Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 14)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

کوئی شرم حیا ہے رات کے اِس وقت عماد کے کمرے میں کیا کررہی تھی۔زویا نے تپ ہوئے لہجے میں پوچھا

خالہ عرف چچی جان کہیں جانے کے لیے تو پیروں کا ہونا ضروری ہوتا ہے نہیں۔معصومہ نے زویا کو مزید تپایا

آئیندہ میں تمہیں عماد کے آس پاس بھی نہ دیکھوں میرے بیٹے سے دور رہنا۔زویا نے انگلی اُٹھا کر وارن کیا معصومہ نے ایک نظر اُس کی انگلی کو دیکھا پھر اُس کے چہرے کو جہاں نفرت بھرے تاثرات صاف عیاں تھے

عماد میرا کزن ہے میرے والد کے بھائی کا بیٹا اُس سے دور رہنے کے لیے مجھے کوئی کہہ نہیں سکتا اور نہ کرسکتا ہے اگر کسی نے ایسا کیا بھی تو معصومہ عباد کو اپنے راستے میں آتا کنکر دور ہٹانا اچھے سے آتا ہے۔معصومہ نے مسکراکر کہا تو زویا نے مٹھیاں بھینچی

اچھی تربیت کی ہے ما

میری ماں کے بارے میں ایک لفظ مت کہیے گا یا اُن کی تربیت ہی ہے جو میں خاموش ہوں کسی کو آپ کی گھٹیاں سوچ کا نہیں بتایا۔معصومہ زویا کی بات بیچ میں ٹوکتی سنجیدگی سے بولی اُس کو کہاں برداشت تھا کوئی اُس کے ماں باپ یا بھائی کے بارے میں کجھ غلط کہے

تم کل پیدا ہوئی لڑکی مجھے دھمکارہی ہو آج تک تمہاری ماں میں ہمت نہیں ہوئی جو مجھے کوئی جواب دے اور تمہیں آگ کیوں لگ رہی ہے کونسا میری بات غلط ہے۔زویا نے تمسخرانہ نظروں سے معصومہ کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر کہا

وہ سوہا عباد تھی جو خاموش رہتی تھی آگے سے کوئی جواب نہیں دیتی تھی پر میں معصومہ عباد ہوں جس کو اپنے اُپر اُٹھتی انگلی کو توڑنا اور بولنے والوں کا منہ بند کروانا اچھے سے آتا ہے۔معصومہ اپنی بات کرکے روکی نہیں تھی زویا نے خون آشام نظروں سے اُس کی پشت کو دیکھا تھا۔

آئیندہ میں تمہیں عماد کے آس پاس بھی نہ دیکھوں میرے بیٹے سے دور رہنا۔

معصومہ اپنے کمرے میں آئی تو کانوں پہ زویا کی آواز گونجنے لگی۔

جانے کیا مسئلہ ہے سب کو میں جیسے مرے جارہی ہوں اُن کے شہزادے پُتر کے لیے۔معصومہ جل کے سوچنے لگی

اب تو میں نے عماد کے ساتھ چپک چپک کے رہ کر اپنی پیاری خالہ کو جلا کر خاک کرنا ہے ہر وقت میری ماں کا دل جلاتی رہتی ہیں اپنی باتوں سے اب بتاؤ گی میری ماں سے پنگا ناٹ چنگا۔معصومہ دل میں عزم کرتی سونے کے لیے لیٹ گئ۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕

تم لوگ آج یونی نہیں جارہے؟سوہا نے ناشتہ کرتے عماد اور معصومہ سے پوچھا

نہیں کوئی ضروری کلاس نہیں ہماری۔معصومہ نے بریڈ کھاتے جواب دیا

میں بھی نہیں جاؤں گا۔حماد جوس پیتا اپنے ہاتھ کھڑے کیے بولا

کیوں۔سوہا نے گھور کر پوچھا

اِن قاتل نینوں سے ڈیڈ کو دیکھا کریں۔حماد کی بات پہ معصومہ ہنسی تھی وہی عباد اور سوہا نے حماد کو گھورا تھا

میرا مطلب تھا ننہا سا معصوم سا میرا دل ہے آپ ایسے تو نہ دیکھے۔حماد عباد کی نظریں خود پہ محسوس کرتا ہڑبڑا کر بولا اُس کی پتلی ہوتی حالت پہ عماد نے تاسف سے سرجھٹکا

فضول باتوں سے زیادہ اپنی پڑھائی پہ فوکس کرو۔عباد نے سنجیدگی سے ٹوکا تو حماد نے اپنا سر پلیٹ کی طرف جُھکا دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سوہا ٹیرس پہ کھڑی لان میں ہنسی مذاق کرتے اُن چاروں کو دیکھ رہی تھی جب زویا بھی اُس کے ساتھ کھڑی ہوئی

کتنا فرق ہے عبیر اور معصومہ میں زویا کی بات پہ سوہا کا سکتہ ٹوٹا

کیا مطلب؟سوہا کو زویا کی بات سمجھ نہیں آئی

دیکھو کیا پتا مطلب سمجھ آجائے۔زویا نے کہا تو سوہا نے پہلے عبیر کو دیکھا جو آسمانی کلر کے پرنٹڈ سوٹ میں ملبوس تھی ساتھ میں ڈوپٹہ اچھے سے سر پہ لیا ہوا تھا اُس کے برعکس معصومہ بلیک فراق کے ساتھ وائٹ ٹائیٹ پاجامے میں تھی بال کُھلے ہوئے تھے اور ہمیشہ کی طرح میچنگ ہیئر بینڈ ڈالا ہوا تھا ڈوپٹہ سرے سے وجود سے غائب تھا سوہا کو شرمندہ کا گہرا احساس جاگا اُس نے کبھی فورس نہیں کیا تھا معصومہ کو حجاب یا ڈوپٹے کے لیے وہ چاہتی تھی معصومہ کو خود چادر کا احساس ہو

میری سختی بلاوجہ نہیں ہے اپنے بچوں پہ کبھی کبھار بچوں کو نیک راہ لانے کے لیے ماں باپ کو سخت ہونا چاہیے اُس کے لیے مجھے جو سہی لگا میں نے کیا اور آئیندہ بھی کروں گی کوئی کجھ بھی کہے اُس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا میری اور تمہاری تربیت بول رہی ہے دونوں میں واضع فرق ہے میرے بچے اپنے حدود کو جانتے ہیں جب کی تمہارے بچے بدزبان منہ پھٹ ہیں معصومہ کو دی ہوئی چھوٹ کا نتیجہ یہ ہے کے رات کو نو بجے میرے بیٹے کے کمرے میں پائی جاتی ہے۔زویا زہر اگل کر ٹیرس سے اُتر گئ تھی جب کی سوہا کا وجود زلزلوں کی زد میں آگیا تھا اُس کے کانوں میں بس یہی الفاظ گونج رہے تھے

تمہارے بچے بدزبان منہ پھٹ ہیں

معصومہ کو دی ہوئی چھوٹ کا نتیجہ یہ ہے کے رات کو نو بجے میرے بیٹے کے کمرے میں پائی جاتی ہے۔

سوہا نے بے اختیار اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عماد میں نے نہ عاطف اسلم کا سونگ سلیکٹ کیا ہے تمہیں واٹس ایپ پہ بھی سینڈ کیا ہے وہ سونگ یاد کرلینا تاکہ ڈانس کرنے وقت لپسنگ میں آسانی ہو۔معصومہ نے موبائل میں مصروف عماد سے کہا

میری مانے تو میرے ساتھ ڈانس کرلیں۔حماد نے مسکین شکل بنائی۔

تمہارے ساتھ بھی کروں گی یہ فقیروں جیسی شکل کیوں بنارہے ہو۔معصومہ اُس کا گال کھینچ کر بولی حماد کا منہ فقیروں جیسی شکل سن کر دیکھنے لائق تھا

تیاری تم دونوں کی ایسی ہے جیسے گھر میں کسی کی شادی کا گرینڈ فنکشن ہو جب کی یہ تو بس سالگرہ کی پارٹی ہے۔عبیر نے الجھن زدہ لہجے میں کہا

مائے ڈیئر انوسینٹ کزن شادی کا گرینڈ فنکش تو واقع نہیں پر گرینڈ پارٹی تو ہے نہ اِس لیے ہمیں اِس پارٹی جی لینے دو۔معصومہ عبیر کے کندھوں میں بازوں حائل کرتی مزے سے بولی

واہ کیا پیار ہے دو کزنوں میں کبھی یہ پیار اپنے معصوم سے چھوٹے سے بھائی سے بھی کرلیا کریں بے چارہ خوش ہوجائے گا۔حماد سے برداشت نہیں ہوا تو بول پڑا

او میرا بچہ جیلیس ہورہا ہے۔معصومہ عبیر کو چھوڑتی ہنستی ہوئی حماد کے پاس آتی اُس کا گال چومتی بولی

اب بس بھی کرو چپک ایسے رہے ہو ایک دوسرے سے جیسے جانے کتنے عرصے بعد ملے ہو۔عماد تینوں کو گھورتا بولا تو اُن کا قہقہقہ مشترک تھا

عبیر آپو آپ کا بھائی جیلیس ہورہا ہے۔حماد شرارت سے عماد کو دیکھتا عبیر سے بولا جو عماد کا سرخ چہرہ دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔

تم چپ کرو۔عماد نے اُس کو تگری گھوری سے نوازہ

کیوں میرا بھائی چپ کریں اور میرے بھائی سے زرہ تھمیز سے۔معصومہ فورن حماد کے دفاع میں بولی تو حماد کی باچھیں پھیل گئ

معصومہ جی آپ کو سوہا بی بی بولا رہی ہیں۔عماد اُس سے پہلے معصومہ کو کوئی جواب دیتا ملازمہ نے اُس تک پیغام پہچایا

اچھا میں آتی ہوں۔معصومہ نے جواب دیا تو وہ سرہلاتی واپس چلی گئ

حمو یہ سب سونگز ڈائلونڈ کردینا پھر یو ایس پی میں کاپی کردینا۔معصومہ نے اپنا سیل اور ایک لیسٹ اُس کو دیکر کہا

مم آپ نے یاد کیا۔معصومہ سوہا کے کمرے میں آتی خوشگوار لہجے میں بولی

کیا میں نے تمہاری یہ تربیت کی ہے جو تم رات کے وقت کسی غیرمحرم کے کمرے میں جاؤ۔سوہا نے سپاٹ لہجے میں کہا تو معصومہ اُس کا انداز دیکھ کر خود بھی سیریس ہوگئ ایسا پہلی بار ہوا تھا جو سوہا اُس سے محبت کے بجائے ایسے لہجے میں بات کررہی تھی۔

کیا آپ کو کسی نے کجھ کہا ہے میرے بارے میں؟معصومہ قیامت کے دن زویا سے حساب لینے کا سوچتی سوہا سے بولی

یہ میرے سوال کا جواب نہیں۔سوہا چیخی تو معصومہ ڈر کے کجھ دور ہوئی

مم۔معصومہ کا لہجہ بھیگ گیا تھا

کیا مم معصومہ میں نے کبھی تم پہ روک ٹوک نہیں کی اُس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کے تم کجھ بھی کرتی پھیرو اپنے حدود بھول جاؤ۔سوہا غصے سے اُس پہ پھنکاری

میں اپنی حدود نہیں بھولی آپ اپنی بہن کی باتوں پہ یقین کرکے میرے پہ چیخ رہی ہیں۔معصومہ کو تکلیف ہوئی سوہا کے رویے سے

میری بہن تمہاری بھی کجھ لگتی ہے۔سوہا نے گھورتے کہا

کیا لگتی ہیں وہ میری میں کیا لگتی ہوں اُن کی۔معصومہ نے اُلٹا اُس سے سوال داغا

معصومہ میں تمہیں بدتمیزی کی اجازت ہرگز نہیں دوں گی۔سوہا نے ٹوکا

میں کسی غیرمرد نامحرم کے کمرے میں نہیں ح تھی عماد سے کجھ کام تھا تبھی گئ تھی۔معصومہ نے صفائی پیش کی

کزن نامحرم ہوتا ہے معصومہ عماد تمہارا محرم نہیں ہے نامحرم ہے اُس سے ایک حدتک رہا کرو محرم بس تمہارا باپ تمہارا بھائی ہے اُس کے بعد شوہر اور تمہارا اپنا بیٹا ہوگا اِن چار مردوں کے علاوہ کوئی پانچواں مرد محرم نہیں ہوتا۔سوہا نے سنجیدگی سے کہا تو معصومہ کو چپ لگ گئ۔

کیا آپ کو میرے پہ یقین نہیں؟

بات یقین کی نہیں ہے مجھے تم پہ یقین ہے اور عماد پہ بھی پر سوچو کل زویا نے دیکھا اگر اُس کی جگہ عباد عمار یا چچی جان میں سے کوئی دیکھ لیتا تو کتنا غلط ہوتا پھر۔سوہا نے گہری سانس بھر کر کہا

ہر ایک کی سوچ آپ کی بہن کے جیسے نہیں ہوتی۔معصومہ نے منہ بسورا

ادب سے بات کرو بڑی ہے وہ تم سے دو رشتے ہیں تمہارے اُس کے ساتھ اگر کجھ سختی سے پیش آتی ہے تو اُس میں تمہاری بھلائی ہوگی اور تم اپنا سارا وارڈروب خالی کرو آج کے بعد تم پاجامے نہیں پہنوں گی۔سوہا کی آخری بات سن کر معصومہ کو صدمہ لگ گیا

امی یار کیا ہوگیا ہے اب آپ کو میری ڈریسنگ پہ بھی مسئلہ ہوگیا۔معصومہ جھنجھلا سی گئ

میری غلطی ہے مجھے خیال رکھنا چاہیے تھا تم بڑی ہوگئ ہو تمہارے کپڑوں کا ہر چیز کا مجھ خیال رکھنا چاہیے تھا اگر میں بچپن سے ہی تمہیں ڈوپٹے کی عادت ڈالتی تو آج مجھے کہنا نہیں پڑتا تمہیں خود سے عادت ہوتی۔سوہا کا لہجہ شرمندا سا ہوگیا

جو بھی پر میں ایسا نہیں کروں گی۔معصومہ نے ہڈدھرمی کا مظاہرہ کیا

میرا ہاتھ اُٹھ جائے گا معصومہ۔سوہا نے غصے سے کہا

آپ مار مار کر میرا کچومر بنادے پر میں اپنی بات پہ ڈٹی رہوں گی آپ کیسی تیسرے کی وجہ سے مجھ پہ سختی نہیں کرسکتی۔معصومہ بضد ہوئی۔سوہا جو غصے کا مظاہرہ کررہی تھی معصومہ کے کچومر لفظ پہ مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا

وہ تیسری تمہاری خالہ ہے مت بھولوں۔سوہا نے یاد کروایا

ایسی ہوتی ہیں خالائیں اِسے سے اچھا تھا نہ ہوتی مجھے تو شک ہوتا ہے وہ آپ کی سگی بہن ہیں بھی یا نہیں۔معصومہ نے منہ کے زاویئے بگاڑے۔

اُس سے پہلے میرا ہاتھ سچ میں اُٹھ جائے تم میرے کمرے سے نکلو۔سوہا کا سر دُکھنے لگا

کیوں نکلوں میں یا آپ کا کمرہ نہیں صرف میرے ڈیڈی کا بھی ہے اور اُن کی چیزوں پہ میرا برابر کا حق ہے۔معصومہ صوفے پہ بیٹھتی رلیکس انداز میں بولی

تم ایسے نہیں مانوں گی۔سوہا نے تنے تاثرات سے اُس کو دیکھا

میں جارہی ہوں پر یہ مت سمجھئیے گا میں آپ سے ڈرگئ کیونکہ معصومہ عباد کسی سے نہیں ڈرتی۔سوہا کے سخت ہوتے تاثرات دیکھ کر معصومہ نے جانے میں ہی اپنی عافیت سمجھی

اچھا۔سوہا نے آئبرو ریز کیے

میں جاتی ہوں کیا ہے۔معصومہ اتنا کہتی جھٹ سے باہر نکلی پیچھے سوہا گِرنے کے انداز میں بیڈ پہ بیٹھ گئ۔

یااللہ میری معصوم بیٹی کو عقل دے۔سوہا اپنا سر ہاتھوں میں گِرائے دعائیہ انداز میں بڑبڑائی اُس کو معصومہ کی فکر ہوگئ تھی۔

سوہا کے کمرے سے باہر آتے معصومہ منہ بناکر حال میں ہی بیٹھ گئ تھی جب اُس کی نظر زویا پہ پڑی جو ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے شاید اپنے کمرے میں جانے کا اِرادہ رکھے ہوئے تھی اُس کو دیکھ کر معصومہ کو شیطانی کیڑے نے کاٹا تبھی اُس کو دیکھ کر اپنے پیروں میں موجود سلپر کو اُتارے بغیر صوفے پہ لیٹنے والے انداز میں بیٹھ گئ

یہ کونسا تمہارا بیٹھنے کا طریقہ ہے شادی کے بعد اپنے سسرال میں بھی یہی حال رہے گا تمہارا۔زویا اپنی عادت سے مجبور بولے بنا نہ رہ پائی۔تب تک عماد حماد عبیر بھی لان سے سیدھا اندر آگئے تھے

نہیں خالہ عرف چچی جان میں نے سوچ لیا ہے میں اُس سے شادی کروں گی جس کا نہ تو کوئی ماں ہوگی نہ کوئی بہن خوامخواہ خوبصورت زندگی میں بنا پئسے میں ویلن کا رول پِلے کرتی ہیں۔معصومہ کے جواب پہ عبیر اور زویا کا منہ کُھلا کا کھلا رہ گیا تھا جب کی عماد کے تاثرات سنجیدہ تھے اور کہی جائے بات حماد کی تو وہ اپنی بہن کی سوچ جان کر عش عش کر اُٹھا تھا

واہ آپو کیا دماغ ہے آپ کا کتنا دور کا سوچتی ہیں آپ مجھے تو لگتا تھا شادی کے بعد آپ نے پہلی فرصت میں اپنی ساس کو باہر کرنا ہے گھر سے پر یہاں تو آپ نے اُس سے بھی آگے کا سوچ لیا کیا کہوں آپ کا تو کوئی جواب نہیں تُسی لاجواب ہو۔حماد اُس کے ساتھ جُڑ کے بیٹھتا داد دینے لگا.

تم جیسی بدلحاظ سے شادی کون کرے گا۔زویا نفرت سے بولی

جس کو کرنی ہوگی وہ کرلے گا آپ خود کو میری فکر میں ہلکان مت کریں۔معصومہ نے اُس کے برعکس سکون سے جواب دیا

امی آپ پلیز۔زویا نے جیسے ہی کجھ کہنے کے لیے منہ کُھولا عماد اُس کے پاس آتا اِشاروں سے منع کرنے لگا اُن دونوں پہ نظر ڈال کر معصومہ نے آنکھیں گُھمائی

عبیر کمرے میں آنا تمہیں لیور سمجھنا تھا نہ۔زویا ایک اچٹنی نظر معصومہ پہ ڈال کر عبیر سے بولی

جی میں بُکس لیکر آتی ہوں۔عبیر جواب دے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔

آپ روئی ہیں؟سب کے جانے کے بعد حماد جانچتی نظروں سے اُس کی آنکھوں کو دیکھ کر بولا

تمہیں اپنی بہن رونے والی لگتی ہے۔معصومہ نے کہا

بنے مت بتائے۔حماد نے زور دیا

مم نے ڈانٹا۔معصومہ نے بتایا

کیوں؟حماد متجسس ہوا

کل میں عماد کے کمرے میں گئ تھی اِس لیے۔معصومہ سرجھٹک کر بولی

وہ تو آپ بہت بار جاتی ہیں۔حماد کو معصومہ کی بات سمجھ نہیں آئی۔

کل رات گئ تھی تو تمہاری پیاری خالہ کو پتا چل گیا اور اُس نے امی کو چغلی دی۔معصومہ ہزار منہ کے زاویئے بناکر بولی

ایک بات بتائے کیا چچو کی بیوی واقع میں ہماری ماں کی بہن ہے؟حماد آہستہ آواز میں پوچھنے لگا

پتا نہیں یہ سوال تو میرے دماغ میں بھی آتا ہے۔معصومہ نے کندھے اُچکائے

ویسے راز کی بات ہے چچو نے اپنی جوانی میں جانے کونسا گُناہ کیا تھا جو سزا کی صورت میں اُن کی شادی زویا خالہ سے ہوئی۔حماد ہنس کے بولا تو معصومہ بھی اُس کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتی زور سے ہنسنے لگی جس کا ساتھ حماد نے بھرپور دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *