Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 01)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 01)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
دو ماہ بعد
سوہا یار کیا ہوگیا ہزار دفع ایک سوال بتارہا ہوں اور ایک تمہارا دماغ ہے جس میں میری کوئی بات پہنچ نہیں رہی۔عباد جو پانچ گھنٹوں سے سوہا کو اینٹری ٹیسٹ کی تیاری کروارہا تھا مگر بار بار سوہا کو ایک ہی غلطی بار بار کرتا دیکھ کر جھنجھلاہٹ سے بولا
تو آپ کو شوق تھا ڈاکٹری کروانے کا تو اب بھگتے میں تو اب بھی کہوں گی چھوڑے ایم بی بی ایس کو میں گھر میں سہی ہوں جب آپ روز آفس سے تھکے ہوئے آئے گے تو میں آپ کا مسکراکر استقبال کیا کروں گی تیار سی خوبصورت سی بن کر پھر آپ کی ساری تھکن اُتر جائے گی مجھے دیکھ کر پھر میں آپ کا کوٹ آپ سے لوں گی پانی کا پوچھوں گی پھر ہم لانگ ڈرئیو پہ چلے گے دیر رات تک۔سوہا ساری تقریر کرکے آخر میں اپنے مطلب کی بات پہ آئی۔
سیرسیلی سوہا میں یہاں تمہارے ساتھ دماغ کھپارہا ہوں اور ایک تم ہو جو خیالوں میں سیرسپاٹوں پہ نکلی ہوئی ہو تو کیا خاک میری بات پلے پڑنی ہے۔عباد خشمگین نظروں سے اُس کو گھور کر بولا
اگر میں بار بار ایک غلطی کررہی ہوں تو آپ سمجھ جائے یہ اللہ کی طرف سے آپ کو اِشارہ ہے کے بار بار مجھے میڈیکل کرنے کا نہ کہے۔ سوہا نے اپنی بات سمجھانی چاہی۔
بڑی تم نجومی اب اپنا دماغ ساری سوچو سے آزاد کرو اور جو میں پڑھا رہا ہوں اُس پہ فوکس کرو۔ عباد سرجھٹک کر بولا
اچھا آپ ایک بات تو بتائے آپ کا مائینڈ اِتنا امیزنگ کیسے ہے مطلب کیا آپ نے سی اے ہے اور سکھا مجھے ایم بی بی ایس رہے ہیں اگر آپ کو سارا کجھ پتا ہے تو خود کیوں نہیں کرتے۔سوہا نے اپنی طرح سے مخلصانہ مشورہ دیا۔
تمہارا دماغ ہمیشہ فضول باتوں میں کیوں لگتا ہے سوہا میں سچ میں سیریس ہو اور تمہیں بھی اب ہونا چاہیے ایم بی بی ایس پروفیشن ایسا ہے جہاں انسان کو سنجیدہ رہنا ہوتا ہے اپنے کام سے مخلص یہاں ایک معمولی سی غلطی کی بھی گنجائش نہیں ہوتی۔عباد کی بات پہ سوہا خاموش ہوگئ اور اپنا دھیان پڑھائی پہ کرنے لگی۔







تمہیں کجھ چاہیے تھا تو بتادو۔زویا ہسپتال کے لیے نکلنے والی تھی جب اُس نے عمار سے پوچھا جو خود اب تیار ہونے والا تھا۔
میرے کپڑے نکال دو اور ہاں ہم آج ساتھ جائے گے۔عمار نے فون چارجنگ پہ لگا کر کہا
ٹھیک ہے میں تمہارا سارا ضرورت کا سامان نکال دیتی ہوں اور ناشتہ بھی دیکھتی ہوں بنا ہے یا نہیں۔زویا خوش ہوتی بولی تو عمار سرہلاتا واشروم کی طرف گیا۔
تم یہاں کیا کررہی ہو۔زویا کچن میں آئی تو سوہا کو ناشتہ بناتا دیکھا تو حیرت سے استفسار کیا کیونکہ وہ جانتی تھی سوہا کو کجھ خاص بنانا نہیں آتا۔
ناشتہ بنارہی ہوں خانساماں چھٹی پہ ہے۔سوہا مصروف بھرے انداز میں بولی۔
تمہیں کونسا آتا ہے جو بنارہی ہوں اِتنی گرمی میں چچی سے کہتی وہ بنادیتی۔زویا فریج سے پانی کی بوتل نکالتی بولی۔
اگر وہ ہوتی تو اُن کو بھی گرمی ہوتی اور فلحال میں عباد کے لیے بنارہی ہوں اُن کے آفس جانے میں کجھ وقت ہے اُس کے بعد باقی سب کے لیے۔سوہا سادہ لہجے میں بولی تو زویا کو اُس کی پہلی بات سن کر کجھ شرمندگی محسوس ہوئی۔
اچھا ہٹو میں مدد کروادیتی ہوں۔زویا نے کہا
نہیں تم تیار ہوگئ ہو جاب پہ جانا ہوگا نہ میں بنادوں گی ڈونٹ وری تم باہر جاکر کجھ وقت انتظار کرو۔سوہا نے سہولت سے انکار کیا زویا نے پھر بھی کہا پر سوہا نہیں مانی۔
تم یہاں ہو اور میں تمہارا کمرے میں انتظار کررہا ہوں۔عباد کچن میں آتا ناراض لہجے میں سوہا سے بولا
سوری ناشتہ بس بن ہی گیا ہے۔سوہا جھٹ سے بولی تو عباد اُس کی طرف دیکھنے لگا جو پسینے سے شرابور ہوگئ تھی۔
خانساماں آج بھی نہیں آئی مجھے بتادیتی میں کسی اور کا انتظام کرتا۔عباد اُس کے چہرے پہ پھونک مار کر بولا۔
مجھے خود صبح پتا چلا آپ کو تو پتا ہے وہ اچانک چھٹی کرتی ہے۔سوہا اُس کے چہرے پہ فکرمندی بھرے تاثرات دیکھ کر مسکراکر بولی
تو مجھے کہا ہوتا میں ہیلپ کردیتا۔عباد جیب سے رومال نکال کر اُس کے چہرے سے پسینہ صاف کرتا بولا
تو کیا آپ کو گرمی نہیں ہوتی۔سوہا نے مسکراکر پوچھا
تم پاس ہوتی ہو تو مجھے کجھ اور محسوس نہیں ہوتا سوائے تمہارے۔عباد کی بات پہ سوہا نے ایک اپنی ایک آئبرو اُپر کی
یہ جو آپ کو کبھی کبھی رومانٹک ہونے کا بھوت چڑھتا ہے نہ سچی سیدھا دل پہ ٹھاہ لگتا ہے۔سوہا نے دل پہ ہاتھ رکھ کر کہا تو عباد سرجھکا کر ہنس دیا۔
ایک بات کہوں؟عباد آہستہ آواز میں بولا تو سوہا متجسس ہوئی۔
کیا بات ہے؟سوہا بے صبری سے پوچھنے لگی۔
پکا بتادوں؟عباد نے ایک بار پھر کہا
بتادے بتادے اب کیا اسٹیمپ پیپر پہ لکھ کر دوں؟سوہا نے گھور کر کہا۔
وہ میں کہنا چاہ رہا تھا کے۔عباد اتنا کہہ کر چپ ہوگیا۔
کے۔سوہا نے جھٹ سے کہا
کے۔عباد مسکراہٹ دباکر اُس کے چہرے پہ پھیلی بے چینی دیکھنے لگا۔
کے پراٹھا جل چُکا ہے۔عباد کی بات پہ سوہا کا دل جل اُٹھا تھا وہ جانے کیا سوچ بیٹھی تھی پر عباد نے کہا بھی تو کیا مطلب کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی مثال ہوگئ عباد کے قہقہے کی آواز پہ وہ اُس پہ ناراض نظروں سے دیکھتی چولہے کو بند کرنے لگی کیونکہ پراٹھا جل کے کالا ہوچکا تھا۔
دل جلے پر پراٹھا نہ جلے۔سوہا بڑبڑاتی دوبارہ بنانے لگی تو عباد مسکراتا شرٹ کے کف فولڈ کرنے لگا۔
ہٹو تم میں بناتا ہوں ناشتہ۔عباد نے کہا تو سوہا آنکھیں پھاڑ کر عباد کو دیکھنے لگی۔
خیال سے آنکھوں کے تارے نہ نکل آئے۔عباد اُس کے اِتنی آنکھیں کھولنے پہ چوٹ کیے بولا
آپ کو کوکنگ آتی ہے کیسے۔سوہا حیرت سے بولی
باہر جہاں میں پڑھنے گیا تھا وہاں میرے لیے ملازموں کی فوج نہیں تھی سارے کام انسان کو وہاں خود کرنے پڑتے تھے۔عباد نے آرام سے بتایا۔
تو آپ نے وہاں سیکھا۔سوہا متجسس ہوئی
ہاں ایک ماہ میں سیکھ لیا تھا۔عباد سادگی سے بولا
واہ ماننا پڑے گا ویسے میں بہت لٙکی ہو جو مجھے اِتنا سُگھڑ شوہر ملا۔سوہا مزے سے بولی
سگھڑ شوہر سیریسلی۔عباد کو اپنے لیے یہ نام ایک آنکھ نہ بھایا۔
اور نہیں تو۔سوہا مزے سے بولی






زویا ہسپتال میں تھی جب اُس کا سر بُری طرح چکرایا۔
اففف میرا سر۔زویا بڑبڑاتی وہی سامنے رکھی بینچ پہ بیٹھ گئ۔
ڈاکٹر زویا آپ ٹھیک ہیں؟صائمہ اُس کی کولیگ نے پوچھا۔
یس ایم فائن۔زویا زبردستی مسکراہٹ سے بولی
تو آپ یہاں کیوں بیٹھی ہیں۔صائمہ نے دوسرا سوال کیا۔
بس سر میں چکر آرہے تھے تو یہی بیٹھ گئ۔زویا نے جواب دیا۔
اوو تو آپ اُف کرلیں یا میں آپ کو میڈیسن دے دیتی ہوں۔صائمہ فکرمندی سے بولی۔
میڈیسن کھالیتی ہوں آف تو نہیں مل سکتا پہلے ہی شادی کی وجہ سے دوماہ کی چھٹی کی تھی۔زویا نے مسکراکر کہا
اوو تو کہیں کوئی گُڈ نیوز تو نہیں۔صائمہ نے شرارت سے پوچھا تو زویا سوچ میں پڑگئ۔





کجھ ہوش ہیں تمہیں کل تمہارا ٹیسٹ ہے اور تم یہاں مزے سے ڈرامہ دیکھ رہی ہو۔عباد سوہا کے سر پہ نازل ہوتا بولا
یہ بات سائیڈ پہ بھی کرسکتے ہیں ٹیوی کے سامنے تو ہٹیں۔سوہا منہ بناکر عباد کو سائیڈ پہ ہونے کا اِشارہ کرنے لگی۔
سوہا بند کرو یہ ٹیوی دیکھنا کل تمہارا انٹری ٹیسٹ ہے اور تمہیں کوئی پریشانی ہی نہیں۔عباد نے گھور کر کہا
آپ کو کس نے کہا مجھے پریشانی نہیں مجھے بہت زیادہ پریشانی ہے اِتنی کے میں مائینڈ فریش کرنے کے لیے ڈرامہ دیکھ رہی ہوں۔سوہا نے آرام سے بتایا
اچھا تو ٹیوی سے دماغ فریش ہوجائے گا تمہارا۔عباد طنزیہ بولا۔
الحمد اللہ آپ کو یقین نہیں آتا تو کرکے دیکھئے گا۔سوہا نے مفت میں مشورہ دیا۔
تمہیں دیکھ کر لگ تو نہیں رہا تمہیں کوئی پریشانی بھی ہے۔
اب کیا ماتھے پہ پریشانی کا ٹیگ لگالوں پریشانیاں جب انسان کی زندگی میں آتی ہیں تو اُس کا مسئلے کا حل اپنے ساتھ لاتی ہیں جس کے حل ہونے کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے پھر انسان چاہے پریشانی پہ پریشان ہوکر منہ پُھلا کر بیٹھ جائے یا ہنسی خوشی اُس کو الوداع کرے جانا اُس نے اپنے وقت پہ ہی ہے۔سوہا نے اچھی خاصی تقریر کرڈالی۔
بات کو چینج نہیں کرو کتابیں لاؤ تاکہ کجھ پوائنٹس سمجھالوں۔عباد سرجھٹک صوفے پہ بیٹھ کر بولا
سب کا علاج ممکن ہے پر آپ لاعلاج ہے جب دیکھو پڑھائی کتابیں پڑھائی کتابیں کتابیں پڑھائی پڑھنا نہ ہوگیا وبالِ جان ہوگیا جس دن کتاب کی شکل نہیں دیکھی تو سانس نہیں آنا۔سوہا تپ کر بولتی واک آوٴٹ کرگئ۔
جس کی بیوی تم ہوگی اُس شوہر نے پھر لاعلاج ہی ہونا ہے۔عباد نے پیچھے سے ہانک لگائی۔






صائمہ کی بات سننے کے بعد زویا نے ٹیسٹ کروایا تھا جس کی رپورٹ پوزیٹو آئی جس کو دیکھ کر زویا کو اپنا آپ ہواؤں میں اُڑتا محسوس کررہی تھی زویا رپورٹ ہاتھ میں لیے عمار کے کیبن میں آئی جو سیٹ سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
عمار۔زویا نے مسکراکر اُس کو پُکارا۔
ہمم بولوں۔عمار سیدھا ہوکر بولا۔
لُک۔زویا نے چمکتے چہرے کے ساتھ رپورٹ عمار کیطرف بڑھائی۔
خدانخواستہ تمہیں کوئی جان لیوا بیماری تو نہیں لگ گئ۔عمار کی بات پہ زویا کا منہ بن گیا۔
بکو مت اور دیکھو۔زویا نے کہا تو عمار نے رپورٹ اُس کے ہاتھ سے لی۔
از اِٹ ٹرتھ۔رپورٹ چیک کرنے کے بعد عمار بے یقینی سے بولا تو زویا زور شور سے سر کو جنبش دی۔
او مائے گوڈ۔عمار چہرے پہ ہاتھ پھیر کر بولا اُس کو سمجھ نہیں آرہا تھا اِس وقت وہ کس طرح ری ایکٹ کرے۔
خوشی نہیں ہوئی تمہیں۔زویا نے اندازہ لگایا۔
کیسی بات کررہی ہو تمہیں میں بتا نہیں سکتا میں اِس وقت کِس کیفیت میں خود کو محسوس کررہا ہوں۔عمار اپنی جگہ سے اُٹھتا بولا
گھر میں سب سے پہلے میں بتاؤں گی۔زویا ایکسائٹڈ ہوتی بولی
شیور۔عمار نرمی سے اُس کا ہاتھ تھام کر بولا







ہاہاہاہاہا
افف اللہ
ہاہاہاہاہا
عباد گہری نیند میں تھا جب اُس کے کانوں پہ سوہا کے بے ڈھنگے قہقہوں کی آواز پڑی تو وہ جھجھنلا کر اُس کی کروٹ لینے لگا تو دیکھا سوہا میڈم بیڈ کراؤں سے ٹیک لگاتی مزے سے شاید کوئی فنی ناول ریڈ کررہی تھی۔
سوہا رات کے وقت کیوں جنوں کی طرح ہنسے جارہی ہو۔عباد کوفت سے بولا
عباد آپ کو پتا ہے ناول کے ہیرو کو گولی لگی ہے اور بے وقوف ہیروئن ایمبولینس کو کال کرنے کے بجائے جہاں اُس کو گولی لگی ہے وہاں اُس کو پمپ کیے جارہی ہے جیسے انسان گہرے میں پانی میں گِرتا ہے تو ہم منہ سے پانی نکالنے کے غرض سے سینے پہ کرتے ہیں۔سوہا نے زور سے ہنستے ہوئے ناول کا سین بتایا
ماشااللہ سے ناول کی ہیروئن بھی تمہاری طرح کُل عقل ہوگی نہ۔عباد اتنا کہتا کانوں پہ تکیہ رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔
آپ کا کیا مطلب ہے میں کم عقل ہوں۔سوہا اُس کی پشت کو گھورتی بولی
سمجھدار کے لیے اِشارہ کافی ہوتا ہے پر جیسے کے تمہیں نہیں پتا سمجھدار لوگ کیسے ہوتے ہیں تو میں تمہیں تمہاری بات کا جواب کل دوں گا۔۔عباد نے آرام سے کہا
آپ خود کو سمجھتے کیا ہے سارا میرے ناول پڑھنے کا مزہ خراب کردیا نہیں پڑھتی میں اب خوش ہوجائے پڑگئ ہوگی آپ کے کلیجے وچ ٹھنڈ۔سوہا نے منہ بسور کر کہا
یہ کس ناول کا ڈائیلوگ مارا ہے۔عباد نے سنجیدگی سے پوچھا کیونکہ آج سے پہلے کبھی سوہا نے اُردو پنچابی میکس نہیں کی تھی۔
میں کیوں کسی ناول کا ڈائیلوگ مارنے لگی میرا اپنا پرسنل دماغ موجود ہے۔سوہا نے فخریہ بتایا
ہاں بلکل ایسا دماغ تمہارا ہی ہوسکتا ہے۔عباد بند آنکھوں سے بولا تو سوہا تلملا اُٹھی۔
اب آپ مجھے غصہ دلارہے ہیں۔سوہا اُس کا کندھا پکڑ کر سیدھا کیے بولی
اور جو تم نے میری گہری نیند خراب کی۔عباد نے گھور کر کہا
گہری نیند نہیں ہوگی کچی تھی تبھی جلدی سے اُٹھ گئے گہری نیند میں تو انسان کے سر پہ کھڑے ہوکر ڈھول پہ پیٹو تو پتا نہیں چلتا۔سوہا اُس کی بات پہ اختلاف کیے کہا
وہ اِس لیے کے میں انسانوں کی طرح سوتا ہوں مُردوں سے شرط لگا کر نہیں سوتا۔عباد نے جھٹ سے جواب دیا۔
آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے رکھ لیا میں نے اپنا موبائیل سوجائے اب گہری نیند۔سوہا نے کہا
ناول پڑھ لو مائینڈ فریش ہوجائے گا پھر فریش مائینڈ کے ساتھ کل انٹری ٹیسٹ دینا۔عباد مسکراہٹ دبائے بولا
آپ سے بات کرنے کے چکر میں گروپ میں جو ناول پڑھ رہی تھی اسکرین کے پاؤس پہ ٹچ ہوگیا تو ناول غائب ہوگئ آئے ڈی بھی میں نے نہیں دیکھی تھی۔سوہا افسردہ سی بولی
میں سوچو تم کسی کے لیے ناول پڑھنا چھوڑ دو یہ تو ناممکنات میں سے ہے۔عباد نے طنزیہ کہا
آپ ہر وقت مجھ سے لڑتے کیوں رہتے ہیں بس بہانا چاہیے ہوتا ہے مجھے باتیں سُنانے کا۔سوہا لڑنے والے انداز میں بولی
میں بہانا تلاشتاں ہوں یا تم بہانے ڈھونڈتی ہوں مجھ سے بحث کرنے کا۔عباد بھی میدان میں اُترا
میں ایک مشرقی بیوی ہوں جو شوہر کا ادب کرتی ہے۔سوہا شرمانے کی ناکام کوشش کرتی بولی۔
پہلے شوہر کے ادب کی ڈیفینیشن یاد کرلوں پھر بات کرنا۔عباد مذاق اُڑانے والے انداز میں بولا
سب سمجھ آرہا ہے مجھے۔سوہا بس اتنا بولی
کیا سمجھ آرہا ہے ذرہ میرے گوش گُزار بھی کردے۔عباد نے ادب سے کہا
سمجھدار کے لیے اِشارہ کافی ہوتا ہے پر جیسے کے آپ کو نہیں پتا سمجھدار کا مطلب تو میں صبح کو بتاؤں گی۔سوہا عباد کو اُس کا جواب لوٹاتی بولی تو عباد عش عش کر اُٹھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہا
سوہا
ویک اپ۔
بھول گئ کیا آج تمہارا ٹیسٹ ہے۔صبح کے وقت عباد تیار ہوتا سوہا اُٹھانے کی کوشش کرنے لگا جس کے اُٹھنے کے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔
سوہا۔
اب کی عباد اُس کے کان کے پاس چیخا تو سوہا ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی۔
کیا ہے ایسے کون جگاتا ہے اپنی بیوی کو۔سوہا مندی مندی آنکھوں سے عباد کو دیکھتی بولی
سکون سے اُٹھارہا تھا پر تم بھی اپنے نام کی ایک تھی۔عباد بالوں میں برش پھیرتا بولا
ایک بات جو آپ میں رومانٹک ہو میں بتاتی ہوں آپ کو بیوی کو کیسے جگاتے ہیں۔سوہا آرام سے بیٹھتی گود میں کشن لیے بولی
جب صبح خوبصورت دن کا آغاز ہو تو اپنی خوبصورت بیوی کے پاس پھولوں کا گُلدستہ رکھا جاتا ہے پھر اُن میں سے ایک پھول اُٹھا کر بیوی کے چہرے پہ پھیر کر کہتے ہیں صبح بخیر زندگی۔سوہا آرام سے اُس کو رومانٹک شوہر کے ٹوٹکے بتانے لگی عباد برش کر کے ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھتا سوہا کی طرف آیا اور بنا اُس کو کجھ سمجھنے کا موقع دیئے بانہوں میں اُٹھاتا واشروم کی دروازے پہ لاکر چھوڑا۔
سوہا ہکا بکا عباد کی کاروائی دیکھ رہی تھی اُس کو سمجھ نہیں آیا اچانک عباد کو کس کیڑے نے کاٹا پر اُس کی یہ خوشفہمی عباد کے جُملے پہ جلد ہی دور ہوگئ۔
تیار ہوجاؤ کالج جانا ہے۔
بورنگ انسان۔سوہا جھلا کر کہتی ٹھاہ کی آواز سے واشروم کا دروازہ بند کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں باہر آئے تو سب کو خوش مسکراتا دیکھا۔
کیا بات ہے منہ کس خوشی میں میٹھا کیے جارہا ہے۔سوہا نے بلآخر پوچھ لیا
مبارک ہو تم خالہ اور چچی بننے جارہی تھی۔زویا نے میٹھائی کا ٹکڑا سوہا کے منہ میں ڈال کر کہا۔
سچی بہت بہت مبارک ہو تمہیں۔سوہا خوشی سے اُس کے گلے ملتی بولی عباد عمار کی طرف بڑھا۔
تم دونوں کہاں جارہے ہو۔صغریٰ بیگم نے عباد اور سوہا سے پوچھا
میرا انٹری ٹیسٹ ہے۔سوہا نے بے دلی سے بتایا
ماشااللہ اللہ کامیاب کریں تمہیں۔صغریٰ بیگم نے دعا دیتے کہا
آمین۔عباد نے زوردار آواز میں کہا جس پہ سوہا نے اُس کو گھورا۔
اچھا امی اب ہم چلتے ہیں۔عباد نے مسکراکر کہا پھر دونوں پورچ میں گاڑی کی طرف آئے۔
ٹیسٹ دینے سے پہلے انیس مرتبہ بسم اللہ پڑھنا دیکھنا پھر ٹیسٹ بہت اچھا ہوگا اور ٹیسٹ کے وقت یہاں وہاں غور مت کرنا بس اپنے کام پہ فوکس کرنا کوشش کرنا ایک بھی غلطی نہ ہو ورنہ اِس بار بھی فعل ہوجاؤ گی۔عباد گاڑی سٹارٹ کرتا ساتھ ساتھ اُس کو ہدایت دینے لگا
آپ فکر نہیں کرے اور کجھ نہ ہوسکا تو میں نقل کرلوں گی۔سوہا کی بات پہ عباد نے خشمگین نظروں سے اُس کو دیکھا۔
نقل کے لیے بھی عقل چاہیے ہوتی ہے اور خبردار دوبارہ ایسا سوچا بھی تو۔عباد نے ڈپٹ کر کہا
اوکے اب میں چلتی ہوں۔گاڑی کالج کے باہر رکی تو سوہا نے عباد سے کہا
ہاں سہی ٹیسٹ اچھا دینا ایسا نہ ہو ٹیسٹ پہ کسی ناول کی اسٹوری لکھ آؤ۔عباد نے جیسے وارن کیا
میرے پاس اِس کا جواب ہے پر اِس وقت میں لڑائی کے حق میں نہیں۔سوہا گاڑی سے اُتر کر عباد سے بولی تو عباد نے شانے اُچکائے۔



ٹیسٹ دینے کے بعد وہ باہر آئی تو عباد کو کالج کی گیٹ پہ کھڑا پایا سوہا کا لٹکا ہوا منہ دیکھ کر عباد نفی میں سر کو جنبش دینے لگا۔
کیا ہوا ٹیسٹ بُرا ہوا کیا؟عباد نے اُس کے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد پوچھا۔
پتا چل جائے گا۔سوہا اِتنا کہتی سیٹ کی پشت سے سر ٹِکا کر بیٹھ گئ تو عباد نے بھی گاڑی گھر کی طرف موڑ دی۔






شام کا وقت تھا سوہا گارڈن کے پاس رکھی بینچ پہ بیٹھی گیم کِھیلنے میں مصروف تھی جب زویا اُس کے ساتھ بیٹھ گئ۔
تمہارا ٹیسٹ کیسا ہوا۔زویا کے سوال پہ وہ سخت بدمزہ ہوا کیونکہ ہر کوئی یہی سوال اُس سے کررہا تھا۔
پہلے جو چار پانچ دے چُکی ہوں اُن کی نسبت اچھا تھا۔سوہا نے جواب دیا۔
نائیس۔یہ بتاؤ تمہیں دکھ تو بہت ہوا ہوگا۔زویا اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھتی ہوئی بولی۔
کس بات کا دکھ۔سوہا کا دھیان ابھی بھی گیم کی طرف تھا اِس لیے وہ سمجھ نہیں پائی۔
اِسی بات کا کے تمہاری شادی کو اِتنے سال ہوگئے تم نے ابھی اِس گھر کو بچہ نہیں دیا اور میں نے تین ماہ میں دیا۔زویا نے تفصیل سے بتایا
بچے کونسا پیڑ پہ لٹک رہے ہیں جو تم نے اِس گھر کو لاکر دیا اور میں نے نہیں یہ تو قسمت کی بات ہوتی ہے اللہ جس کو چاہتا ہے اولاد کی نعمت سے جلد نوازتا ہے اور کسی کو دیر اور میری شادی کو جو اِتنے سال ہوئے ہیں اُن میں سے پانچ سال چار ماہ تو نکال دو تو بچتے ہیں دو سال اور میرے خیال سے یہ اِتنا زیادہ وقت نہیں جو میں کہوں افسوس کرو دُکھ کروں کے مجھے اولاد کیوں نہیں ہوئی آج تو نہیں تو کل ہوجائے گی مجھے کوئی جلدی نہیں ویسے بھی میرا اب شاید میڈیکل میں ایڈمیشن ہو تو میں بچہ کیری نہیں کرپاؤں گی۔سوہا نے ٹھیک ٹھاک زویا کو جواب دیا۔زویا حیرت سے اُس کا پرسکون چہرہ دیکھ رہی تھی۔
تم اِتنا پرسکون کیسے رہتی ہو ہر وقت؟زویا اُلجھن زدہ لہجے میں بولی۔
کیونکہ میں کسی دوسرے کے معاملے میں نہیں گھستی۔اب کی سوہا موبائل سے نظر ہٹاتی اُس کو دیکھ کر آنکھیں جھپکاکر بولی۔
