی سے جوس کا گلاس انڈیلتی ڈریسر کی جانب آئی وہاں سے ہیئر برش اور لپ اسٹک اُٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ کر کندھے پہ ڈالا اور ناشتے کی ٹرے سے بریڈ ہاتھ میں لیتی بھاگنے والے انداز میں کمرے سے نکلی۔
پورچ میں آتی وہ یہاں وہاں دیکھنے لگی جیسے کسی کو تلاش کررہی ہو وہ جو گاڑی میں بیٹھا کافی وقت سے اُس کا اتنظار کررہا تھا اُس کا انداز دیکھ کر تپ گیا
محترمہ کیا اب آپ گاڑی میں تشریف رکھے گی۔عماد نے گاڑی کے شیشے نیچے کیے کہا
ارے تم تو بیٹھے ہوئے ہو۔معصومہ ونڈو کی جانب جھکی مصنوعی حیرت سے گویا ہوئی۔
جی بلکل مجھے آپ کی طرح وقت کی ناقدری کا شوق نہیں۔عماد نے جواب دیا
شکریہ شکریہ اتنی تعریف کا امید ہے اب میرا دن اچھا گُزرے گا۔معصومہ سر کو خم دیتی بولی
فضول گوئی سے پرہیز کرو اور اندر آؤ ہماری آج امپورٹنٹ کلاس ہے۔عماد اپنے گلاسس ٹھیک کرتا بولا۔
ارے چھوڑو کلاس کو وہ تو روز ہوتی ہے امپورٹنٹ پر اتنا خوشگوار موسم ٹھنڈی ٹھنڈی روح کو تازگی بخشنے والی ہوا کبھی کبھی ہوتی ہے تو کیوں نہ اِس کا فائدہ اُٹھایا جائے آج یونی کو مس کیا جائے۔معصومہ شاعرانہ انداز میں بولی۔
گاڑی میں بیٹھو لیٹ ہورہا ہے۔جواب میں عماد نے ٹھوڑی پہ مٹھی جمائے اتنا کہا
بورنگ انسان۔معصومہ اتنا کہتی گاڑی میں بیٹھی اپنا بیگ پیچھلی سیٹ پہ رکھتی اُن میں سے اپنی چیزیں نکالی عماد نے تاسف سے اُس کی گود میں ہیئر برش لپ اسٹک آے لائینر کو دیکھا۔
تمہیں لیٹ نہیں ہورہا۔معصومہ خود پہ عماد کی نظریں محسوس کرتی ویوو مرر اپنی طرف کرتی پوچھنے لگی۔
اگر تم وقت پہ سویا کرو اور اُٹھ جایا کرو تو یہ سب تمہیں یہاں نہ کرنا پڑے۔عماد نے اُس کو شرمندہ کرنا چاہا
ڈیئر کیوٹ چشماٹو کزن اِس عجلت بھرے کام میں بھی اپنا مزہ ہے۔معصومہ آرام سے جواب دیتی گیلے بالوں میں برش پھیرنے لگی۔عماد سرجھٹک کر گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حماد
حماد
تم دونوں بہن بھائی کو خود اُٹھ کر تیار ہونا حرام ہے کیا۔سوہا بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹے حماد کے سر پہ کھڑی ہوتی بولی۔
او ہو امی سونے دے نہ اکلوتا سپوت ہوں آپ کا۔حماد کانوں پہ تکیہ رکھتا بولا
اُٹھو شاباش تیار ہوجاؤ میں نے ہوسپٹل بھی جانا ہے۔سوہا اُس کے کان سے تکیہ ہٹاتی بولی
سویٹ ہارٹ آپ اتنی ظالم کیوں ہے نانوں نے آپ کا نام سوہا کیوں رکھا انہوں چاہیے تھا آپ کا نام ظالم حسینہ رکھتی۔حماد انگڑائی بھرتا خالص لوفرانہ انداز میں بولا۔
شرم کرو حماد پندرہ سال کے ہو اور اپنی گفتگو دیکھو اور ماں سے کیا کہا اپنے باپ کے سامنے کہو تو مانوں۔سوہا نے گھور کر کہا۔
ارے میری پیاری امی جان میں تو مذاق کررہا تھا آپ تو سیریس ہی ہوجاتی۔حماد عباد کا نام سن کر لائن پہ آیا۔
مذاق کا ایک وقت ہوتا ہے اگر میں یاد دلاؤ تو آج تمہارے اسکول میں رزلٹ ڈے ہے۔سوہا نے اُس کے کان کھینچ کر کہا
جی بلکل پھر میں کالج اسٹوڈنٹ بن جاؤں گا آپ کا نام روشن کروں گا۔حماد فخریہ انداز میں بولا
نام تو تب روشن کرو گے جب تیار ہوکر اسکول جاؤ گے۔سوہا نے کہا
ویسے امی ایک راز کی بات بتائیں اسکول سے زیادہ تو ہمیں اپنے ابا حضور پڑھاتے ہیں پھر خوامخواہ کا اسکول کا خرچہ کیوں اتنی سخت نگاہ ہمارے سخت اُستاد کی نہیں ہوتی جتنی آپ کے شوہر اور ہمارے ڈیڈی کی ہوتی۔حماد سوہا کے کندھوں پہ بازوں حمائل کرتا رازدرانہ انداز میں بولا
اگر تمہاری یہ گوہر افشانی عباد سن لیں نہ تو اُلٹا پیر پہ لٹکا دینا ہے۔سوہا نے گھورا
شکر اللہ کا ہمارے گھر میں پیر نہیں۔حماد باقاعدہ چہرے پہ ہاتھ پھیر کر کہا
اچھا جی کہو تو گارڈن کی سیر کرواؤ۔سوہا نے مسکراہٹ ضبط کیے کہا
نہیں نہیں اُس کی کوئی ضرورت نہیں۔حماد ہڑبڑا کر بولا
سُدھر جاؤ تم۔سوہا نے چپت لگا کر کہا
سائکاٹرسٹ کہتی ہے اگر بگڑے ہوئے بیٹے کو سُلجھانا مطلب سُدھرانہ ہے تو اُس کی جلد از جلد کسی شریف معصوم سی لڑکی سے شادی کروادے۔حماد شرمانے کی اداکاری کرتا بولا
بڑا پتا ہے سائکاٹرسٹ کا تمہیں اور پہلے ٹھیک سے چلنا سیکھو اُس کے بعد شادی کے خواب دیکھنا۔سوہا نے تاسف سے کہا
بارہ سال کی عمر کے بعد لڑکا لڑکی بالغ ہوجاتے ہیں میں تو پھر بھی پندرہ سال کا خوبصورت نوجوان ہوں جس کو دیکھ کر لڑکیاں عش عش کر اُٹھتی ہیں اگر آپ یقین کریں تو۔حماد اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ایک ادا سے بولا
تم صرف باتیں کروگے یا اسکول جانے کا اِرادہ بھی کرو گے۔سوہا بے زار سی بولی
اِرادے انسان کو کمزور بناتے ہیں اِس لیے میں سیدھا اسکول جاؤں گا۔حماد اپنا عجیب وغریب فلسفہ جھاڑتا واشروم کی طرف بڑھا
اِن۔آٹھویں عجوبوں کو میری اولاد ہونا تھا۔سوہا بڑبڑاتی بیڈ شیٹ سہی کرنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یونی کے گیٹ کے پاس عماد نے گاڑی روکی تو معصومہ جیسے ہی باہر جانے لگی عماد نے کہا
یہ مفلر پہننے کے لیے ہوتا ہے۔عماد نے اُس کی بیگ سے جہانکتے مفلر کو باہر نکال کر اُس کی طرف بڑھایا معصومہ ریڈ شارٹ فراق کے ساتھ جینز پہنے ہوئی تھی بالوں میں ریڈ ہیئر بینڈ لگائے کُھلا چھوڑا ہوا تھا۔
توبہ ہے۔معصومہ اُس کے ہاتھ سے مفکر لیتی اسکارف کی طرح گلے میں پہنا اُس کے اُترجانے کے بعد عماد نے گاڑی سائیڈ میں پارک کی۔
عمو تم نے مجھے میں ایک چیز نوٹ کی۔معصومہ تیز چلتے عماد کے ساتھ قدم ملائے کہا
کونسی چیز۔عماد نے پوچھا
یہی کے اِس بار جو بھی ہماری کلاس میں ٹیسٹ ہوئے ہیں میں نے اچھے نمبرز لیے ہیں۔معصومہ اُس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتی پرجوش آواز میں بولی
ہمم کیا ہے نوٹ۔عمار غیرشعوری طور پہ اپنے اور اُس کے درمیان فاصلہ قائم کرتا بولا
تمہیں پتا ہے ایسا انقلاب کیوں آرہا ہے۔معصومہ اب اُس کی طرف چہرہ کیے اُلٹے قدم لیتی پوچھنے لگی۔
تم بتاؤ۔عماد آس پاس بیٹھے اسٹوڈنٹس پہ نظر ڈالے بولا وہ جانتا تھا جب تک اُن کا ڈپارٹمنٹ نہیں آجاتا معصومہ نے بولتے ہی رہنا ہے۔
کجھ دن پہلے مجھ پہ انکشاف ہوا ہے کے ڈیڈی نے ہماری پیاری امی کو شادی کی منہ دیکھائی میں میڈیکل کالج کا فارم دیا تھا۔معصومہ اتنا کہتی زور زور سے ہنسنے لگی عماد آئبرو اُپر کیے ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگا
تمہیں نہیں پتا اے ایکسپلین یو۔معصومہ نے ہنسی روک کر کہا
یو نو نہ امی پڑھائی سے الرجک تھی اور اُس کے باوجود سب چاہتے تھے وہ ڈاکٹر بنے جو کی ممی کے لیے ناممکن سا تھا پر ڈیڈی نے اُن کو ڈاکٹر بناکر ہی دم لیا تب سے میں سوچ رہی ذرہ پڑھائی کو سنجیدہ لیا جائے ایسا نہ ہو میرا خصم بھی جو ہو مجھے کوئی کتاب منہ دیکھائی میں دے۔
میں شادی تم سے کروں گی۔
معصومہ کی بات سن کر عماد کے دماغ میں بھولی بھالی یاد تازہ ہوئی جس کو وہ نظرانداز کرگیا۔
ہائے یہ پڑھائی نہ
چٹاخ
ابھی معصومہ اپنی دونوں بانہیں پِھیلا کر یہی بول کر جیسے ہی گول گول گھومنے لگی سامنے آتے لڑکے کو تھپڑ لگ گیا اُس کے ہاتھ سے جس سے سب اُن کی طرف متوجہ ہوئے لڑکا جب کی غصے سے معصومہ کو گھورا رہا تھا جو لب دانتو تلے دبائے اپنے قدم پیچھے لینے لگی جس سے اُس کی پشت عماد کے سینے سے لگی۔
ہاؤ ڈیئر یو۔لڑکا چیخ کر بولا
کیا ہاؤ ڈیئر یو تم یونی میں نیو کمر ہو نہ۔معصومہ اُس کے غصے کا اثر لیے بنا بولی عماد گہری سانس بھرتا ہاتھ میں پہنی گھڑی میں وقت دیکھنے لگا۔
ہاں تو۔لڑکا کجھ نرم ہوا
تو بات ختم یہ ہمارے یونی والوں کا اسٹائل ہے ہر نیو کمر کو تھپڑ مار کر اُس کا ویلکم کرتے ہیں۔معصومہ نے معصوم شکل بنائے کہا جس سے آس پاس کھڑے اسٹوڈنٹس نے اپنی ہنسی کا گلا گھونٹا
ایسا ویلکم۔لڑکا بے یقین ہوا
بلکل یہ یونیک اسٹائل ہے۔معصومہ نے فرضی کالر اکڑائے
چلو تم۔عماد اُس کی کلائی مضبوطی سے پکڑتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا ایک کلاس چھوڑے دوسرے کلاس میں لے گیا جب کی وہ لڑکا ابھی بھی شاک میں تھا
سرفراز لڑکی تھی بڑی کمال کی۔جس کے چہرے پہ تھپڑ پڑا اُس کا ساتھی کمینگی سے بولا
او مسٹر جس کو تم کمال بول رہے ہو نہ اُس کا نام معصومہ ہے پر اُس کو معصوم ہرگز مت سمجھنا ایک منٹ میں نانی یاد کروادیتی ہے۔وہاں جمع ہوئی بھیڑ میں سے ایک لڑکا اُس کے خیالات جان کر وارن کرنے لگا۔
چلو تم چھوڑو انہیں۔سرفراز اپنے ساتھی سے کہتا واک آوٴٹ کرگیا۔
کلاس میں آکر عماد اپنی جگہ پہ بیٹھا تو معصومہ اپنی دوست اجوہ کے ساتھ بیٹھ گئ۔
کبھی وقت پہ بھی آیا کرو۔اجوہ اُس سے ملتی بولی
وقت پہ کیسے آتے ہیں میں تو ہمیشہ گاڑی سے آتی جاتی ہوں۔معصومہ نے آنکھیں پٹپٹاکر معصومیت کا رکارڈ توڑا
روز اپنی کزن کی وجہ سے لیٹ ہوئے ہوگے۔فیصل عماد کی جانب دیکھتا شرارت سے بولا
ہمم۔عماد نے ہنکارہ بھرا
تمہارا کزن ویسے بہت ہینڈسم ہیں سنجیدہ خوبصورت چہرہ اُپر سے آنکھوں پہ لگے گلاسس سے تو اور کمال لگتا ہے۔اجوہ دلچسپ نظروں سے عماد کی طرف دیکھ کر بولی
او ہیلو اپنی یہ آوارہ نظریں عمو سے دور رکھو سمجھ آئی۔معصومہ نے اجوہ کا چہرہ اپنی طرف کیے گھور کر وارن کیا جس پہ اجوہ نے منہ بسورہ
آنسٹلی بات کروں گا تمہاری کزن خوبصورت ہے بس تھوڑی عام لڑکیوں کی طرح خاموش طبیعت ہوتی۔فیصل ٹیڑھی نظروں سے عماد کو دیکھتا بولا
میم آنے والی ہے تو اپنا فوکس معصومہ کے بجائے اپنی پڑھائی پہ کرو۔عماد مٹھیاں بھینچ کر سرد لہجے میں بولا۔
کیا یار میں نے بس اپنے دل کی بات کہی تم دوست ہو میری اور کتنا اچھا ہوجائے اگر عماد کا دل مجھ پہ آجائے۔اجوہ دوبارہ سے بولی
عماد کا دل سرکاری ادارہ نہیں جو ہر ایک کو اُس پہ بیٹھالیں۔معصومہ نے ٹھیک ٹھاک سُنا ڈالا۔
پڑھائی پہ فوکس کروں گا پر اب
فیصل نے جیسے بولنا شروع کیا عماد نے جس نظروں سے اُس کو دیکھا فیصل میں مزید ہمت نہیں ہوئی کجھ بولنے کی اِس لیےفیصل کی بات بیچ میں رہ گئ
