Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mohabbatein (Episode 20)

Mohabbatein Season 2 by Rimsha Hussain

رات کے کھانے کا وقت ہوا تو سوہا ملازماؤ کے ساتھ ڈائینگ ٹیبل سیٹ کروانے لگی معصومہ جیسے تیسے کرکے روٹیاں بنا کر ہاٹ پاٹ میں اچھے سے رکھ کر خود فریش ہونے کے غرض سے اپنے کمرے میں آئی تھی فریش ہونے کے بعد وہ باہر آئی تو سب کو بیٹھتا دیکھا جس کو دیکھ کر اُس نے اپنے لب کچلے پھر آہستہ آہستہ چلتی اپنی چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گئ عماد نے ایک نظر معصومہ کو دیکھا پھر ٹیبل پہ سجے لوازمات کو معصومہ کی شکل دیکھ کر اُس کو اندازہ ہوگیا تھا ضرور اُس نے نیا کارنامہ انجام دیا ہوگا۔

آج آپو نے اپنے نازک ہاتھوں سے گرم گرم روٹیاں بنائی ہے۔حماد عباد کو دیکھتا بتانے لگا تو عباد خوشگوار حیرت سے معصومہ کو دیکھنے لگا جو جوابً مسکرا بھی نہ پائی۔

ریئلی پھر تو سوہا جلدی سے تم مجھے سرو کرو۔عباد نے کہا تو سوہا نے ہاٹ پاٹ کھولا ہاٹ پاٹ کے اندر نظر پڑتے ہی سوہا نے معصومہ کو گھورا جو اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔

امی اسٹار پلیس ڈراموں کی طرح سسپینس کیوں کررہی ہیں اُٹھائے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روٹی۔حماد اپنی جگہ سے اُٹھتا اپنا ہاتھ ہاٹ پاٹ میں ڈالتا سوہا کو بولنے لگا پر جیسے ہی اُس کی نظر ہاتھ میں پکڑی روٹی میں پڑی تو حیرت سے آنکھیں پھیل گئ اُس کو یاد نہ آیا اتنی انوکھی روٹی کب اُس نے دیکھی ہوگی باقی سب کا حال بھی حماد سے مشکل نہیں تھا سوائے عماد اور عباد کے کیونکہ وہ دونوں اچھے سے معصومہ کو جانتے تھے جو معصوم بنی بیٹھی تھی۔

آپو آج آپ کچن میں گئ اِس وجہ سے یہ آپ کی تصویر اخبار میں آئی ہے۔حماد روٹی کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر سیدھا کھڑا کرکے معصومہ کی طرف رخ کیا جہاں روٹی میں بیچ کا حصہ نہیں تھا جس سے حماد معصومہ کو دیکھتا دانتوں کی نمائش کیے بولا

سوہا نے سارے ہاٹ پاٹ میں بنی روٹیوں کو چیک کیا جس میں ایک ہارٹ اسٹائل میں بنی تھی تو کسی کے میں بیچ کا حصہ نہیں تھا تو کجھ ٹیڑھی بنی ہوئی تھی۔سوہا نے اپنا سر پکڑلیا۔

یہ کیا بنایا ہے۔سوہا نے ضبط سے پوچھا

پتا نہیں پہلے تو سہی تھی اب فالج کا اٹیک جانے کیسے آگیا۔معصومہ اپنی گردن پہ ہاتھ پھیرتی لاعلمی کا اظہار کرنے لگی جس پہ عماد اور حماد کی ہنسی نکل گئ۔

پہلی بار بنایا ہے نہ اِس لیے اگلی بار اچھا ہوگا کوشش اچھی تھی۔عبیر نے اُس کو اپنی طرف سے تسلی دی۔

بہن میں نے کیا بگاڑہ ہے تمہارا جو دوبارہ کچن میں بھیجنے کی بات کررہی ہو۔معصومہ کی بات پہ عبیر سٹپٹائی۔

پہلے کیوں نہیں بتایا اب سب کیا کھائیں گے۔سوہا نے سخت لہجے میں پوچھا زویا بے زاری سے سب کو دیکھنے لگی

بھئی میں تو اپنی بیٹی کی بنائی ہوئی روٹی آرام سے کھالوں گا آفٹر آل اُس نے اتنی محنت سے بنائی ہے۔عباد معصومہ کی اُتری شکل دیکھتا ہاٹ پاٹ اپنی طرف کرتا بولا

میں بھی اپنی آپو کی بنائی ہوئی کھاؤں گا آفٹر آل زندگی میں پہلی بار اتنی ڈلیئشس روٹی کھانے کو مل رہی ہے۔عباد کی دیکھا دیکھی میں حماد بھی میدان میں اُترا

میں بھی

میں بھی

میں بھی۔

حنان صاحب عمار اور عبیر تینوں ایک ساتھ بولے تو معصومہ کا چہرہ چمک اُٹھا۔

میں کونسا روزے میں ہوں۔عماد نے حماد کو ایک کے بعد ایک روٹی اُٹھاتے دیکھا تو ہاٹ پاٹ اُس سے چھین کر دانت پیس کر بولا۔

میں اپنے لیے پیزا آرڈر کرنے والی ہوں۔زویا کوفت سے سب کو دیکھتی کھڑی ہوتی بولی جس کا جواب کسی نے نہیں دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو کجھ چاہیے تو بتادے میں بنادیتی ہوں۔سوہا لیپ ٹاپ پہ کام کرتے عباد سے بولی

نہیں میں نے ڈنر جو کیا تھا۔عباد لیپ ٹاپ پہ نظر مرکوز کیے بولا سوہا نے کوفت سے اُس کے پاس لیپ ٹاپ کو دیکھا کیونکہ اُس کو آج بھی لیپ ٹاپ سے سوتن کی بو آتی تھی جس کی موجودگی میں عباد سب فراموش کرتا اُس میں مگن ہوتا تھا

کھانا کہاں کھاگیا آج سالن میں چکن قورمے کے علاوہ کجھ نہیں بنایا تھا ہم میں سے کسی نے معصومہ کی یونی سے شکایت آئی تو میں ہاسپٹل سے سیدھا گھر آگئ پھر ہلپرز کو بھی چھٹی دے ڈالی تاکہ معصومہ روٹیاں پکائے کسی کی مدد بھی نہ مانگیں۔سوہا بیڈ کی دوسری سائیڈ پہ آتی جواب دینے لگی۔

اگر ہم میں سے وہ کوئی نہیں کھاتا تو معصومہ نے جو پہلی مرتبہ کچن میں کھڑے ہوکر محنت کی تھی وہ ضائع ہوجاتی معصومہ کا دل بھی دُکھتا اور میں نہیں چاہتا میری بچی کسی بات پہ اُداس یا غمگین ہو دوسری بات یہ کے رزق کی بے حرمتی بھی ہوجاتی کُتوں کے سامنے ڈالتے تو سوچو معصومہ کے دل پہ کیا گُزرتی جب سب نے کھایا تھا اُس کا چہرہ خوشی سے روشن ہوگیا تھا یہ روشنی میں ہمیشہ معصومہ کے چہرے پہ چاہتا ہوں۔ عباد کے لہجے میں باپ کی شفقت بول رہی تھی سوہا لاجواب ہوتی عباد کو دیکھنے لگی جو ہر بار اپنی باتوں سے اُس کو لاجواب کرجاتا تھا۔

پھر بھی وہ کھانے کے قابل نہیں تھی۔سوہا نے کہا تو عباد ہنس پڑا

کتنی اچھی ڈیزائن تو بنائی تھی یہ بھی ایک ٹیلنٹ ہے جو بس ہماری معصومہ میں ہے مطلب ہارٹ شیپ ڈیزائن پہ روٹی۔عباد نے ہنستے کہا تو سوہا بھی مسکرادی

اب روزانہ میرے ساتھ کام کریں گی کچن میں تو سیکھ جائے گی۔سوہا نے کہا

یوں اچانک سے سختی مت کرو اُس پہ باغی ہوجائے گی۔عباد کسی خدشے کے تحت بولا

آپ والد حضور تو چاہتے ہیں آپ کی بیٹیاں کچن کے پاس بھی نہ گُزرے ڈیڈ نے بھی ایسا کیا تھا امی جب کچن کا کام کرنے کو کہتی تو وہ کہتے میری پھول جیسی بچی سے کام مت کروایا کرو وہ راج کرنے کے لیے پیدا ہوئی ہے کام کرنے کے لیے نہیں میں اور معصومہ پہ سختی نہیں کررہی بس اُس کو اُس کی زمیداری کا احساس دلوانا چاہتی ہوں تاکہ شادی کے بعد اُس کو میری طرح مسئلہ نہ ہو۔سوہا کی آخری بات پہ عباد کے چہرے پہ شریر قسم کی مسکراہٹ آئی

یاد ہے تم نے کچن کا کیا حال کردیا تھا۔عباد کی بات پہ سوہا گِڑبڑائی پھر اپنی توپوں کو رخ اُس کی طرف کیا۔

جی جی مجھے سب یاد ہے ایک بات تو بہت ذہین نشین ہے جب آپ نے میرے ارمانوں پہ پانی پھیر دیا تھا منہ دیکھائی کے نام پہ میڈیکل کالج کا فارم دے کر۔سوہا جل کے بولی

ناشکری ہو بہت اُس کے بعد جانے کتنے تحائف دے چُکا ہوں پر تمہارا ایک بات کا رونا ختم نہیں ہوتا کے میڈیکل فارم کیوں دیا۔عباد تاسف سے سرہلاتا بولا

ہاں تو وہ منہ دیکھائی تو نہیں تھی ایک معصومہ کی پیدائش پہ تحفہ دیا تھا کجھ میرے جنم دن کے دیئے تھے کجھ اپنی پروموشن کی خوشی میں اور حماد کی پیدائش پہ دیا تھا اور باقی ایسے ہی اُن میں سے منہ دیکھائی کہاں تھی کہی نہیں تھی آپ کو کیا پتا لڑکیاں تو شادی ہی نئے ڈھیر سارے کپڑوں جیولریز سینڈلز میک اپ کے سامان اور منہ دیکھائی کے لیے کرتی ہیں۔ سوہا ایک سانس میں بولی تو عباد نے کینہ توز نظروں سے اُس کو گھورا جو سارے حساب کتاب لیکر بیٹھی تھی۔

دماغ پہ لگتا ہے نیند سوار ہوگئ ہے سوجاؤ دماغ کو سکون دو تاکہ کجھ آرام محسوس کریں خود عقل سے پیدل ہے اور معصومہ کو سُدھارنے چلی ہو وہ بھی تو تمہاری بیٹی ہے تمہارے نقش قدم پہ چلنا ہے کونسا اپنی کرکے تمہیں مایوس کرنا ہے تمہارا بنایا گیا رکارڈ اُس نے مضبوط کرنا ہے تاکہ کوئی بھولے مت۔عباد اپنی طرف کی لائیٹ آف کرتا بول کر کروٹ لیں گیا سوہا حق دق عباد کی بات سن رہی تھی۔

پہلے آپ کی بیٹی اب میری واہ کیا کہنے ہیں آپ ناشکری میں نہیں آپ ہیں ناشکرے دنیا میں انسان کے روپ میں حور کیا مل گئ آپ کو آپ کا تو دماغ ساتویں آسمان پہ آ پہنچا ہے۔سوہا اشتعال میں آتی بولی۔

ہی ہی ہی سوہا تمہاری بات بہت فنی تھی مگر افسوس مجھے ہنسی نہیں آئی۔عباد کی بات پہ سوہا نے دانت کچکچائے بنا کجھ کہے خاموشی سے اُس کی طرف پیٹھ کی لیٹ گئ۔

سوہا

تھوڑی دیر گُزرنے کے بعد عباد نے سوہا کی طرف کروٹ لیکر اُس کو آواز دی پر اُس نے کوئی جواب نہیں دیا۔

مذاق کررہا تھا ناراض کیوں ہوگئ۔عباد نے نرمی سے کہا سوہا کے کان میں جوں تک نہ رینگی عباد نے ٹھنڈی سانس خارج کی

ایسے سوجاؤ گی ناراض ہوکر تو مجھے بھی نیند نہیں آئے گی ناراضگی چھوڑدو اِس عمر میں تم سوٹ نہیں کررہی۔عباد کا لہجہ ناچاہتے ہوئے بھی شوخ ہوگیا جس پہ سوہا کے چہرے پہ خوبصورت مسکراہٹ آئی بنا کجھ کہے اُس نے بھی کروٹ بدلی۔

اگر آپ اِس عمر میں بھی میری ناراضگی کی فکر کرے گے تو مجھ پہ ناراضگی سوٹ کرتی ہے۔سوہا مسکراتی نظروں سے عباد کو دیکھتی اُس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کر بولی۔

ناراضگی ختم؟عباد نے کنفرم کرنا چاہا جس پہ سوہا نے سر کو جنبش دی۔

ٹھیک ہے سوجاؤ اب رات بہت ہوگئ ہے۔عباد نے جمائی لیکر کہا تو سوہا کی مسکراہٹ بھک سے اُڑی۔

یہ اتنے اچھے موومنٹس میں آپ کو کونسا کیڑا کاٹتا ہے جو سارے رومانٹک موڈ کا ستیاناس کردیتے ہیں کبھی تو میری سوچ وہاں تک پہنچ جانے دیا کریں کے میرا شوہر جوانی میں نہیں پر بوڑھاپے میں رومانٹک ہوگیا ہے۔سوہا نے دانت پیس کر کہا

تم جو ہو لڑکیوں کو ناول پڑھنے سے اور کجھ آئے نہ آئے رومانٹک ضرور ہوجاتی ہیں ساتھ میں یہ بھی چاہنے لگتی ہو کے شوہر میں بھی ایسی خصوصیات ہو ہزاروں ناولز پڑھتی ہو اب اتنی ساری خوبیاں ایک انسان میں تو نہیں ہوسکتی نہ۔عباد مسکراہٹ دبائے بولا

ایسا بھی کجھ نہیں۔سوہا کمزور آواز میں بولی جس پہ عباد کا قہقہقہ بے ساختہ تھا۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

عبیر اپنے ڈپارٹمنٹ سے نکلی تو اُس کی نظر سامنے آتے تبریز پہ پڑی جو سنجیدگی سے آرہا تھا تبریز کو دیکھ کر جانے کیوں عبیر کو خوف محسوس ہوا پر وہ خود کو مضبوط ظاہر کرتی سامنے چلنے لگی تبریز جیسے ہی قریب آیا تو اُس نے آنکھیں زور سے میچ لی پھر تھوڑی دیر بعد اُس کو کجھ عجیب لگا تو جھٹ سے آنکھیں کھول کر دیکھا تو تبریز نہیں تھا پلٹ کر دیکھا تو حیران رہ گئ جہاں تبریز اُس کی کلاس میٹ کے ساتھ بات کررہا تھا یہ دیکھ کر اُس کو بُرا لگا اُس نے پہلی بار تبریز کو خود کے علاوہ کسی اور لڑکی کے ساتھ بات کرتا دیکھا تھا کجھ دیر تک کھڑے رہنے کے بعد اُس نے اپنے قدم کیفیٹیریا کی طرف بڑھائے۔

آئیندہ میرے معاملات سے دور رہنا سمجھی۔تبریز نے سامنے کھڑی تبسم کو غرائے لہجے میں کہا تو وہ ڈر کر کجھ قدور ہوئی

میں۔۔۔۔ کب آئی؟تبسم نے خشک ہوتے لبوں پہ زبان پھیر کر کہا جس سے تبریز نے آئبرو ریز کیے

میرے سامنے سمارٹ بننے کی ضرورت نہیں کیا کہا تھا تم نے عبیر کو میرے بارے میں کس نے حق دیا ہے تمہیں کے میری پرسنل لائیف ہر ایک سے شیئر کرو۔تبریز نے اپنی بات پہ زور دیتے کہا

آئیندہ نہیں ہوگا۔تبسم نے سہم کر کہا

ہونا چاہیے بھی نہیں۔تبریز اُس کو وارن کرتا چلاگیا اُس کے جاتے ہی تبسم کی اٹکی سانس بحال ہوئی۔

کیا بات کررہے ہوگے۔کافی پہ نظریں مرکوز کیے عبیر پرسوچ لہجے میں خود سے سوال کرنے لگی اُس کی آنکھوں میں بار بار تبریز کا نظرانداز کرکے دوسری لڑکی سے بات کرنے کا منظر آرہا تھا جس سے وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگئ تھی۔

میرا کیا جو بھی بات کریں۔عبیر خود کو تسلی کرواتی چیئر سے اُٹھ کھڑی ہوئی تبھی تبریز اُس کے روبرو کھڑا ہوا۔

میرے بارے میں اگر جاننا ہو تو میرے پاس آکر پوچھ لیا کرو ناکہ کے کسی تیسرے سے تبریز نے سنجیدگی سے کہا تو عبیر ناسمجھی سے اُس کو دیکھنے لگی۔

کیا مطلب۔عبیر نے بلآخر پوچھ لیا

اپنی کلاس فیلو سے میرا ڈیٹا نکلوارہی تھی۔تبریز کا لہجہ سخت ہوا

ن۔۔۔۔۔۔ہیں تو۔عبیر ہڑبڑا کر بولی

تو کیا میں جھوٹ بول رہا ہوں۔تبریز نے اُس کو گھورا

وہ خود بتارہی تھی تو میرے کانوں نے سن لیا ورنہ میں کیوں آپ کا ڈیٹا نکلوانے لگی۔عبیر نے اپنی طرف سے وضاحت کی۔

مجھے لگا تم مجھ سے سوری بولوں گی۔تبریز نے بات بڑھائی۔

سوری کیوں۔عبیر نے پوچھا

بڑی طرفداریاں کررہی تھی اپنی کزن کی۔تبریز نے دانت پیس کر کہا

تو میری کزن ہے ہربار مجھے ڈیفینڈ کرتی ہے وہ آپ کا اُس کو ایسا کہنا مجھے بُرا لگا آپ کو چاہیے تھا آپ میری کزن اور بھائی سے ایکسکیوز کرتے۔عبیر نے دلیری کا مظاہرہ کیا تو تبریز دل میں عش عش کر اُٹھا

میں۔تبریز نے اپنے سینے پہ انگلی رکھ کر جیسے کنفرم کرنا چاہا تو عبیر نے سر کو جنبش دی

میں تبریز جنید سوری کہوں کبھی نہیں آج یہ بات کہہ دی دوبارہ نہ کہنا۔تبریز نے تیز آواز میں کہا تو ایک پل کو وہ لرز اُٹھی

آپ اتنے ایروگینٹ کیوں ہیں ایک سوری کا کہا تھا بس سوری کہنا کونسی بڑی بات ہے یا انسان چھوٹا ہوجاتا ہے یہ تو ایک اچھا عمل ہوتا ہے آپ غلطی کرنے کے بعد آپ کو احساس ہوجائے کے آپ غلط ہو تو معافی مانگنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے معافی مانگنے والے اور عاجزی کرنے والے تو اللہ کو بے حد پسند ہوتے ہیں پر شاید میری بات نے آپ کی انا کو ٹھیس پہنچائی ہیں تو میں معذرت خواہ ہوں آج کے بعد آپ سے کوئی بات نہیں کروں گی نہ کہوں گی آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں میں بھلا کون ہوتی ہوں آپ سے کجھ کہنے والی۔عبیر کو تبریز کا ایسے بات کرنے بُرا لگا تو ایک سانس میں کہتی سائیڈ سے گُزرگئ اُس کے جانے کے بعد تبریز کو اپنے لہجے کا احساس ہوا تو بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا عبیر کا ایسے بات کرنا اُس کو چونکا گیا تھا وہ اتنا تو سمجھ گیا تھا چاہے وہ کم گو ہو پر جب بات کرنے پہ آتی ہے تو اچھے اچھوں کی بولتی بند کروادیتی ہے۔

کیفیٹریا سے نکل کر عبیر کالج کی گیٹ کے پاس آئی تھی جہاں ایک بار پھر تبریز اُس کے سامنے کھڑا ہوا عبیر نظرانداز کرتی جانے لگی پر تبریز نے اُس کی کوشش ناکام بنادی

سامنے سے ہٹے۔عبیر نے نظریں نیچے کیے کہا

بات کرنی ہے۔تبریز اُس کی بات اٙن سنی کرتا بولا

مجھے نہیں سننی۔عبیر نے سہولت سے انکار کیا

یہ آج تمہاری زبان آؤٹ آف کنٹرول نہیں ہورہی۔تبریز نے گھورا

آپ کی صحبت کا اثر ہے۔عبیر کے منہ سے بے ساختہ پھسلا تو زبان دانتوں تلے دباگئ۔

سیریسلی۔تبریز طنزیہ بولا

پتا نہیں ڈرائیور انکل آگئے ہیں مجھے جانا ہے۔عبیر سامنے آتی گاڑی کو دیکھتی بولی

جاؤ۔تبریز سائیڈ پہ کھڑا ہوتا سپاٹ لہجے میں بولا عبیر بنا کوئی بات کیے گاڑی کی طرف بڑھی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

معصومہ آج یونی نہیں گئ تھی عماد نے یونی سے آتے اُس کو لان میں چہل قدمی کرتا دیکھا تو اُس کی طرف بڑھا

آگئے تم؟معصومہ نے اُس کو دیکھا تو پرجوش آواز میں پوچھا جیسے جانے کتنے سال بعد عماد کی واپسی ہوئی تھی

کہاں ابھی راستے میں ہوں پہنچ کر تمہیں کال کردوں گا۔عماد نے اُس کے بے تُکے سوال کا بے تُکا جواب دیا

ویری فنی۔معصومہ نے گھورتے کہا

آے نو تم بتاؤ ٹانگوں کا درد ٹھیک ہوگیا جس کا بہانا کیے آج یونی نہیں گئ۔عماد کے سوال پہ اُس نے دانت پیسے۔

ہے ابھی تین گھنٹے کھڑی ہوئی تھی کل میں میری ٹانگوں کا پانی ختم ہوگیا ہے درد بڑھ گیا ہے ایک دن میں تھوڑئی سہی ہوگا۔معصومہ لان میں موجود چیئر پہ بیٹھ کر چہرے پہ مظلومیت والے تاثرات ظاہر کیے اُس کی ایکٹنگ پہ عماد نے تاسف سے سر دائیں بائیں کیا

ضرور یہ درد اب دوبارہ کچن میں نہ جانے کا بہانا ہوگا۔عماد دوسری چیئر پہ بیٹھ کر بولا

ان ڈائریکٹلی اگر تم مجھے جھوٹی بول رہے ہو تو بتادوں یہ سچ ہے واقع میں درد ہے۔معصومہ کی بات پہ جواب دینے کے لیے عماد نے جیسے منہ کُھلا تبھی وہاں عباد آگیا

عماد بیٹے تم سے ایک بات کرنی ہے۔عباد نے عماد کو مخاطب کیا

جی کریں۔عماد نے فرمانبرداری سے کہا

تمہیں تو پتا ہے میں اپنی جاب کے ساتھ ساتھ ڈیڈ کا بزنس بھی دیکھتا ہوں۔عباد نے اتنا کہہ کر تائید کرتی نظروں سے اُس کو دیکھا

جی بلکل۔عماد نے کہا

تو بیٹا میری جاب کے اب کجھ سال ہی بچے ہیں پھر میں چھوڑدوں گا ابھی تو وہاں بہت کام ہے پر ہمارے اپنے آفس میں کجھ ضروری میٹنگز ہیں جو دوسرے شہر میں ہیں اِس لیے میں چاہتا ہوں اُس کو دیکھنے کے لیے تم لاہور جاؤ میں جا نہیں سکتا اور عمار کو بزنس کی اتنی نالج نہیں اُس کا اپنا ہاسپٹل ہے جس کو اُس نے دیکھنا ہوتا ہے اگر تمہیں اعتراض نہیں تو یونی سے ایک دو ماہ کی لیو لیں لو۔عباد نے سنجیدگی سے کہا

نو ایشو چچا جان میں ہینڈل کرلوں گا آپ بے فکر ہوجائے۔عماد نے مسکراکر اُس کو رلیکس کرنا چاہا

شکریہ مجھے تم سے یہی اُمید تھی۔عباد پرسکون مسکراہٹ سے بول کر اندر کی طرف چلاگیا

اگر تم چلے گئے تو میں یونی کیا اکیلے جاؤں گی دوسرا یہ میری ہیلپ کون کرے گا پڑھائی میں۔معصومہ کو اپنی فکر لاحق ہوئی۔

کال پہ پوچھ لینا جو کجھ پوچھنا ہو اور اکیلی کیوں ڈرائیور یا ڈیڈ یا چچا جان میں سے کسی کے ساتھ چلی جانا ویسے بھی ہماری یونی اور ڈیڈ کا ہاسپٹل ایک راستے میں آتا ہے۔عماد نے تجویز پیش کی جو معصومہ کو بھی سہی لگی

ہاں یہ بہتر آپشن ہے۔معصومہ نے تائید میں سرہلایا

ہممم میں اندر جارہا ہوں تاکہ فریش ہوجاؤں۔عماد کھڑا ہوتا بولا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پڑھائی کیسی جارہی ہے؟عبیر جو ایک ٹاپک سمجھنے کی کوشش کررہی تھی زویا کی آواز پہ چونک کر سر اُٹھایا

بہتر۔عبیر نے مختصر جواب دیا

ہمم کوئی مدد چاہیے ہو تو بتانا۔زویا نے اُس کے چہرے پہ جھنجھلاہٹ بھرے تاثرات دیکھے تو کہا

جی۔عبیر نے پھر سے یک لفظی جواب دیا تو زویا نے ٹھنڈی سانس خارج کی

ناراض ہو اپنی ماں سے میں کونسا تمہاری دشمن ہوں مانا کے تمہاری سالگرہ کے دن مجھے تم پہ ہاتھ نہیں اُٹھانا چاہیے تھا پر کیا تم میری وہ حرکت بھول نہیں سکتی ماں باپ بھی تو بچوں کی غلطیاں درگُزر کردیتے ہیں نہ کیا میں نے نہیں کی تمہاری۔زویا اُس کے قریب بیٹھ کر سنجیدگی سے بولی

میں آپ سے ناراض نہیں ہوں۔عبیر نے جواب دیا

تو پھر اتنے پھیکے لہجے میں جواب کیوں دے رہی ہو؟زویا نے پوچھا

میرا بات کرنے کا دل نہیں چاہ رہا۔عبیر نے بتایا

اچھا طبیعت سہی ہے۔زویا نے اُس کا ماتھا چیک کیا

جی طبیعت ٹھیک ہے آپ فکر نہیں کریں۔عبیر نے مسکراکر کہا زویا کو اپنے لیے فکرمند دیکھ کر اُس کی آنکھیں نم ہوئی تھی اور اپنے سالگرہ کے دن کہی زویا سے بات پہ پیشمانی بھی ہورہی تھی اگر زویا اُس کے ساتھ سختی سے پیش آتی تھی تو اپنی ممتا بھی نچھاور کرتی تھی بس یہ دن کبھی کبھی آتا تھا جو عبیر کے لیے بہت قیمتی ہوتے تھے۔

اچھا میں تمہارے لیے دودھ بھیجتی ہوں پی لینا میں جب میڈیکل میں تھی تو میرا بھی یہی حال ہوتا تھا۔زویا اُٹھتی کہنے لگی تو عبیر نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہوئی اور بنا کوئی بات کیے اُس کے گلے لگی عبیر کی حرکت پہ زویا مسکرائی۔

سوری امی اُس دن میں آپ سے روڈلی ہوگئ تھی آپ ماں ہیں آپ کا ہم پہ حق ہے ہم بچوں کو ماں کی نافرمانی یا اُن سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے ایک ماں جتنا اپنی اولاد کے لیے کرتی ہے جتنی تکلیفیں اُس کے لیے برداشت کرتی ہے اولاد سو بار مر کر پیدا ہو تو بھی کبھی اُتنا نہ کرپائے ماں کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا ماں ماں ہوتی ہے ۔عبیر نے شرمندگی سے کہا

کوئی بات نہیں شرمندہ مت ہو۔زویا اُس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی مسکراکر بولی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *