Safar E Ishq by Ammara Naveed

کون سی دشمنی نکالی ہے تو نے مجھ سے یہ بتا ۔ وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے ایسی دہائیاں دے رہا تھا جیسے ناجانے کون سی آفت آگئی ہو۔
اور وہ بےنیازی سے کافی پی رہا تھا
میں نے آخر بگاڑا گیا ہے تیرا جو تو میرے ساتھ یہ کیا۔اس نے روہانی صورت بنا کر کہا تو اِسے ہنسی آگئی جس کا وہ آدھے گھنٹے سے گلا دبانے کی ناکام کوشش کررہا تھا۔
ہوا کچھ یوں تھا امان نے لیارا سمتھ کو فون کیا اور پیسے مانگے اس بات سے بےخبر کہ جوزف ان سے مل کر آرہا ہے۔جب لیارا سمتھ نے ملاقات کے لیۓ کہا تو امان نے بہانہ بنایا کہ وہ اور جوزف جرمنی میں ہیں۔لیکن جب اسے ان سے انکی اور جوزف کی ملاقات کا معلوم ہوا تو وہ شرمندہ ہوا لیارا سمتھ نے اس کی اچھی خاصی کلاس لی اور اس کا جیب خرچ بھی بند کردیا۔
تیری وجہ سے میرا جیب خرچ بند ہوا ہے تومیں تجھ سے پیسے خرچ کرواؤں گا ۔ آخر میں تنگ آکر اس نے اس بےنیاز شخص سے کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
آخر تجھے کیا پرابلم ہے ان سے ملاقات کرنے میں وہ تیرے ڈیڈ ہیں۔جوزف نے اسے گھورتے ہوۓ کہا۔
یار مجھے ان سے کیا پرابلم ہوگی جب بھی ان سے ملنے جاؤ وہ بزنس سنبھالنے کا کہتے ہیں اور وہی لمبا چوڑا لیکچر افففف میں تو تنگ آگیا ہوں ابھی میں ابھی گریجویشن سے فارغ ہوا ہوں ابھی تو میرے سیر سپاٹے کرنے کے دن ہیں۔امان نے شوخ لہجے میں کہا۔
آپ کو گریجویٹ ہوۓ پورے چھ مہینے ہوچکے ہیں اور چھ مہینے سے آپ سیر سپاٹے ہی کررہے ہیں۔۔جوزف نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوۓ طنز کیا۔
ہم کل انکل سے ملنے جارہے ہیں مجھے کوئ بہانا نہیں چاہیئے ۔ اس نے سخت لہجے میں امان کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
ٹھیک ہے باس۔امان نے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *