Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 06)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

آپ صبر کرلیتی میں نے سب سے آپ کا تعارف کروالینا تھا۔کلاس ٹیچر نے کجھ نرمی سے کہا

یہ صبر کرلیتے آپ نے ویسے ہی ہمارا تعارف کروالینا تھا۔معصومہ ڈیسک سے نیچے اُترتی بولی۔

نام کیا ہے آپ کا۔اب کی ٹیچر نے بھی وہی غلطی کردی۔جس پہ معصومہ نے اُن کو ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو آپ سے اِس سوال کی امید نہیں تھی۔

میرا نام معصومہ عباد ہے میں آج سے چار سال پہلے ہسپتال میں پیدا ہوئی آج اسکول میں میرا پہلا دن ہے۔معصومہ نے ادب سے پورا تعارف بتایا۔

ہیں آپ چار سال کی تو اِتنی بڑا جُملا کیسا لکھ لیا آپ نے ابھی تو آپ کی عمر مشق کاپی لکھنے کی ہے۔ٹیچر نے بورڈ کی جانب اشارہ کرکے پوچھا جہاں ٹیڑھی لائنز میں اُس نے اپنا نام لکھا تھا ساتھ میں اُن دونوں کا بھی۔

اپنا نام مجھے آتا ہے اپنے کزنز کا بھی اور یہ جملا روز میں اپنے ڈیڈی سے سیکھتی ہوں میرے پاس ایک رجسٹر ہے جس میں بس یہ ایک لائن لکھی ہے آپ کو دیکھاؤ۔معصومہ نے جواب دے کر پوچھا

نہیں رہنے دے آپ اپنی سیٹ پہ جاکر بیٹھے۔ٹیچر نے کہا تو وہ ایک نظر بورڈ پہ ڈال کر اپنی سیٹ پہ آئی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

افففف اللہ آج کافی تھکادینے والا دن تھا۔سوہا گھر واپس آئی تو سیدھا اپنے کمرے میں آتی صوفے پہ لیٹ گئ کجھ دیر گُزرجانے کے بعد عباد بھی اندر آیا جس کے ساتھ معصومہ تھی۔

مجھے اُس اسکول نہیں جانا۔معصومہ اپنا ہاتھ عباد سے چُھڑواتی سوہا کے سر پہ کھڑی ہوتی بولی۔

پہلے تو بڑا اسکول اسکول کرتی اب کیا مسئلا ہوگیا۔سوہا بے زار شکل بنائے بولی

جانے کیسے عجوبے تھے بار بار نام پوچھ رہے تھے۔معصومہ اُس سے زیادہ بے زار شکل بنائے بولی۔

تو میری ننہی جان اسکول کا فرسٹ ڈے تو اور فرسٹ ڈے پہ نام وغیرہ تو لوگ پوچھتے ہیں نہ پھر اُن کے درمیان دوستی بھی ہوتی ہے۔سوہا اُس کے پُھلے ہوئے گال چومتی بولی۔

ایک دفع بتایا پھر بھی کوئی دوسرا تیسرا آجاتا تنگ آکر میں نے بورڈ پہ اپنا عماد کا اور عبیر کا نام لکھ کیا اور یہ بھی کے میرا نام معصومہ ہے پر مجھے معصوم مت سمجھنا یہ لکھنے کے بعد بھی ٹیچر بولتی ہے تمہارا نام کیا ہے۔معصومہ فر فر بولتی سوہا کو حیران کرگئ اُس نے حیران نظروں سے عباد کو دیکھا جو سنجیدہ تاثرات سے اپنے شوز کے تسمے کھول رہا تھا

یہ اِتنا تم نے لکھا۔سوہا کو یقین نہیں آیا

اور نہیں تو۔معصومہ نے زور سے سر کو جنبش دی۔

میں نے خالی اپنا نام سوہا دس سال کی عمر میں سیکھا تھا اور تم چار سال کی ہوکر یہ سب لکھ گئ مطلب ثبوت دے آئی کے تم عباد حنان کی بیٹی ہو۔سوہا کی بے یقینی سے کہی گئ بات پہ عباد جو سنجیدہ تھا اُس کی ہنسی نکل گئ

میری نہیں تمہاری بیٹی ہونے کا ثبوت دے آئی ہے پورا سال اِس نے بس یہ لائن سیکھی ہے میرا نام معصومہ ہے پر مجھے معصوم مت سمجھنا جب کی نہ تو اُس کو نمبرز آتے ہیں دس سے آگے اور نہ اے ٹو ذی۔عباد سرجھٹک کر بولا۔

تو اب اسکول جانا شروع کیا ہے تو آجائے گا سب آپ کو تو بہانا چاہیے اپنی استادگی دیکھانے کا مجھے پڑھا کر آپ کا دل نہیں بھرا جو اب معصومہ کو پڑھانا چاہتے ہیں۔سوہا معصومہ کو سینے سے لگاتی تیز نظروں سے عباد کو گھورنے لگی۔

تم ماں بیٹی کا معاملہ ہے میں کیا کہہ سکتا ہوں مجھے تو اِس کی ٹیچر نے کال پہ کہا اپنی بیٹی کو سمجھائے بورڈ والی حرکت دوبارہ نہ کریں اگر یہ کریں تو باقی بچے بھی کرنے لگ جائے گے۔عباد نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

ایک تو اِن اسکول والوں کو پہلے مجھ سے مسئلا تھا اب میری بیٹی سے ہوگیا ہے۔سوہا نے کہا تو عباد نے تاسف سے اُس کو دیکھا جس نے اپنی غلطی کو ماننا سیکھا ہی نہیں تھا۔

مم بھوک لگی ہے۔معصومہ اپنا سر اُس کے سینے سے ہٹاتی بولی۔

ہائے میری بچی بھوکی ہے ابھی میں کھانا لاتی ہوں۔سوہا فکرمندی سے بولی۔

تم خود ابھی آئی ہو پہلے فریش ہوجاؤ معصومہ کو بھی کرؤاو تب تک میں کھانے کا کسی ملازمہ سے کہتا ہوں۔عباد سوہا کی بات سن کر بولا تو سوہا مسکراتی سرہلانے لگی۔

💕
💕
💕
💕
💕

تین سال بعد!

ہینڈز اپ میں نے کیا کہاں تھا میرا ہوم ورک کرنے سے پہلے تم اپنی نوٹ بک کی طرف دیکھو گے بھی نہیں پھر اِس گُستاخی کی وجہ اب میں تمہارا سر بھون ڈالوں گی۔سات سالہ معصومہ اپنی پانی والی پستول عماد کی کنپٹی پہ رکھ کر دھمکی آمیز لہجے میں بولی جس پہ دلجمعی سے ہوم ورک کرتے عماد کی آنکھیں خوف سے ایسے پھٹ گئ تھی جیسے اصلی پستول اُس کے سر پہ تانی گئ ہو

سر تو گولی سے پھٹتا ہے پانی سے تھوڑئی۔عماد نے عقل سے کام لیا۔

میرے سامنے زبان چلانے کی سزا جانتے ہو اور دوسری بات یہ کسی ایرے غیرے کی نہیں معصومہ عباد کی پستول ہے جس سے کجھ بھی ہوسکتا ہے میں عباد حنان کی بیٹی بعد میں ہوں پہلے سوہا عباد کی بیٹی ہوں اِس لیے مجھ سے ہوشیاری مت کرنا۔معصومہ نے روعب سے کہا

پلیز تم اِس کو پڑے کرو۔عماد ڈر کر بولا

کیوں گولوں مولوں پھر بتاؤ کب کررہے ہو میرا ہوم ورک۔معصومہ آس پاس لاوٴنج میں نظر گُھماتی بولی

میں کیوں کرکے دوں میرا اپنا بہت ہے اور تم اپنا کام خود کرو۔عماد انکار کرتا بولا۔

میرا نام معصومہ ہے پر مجھے معصوم بلکل نہ سمجھنا اور گولوں مولوں اب تو تمہارا علاج مجھ پہ واجب ہے۔معصومہ اتنا کہتی اُس کے بھرے ہوئے گال کو بہت زور سے کاٹا اُس کا اِتنا کرنا تھا عماد بھاں بھان کرتا رونا شروع کرچُکا تھا جس پہ معصومہ گِڑبڑا گئ۔

عماد کیا ہوا۔اُس کے کانوں میں زویا کی آواز پڑی تو جھٹ سے اپنی پانی والی پستول سے چند بوندے اپنے آنکھوں میں ڈال کر عماد سے زیادہ تیز آواز میں رونے لگی اِن سب میں وہ پستول ٹیبل کے نیچے رکھنا نہیں بھولی تھی۔معصومہ کے رونے کی آواز سن کر سوہا بھی لاوٴنج کی طرف آگئ تھی اور معصومہ کا گیلا چہرہ گیلی آنکھیں دیکھ کر فکرمند ہوگئ

معصومہ تمہیں کیا مسئلا ہے کیوں مارا عماد کو.زویا عماد کو گود میں اُٹھاتی معصومہ سے بولی

ممی عماد نے مجھے ڈانٹا۔معصومہ نے سوہا کو دیکھا تو جھٹ سے کہا

امی نہیں معصومہ نے مجھے کاٹا۔عماد نے جلدی سے زویا کا دھیان اپنے گال پہ کروایا جس پہ زویا کا منہ کُھل گیا۔

سوہا تمہاری بیٹی پاگل ہوگئ ہے اِس کو پاگل خانے داخل کرواؤ۔زویا کی بات سوہا کے سر پہ لگی اور تلوو پہ بُجھی۔

میری بیٹی کو دوبارہ ایسے ناموں سے پُکارہ تو اچھا نہیں ہوگا میری بیٹی کے تو ابھی پانچ دانت باہر آئے ہیں۔سوہا کی بات پہ معصومہ مصنوعی رونا بھول کر منہ کھول کر ہاتھ ڈال کر اپنے دانت چیک کرنے لگی۔

سوہا بجائے تم اِس کو سمجھانے کے اُس کو بڑھاوا دے رہی ہو۔زویا حیرت سے بولی

تو کیا کردیا ایسا یہی تو عمر ہوتی ہے لڑنے کی مزہ کرنے کی مستی مذاق کرنے کی اور تم اپنے بیٹے کے گال دیکھو کیسے سرخ اور بھرے ہوئے ہیں ایپل کی طرح معصومہ کو تو ایپل پسند ہیں بہت تبھی اُس کو ایپل سمجھ کر کاٹ لیا ہوگا۔سوہا کی بات پہ معصومہ نے تائید میں سرہلایا۔

سوہا جو تمہاری بیٹی کرتی ہے میرے بیٹے کے ساتھ اُس کا جواب کون دے گا اِس کو تو گینگسٹر کی بیٹی ہونا چاہیے تھا۔زویا نے معصومہ کو گھور کر سوہا سے کہا

میرے ابا کسی گینگسٹر سے کم ہے۔معصومہ بڑبڑائی تو سوہا نے اُس کو ٹہنی ماری۔

زویا اب تم بات کو بڑھا رہی ہو بچوں کا معاملہ ہے آپسی تم دو رہو۔سوہا نے آرام سے مشورہ دیا

اچھا تمہاری بیٹی میرے بیٹے پہ تشدد پہ تشدد کیے جائے اور میں سائیڈ پہ ہوجاؤ کیونکہ یہ ان بچوں کا معاملہ ہے۔زویا طنزیہ انداز میں بولی تبھی داخلی دروازے سے اندر آتے عباد اور عمار نے لاوٴنج سے آتی آواز سن کر تھکی سانس خارج کی کیونکہ تین سالوں میں اب روزانہ کا معمول ہوگیا تھا بچے لڑتے اُس کے بعد بجائے زویا اور سوہا اُن کو سمجھانے کے خود لڑنا شروع کردیتی تھی۔

کیا ہورہا ہے یہاں۔عباد لاونج میں آتا سخت لہجے میں بولا

ڈیڈی گولوں مولوں نے مجھے اتنا مارا اتنا مارا اتنااااا مارہ کے میں اب کیا بتاؤں۔معصومہ معصوم شکل بنائے کھینچ کھینچ کے لفظ ادا کرتی عباد سے بولی

جھوٹی ہے عماد نے ایسے کجھ نہیں کیا۔زویا فورن سے میدان میں اُتری

خبردار زویا جو میری معصوم بیٹی کو جھوٹا کہا تو کونسا تم یہاں تھی جو ایسا بول رہی ہو۔سوہا فورن سے زویا کو جواب دیتی بولی

تم دونوں تو آپس میں لڑنا بند کرو ہم لوگ تمہیں سنبھالیں یا بچوں کو۔عمار بے زاری سے بولا

عمار یہ دیکھو اِس نے کیسے عماد کا گال گاٹا ہے۔زویا گود میں عماد کو اُٹھاتی عمار سے بولی

تمہارا بیٹا کونسا نازک کلی ہے جو تم راہی کا پہاڑ بنارہی ہو ویسے بھی عماد تو رونے میں لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔سوہا کی بات پہ معصومہ کھی کھی کرنے لگی جس پہ عباد نے ایک گھوری سے اُس کو نوازہ دوسری طرف عماد نے اپنا اُپری ہونٹ باہر نکال لیا تھا۔

گولوں مولوں عرف روندو۔معصومہ کی بات پہ زویا نے تیز نظروں سے اُس کو گھورا جواب میں معصومہ نے سمائل پاس کی۔

💕
💕
💕
💕
💕

کون اپنے کزن کو ایسا کہتا ہے نام تو میں نے اِس لیے اُس کا معصومہ رکھا تھا کیونکہ نام انسان کی شخصیت پہ اثر کرتا ہے پر یہاں تو اُلٹا ہی اثر ہوا ہے۔عباد سخت جھنجھلاہٹ سے بولا

آپ مجھے جو کہتے ہیں میں سن لیتی ہوں پر خبردار جو میری معصوم بیٹی کو کجھ بھی کہا تو۔سوہا عباد کو وارن کرتی بولی۔

میں ایسا کیا کہتا ہوں جو تم سن لیتی ہوں اور اُس کو معصوم مت کہو سوچ رہا ہوں اُس کا نام اب گُنڈی رکھ لیتے ہیں ساری خصوصیات تو وہی ہے۔عباد جل کے بولا

عباد اب آپ میری معصومہ کے ساتھ ناانصافی کررہے ہیں۔سوہا کے اندر ایک ماں کا جوش جاگا

اچھا اور وہ جو ہر ایک کے ساتھ لڑتی رہتی ہے اُس کے بارے میں کیا خیال ہے۔عباد اپنی گود میں رکھا کشن اُچھالتا فل لڑنے والے انداز میں بولا۔

ڈیڈ خبردار جو آپ نے میری ممی کو حراس کیا میں آپ کو شوٹ کردوں گی۔معصومہ دھڑام سے کمرے میں اینٹر ہوتی اپنی پانی والی پستول دور سے عباد پہ تان کر بولی

ہائے میری جان میری بچی ایک تم ہو بس جس کو میری پرواہ ہے۔سوہا خوشی سے چور معصومہ کے ساتھ لگ کر بولی

ڈونٹ واری ممی زمانہ خلاف ہے تو کیا ہوا معصومہ آپ کے ساتھ ہے۔معصومہ ناک سکوڑ کر بولی

جی جی ایک آپ نمونی کی کمی تھی بس یہ دن دیکھنا رہ گیا تھا کے میری بیٹی مجھ پہ پستول تان لے گی۔عباد جل کے بولا

کیا ہوگیا ہے بچی ہے اور کونسا اصل پستول تانی ہے جو آپ ایسے بول رہے ہیں۔سوہا نے گھور کر عباد سے کہا جس کی تائید میں معصومہ نے اپنی شکل معصوم بنالی عباد نے دل ہی دل میں توبہ کی۔

تم عماد سے کیوں لڑی۔عباد مطلب کی بات پہ آیا۔

میں کہاں اُس گولوں مولوں سے لڑی وہ خود لڑا۔معصومہ جھٹ سے بولی

ڈونٹ کال ہِم گولوں مولوں کزن ہے وہ تمہارا۔عباد نے روعب سے کہا

جو آپ کا حکم ڈیڈ حضور نہیں کہتی پر اُس گولوں مولوں نے کہا۔معصومہ کے دوبارہ گولوں مولوں کہنے پہ عباد نے اپنا سر پکڑلیا تھا وہی سوہا ہنس ہنس کے لوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی اُن دونوں کے برعکس معصومہ اپنی چھوٹی سی گردن اکڑا کر کھڑی ہوگئ تھی۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

گولوں مولوں تمہاری وجہ سے میرے ممی ڈیڈی لڑے۔شام کے وقت معصومہ پھر عماد کے سر پہ کھڑی ہوئی جو باہر لان میں بیٹھا ہوا تھا۔

تمہارے ممی ڈیڈی کو لڑنے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی انہوں نے تو شادی ہی لڑنے کے لیے کی تھی۔عماد منہ کے زاویئے بگاڑتا بولا تو معصومہ نے اپنی پانی والی پستول لوڈ کیے عماد کے سارے کپڑے گیلے کردیئے

یہ کیا کردیا میں ابھی نہا کر آیا تھا۔عماد اپنی حالت دیکھ کر اُس پہ چیخا۔

معصومہ سے پنگا ناٹ چانگا اب اگر ممی ڈیڈی کے بارے میں کجھ اول فول کہا تو پھر حشر سوچنا اپنا۔معصومہ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا

تم بُری ہو۔عماد نے نروٹھے پن سے کہا

اچھی ہوکر کونسا میں نے ایوارڈ حاصل کرنا ہے ہی ہی ہی۔اپنی بات پہ خود ہی اُس نے قہقہقہ لگایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عماد یہ پکڑو اپنا ایپل جوس۔رات کے وقت سب ڈنر کررہے تھے جب زویا عماد کی جوس کا گلاس پکڑاتی بولی گلاس عماد نے تو نہیں پر معصومہ نے پکڑلیا

شکریہ خالہ عرف چچی اِس کی مجھے ضرورت ہے گولوں مولوں کو نہیں۔معصومہ جوس کا گھونٹ بھرتی بولی زویا نے ناگواری سے اُس کو دیکھا عماد کی نظریں اپنے جوس پہ تھی جو معصومہ کی حراس میں تھا

یہ عماد کا تھا۔زویا نے دانت پیس کر کہا

اُس کو ضرورت نہیں جوس پِلا پِلا کر بے چارے کو اپنا سرخ ایپل بناڈالا ہے اب ہمارہ بھی کجھ حق ہے۔معصومہ سارا جوس ختم کیے بولی

معصومہ تمہیں جو کجھ چاہیے مجھے بتادو۔سوہا نے محبت سے کہا

تمہاری بیٹی کو تو بس میرے بیٹے کی چیزیں چاہیے۔زویا طنزیہ بولی

زویا بیٹا غصہ کیوں ہورہی ہو بچے کرتے ہیں ایسا۔صغریٰ بیگم نے اُس کو سمجھانا چاہا

تم یہ پیو۔سوہا عماد کی اُتری شکل دیکھ کر سیلیش کا گلاس پکڑاتے کہا معصومہ نے دیکھا تو اُس نے اپنے ہونٹوں پہ زبان پھیری جب کی اِس بار عماد عقل کا استعمال کرتا ایک گھونٹ میں سارا گلاس خالی کرچُکا تھا۔

ممی مجھے بھی سیلیش پینا۔معصومہ نے فرمائشی انداز میں کہا

ایپل جوس پی لیا نہ وہ کافی ہے کل سیلیش پینا اب تمہارے سونے کا وقت ہے۔سوہا اپنے ہاتھ نیپکن سے صاف کرتی بولی

میرا پیٹ نہیں بھرا۔معصومہ احتجاجاً بولی

پیٹ بھرگیا ہے نیت نہیں بھری وہ الگ بات ہے۔سوہا کرسی سے اُٹھتی اُس کی جانب آئی۔

عبیر تم کیوں نہیں کھارہی کجھ۔عباد نے اپنی سائیڈ پہ عبیر کو خاموش دیکھا تو نرمی سے بولا

میرا دل نہیں یہ سب کھانے کو۔عبیر منہ کے زاویئے بگاڑتی بولی

اچھا پھر میری بیٹی نے کیا کھانا ہے۔عباد مسکراکر اُس کو اُٹھاکر اپنی گود میں بیٹھایا

اِس محترمہ نے پیزا کھانا ہے عمر دیکھے اور فرمائشیں پیٹ خراب کرنے کا شوق چڑھا ہے اِس کو۔زویا تنے تاثرات سے بولی تو عبیر اُداس ہوئی

اگر عبیر کو پیزا کھانا ہے تو میں لیکر جاؤں گا اپنی ڈول کو پیزا ہاٹ۔عباد اُس کی شکل دیکھ کر محبت سے گال چوم کر بولا جس پہ عبیر کا چہرہ چمک اُٹھا۔

عباد پلیز اِس کو بگاڑو مت اور پیزا اِس سے ڈائجسٹ بھی نہیں ہوتا۔زویا عباد کو روکتی بولی

زویا عباد اور معصومہ کے برعکس عبیر کبھی کبھار کسی چیز کی فرمائش کرتی ہے تمہارا فرض ہے عبیر کی فرمائش کو پورا کرنا اگر تم ایسے ٹوکتی رہی تو عبیر کبھی کبھار جو فرمائش کرتی ہے وہ بھی نہیں کرے گی۔عباد سنجیدگی سے بولا تو زویا خاموش رہی۔

عمار میں عبیر کو لیکر جارہا ہوں باہر آؤٹنگ بھی ہوجائے گی عبیر کی اور فکر نہیں کرنا عبیر پیزا زیادہ نہیں بس تھوڑا کھائے گی۔عباد کھانے سے فارغ ہوتا عمار سے بولا

اوکے بھائی۔عمار مسکراکر بس یہی بولا۔

چلو تمہارے سونے کا وقت ہوگیا ہے۔سب اپنے اپنے کمرے کی طرف گئے تو زویا عماد سے بولی

مجھے بھی پیزا کھانا۔عماد کی بات پہ زویا نے خشمگین نظروں سے اُس کو گھورا

کل کھالینا ابھی نہیں۔زویا جان چھڑانے والے انداز میں بولی تو عماد کا منہ بن گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ رہا تمہارا پیزا۔عباد ٹیبل کے پاس آتا عبیر سے بولا جس کا چہرہ روشن ہوگیا تھا خوشی سے عباد اُس کو مسکراتا دیکھ کر خود بھی چیئر پہ بیٹھ گیا۔

عباد۔

عباد جو موبائیل میں مصروف تھا جانی پہچانی آواز پہ اپنا سر اُٹھایا تو مناہل کو کھڑا پایا۔

مناہل تم یہاں واٹ آ لونگ ٹائم۔عباد کھڑا ہوتا اُس سے ملتا بولا

ہاں یار بس شادی کے کجھ سال پہلے جرمی جانا پڑا جنید کے ساتھ پھر واپس آئی تو چار سال بعد پھر وہاں جانا پڑا ابھی ہم کجھ دن پہلے پاکستان آئے ہیں۔مناہل نے بتایا تو عباد کی نظر اب اُس کے ساتھ کھڑے لڑکے پہ پڑی جو عمر میں چودہ پندرہ سال کے بیچ تھا اور اُس کی نظریں پیزا کھاتی عبیر پہ تھی۔

یہ۔عباد نے لڑکے کی جانب اِشارہ کیے مناہل سے بولا

تبریز جنید ہے یہ۔مناہل چیئر پہ بیٹھتی مسکراکر بولی

اچھا۔عباد کو حیرت ہوئی۔

دراصل میں جنید کی سیکنڈ وائف ہوں اور یہ اُس کی فرسٹ وائف کا بیٹا ہے تبریز کا دوبارہ اسکول میں ایڈمیشن کروایا ہے تو بس اسکول کی چیزیں لینے کے لیے مارکیٹ آنا پڑا سامان لیتے لیتے وقت کا پتا نہیں چلا اور رات ہوگئ۔مناہل اُس کی آنکھوں میں اُلجھن دیکھتی خود ہی بتانے لگی۔

نائیس کافی سنجیدہ معلوم ہوتا ہے۔عباد نے دور کی کوڈی اچھالی اُس کی بات پہ تبریز نے اپنی نظریں عبیر سے ہٹا کر عباد کو دیکھا۔

میرا نام تبریز ہے زیادہ بات میں اِس لیے نہیں کرتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کوئی میرے ساتھ فرینک ہو۔تبریز سنجیدگی سے بولا اُس کی بات پہ مناہل خاموش رہی جب کی عباد مسکرادیا

یہ کیوٹ بچی تمہاری ہے؟مناہل عبیر کو دیکھتی پوچھنے لگی۔

آ ہاں ایسا ہی سمجھ لو عمار کی بیٹی اور میری بھتیجی ہے معصومہ کی طرح عزیز ہے۔عباد نے عبیر پہ نظر ڈال کر مسکراکر جواب دیا

اچھا تمہاری بیٹی کا نام معصومہ ہے۔مناہل نے کہا تو عباد نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

ٹھیک سے کھاؤ سارا فیس گندہ کردیا اپنا۔تبریز کی اچانک بات آواز سن کر مناہل اور عباد نے عبیر کو دیکھا جس کے گالوں اور ناک پہ پیزا لگا ہوا تھا اور اب کیوٹ سی شکل بنائے باری باری سب کو دیکھ رہی تھی۔

شی از ویری کیوٹ۔تبریز نے مناہل سے کہا تو مناہل حیرت سے اُس کو دیکھنے لگی جس نے پہلی بار کسی کی تعریف کی تھی اور پہلی بار خود سے اُس کو مخاطب کیا تھا یہ بات مناہل کے لیے ناقابلِ قبول تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *