Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 17)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

سارے مہمان اپنے گھروں کو جاچُکے تھے وہ سب اِس وقت لاوٴنج میں موجود تھے جہاں ایک طرف رکھے صوفے پہ سرجھکائے عماد بیٹھا تھا ساتھ میں زویا فرسٹ ایڈ بوکس لیکر آئی تھی اُس کے لیے عمار سنجیدہ سا کھڑا تھا عماد کے سامنے والے صوفے پہ معصومہ بیٹھی اپنے باپ کے بولنے کا انتظار کررہی تھی اُس کے ساتھ حماد معصوم شکل بنائے بیٹھا تھا جیسے اُس کے علاوہ دُنیا میں کوئی معصوم نہ ہو سوہا پریشانی سے ٹہلتے عباد کو دیکھ رہی تھی جس کا چہرہ بے تاثر تھا سویرہ بیگم اور سنان صاحب گھر کو لوٹ گئے تھے جب کی صغریٰ بیگم آرام کے غرض سے اپنے کمرے میں موجود تھی حنان صاحب لاوٴنج میں ہی موجود تھے جب کی اِن سب کے فیصلے کا اختیار عباد کو تھا عیبر کی بات کی جائے تو وہ جانے کن سوچو میں گم تھی۔

کونسے مال میں تم لوگوں نے تماشا لگایا تھا اور کیا وہاں کی سیکورٹی نے کجھ نہیں کہا؟ عباد کی سرد آواز پہ سب کا خون خشک ہوا۔

سیکورٹی کے آنے سے پہلے عماد مجھے لیکر باہر آگیا تھا۔ سب کو خاموش دیکھ کر معصومہ نے بات کی

شرم آنی چاہیے تم سب کو اگر بات بڑھ جاتی تو کیا ہوتا انداز ہے۔ عباد نے سخت لہجے میں معصومہ سے کہا

معصومہ کی کوئی غلطی نہیں تھی چچا جان۔ عباد جلدی سے معصومہ کے دفاع میں بولا جس پہ سب نے اُس کو گھورا پر عماد کو پرواہ کس کی تھی۔

تم سے مجھے یہ اُمید نہیں تھی عماد۔ عباد نے جیسے افسوس کیا

عماد نے کجھ نہیں کیا تھا وہ تو اُس لمبو کا قصور تھا سارا تبھی ہم بنا پیمنٹ کیے مال سے نکل آئے کیونکہ شرٹ تو اُس نے پھاڑی تھی سی سی ٹی وی کیمرا میں سب پتا لگ جاتا۔ معصومہ نے جلدی سے کہا

پہلے تم دونوں ایک دوسرے کی طرفداری کرنا بند کرو۔ عباد غصے سے کہا

سی سی ٹی وی کیمرا میں یہ رکارڈ ہوگیا کے شرٹ تبریز نے پھاڑی پر یہ نہیں کے تم سب وہاں جھنگلیوں کی طرف لڑرہے تھے کونسا ایسا کونا تھا زرہ بتاؤ تو؟عباد دونوں پہ تیز نظر ڈال کر بولا

کونا کہاں ہم تو کُھلم کُھلا لڑرہے تھے پر جانے کیوں کوئی کیوں نہیں آیا۔معصومہ پرجوش آواز میں بانہیں پِھیلا کر بولی تو حماد نے اُس کا کندھا تھپتھپاکر اُس کا جوش کم کرنے کی کوشش کی جو خود اپنا بھنڈا پھوڑنے کے در پہ تھی عماد نے تاسف سے معصومہ کو دیکھا

میرے بیٹے کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے اپنی بیٹی کو لگام دو۔زویا ناگوار لہجے میں بولی

میری بیٹی کونسا گھوڑی ہے جس کو لگام دے شرٹ تھی اگر اُس کو پسند آئی اُس وجہ سے بحث ہوگئ تو کونسی بڑی بات ہے ہوجاتا ہے پر آپ سب تو میری بیٹی کے پیچھے ہی پڑگئے ہو۔سوہا زویا کی بات پہ دانت پیس کر بولی

زویا میں پہلے بھی یہ بات کہہ چُکا ہوں اب بھی کررہا ہوں میری اولاد سے یا تو مخاطب مت ہوا کرو اگر ہوتی ہو تو اپنے لہجے میں ناگواری حقارت نفرت طنزیہ اِن سب کو دور رکھا کرو۔عباد نے آہستہ مگر سختی لہجے میں زویا سے کہا

بچوں آپ سب اپنے اپنے کمرے میں جاؤ۔حنان صاحب نے سنجیدگی سے کہا تو وہ چاروں اُٹھ کر چلے گئے۔

عباد بولتے وقت خیال کیا کرو گھر میں بچے بھی رہتے ہیں ایسے تو اُن کے دلوں پہ بھی اثر ہوگا۔ حنان صاحب نے سنجیدگی سے عباد کو ٹوکا اور آج ایسا پہلی بار ہوا تھا زویا کے چہرے پہ شاطرانہ مسکراہٹ آئی تھی جو حنان صاحب کی اگلی بات پہ غائب بھی ہوگئ۔

زویا جس کو لگام لگانے کا تم بول رہی تھی وہ تمہاری بھی کجھ لگتی ہے مت بھولوں یہ بات اگر تم اُس بچی کی عزت نہیں کروں گی تو وہ بھی نہیں کریں گی اِس لیے اپنے لہجے کو قابو میں کیا کرو پیار محبت سے رہو گے تو آگے چل کر یہ بچے بھی ویسا کریں گے عزت دینے سے ملتی ہے۔حنان صاحب نے روعبدار لہجے میں کہا

کیا مطلب چچا جان۔ زویا سمجھ کر بھی ناسمجھی کا مظاہرہ کرنے لگی۔

چچا جان کی بات کا مختصر مطلب یہ کے گِیو رسپیکٹ اینڈ گیٹ رسپیکٹ۔سوہا نے بڑی سنجیدگی سے بولی تو عباد اُس کے اتنے مختصر جواب پہ عش عش کر اُٹھا۔

رات ہوگئ ہے اب اپنے کمرے میں جانے کی کرو صبح کو کوئی اِس بات کا ذکر نہیں کرے گا جو ہوا آج ہوا ختم بھی ہوگیا لیکن سوہا بیٹے آپ پھر بھی معصومہ کو سمجھائے ایسے ہر جگہ لڑنا نہیں چاہیے اگر تبریز کے علاوہ کوئی گھٹیا قسم کا مرد ہوتا تو پر یہ تو عباد کے جاننے والا تھا۔ حنان صاحب نے سنجیدگی سے کہا جس پہ سوہا نے سراثبات میں ہلایا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تبریز پلیز لیو بیٹا یہ کیا کررہے ہو تمہارا ہاتھ زخمی ہوجائے گا۔ مناہل پریشان نے عالم میں تبریز سے بولی جو غصے سے پاگل ہوتا اپنے کمرے کی ہر چیز کو توڑ رہا تھا۔

آپ مجھے اکیلا چھوڑدے اور جائے یہاں سے۔ تبریز ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیومز نیچھے پھینکتے دھاڑا

بھائی۔ فرشتے نے پریشانی سے اُس کو آواز دی۔

آے سے جسٹ لیو۔تبریز نے پاس پڑی ٹیبل پہ ٹھوکر ماری تو فرشتے ڈر کر کجھ قدم دور ہوئی۔

پری چلو صبح تک ٹھیک ہوجائے گا۔ مناہل سنجیدہ نظر تبریز پہ ڈال کر فرشتے سے بولی

پر بھائی کو اتنا غصہ کیوں ہے اور یہ غصے میں ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے جانتے ہی نہیں۔ فرشتے کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے۔

اِس کو اپنا باپ سمجھ نہیں پایا تو ہم کیا سمجھے گے چلو تم۔ مناہل اُس کو بازوں سے پکڑ کر کمرے سے باہر لیں گئ

آپ کا کوئی حق نہیں میری کزن کے بارے میں ایسا بولنے کا۔

تبریز نے کارپیٹ پہ گِرا کانچ کا ٹکراہاتھ میں پکڑا جب اُس کے کانوں میں عبیر کی آواز گونجی۔

سمجھتی کیا ہے وہ خود کو اُس کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے یہ بولنے کی ایسے بات کرنے کی۔تبریز نفرت سے بولا ہاتھ میں پکڑے کانچ پہ اُس کا دباؤ بڑھنے لگا جس سے خون کی کجھ بوندیں فرش کو رنگین کرگئ۔

تبریز بے تاثر نظروں سے اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا پھر اُس کے دماغ میں مال والا واقع اُبھرا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی آپ کو شرٹ پھاڑنی نہیں چاہیے تھی پر شکر ہے مسئلہ نہیں ہوا۔ فرشتے آنکھیں بڑی کیے بولی تبریز بنا جواب دیئے تیز قدموں کے ساتھ کاؤنٹر کی جانب آیا

ایکسکیوز می ایک بلیو

جی سر جو شرٹ آپ نے پھاڑی اُس کی قیمت سات ہزار تھی۔تبریز کے بولنے سے پہلے کاؤنٹر پہ کھڑا لڑکا بولا تو تبریز نے فرشتے کو دیکھا جو اپنی ہنسی ضبط کررہی تھی۔

بھائی اب تو لوکل شاپ پہ بھی کیمرا لگا ہوتا ہے یہ تو پھر بھی بڑا مال ہے۔فرشتے نے ہنس کے کہا تو تبریز بنا کوئی اور بات کیے پیمنٹ کرنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نفرت ہے مجھے سب سے۔تبریز اتنا کہتا کانچ اپنی مٹھی میں دباگیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

تم نے دیکھا چچا جان نے کیسے مجھے باتِیں سُنائی پر سوہا سے کجھ نہیں کہا۔ زویا غصے سے عمار کو بولی جو بیڈ پہ بیٹھا ہوا تھا

تمہیں بھی تو شوق ہوتا ہے ہر ایک سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کا جانے کب تمہارے دل سے کینہ اور بغض نکلے گا مجھے تو اپنی بیٹی کی فکر لگی ہوئی ہے کہی تمہارے گناہوں کی سزا اس کو نہ ملے۔ عمار بنا اُس پہ نظر ڈال کر بولا

کونسے گُناہ۔ زویا ناگوار لہجے میں بولی

خود یاد کرلیا کرو تاکہ مجھے یاد نہ کروانا پڑے۔عمار نے ایک ایک لفظ پہ زور دیتے کہا

اوو تو یوں کہو نہ آج تک تمہیں اِس بات کا غم ہے کے تمہاری شادی سوہا سے کیوں نہیں ہوئی۔ زویا طنزیہ لہجے میں بولی

اپنی حد میں رہو زویا سوہا میرے لیے قابلِ احترام ہے کیونکہ وہ میرے بھائی کی عزت ہے پر تمہارے گندے دماغ میں جانے کیا خناس ہے جو ہر رشتے کو پامال کرنے پہ وقت نہیں لگاتا۔ عمار اُس کے روبرو کھڑا ہوتا سخت لہجے میں بولا

اگر یہ میرا خناس ہے تو پھر کیوں تم زیادہ وقت باہر گزارتے ہو کیوں میری زندگی کے خوبصورت لمحے برباد کیے تھے شادی کے کجھ سال اُس کے بعد تمہیں کیا ہوا جو منہ پھیر گئے۔ زویا اُس کا گریبان پکڑتی جواب طلب کرنے لگی۔

کیونکہ مجھے لگتا تھا تم سُدھر گئ ہو تمہارے ساتھ اچھی زندگی گُزرے گی خدا کی قسم مجھے تم سے محبت ہوجاتی پر تمہاری خودسا نفرت لہجے شک طبیعت نے کبھی مجھے اِس بات کی اجازت نہیں دی کے میں تمہاری طرف قدم برھاؤ تمہیں دیکھ کر کبھی کبھی مجھے تمہارا روپ ناگن کا نظر آتا ہے۔عمار اُس کا ہاتھ اپنے گریبان سے ہٹاتا سنجیدگی سے بولا زویا ساکت سی اُس کو دیکھنے لگی جس کا لہجے بے لچک تھا۔

اور جو میں نے تمہارے لیے کیا وہ کیا اُس کی کوئی اہمیت نہیں تمہاری نظر میں۔زویا چیخی

کیا کردیا تم نے میرے لیے کجھ بھی نہیں زویا بس تم اپنی حرکتوں سے میری نظر سے گِرگئ ہو جس دن تم نے سات سالہ معصوم بچی معصومہ پہ ہاتھ اُٹھانے کی کوشش کی تھی میرا دل چاہا اُسی وقت تمہیں طلاق دے کر اپنی زندگی سے باہر کروں پر اپنے بچوں کی وجہ سے تمہیں برداشت کررہا ہوں ورنہ تم اِس لائق نہیں تمہارے ساتھ ایک منٹ بھی گُزارا جائے۔عمار نے آج پھر اُس کو حقیقت کا آئینہ دیکھایا

تو دے ڈالتے طلاق میں کونسا تمہارے لیے مررہی تھی۔زویا صدمے سے باہر آتی چلانے لگی۔

مر ہی رہی تھی بھول گئ ہو تو یاد کروادوں زویا اگر نہ مرتی تو میں کبھی تم جیسی لڑکی کو نہ اپناتا مت ماری گئ تھی میری جو تم پہ رحم کھایا۔عمار تمسخرانہ لہجے میں اُس کو دیکھ کر بولا

میں عباد کو کہوں گی تم آج بھی اُس کی بیوی پہ نظر ڈالے بیٹھے ہو۔ زویا بے شرمی کی حدیں توڑ کر بولی

شوق سے بتادو انعام میں مجھ سے طلاق کے کاغذ بھی پھر لیں جانا۔عمار آرام سے کہتا سونے کے لیے لیٹ گیا پیچھے زویا نفرت بھری نظروں سے اُس کو دیکھنے لگی اُس کو اپنے اندر آگ کا لاوا پھٹتا محسوس ہورہا تھا زویا غصے سے کمرے سے باہر جانے لگی جب عمار کے لفظوں نے اُس کو روک دیا۔

تمہارے اندر جو نفرت کی آگ ہے دیکھنا ایک دن خود اُس میں جل جاؤ گی۔

💕
💕
💕
💕

تمہیں تو میں بعد میں دیکھتی ہوں۔

عبیر اپنے کمرے میں آئی تو اُس کو زویا کی بات آئی جس سے اُس نے جلدی سے اُٹھ کر کمرے کا دروازہ بند کیا

ابھی نہیں امی آج آپ نے بہت سُنایا باقی کا کل۔ عبیر دروازے سے لگتی بڑبڑائی جب اُس کی نظر اپنے میڈیکل کے کورس پہ پڑی تو ہونٹوں پہ طنزیہ مسکراہٹ آئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا کررہی ہو تم؟ عبیر اسائمنٹ بنانے میں مصروف تھی جب زویا اُس کے کمرے میں آتی استفسار کرنے لگی۔

بزنس ڈپارٹمنٹ کے سر نے ایک اسائمنٹ بنانے کا کہا تھا وہ بنا رہی ہوں۔ عبیر نے مسکراکر بتایا

اِدھر دو یہ مجھے اب تم یونی نہیں جاؤ گی۔زویا اُس کے سامنے سے کتابیں ہٹاکر بولی

کیا مطلب پر کیوں ابھی تو ہم نے جانا سٹارٹ کیا تھا۔عبیر کا دل انہونی کے احساس سے دھڑکا

تم اینٹری ٹیسٹ کی تیاری کرو۔زویا حکیمہ لہجے میں بولی

یہ کیا بول رہی ہیں آپ مجھے تو عماد اور معصومہ کے ساتھ یونی جانا ہے اب اگر میں اینٹری ٹیسٹ کی تیاری کرنے لگی تو میرے سال ضائع ہوجائے گے۔ عبیر نے احتجاج کیا

جو کہا ہے وہ کرو سوال جواب کرنے کا حق نہیں تمہیں۔زویا نے سخت لہجے میں کہا

پر میرا انٹرسٹ میڈیکل میں نہیں وہاں تو نہ معصومہ ہوگی نہ عماد میں کیسے اکیلے وہاں جاؤں گی۔عبیر کے گلے میں آنسو کا پھندا اٹکا

اُن دونوں کے سہارے پہ چلنے سے اچھا ہے خود اکیلے اگے بڑھنا سیکھو میں نے کہہ دیا سو کہہ دیا اب وہی ہوگا۔زویا نے اُس کی بات نظرانداز کی

امی میری پڑھائی متاثر ہوجائے گی آپ وہ بھی تو سوچے یوں پہلے یونی پھر میڈیکل کالج۔عبیر کو سمجھ نہیں آرہا تھا زویا کو اچانک ہوکیا گیا

کوئی بھی پوچھے تم نے یہی کہنا ہے کے تمہیں میڈیکل کالج میں جانا ہے بس۔زویا اُس کا بازو دبوچ کر وارن کرنے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔

عبیر سچ سچ بتاؤ یوں اچانک تمہارا خیال کیسے بدل گیا تم نے خود کہا تھا پہلے تم نے میڈیکل نہیں کرنا پھر اب۔عمار ایک اچٹنی نظر زویا پہ ڈال کر عبیر سے بولا

ڈیڈ وہ میں عماد اور معصومہ کی وجہ سے بول رہی تھی ورنہ میرا انٹرسٹ میڈیکل میں تھا ہمیشہ سے میں آپ امی اور خالہ جان کی طرح ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں بزنس وومن نہیں میرا دل نہیں لگتا یونی کی پڑھائی میں۔عبیر سرجھکاکر صفائی سے جھوٹ بولنے لگی

تم شیور ہو؟عمار نے ہنکارا بھرا

جی۔عبیر نے اپنے آنسو کو اندر دھکیلا۔

تمہاری مرضی ورنہ تینوں اکھٹا اسکول ٹیوشن سینٹر پہ جاتے تھے اب اگر تم میڈیکل کرنا چاہتی ہو تو میں رکاوٹ نہیں بنوں گا۔عمار نے کہا تو وہ بنا کجھ کہے لاوٴنج میں آگئ۔

سب کی باراتیں آئی ڈولی تو بھی لانا

دولہن بنا کر ہم کو راجا جی لیں جانا

معصومہ گانا گاتی جھومتی جارہی تھی جب اُس کی نظر اُداس بیٹھی عبیر پہ پڑی تو وہ گانے کو سٹاپ کرتی اُس کے پاس آئی

کیا میڈیکل میں داخلہ تمہارا تمہاری ماں صفت جلاد کروا رہی ہیں۔ معصومہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا

امی کے بارے میں ایسا نہ بولوں۔ عبیر کو بُرا لگا

لو جی وہ جو مجھے اور میری امی پہ ٹونٹ کرتی رہتی ہیں ہر وقت اُس کا کیا۔ معصومہ نے منہ کے زاویئے بگاڑے۔

درگُزر کرلیا کرو بعض دفع درگُزر کرنے سے زندگی آسان ہوجاتی ہے۔ عبیر نے سنجیدگی سے کہا

اچھا جی اگر میں یا میری ماں تمہارے ساتھ ایسا کرتے تو تم کیا درگزر کرجاتی یہ سب نہ کہنے کے لیے آسان ہے پر کرنا مشکل جب آپ غلط بھی نہ ہو پھر بھی آپ کو کسی کی جلی کٹی سننے کو ملے تو یہ بات برداشت سے باہر ہوتی ہے۔ معصومہ طنزیہ بولی

مجھے دکھ ہوتا۔ عبیر بس یہ بول پائی

میں اگر تمہاری طرح ہوتی تو شاید مجھے بھی ہوتا پر میں معصومہ عباد ہوں مجھے غصہ آتا ہے۔ معصومہ سرجھٹک کر بولی

اچھا تو جب غصے میں خالہ تمہیں کجھ کہہ دیتی ہیں تو کیا اُن پہ بھی تمہیں غصہ آتا ہے۔ عبیر نے جاننا چاہا

وہ تو میری ماں ہیں اُن کی باتیں میں زیادہ فیل نہیں کرتی۔ معصومہ مزے سے بولی

اچھا اگر ساس کوئی جلاد ملی تو؟ عبیر متجسس ہوئی عماد جو لاونج میں آتا اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا کجھ سوچ کر اُن دونوں کی طرف گیا

ساس کی خیر ہے بس شوہر پیارا ہونا چاہیے ساس سے پھر میں نپٹ لوں گی۔ معصومہ نے دانتوں کی نمائش کی

بڑا شوق ہے شادی کا پہلے پڑھائی تو پوری کرلوں پھر پیارے شوہر کا بھی سوچنا ساس سے نپٹنے کا بھی۔ عماد اپنی آنکھوں پہ چشما درست کرتا دانت پیس کر کہا

چشماٹو تم کیوں میری شادی کا سن کر جل بھن جاتے ہو فکر نہیں کرو پہلے تمہارا ٹانکا فٹ کروں گی اُس کے بعد اپنی شادی کا سوچوں گی۔ معصومہ نے ہمدردی کی

مجھے کوئی شوق نہیں شادی کا۔ عماد نے گھورا کر کہا

دل میں تو بڑے ارمان ہوگے بس ابھی بن رہے ہو ورنہ لڑکوں کو زیادہ شادی کا شوق ہوتا ہے ہم لڑکیوں سے خدمت کروانی جو ہوتی ہے۔ معصومہ نے شریر نظروں سے اُس کو دیکھا

ہاں جیسے کے تم نے بڑی خدمت کرنی ہے اپنے شوہر کی ۔عماد طنزیہ بولا

کرنی نہیں پر کروانی تو ہے نہ دا گریٹ معصومہ عباد کے شوہر ہونے کا اُس کو شرف حاصل ہوگا اِس سے بڑے اعزاز کی بات اُس کے لیے کیا ہوگی۔ معصومہ گردن اکڑا کر بولی

ہاں اعزار کیا اُس کو تو تنبے سے نوازے گے۔عماد نے ہاتھ کی مٹھیاں بھینچی

اور نہیں تو کیا تم نے اُس کو پھولوں کا ہار بھی پہنانا ہے۔ معصومہ نے اب کی حد کردی عماد کے چہرے کی سفید رنگت ضبط کرتے ہوئے سرخ پڑگئ تھی۔

پھولوں کے ہار کا تو پتا نہیں ہزار جوتوں کا ہار ضرور پہناؤں گا۔عماد نے دانت پہ دانت جمائے بڑبڑایا

کجھ کہا تم نے۔معصومہ نے مشکوک نظروں سے اُس کو دیکھا

میں نے کیا کہنا ہے۔عماد نے ہاتھ کھڑے کیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبیر آنکھیں کھول کر ماضی کی یادوں سے باہر آئی پھر بنا چینج کیے ایسے ہی بیڈ پہ سوگئ

💕
💕
💕
💕
💕
💕

معصومہ آئینے کے سامنے بیٹھی اپنا میک اپ ریموو کررہی تھی جب اُس کو زویا کی بات یاد آئی پھر کجھ سال پہلے زویا اور سوہا کی بحث

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عماد دیکھنا بڑے ہوکر تمہارا چہرہ بھی ایپل کی طرح ہوجائے گا۔ سوہا نے شرارت سے آٹھ سالہ عماد سے کہا جو فروٹ میں بس ایپل کھارہا تھا سوہا کی بات پہ وہ مسکرایا جب کی پاس بیٹھی معصومہ جو بے بی کارٹ پہ لیٹے حماد کے ساتھ کھیل رہی تھی عماد کو دیکھ کر ناک چڑھائی

پھر تو تمہاری معصومہ کی رنگت چاکلیٹ کی طرح ہوجائے گی دن میں اتنا کھاتی تو جو ہے۔ زویا نے کہا تو سوہا نے مسکرائی

رنگت سے کیا ہوتا ہے انسان کی خوبصورتی اُس کے چہرے نہیں اُس کے دل سے ہوتی ہے اگر دل خوبصورت نہ ہو تو ظاہری خوبصورتی کسی کام کی نہیں ہوتی اور میری بیٹی کا دل خوبصورت چمکتا ہوا ہوگا جس کی روشنی اُس کے چہرے سے ظاہر ہوگی۔ سوہا محبت بھری نظر معصومہ پہ ڈال کر بولی

دل کون دیکھتا ہے

اللہ دیکھتا ہے۔ زویا کی بات پہ سوہا جھٹ سے بولی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسان کی خوبصورتی اُس کے دل سے ہوتی ہے چہرے سے نہیں جیسے ہر چیز فانی ہے ویسے خوبصورتی اور جوانی بھی پر دل کی خوبصورتی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ معصومہ آئینے میں اپنا عکس دیکھتی خود کو یاد کروانے لگی

پر اللہ جی میرا دل تو بہت خوبصورت ہے کاش میں اُس کو سینے سے نکال کر چہرے کے ساتھ فٹ کردیتی ہائے پھر تو مزے تھے۔ معصومہ بیڈ پہ آتی بولی

پر ضروری تو نہیں انسان کی ہر سوچ حقیقت کا روپ اختیار کریں کجھ خواہشات لاحاصل ہوتی ہیں جیسے میری یہ پر خیر ہم یہ حسرت لیں کر جی لیں گے۔ معصومہ خود کو تسلی کرواتی سونے کے لیے لیٹ گئ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *