Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain NovelR50573 Mohabbatein (Episode 12)
Rate this Novel
Mohabbatein (Episode 12)
Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain
عماد معصومہ کو لیکر پورچ کی طرف آیا ہاتھوں میں پکڑا بیگ پھینکنے والے انداز میں پچھلی سیٹ پہ رکھا جب کی معصومہ اُس کے غصے سے بے نیاز مسکراتی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ گئ
اپنے دانت اندر کرو ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ عماد نے مسلسل اُس کو مسکراتا دیکھا تو گاڑی ڈرائیو کرتے سختی سے کہا
ہاہاہاہا عماد بابو آج تو تم ہمارا سر قلم بھی کردو تو یہ دانت اندر نہیں جائے گے۔معصومہ قہقہقہ لگاتی مزے سے بولی
مجھ سے بات مت کرو۔عماد غصے سے بولا
میں تو کروں گی اور یار اچھا ہوا جو تم نے اُس کا ڈائی کلو کا ہاتھ بیچ میں روک لیا ورنہ تو میں دس دن بیڈ سے نہ اُٹھ پاتی۔معصومہ اُس کی طرف چہرہ کرکے بولی جب کی عماد کی گرفت اسٹئرنگ پہ مضبوط ہوئی
مارتا تو اچھا تھا کجھ دن سکون تو ہوتا۔عماد سرجھٹک کر بولا
ویسے یار تم نے جیسے مجھے پروٹیکٹ کیا جو ڈائیلاگ مارے سچی میں تو عش عش کر اُٹھی غش کھاتی گِرنے بھی والی تھی پر خود کو سنبھال لیا تم نے تو آج ایس آر کے ایس کے اے کے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ویری ایمپریسو۔معصومہ ہاتھوں کو ہلا ہلا کر بولی
چپ رہ سکتی ہو۔عماد ضبط سے بولا
لڑائی میری اُس لمبو پھٹان سے ہوئی ہے ایٹی ٹیوڈ تم دیکھا رہے ہو وہاں تو ایسے ساتھ دیا جیسے جانے کتنی محبت ہو مجھ سے اور اب بن گئے کھڑوس جلاد۔معصومہ کے منہ کے زاویئے بگاڑ کر بولی
بڑا پتا ہے کے وہ پھٹان ہوگا۔عماد تو جل بھن پڑا
ارے نہیں یہ تو میں نے اُس کی رنگت دیکھ کر نام دیا ہے تمہیں بھی دیتی پر تم میرے خاندان کے لڑکے ہو۔معصومہ دانتوں کی نمائش کرتی بولی
ویسے کمینے نے نہ خود شرٹ لی نہ مجھے لینے دی قیامت کے دن اُس کا گریبان میرے ہاتھ میں ہوگا۔عماد کو جواب نہ دیتا پاکر معصومہ پھر بول پڑی
پھر شرٹ تمہاری سوئی اُس شرٹ پہ کیوں اٹکی پڑی ہے مجھے تو حیرت ہورہی ہے سارے مال میں تمہیں ایک وہی شرٹ نظر آرہی تھی جو ایسا طوفان مچایا۔عماد تپ کے بولا
وہی تو یہ بات تم اُس سے کہو جو مرے جارہا تھا یہ خیال نہیں آیا معصوم سی لڑکی ہے اُس کا دل کیا ہے دے دی جائے پر نہ جی شرٹ کو دو حصو میں تقسیم کرے گا پر کسی کو دے گا نہیں۔معصومہ جھلا کر بولی عماد کا دل کیا گاڑی کہی دے مارے
مجھے تو تمہارا بھائی لگا نہ جگہ دیکھی نہ کجھ اور بس مرنے مارنے پہ اُتر آیا چچا سہی کہتے ہیں ہسپتال میں بچے چینج ہوگئے ہوگے
اللہ نہ کریں میرا ایک بھائی کافی ہے اور میں عباد حنان سوہا عباد کی بیٹی ہوں بھائی کی بات کی جااءے تو دوسرے کی گنجائش نہیں نکلتی حماد کافی ہے میری جان کا عذاب میرا چھوٹو کیوٹو اور وہ اگلی بار ملے گا تو میں اُس کو بتاؤں گی معصومہ عباد کیا چیز ہے۔معصومہ عماد کی بات پہ کانوں کو ہاتھ لگانے لگی۔
خبردرا جو تم پھر کسی سے ایسے لڑنے بیٹھ گئ معصومہ میں بتارہا ہوں ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں گا اگر وہ بدمغز ملے بھی تو راستہ بدل دینا۔عماد تیز آواز میں بولا
ہاں لاوارث ہیں نہ میری ٹانگیں جب دیکھو تب ہر کوئی بولتا ہے ٹانگیں توڑ دے گے میری جیسے میں وارث نہیں ہوں۔معصومہ ناک چڑھا کر بولی
حرکتیں درست کرلوں اپنی تم پھر کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔عماد نے مفت مشورہ دیا
تم اب زیادہ باتیں نہیں کرو نہ مجھ پہ روعب جماؤ نام کیا معصومہ ہوگیا سب کو معصوم سمجھنے لگے۔معصومہ منہ کھڑی کی طرف کیے بولی۔






تبریز گھر آتا سیدھا تیز قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا مناہل حیرت سے اُس کا انداز دیکھنے لگی۔
پری کجھ ہوا ہے کیا تم دونوں جلدی آگئے وہ بھی خالی ہاتھ؟مناہل فرشتے کو پیار سے پری کہا کرتی تھی۔
موم بس مال میں برو کی کسی کے ساتھ بحث ہوگئ۔فرشتے نے کندھ اُچکاکر بولا
کیا تبریز نے وہاں بھی مارپیٹ کی۔مناہل کو افسوس ہوا
نہیں نہیں مار وغیرہ نہیں ہوئی بس زبانی ایک دوسرے کو ٹکر دے رہے تھے۔فرشتے نے مسکراکر بتایا
کس سے بحث اور کیوں؟مناہل نے جاننا چاہا
زیادہ مجھے نہیں پتا پر شاید کسی شرٹ پہ جھگڑا ہوا پر دونوں طرف مقابل سخت تھا ایک سیر تھا تو دوسرا سوا سیر اُن کی لڑائی کا انداز دیکھ کر میرا تو ہنسا نہیں رُک رہا تھا۔فرشتے کی بات پہ مناہل نے اُس کو گھورا
تمہارا بھائی کسی سے جھگڑا کرکے آیا ہے اور تم مسکرا مسکراکر بتارہی ہو۔مناہل نے خفگی سے کہا
موم لڑائی کیا کمنڈی کہے سچی بچوں کا انداز تھا بس ایک دوسرے کے بال پکڑنے کی کثر رہ گئ۔فرشتے ہنس کے بولی
حیرت ہے ویسے شرٹ کی وجہ سے لڑائی ہوئی۔مناہل کجھ حیران ہوئی
ہممم شاید میں جب وہاں گئ تو برو کے ہاتھ پھٹی ہوئی شرٹ تھی جو ان دونوں کی طرف پھیک رہا تھا اور آپ کو پتا شاید وہ لوو برڈز تھے برو نے جیسے کہا یہ تمہارے بھائی پہ سوٹ کرے گی لڑکی کا جوش دیکھنے لائق تھا جب کی ایک کیوٹ سا لڑکا تھا آنکھوں پہ نظر کے گلاسس پہنے ہوئے تھے اُس کی شکل پہ تو بارہ بچ گئے تھے۔فرشتے کو اچانک یاد آیا تو اپنے ایک ہاتھ پہ تالی مار کر بولی
شرم کرو اتنی عمر میں پتا چلنے لگا ہے لوو برڈز کا مناہل نے اُس کو ڈپٹا تو فرشتے نے منہ بسورا






حماد ویڈیو گیم کھیل رہا تھا جب معصومہ اُس کے کمرے میں آئی۔
حماد پتا ہے آج کیا ہوا۔معصومہ نے ریموٹ اُس کے ہاتھ سے لیکر کہا
کیا ہوا۔حماد متجسس ہوا
آج عماد نے نہ ایک لڑکے کو کھڑی کھڑی سُنائی۔معصومہ مزے سے بتانے لگی
نہ کریں عماد بھائی نے یا آپ نے کیونکہ ہمارے گھر میں تو بریک فیل زبان آپ کی ہے۔حماد کی بات پہ معصومہ نے دانت پیسے
اللہ نے ایک بھائی دیا وہ بھی کمینہ۔معصومہ اُس کے ماتھے پہ چپت لگاتی بولی
یار آپو نہ کریں بھائی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں چھوٹے ہو یا بڑے اِس لیے میری قدر کریں۔حماد نے فرضی کالر جہاڑ کر کہا
اچھا میرے محترم محافظ بھائی کبھی اپنی بہن کی طرف داری کرلیا کرو پر نہیں تمہارا سگا تو وہ چشماٹو عماد ہے۔معصومہ تاسف سے اُس کو دیکھ کر بولی
وقت آنے پہ کرلوں گا ٹینشن ناٹ آپ کا یہ بھائی تب آپ کے ساتھ ہوگا جب یہ زمانہ آپ کے خلاف ہوگا۔حماد اُٹھتا اداکاری کے تمام رکارڈ توڑ کر بولا
اور تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے زمانہ میرے خلاف ہوگا۔معصومہ نے آنکھوں کو چھوٹا کیے سوال داغا
او ہو میری معصوم آپو وقت ایک سا تو نہیں رہتا نہ کب کہاں پلٹ جایا کجھ پتا نہیں چلتا۔حماد اُس کے قریب بیٹھتا ہاتھوں کو اِشارہ دیئے بتانے لگا۔
چھوٹے ہو چھوٹے بن کر رہو اور میری پوری بات سنو۔معصومہ نے کوفت سے کہا
آپ سُنائیں گی تو سنوں گا نہ۔حماد کے زبان میں کُھجلی ہوئی
جیسا کے عماد اور عبیر کی سالگرہ ہے نہ کجھ دن بعد تو میں نے سوچا عماد کے لیے گفٹ خرید لوں مجھے ایک نیلے رنگ کی شرٹ پسند آئی سوچا عماد کے لیے لوں پر اچانک سے لمبو لڑکا آگیا اُس کو بھی وہی شرٹ چاہیے تھی جو مجھے چاہیے تھی۔معصومہ اتنا بتاکر خاموش ہوئی
اُس کے بعد کیا ہوا وہ آپ کی معصوم شکل دیکھ کر پھسل گیا اور کہا ہوگا یہ آپ لیں میں کوئی دوسری دیکھ لوں گا لیڈیز فرسٹ لڑکیوں کا احترام کرنا چاہیے اُن کی بات کو اول ترجیح دی جائے شرٹ کا کیا ہے آپ لیں یا میں ایک بات ہے۔حماد نے اچھی خاصی تقریر کرڈالی
مس اے ٹو ذی آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے یہ میل شرٹ ہے آپ گرلز شاپ پہ جائے۔
محترمہ اتنا خوشفہم ہونا بھی اچھی بات نہیں کبھی فرصت سے آئینے میں اپنی شکل دیکھنا کسی چڑیل سے مشابہت رکھتی ہے
حماد کی بات پہ معصومہ کے کانوں پہ تبریز کے جُملے گونجے تو جھرجھری لی
اتنا بھی کوئی نیک اشرافیہ نہیں تھا یہ اچھائی کا کیڑا تمہارے عماد بھائی کو ہوتا ہے ورنہ آج کل کے لڑکے بہت تیز ہے۔معصومہ نے بڑے سنجیدہ لہجے میں کہا
تو کیا اُن کو پتا چل گیا آپ بس نام کی معصومہ ہے دماغ آپ کا شیطانی ہے۔حماد بے اختیاری میں بول کر زبان دانتوں تلے دباگیا
تمہاری گدی سے زبان کھینچنی پکڑے گی۔معصومہ اُس کا کان مڑوڑتی بولی
آہ آ ا
فلحال کان تو چھوڑے۔حماد چیختے بولا
چھوڑدیا کیا کروگے۔معصومہ نے جیسے احسان کیا
سچی آپو میں کبھی کبھی سوچتا ہوں جس نام آپ کا معصومہ ہے پر اُس کا اثر اُلٹا پڑا ہے تو شکل پہ بھی پڑتا شکل بھی کسی چڑیل سے ملتی جُلتی تو مزہ آجاتا۔حماد اپنی بات کہتا گدھے کے سِر کی طرح غائب ہوگیا معصومہ پہلے تو اُس کی بات کا مطلب نہیں سمجھی پر سمجھ آنے کے بعد اُس کے پیچھے لپکی
حماد کے بچے تیرا قتل تو آج مجھ پہ واجب ہوا







کیا کررہی ہو۔عمار عبیر کے کمرے میں آتا مسکراکر پوچھنے لگا
پریزیٹیشن تیار کررہی تھی۔عبیر نے مسکراکر جواب دیا
پڑھائی کیسی جارہی ہے کوئی مشکل ہو تو میرے پاس آجانا یا اپنے بڑے ابو کے پاس۔عمار نرمی سے اُس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر بولا
پڑھائی تو اچھی چل رہی ہے سب سے انٹرڈیوس ہوا اور فلحال تو کجھ مشکل نہیں لگ رہا۔عبیر نے آرام سے جواب دیا۔
اچھی بات ہے پڑھائی پہ دھیان دیا کرو کوئی مسئلہ ہو تو مجھ سے شیئر کرلینا کسی سے ڈرنے کی ضروری نہیں۔عمار نے نرمی سے کہا
شکریہ ڈیڈ۔عبیر اُس کے سینے پہ سر رکھتی یہی بول پائی تبھی زویا کمرے میں داخل ہوئی
شکریہ کیوں؟عمار ایک نظر زویا پہ ڈالتا پوچھنے لگا
آپ مصروفیت میں ہوتے ہوئے بھی میرے لیے وقت نکالتے تھے۔عبیر شکوہ کرتی نظروں سے زویا کو دیکھتی بولی جس سے وہ پہلو بدل کے رہ گئ
اب شرمندہ تو مت کرو۔عمار ہنس کے بولا
تمہارے لیے دودہ لائی تھی سونے سے قبل پی لینا۔زویا سائیڈ ٹیبل پہ دودہ کا گلاس لکھتی عبیر سے بولی
جی پی لوں گی۔عبیر نے جواب دیا


معصومہ تیار ہوتی باہر آئی تو ہمیشہ کی طرح عماد کو اپنا انتظار کرتا پایا
چلیں۔معصومہ گاڑی میں بیٹھ کر بولی
ہمم۔عماد بس اتنا بولا
عماد میں نے کجھ سونگز سلیکٹ کیے ہیں تم ایک سونگ پہ میرے ساتھ کپل ڈانس کرنا۔معصومہ پرجوش آواز میں بولی
مجھے ڈانس نہیں آتا۔عماد بے تاثر لہجے میں بولا
عماد پلیز ایسا تو مت کہو ورنہ میرا کپل ڈانس کرنے کا خواب بس خواب رہ جائے گا۔معصومہ ڈرمائی انداز میں بولی
کل والا پارٹی ڈریس پسند آیا جو میں نے تمہارے لیے لیا تھا۔عماد نے بات بدلی
ہاں دیکھا لونگ فراق تھا بادامی کلر کا بہت اچھا تھا تمہاری پسند کا جواب نہیں۔معصومہ خوشی سے بولی
اب میرے لیے تم نے سلیکٹ کرنا ہے۔عماد اُس کی طرف دیکھ کر بولا
کیا مطلب تم نے اپنے لیے کجھ نہیں لیا۔معصومہ کو حیرت ہوئی
نہیں کل تمہاری مہابارت والی لڑائی ختم ہوتی تو کجھ لیتے بھی۔عماد طنزیہ بولا
یہ ٹیپیکل ساس کی طرح بات پہ بات ٹونٹ مت مارا کرو۔معصومہ نے بے زاری سے کہا
سیریسلی ٹیپیکل ساس۔عماد بونچکار کے رہ گیا
اور نہیں تو میری دعا ہے میری جس سے شادی ہو اُس کی نہ تو کوئی ماں ہو نہ کوئی بہن ہو اکلوتا ہو نہیں تو خوامخواہ روز نیا کٹا کُھل جائے گا زندگی کا مزہ خراب ہوجائے گا ساس کہاں خوش رہنے دیتی ہے اپنی بہوؤ کو۔معصومہ آنکھوں کو بڑا کیے بولی عماد کا موڈ بُری طرح خراب ہوگیا تھا تبھی بنا جواب دیئے گاڑی کی اسپیڈ تیز کرلی






کیا آج بھی راستہ بھول گئ تم؟تبریز عبیر کے پاس آتا بولا جو اکیلی گراؤنڈ پہ موجود تھی۔
نہیں کلاس کا وقت نہیں تھا میرا تو یہاں آگئ۔عبیر ایک نظر اُس کو دیکھ کر بولی
تمہارا نام کیا ہے۔تبریز نے سرسری لہجے میں پوچھا تو عبیر نے چونک کر سراُٹھا کر تبریز کو دیکھا جس کے چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا
عبیر عمار۔عبیر آہستہ سے اپنا نام بتایا
عبیر نائیس نیم۔تبریز اُس کا نام لیتا توصیفی لہجے میں بولا تبھی کالج گراؤنڈ میں دو لڑکے بھاگتے ہوئے جارہے تھے اُن میں سے ایک کی ٹکڑ عبیر سے ہوئی اُس سے پہلے عبیر منہ کے بل گِرتی تبریز نے بازوں سے پکڑ اُس کو گِرنے سے بچا کر خون آشام نظروں سے دور جاتے اُن دونوں لڑکوں کی پشت کو دیکھا
تم ٹھیک ہو۔تبریز نے فاصلہ قائم کیے عبیر سے بولا جس کے چہرے پہ گھبراہٹ کے تاثرات تھے
جی۔عبیر سوکھے لبوں پہ زبان پھیر کر بولی
تبریز ایک نظر اُس پہ ڈالتا چلاگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. .
اپنے ڈپارٹمنٹ میں آتے تبریز کی تنقیدی نظریں پورے کلاس میں گھومنے لگی
فیاض
اکرم
زرہ کالج کی بیک سائیڈ پہ تو آنا۔تبریز نے پچھلی سیٹ پہ دو لڑکوں کو دیکھ کر کہا جو ایک دوسرے کے ہاتھ پہ تالی مار کر ہنس رہ تھے پر تبریز کی بات پہ اُن کا رنگ فق ہوا یہ وہی تھے جن کی وجہ سے عبیر گِرنے والی تھی۔
کیوں؟دونوں میں سے ایک نے ہمت کرکے پوچھا
کیونکہ جواب اچھے سے دوں گا ایک دفع کالج کی بیک سائیڈ پہ آؤ تم دونوں۔تبریز سرد نظروں سے دونوں کو گھورتا بولا
آتے ہیں۔اُن کے گلے سے پھسی پھسی سی آواز نکلی
