Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 09)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

کس کے کہنے پہ تم نے فائل فراز کو دی۔سامنے کھڑا شخص لڑکے کے منہ پہ در پہ در مُکے برساتا سردترین لہجے بولا

تبریز چھوڑ آج کے لیے اتنا ڈوز کافی ہے۔اپنے دوست کی آواز پہ تبریز نے اپنی نیلی آنکھوں سے اُس کو گھورا جو اب کندھے اُچکاگیا تھا

تمہارا اپنا ہاتھ زخمی ہوگیا ہے۔اُس کے دوست نے کہا تو تبریز کی نظر اپنے ہاتھ پہ پڑی جہاں خون رس رہا تھا پر وہ نظرانداز کرگیا۔

کالج کے باہر کیا تماشا لگایا ہوا ہے مار پٹائی کا شوق اپنے گھر جاکر پورا کرو۔زویا جو آج عبیر کا میڈیکل کالج میں ایڈمیشن کروانے آئی تھی وہاں کجھ لڑکوں کو لڑتا دیکھا تو ناگوار لہجے میں کہا

تبریز جو اپنے ہاتھ پہ رومال باندھ رہا تھا طنزیہ بھری آواز پہ سامنے کھڑی خاتون کو دیکھا

آپ فری ہیں جو ہمیں لیکچر دینے آگئ۔تبریز بدلحاظی سے گویا ہوا۔

شرم آنی چاہیے اپنی ماں کی عمر سے ایسے بات کرتے ہوئے۔زویا تپ کے بولی

آپ کے پاس ہیں تو دے دیں مجھے خود سے کرنی ہوتی تو کب کا نہ کرچُکا ہوتا۔تبریز نے سنجیدگی سے کہا جب کی وہ لڑکا اپنی جان بچاتا بھاگ چُکا تھا۔

لِکھی پڑھی جاہل جنریشن۔زویا ایک نفرت بھری نظر تبریز پہ ڈال کر اپنی گاڑی کی طرف آئی کیونکہ اُس کو عبیر آتی نظر آئی جب کی تبریز کے چہرے پہ طنزیہ سے بھرپور مسکراہٹ نے احاطہ کیا

اوکے کل ملتے ہیں تبریز کا دوست اُس کے بغلگیر ہوتا بولا تو تبریز نے سرہلانے پہ اکتفا کیا۔

وہ جیسے ہی اپنی بائیک پہ بیٹھا اُس کو ایک لڑکی چادر میں نظر آئی تبریز نے سرسری سا اُس کو دیکھا پر جب وہ گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ بندکیا تو اُس کی آدھی چادر دروازے سے باہر پھس چُکی تھی تبریز پہلے جانے کا سوچتا رہا پھر اپنی بائیک سے اُترتا اُس گاڑی کی طرف آیا اُس سے پہلے ڈرائیور گاڑی سٹارٹ کرتا تبریز پیچھلی سیٹ کی طرف کے ونڈو کا شیشے کو نوک کیا۔

عبیر جو ابھی کالج سے آتی گاڑی میں بیٹھی تھی شیشہ ناک ہوا تو اُس نے ایک نظر زویا پہ ڈالی جس کا دھیان سیل فون پہ تھا عبیر نے شیشہ نیچے کیا تھا تو سامنے لڑکے کا چہرہ نظر آیا جس کے خوبصورت چہرے پہ اکتاہٹ بھرے تاثرات تھے اُس کو دیکھ کر عبیر چند پل کے لیے نگاہ ہٹانا جیسے بھول چُکی تھی۔

اوپن دا ڈور۔ تبریز عبیر کے سامنے اپنا بھاری ہاتھ لہراتا سنجیدگی سے بولا جس سے عبیر جیسے خواب سے جاگی۔

جی۔عبیر کو اُس کی بات سمجھ نہیں آئی تبھی پوچھ بیٹھی۔

اے سیڈ اوپن دا ڈور۔تبریز نے اپنی بات دوبارہ سے کہی تو وہ کشمش میں مبتلا ہوئی اُس نے پاس بیٹھی زویا کو دیکھا جس کا دھیان ابھی اپنے سیل فون پہ تھا۔عبیر اللہ کا نام لیتی دروازہ کو کھولا تو تبریز نے اُس کی چادر کا سہرا پکڑ کر اندر کیا۔

دوبارہ خیال سے بیٹھیے گا۔تبریز اِتنا کہتا اپنے راستے چل دیا زویا جو اپنے فون پہ ای میلز چیک کررہی تھی جانی پہچانی آواز پہ سراُٹھایا تبریز پہ نظر پڑتے ہی اُس کو کجھ دیر پہلے والا واقع یاد آیا تو غصہ عود آیا۔

کیا کہہ رہا تھا۔زویا نے تیز نظروں سے عبیر کو گھورا

کجھ نہیں بس میری چادر دروازے پہ اٹک گئ تھی وہی بتانے آیا تھا۔عبیر نے آہستہ آواز میں کہا

اگر چادر سنبھالنی آتی نہیں تو پہنتی کیوں ہو۔زویا نے تبریز کا غصہ عبیر بے چاری پہ اُتارا اب کی عبیر بنا جواب دیئے اپنا چہرہ نیچے کرگئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

کل دیکھ کر چھپتے تھے اب

دیکھتے ہیں چھپ کر وہ دور تھا

بچپن کا یہ دور جوانی ہے

عماد کا دوست فیصل شریر نظروں سے اُس کو دیکھتا گانا گُنگُنانے لگا عماد جس کی نظریں یونی کے گراؤنڈ میں اپنی دوستوں کے سے ہنستی مسکراتی معصومہ پہ تھی فیصل کی آواز پہ اپنی نظروں کا زاویہ بدلا

ایسا کجھ نہیں فضول بولنے سے پرہیز کرو۔عماد اپنا چشما ٹھیک کرتا بولا

میں نے تو کجھ نہیں کہا میں تو بس گانا گارہا تھا تم جانے کیا سمجھ رہے ہو۔فیصل کندھے اُچکاکر بولا عماد اُس کی چلاکی پہ پیج وتاب کھاتا رہ گیا۔

تمہارا ہر کام فضولیات میں سے ہیں اور کجھ نہیں۔عماد نے گھور کر اُس سے کہا

بس یار کیا کرو اِس بات سے کبھی غرور نہیں کیا۔فیصل دانتوں کی نمائش کرتا بولا۔

ہماری لاسٹ کلاس نہیں ہوگی تو میں چلتا ہوں۔عماد ہاتھ میں پہنی گھڑی پہ وقت دیکھتا بولا

تمہاری مرضی ورنہ میرا موڈ آج آوٴٹنگ کا تھا۔فیصل نے اُس کو اُٹھتا دیکھا تو کہا

معصومہ کو ڈراپ کردوں گھر پھر ملتے ہیں۔عماد کجھ سوچ کر بولا

اُس کو بھی لیں چلتے ہیں ایسا کرتے ہیں سارا گروپ اکٹھا چلتے ہیں مزا آئے گا۔فیصل نے مشورہ دیتے کہا

میں معصومہ کو ڈراپ کرکے آتا ہوں۔عماد اپنی بات پہ زور دیتا بولا تو فیصل بس اُس کو دیکھتا رہ گیا جو سِرے سے اُس کی بات کو نظرانداز کرگیا تھا۔

معصومہ چلو۔عماد لڑکیوں کے جھرمٹ میں بیٹھی معصومہ سے بولا

ہینڈسم کبھی ہم کو بھی مخاطب کرلیا کرو۔اُن کی کلاس فیلو آسیہ نے کہا تو سب مسکراتی نظروں سے عماد کو دیکھنے لگی جس کی نظریں معصومہ پہ تھی۔

تمہاری بہن تم سے بات کررہی ہے جواب تو دو۔معصومہ گراؤنڈ کی گھاس سے اُٹھ کر کھڑی ہوتی ہاتھ جہاڑ کر عماد سے بولی

ہمیں کوئی شوق نہیں اتنے ہینڈسم بوائے کی بہن بننے کا۔آسیہ کو معصومہ کی بات پسند نہیں آئی تو کہا

پر عماد کو بہت شوق ہے بہن بنانے کا۔معصومہ نے دانتوں کی نمائش کرتی بولی عماد تاسف بھری نظروں سے معصومہ کی چلتی زبان دیکھ رہا تھا۔

تم اب کیوں کھڑے ہو چلو یا اپنی بہنوں کو رکشا بندھن پہنانا ہے۔معصومہ اُن کو جواب دیتی عماد کو گھور کر بولی۔

میں تو انتظار کررہا ہوں کب تم اور میری بہنوں بناؤ گی۔عماد طنز بولا

اِتنی بہنوں کا کیا کرو گے اب چلو۔معصومہ اُس کی مضبوط کلائی پکڑتی بولی تو عماد سرجھٹکتا اُس کے ساتھ چلنے لگا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

ٹیسٹ پاس کرنے کی مبارک ہو اور یہ منہ میٹھا کرو۔زویا اور عبیر گھر آئی تو سوہا عبیر کے منہ کے پاس گلاب جامن کرتی مسکراکر بولی۔

شکریہ چچی جان۔عبیر مسکراکر بولی

تم بیٹھو اور آج اپنی پسند بتانا کیا کھاؤں گی کیونکہ اب تم نے اپنی صحت کا خیال رکھنا ہے میڈیکل اتنا آسان نہیں۔سوہا نے شرارت سے عبیر کو دیکھ کر بولی جس پہ عبیر ہنس پڑی

مشکل ہو یا آسان میری بیٹی کردے گی اور تم یہاں بیٹھنے کے بجائے اپنے کمرے میں فریش ہونے کے لیے جاؤ۔زویا سوہا سے کہتی عبیر سے بولی جس کا مسکراتا چہرہ بُجھ چُکا تھا۔

اتنی سختی سے بات مت کیا کرو لڑکی ذات ہے تمہاری بیٹی ہے اُس کا ہی کجھ خیال کرلو ہماری ماں نے تو کبھی ہم سے ایسے بات نہ کی۔عبیر کے جانے کے بعد سوہا زویا کو ٹوکتی بولی

لڑکی ذات ہے تبھی سختی سے پیش آتی ہوں تم کیا چاہتی ہو آزادی دے کر اُس کو معصومہ جیسا بناؤ۔زویا نے طنزیہ کہا

میری بیٹی کے بارے میں کجھ غلط مت کہنا زویا ورنہ میں کوئی لحاظ نہیں کروں گی اور تمہاری معلومات کے لیے بتانا چاہوں گی ہم نے اپنی بیٹی کو آزادی نہیں اعتماد دیا ہے جو تم نے عبیر کو نہیں دیا تبھی ہر وقت ڈری سہمی سی رہتی ہے اپنے گھر میں بھی کپڑے تک تمہاری پسند کے مطابق پہنتی ہے کیا کھانا ہے کیا پینا کب ہے کھانا ہے کب پینا ہے سب کجھ وہ اب بائیس سال کی ہے کوئی پانچ یا سات سال کی نہیں زویا جو تم نے اُس پہ اتنی پابندیاں کی ہوئی ہیں اُس کو تم نے خود سے دور کردیا ہے ایک ماں کا فرض ہوتا ہے اپنی بیٹی کو یہ اعتماد دلانا کے جب بھی اُس کو تنہائی محسوس ہو کوئی بات اگر وہ کسی سے کرنا چاہتی ہو پر کہہ نہیں پارہی ہو تو اپنی ماں سے کہے یہ سوچ کر ڈرے نہیں میری ماں کیا کہے گی تب وہ ماں بیٹی کا رشتہ سائیڈ پہ کرکے یہ سوچے میں اپنی سہیلی سے اپنے دل کی بات کررہی ہے اپنا ہر مسئلہ اپنی ہر بات اپنی ماں سے بنا جھجھک کر کریں۔سوہا نے پہلے سخت پھر آرام سے زویا سے کہا۔سوہا کی ساری بات پہ زویا خاموش نظروں سے اُس کو دیکھتی رہی پھر بنا کجھ کہے اُٹھ کر چلی گئ سوہا نے افسوس سے اُس کی پشت کو دیکھا

اسلام علیکم مسلمانوں۔ معصومہ عماد کے ساتھ آتی بلند آواز میں سلام کرنے لگی۔

وعلیکم اسلام۔سوہا نے مسکراکر جواب دیا۔

ارے عماد تم کہاں جارہے ہو۔زویا نے سیڑھیوں کے ریلنگ پہ ہاتھ رکھے عماد سے پوچھا جو اب واپس جارہا تھا۔

فرینڈ کے ساتھ پلان ہے۔عماد نے جواب دیا

اچھا پہلے بہن کو مبارکباد دو۔زویا نے کہا

عبیر آگئ کالج سے؟عماد نے مسکراکر پوچھا

ہاں اور اپنے کمرے میں ہیں۔زویا جواب دیتی زینے عبور کرگئ۔

میں بھی ذرہ اپنی انوسینٹ ڈیئر کزن کو مبارک دے آؤ۔معصومہ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی۔

مبارک ہو آخر تمہارا خواب پورا ہونے جارہا ہے۔عماد نے مسکراکر عبیر کے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا

میری مبارک بھی قبول کرلوں آخر تم نے معرکہ مار لیا۔معصومہ زور سے عبیر کو گلے لگاتی بولی

شکریہ اب نیکسٹ ماہ کلاسس شروع ہیں اُس کے لیے نروس ہوں۔عبیر نے کہا

تم قابل اسٹوڈنت ہو اِس لیے پریشان مت ہوا کرو اگر کجھ سمجھ نہ آئے تو ڈیڈی یا تمہارا چشماٹو بھائی ہے نہ ویسے تو تمہارے ابا حضور اور حانم بھی ایک ڈاکٹر ہیں۔معصومہ اُس کو کندھا مارتی شرارت سے گویا ہوئی جس عماد سرجھٹک کر مسکرادیا

وہ تو ہے۔عبیر مسکراکر اُس کی بات سے اتفاق کرنے لگی۔

ویسے آج حماد کا بھی رزلٹ ڈے ہے۔معصومہ کو اچانک یاد آیا

اے ون ہی آئے گا تمہاری طرح نالائق اسٹوڈنٹ نہیں وہ۔عماد نے اُس کو چِڑایا

کوئی موقع ہاتھ سے نا جانے دے نہ۔معصومہ نے گھورتے کہا

تم دونوں لڑنا تو بند کرو بچپن سے آپ دونوں کی لڑائی ختم ہونے کو نہیں آتی۔عبیر نے مسکراکر دونوں کو دیکھ کر کہا

وہ تو اب شاید میری شادی کے بعد ہو جب میں پیا دیس چلی جاؤں تو۔معصومہ نے ڈرمائی انداز میں کہا عماد کے تاثرات معصومہ کی بات پہ یکدم بدلے تھے

میں لیٹ ہورہا تھا تو چلتا ہوں رات کو ملتے ہیں ڈنر پہ۔عماد سنجیدگی سے کہتا کمرے سے باہر گیا۔

💕
💕
💕
💕
💕

بھائی۔

تبریز سیڑھیوں کی طرف بڑھتا اپنے کمرے میں جانے کا اِرادہ رکھتا تھا جب چودہ سالہ فرشتے کی آواز پہ پلٹا جو اپنے دونوں ہاتھ کمرے پہ ٹکائے اُس کو گھور رہی تھی تبریز پہلے تو ناسمجھی سے اُس کا انداز دیکھنے لگا پر کجھ یاد آتے اُس نے کان کی لو کُھجائی

کل کا دن تمہارا آج میں سچ میں بھول گیا تھا۔تبریز اُس کی طرف قدم بڑھاتا نرمی سے بولا

ناٹ فیئر بھائی آپ نے پرومس کیا تھا آج کے دن ہم شاپنگ پہ جائے آپ مجھے میری پسند کے مطابق ہر چیز لیکر دے گے ہم ساتھ مووی دیکھے گے کوکنگ کریں گے خوب سارا انجوائے کریں گے پر آج آپ تو غائب تھے صبح سے۔فرشتے اپنے چھوٹے ہاتھ ہلاتی تبریز کو یاد کروانے لگی۔

سوری نہ کل پکا جو تم کہوں گی ویسا ہوگا۔تبریز اُس کے بالوں کی پونی کھینچتا بولا تو فرشتے کی نظر اُس کے زخمی ہاتھ پہ پڑی جس پہ تبریز نے رومال باندھا ہوا تھا

یہ آپ میں سلمان خان کی روح کیوں گُھس جاتی ہے۔فرشتے تبریز کا ہاتھ تھامتی فکرمندی اور کجھ روعب سے بولی تو تبریز مسکرادیا

ہلکی چوٹ ہے۔تبریز نے کہا

ہلکی یا گہری چوٹ چوٹ ہوتی ہے آپ رُکے میں فرسٹ ایڈ بوکس لاتی ہوں۔فرشتے نے پریشانی سے کہا

اُس کی ضرورت نہیں۔تبریز نے انکار کیا

آپ سے پوچھا نہیں چپ چاپ بیٹھے میں آتی ہوں۔فرشتے نے روعب سے صوفے کی جانب اِشارہ کیے کہا تو تبریز نے سیلینڈر کرنے والے انداز میں ہاتھوں کو اُپر کیا اور صوفے پہ براجمان ہوا فرشتے بھی مسکراتی فرسٹ ایڈ بوکس لینے کے لیے گئ تبریز اپنی زندگی میں اگر کسی سے نرمی سے بات کرتا تھا تو وہ تھی فرشتے جس کے سامنے وہ مختلف ہوتا تھا جس کے لاڈ اُٹھانے سے اُس کو سکون ملتا تھا فرشتے میں تبریز کی جان تھی بورڈنگ اسکول واپس آنے کے بعد وہ یہاں رہنا نہیں چاہتا تھا پر جب تین سالہ فرشتے کے نے اُس کو بھائی کرکے پُکارہ تھا تب تبریز نے اپنا فیصلہ بدل دیا تھا اپنی بہن فرشتے کے لیے۔

مناہل کو جو لگتا تھا تبریز اُس کی اولاد سے سوتیلے بھائی جیسا سلوک کرے گا پر اب دونوں میں پیار دیکھتی اُس کو جتنی حیرانی ہوتی اُس سے دُگنی خوشی ہوتی کیونکہ فرشتے کے لیے تبریز سگے سے زیادہ عزیز تھا تبریز نے کبھی کوئی فرق نہیں کیا تھا جس سے اب مناہل مطمئن تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *